Be ready to deal with Pakistan
Al-Risala, May 1994, pp. 12–16
By Maulana Wahiduddin Khan
ائیر پورٹ پہنچ کر پی آئی اے کا فلائٹ نمبر اے ۳ کے اندر داخل ہوا۔ جہاز میں پاکستانی اخبارات پڑھنے کے لئے موجود تھے۔ لاہور کے روز نامہ جنگ (۱۹ ستمبر) کے صفحہ ۴ پر " بیرونی خطرات" کے عنوان سے ایک مضمون تھا۔ اس میں دوبارہ سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اسلم بیگ کا آخری بیان نقل کیا گیا تھا۔ " ہمارے وطن عزیز کی سرحدوں پر جنگ کے گہرے بادل چھائے ہوئے
روس اور امریکہ نے سپر پاور ہوتے ہوئے سرد جنگ اور گرم جنگ کو مکمل طور پر ختم کر دیا۔ اب دونوں کے درمیان کوئی بھی جنگ کی بات نہیں کرتا۔ یہ محض دو ملکوں کا فیصلہ نہیں ہے بلکہ وہ ایک زمانی فیصلہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اب سرد جنگ یا گرم جنگ کا دور ختم ہوگیا۔ مگر بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سپر پاورز خواہ جنگی زبان بولنا بند کر دیں۔ مگرمنی پادرز کے درمیان جنگی زبان کا رواج بدستور باقی رہے گا۔
دن کے ڈھائی بجے دہلی انٹرنیشنل ائیر پورٹ پہنچا تھا۔ یہاں باہر اور اندر تقریباً سناٹے کا عالم نظر آیا۔ جب کہ رات کے وقت یہاں ہر طرف آدمیوں کا ہجوم دکھائی دیتا ہے۔ یہ ہندوستان کی پسماندگی
کی قیمت ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں ایرپورٹ پر دن کے وقت چہل پہل ہوتی ہے اور غیر ترقی یافتہ ملکوں میں رات کے وقت۔ ترقی یافتہ ملک اپنے شہریوں کی سہولت کے لئے رات کے وقت جہازوں کو اترنے یا روانہ ہونے کی اجازت نہیں دیتے ۔ جدید دنیا میں ترقی یافتہ ملک کا باشندہ ہر جگہ برتر حیثیت میں ہوتا ہے اور غیر ترقی یافتہ ملک کا باشندہ ہر جگہ کم تر حیثیت میں۔ دنیا میں جو تقسیم ترقی اور بے ترقی کی بنیاد پر ہے، آخرت میں وہ تقسیم مزید اضافہ کے ساتھ صالح اور غیر صالح کی بنیاد پر قائم ہو جائے گی۔ موجودہ دنیا کی تقسیم علامتی صورت میں آخرت میں پیش آنے والے واقعہ کا اعلان ہے۔ مگر اس اعلان کو سننے کے لئے وہ کان درکار ہیں جو خاموش آوازوں کو اسی طرح سنیں جس طرح کوئی شخص لاؤڈ اسپیکر کی چیخ کو سنتا ہے اور اس کو سمجھ لیتا ہے۔ ایرپورٹ کے اندر انتظار گاہ میں ٹیلیفون لگے ہوئے ہیں جن پر لکھا ہوا ہے "فری ٹیلیفون" میں نے اپنے یہاں کا نمبر ڈائل کیا۔ ہمارے دفتر کے ٹیلیفون پر گھنٹی بجنے لگی۔ "ہیلو" کے تبادلہ کے ساتھ اگلے لمحہ دفتر سے ربط قائم ہو گیا۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے لئے "غائب" حیثیت رکھتے تھے، مگر ہم دونوں "حاضر" کی طرح باہم گفت گو کر رہے تھے۔
یہ ایک سادہ سا واقعہ ہے۔ مگر جب بھی ایسا ہوتا ہے تو میں سوچنے لگتا ہوں کہ جس دنیا میں "انسان غائب" سے رابطہ قائم کرنا ممکن ہو، وہاں "خدائے غائب" سے رابطہ قائم کرنا کیوں ممکن نہ ہوگا۔ بلا شبہ یہ ممکن ہے : و لكن اكثر الناس لا يعلمون۔
۴۵ منٹ کی پرواز کے بعد جہاز لا ہور ہوائی اڈہ پر اتر گیا۔ پرواز اور لینڈنگ دونوں نہایت اندرونی سروس کا معیار بھی اچھا تھا۔ میں نے جب بھی پاکستان انٹر نیشنل سے سفر کیا ہے، اس کا معیار ہمیشہ اچھا پایا ہے۔ اس بار بھی مجھے ایسا ہی تجربہ ہوا۔
ہوائی اڈہ کے اندر عملہ کے ایک داتف کار آدمی نے میرا پاسپورٹ لے لیا اور رسمی کارروائیاں تیزی سے طے کرا دیں۔ باہر نکلے تو عین ہوائی اڈہ کے سامنے سڑک کے دوسری طرف ایک سادہ اور خوبصورت ساتھیوں کی رائے ہوئی کہ نماز مغرب یہاں ادا کر لی جائے ۔ اس کے بعد شہر کے لئے روانہ چنانچہ مغرب کی نماز اسی مسجد میں ادا کی گئی۔
مسجد کی بیرونی دیوار پر لکھا ہوا تھا : واعتصموا بحبل الله جميعاً۔ یہاں اکثر ہوائی
جب مختلف ملکوں اور قومیتوں کے لوگ ایک امام کے پیچھے صف باندھ کر کھڑے ہوائے تو ایسا محسوس ہو کہ جیسے کہ وہ واعتصموا بحبل اللہ جمیعاً کے حکم کی عملی تصدیق کر رہے ہیں۔ یہ کیسا عجیب سبق ہے جو مسجد کے ماحول میں مسلمانوں کو دیا جاتا ہے۔ اگر یہ سبق مسلمانوں کی پوری زندگی میں شامل ہو جائے تو ان کے اندر عظیم انقلاب آجائے۔
نماز پڑھ کر باہر نکلا تو مسجد کے گیٹ پر ایک صاحب ملے۔ انھوں نے اپنا نام محمد ظفر عادل بتایا۔ انھوں نے کہا کہ میں ایک سنگین مرض میں مبتلا ہو گیا تھا۔ ڈاکٹر جواب دینے لگے تھے۔ چنانچہ میرے اندر افسردگی (depression) کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ عین اس وقت اتفاق سے آپ کی کتاب "راز حیات" پڑھنے کو ملی۔ اس کو پڑھ کر میری حالت بالکل بدل گئی۔ میرے اندر نیا یقین جاگ اٹھا۔ کام دوا نہ کر سکی تھی وہ کام اس کتاب نے کر دیا۔
لاہور میں میرا قیام جناب کرامت شیخ کے یہاں تھا۔ شام کو یہاں مختلف اعلیٰ تعلیم یافتہ اصحاب جمع ہو گئے۔ گیارہ بجے رات تک یہ مجلس جاری رہی۔ علمی انداز میں تبادلہ خیال ہوتا رہا۔ پاکستان کا اقتصادی مرکز کراچی ہے۔ اسلام آباد اس کا سیاسی مرکز ہے۔ لاہور کو پاکستان کے علمی اور تمدنی مرکز کی حیثیت حاصل ہے۔ لاہور اگرچہ قدیم شہر ہے۔ مگر اس کی قدیم تاریخ کے بارہ میں زیادہ معلومات حاصل نہیں۔ غزنوی خاندان نے ۱۱۵۲ء میں اس کو اپنی راجدھانی اس وقت سے وہ باقاعدہ طور پر تاریخ میں ذکر کیا جانے لگا۔ ۱۳۹۸ء میں اس کو تیمور کی فوجوں نے تباہ کر دیا تھا۔ مبارک شاہ نے ۱۴۲۲ء میں دوبارہ اس کو آباد کیا۔ ۱۴۵۱ء میں بہلول خاں لودی نے اس پر اپنی حکومت قائم کی۔
مغل حکمراں بابر کی فوجوں نے ۱۵۲۴ء میں اس پر قبضہ کر لیا، اور نگ زیب کی وفات (۱۷۰۷) کے بعد ۱۷۹۹ء میں رنجیت سنگھ نے لاہور پر قبضہ کر کے اس کو اپنی وسیع سلطنت کی راجدھانی قرار دیا۔ افغانی حکمراں شاہ زماں نے ۱۲ اپریل ۱۸۰۱ء کو اعلان کیا کہ وہ رنجیت سنگھ کو لاہور کا گورنر تسلیم کرتا ہے۔ مگر رنجیت سنگھ نے اس حیثیت کو قبول نہیں کیا اور "مہاراجہ پنجاب" ہونے کا اعلان کر دیا۔ ۴۹ ۱۸ سے لاہور انگریزوں کی ماتحتی میں آگیا، ۱۹۴۷ء سے وہ پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے۔
آج اگر ممکہ میں کوئی بڑا واقعہ ہو تو اسی دن اس کی خبر پنجاب کے اس شہر میں پہنچ جائے گی۔ مگر ساڑھے تیرہ سو سال پہلے دنیا کتنی مختلف تھی۔ ۶۳۰ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دس ہزار اصحاب کے ساتھ مدینہ سے نکلے اور فاتحانہ طور پر کہ میں داخل ہوئے۔ اسی ۶۳۰ میں چینی سیاح ہوان سانگ (Hsuan Tsang) سفر کرتا ہوا شمالی پنجاب پہنچا۔ مگر اس کے سفر نامہ میں نہ لاہور کا ذکر ہے اور نہ فتح مکہ کا۔ قدیم دنیا اور جدید دنیا میں کتنا زیادہ فرق ہے۔ پچھلے نبیوں کے ساتھ یہی واقعہ پیش آیا ہے۔ مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیروؤں میں علم کی زبر دست روح پھونکی۔ اس کی وجہ سے دور اول ہی میں لوگوں نے علم اور ادب میں مہارت پیدا کی اور اسلامی واقعات کو کتابوں کی صورت میں مدون کیا۔ اس طرح اسلام کی تاریخ ماضی کے مذاہب کے برعکس گم ہونے سے محفوظ رہ گئی۔
جس زمانہ میں میں لاہور میں تھا انہیں دنوں میں برطانیہ کی لیدی ڈائنا لاہور آئیں۔ ۲۵ ستمبر کو انھوں نے لاہور کی بادشاہی مسجد کی زیارت کی۔ ہندوستان ٹائمس (۲۷ ستمبر ۱۹۹۱) میں ایک تصویر چھپی ہے۔ اس میں ایک عورت سر پر دو پٹہ اوڑھے ہوئے اور ننگے پاؤں مسجد کے اندر چلتی ہوئی نظر آتی ہے۔ تصویر کے نیچے یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں :
A barefooted Princess Diana takes a walk inside historical Badshahi mosque on wensday during her one day visit to Lahore city. لاہور کے روزنامہ امروز (۲۶ ستمبر) میں شہرادی ڈائنا سے اسلامی ذہن کے مردوں کا مصافحہ کے عنوان سے ایک دلچسپ نوٹ تھا۔ اس میں درج تھا کہ ۔ دنیا نے پاکستان ٹیلی ویژن کے خبر نامہ میں یہ خوبصورت منظر بھی دیکھا کہ اعجاز الحق سمیت اسلامی ذہن کے وفاقی وزراء والہانہ انداز میں شہزادی ڈائنا سے ہاتھ ملا رہے ہیں۔ (دوسری طرف) ہمارے ملک میں جب کسی عورت کو اقتدار یا عروج حاصل ہوتا ہے تو لوگ ایسی تصاویر تلاش کرنے نکل کھڑے ہوتے ہیں، جس میں اس خاتون نے کسی مرد سے ہاتھ ملایا ہو۔
اردو زبان یہاں کے لوگوں کے لیے فیشن کی مانند ہے۔ وہ فخر کے ساتھ اردو بولتے ہیں اور اس کو بہت پسند کرتے ہیں : ایک صاحب نے کہا۔ میں نے اپنے تجربہ میں اس کو بالکل درست پایا۔
حقیقت یہ ہے کہ پنجاب کے لوگوں میں اردو زبان کا تقریبا وہی درجہ ہے جو ہندوستان میں انگریزی کا ہے۔ لوگوں کی پڑھنے لکھنے کی زبان اردو ہے۔ ہر موضوع پر اعلیٰ کتابیں اردو میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔ معیاری قسم کے جرائد اردو زبان میں نکلتے ہیں۔ انھوں نے اردو زبان کو کمپیوٹر کی سطح پر لانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے ۔
پاکستان کے مسلمانوں میں ایک امتیازی خصوصیت پائی جاتی ہے جو ہندوستان کے مسلمانوں میں نہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کے اعلیٰ طبقہ کے بچے عام طور پر انگریزی اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔ زبان سے ناواقف ہوتے ہیں۔ اس بنا پر ہمارے یہاں علماء اور جدید مسلم نسل کے درمیان ایک لسانی بعد (لینگویج گیپ) پایا جاتا ہے اور وہ صورت حال پیدا ہوگئی ہے جس کو فارسی شاعر نے ان لفظوں میں ادا کیا ہے :