Al-Risala · May 1994

زبان یار من ترکی و من ترکی نمی دانم

Al-Risala, May 1994, pp. 16–21

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر پاکستان میں یہ صورت حال نہیں۔ وہاں اعلیٰ خاندان کے بچے بھی بخوبی طور پر اردو زبان اس طرح ان کے اور علماء کے درمیان زبان کی دوری پیدا نہیں ہوئی ہے۔ اگرچہ بعض تجربات کی بنا پر میں نے محسوس کیا کہ خود علماء کے غیر حکیمانہ رویہ کی بنا پر یہاں کی نئی نسل علماء کے طبقہ سے زیادہ مانوس نہیں۔

میں جس کالونی میں ٹھہرا تھا، مجھے معلوم ہوا کہ اس کی مسجد کے امام صاحب کے لئے مسجد کی طرف سے باقاعدہ رہائش گاہ دی گئی ہے۔ اتفاق سے امام صاحب نے صبح کے ناشتہ پر مدعو کیا۔ اس طرح ان کی رہائش گاہ کو اندر سے دیکھنے کا موقع ملا۔

اس کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ۔ یہ ایک صاف ستھرا فلیٹ تھا۔ جس کا کرایہ لاہور کے معیار سے تقریبا چار ہزار روپیہ ماہوار ہوگا ۔ اس کے اندر بجلی اور پانی کا معقول انتظام تھا۔ ساتھ ہی ایک وسیع اور صاف ستھرا جدید طرز کا باورچی خانہ تھا۔ جس کے اندر گیس کا چولھا اور گیس بھی سلنڈر کے بجائے پائپ کے ذریعہ آرہی تھی۔ اور یہ سب کچھ امام صاحب کے لئے بالکل فری تھا۔

اگرچہ پاکستان کے تمام ائمہ کا معیار یہی نہیں ہے۔ تاہم اس کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔

سے دعا نکلی کہ کاش وہ دن آئے جب ہندو پاک کی تمام مسجدوں میں اسی طرح ائمہ کے لئے معقول تنخواہ اور صاف ستھری رہائش گاہ کا انتظام ہو۔ مساجد کے ائمہ کی حیثیت مسلم معاشرہ میں بے حد مگر معاشی پستی کی وجہ سے ان کے اندر نہ اعلیٰ حوصلہ پیدا ہوتا اور نہ وہ اس قابل ہوتے کہ اعلیٰ سطح پر معاشرہ کی خدمت کر سکیں۔

لاہور کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہاں قدیم ترین زمانہ سے درس قرآن کے سلسلے کثرت سے جاری رہے ہیں۔ لاہور کے ماہنامہ حکمت قرآن (ستمبر 1991ء) کے ایک مضمون میں ”لاہور کے درسِ قرآن کی تفصیل بتائی گئی تھی۔ اس کے مطابق، مولانا احمد علی صاحب غالباً پہلے شخص ہیں جنہوں نے 191ء میں شیر انوالہ دروازہ کی ایک مسجد میں درس قرآن کا سلسلہ شروع کیا، یہ سلسلہ برابر جاری مضمون کے مطابق، 1970ء میں لاہور شہر کے اندر ۳۰ مقامات پر قرآن کا درس جاری تھا۔ اس پر گفتگو کرتے ہوئے میں نے ایک صاحب سے کہا کہ قرآن کے فوائد حاصل کرنے کے لئے یہی کافی فہمیں ہے کہ قرآن کا درس مسجدوں میں جاری کر دیا جائے۔ بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ قرآن کا درس اپنی صحیح صورت میں دیا جا رہا ہو۔ چوہدری غلام احمد پرویز بھی اپنی آخر عمر تک گلبرگ میں قرآن کا درس دیتے رہے۔ مگر تمام علماء کے نزدیک ان کا درس مفید نہ تھا، اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنے فلسفہ کے مطابق یہ سمجھ لیا تھا کہ ”نظام ربوبیت“ قرآن فہمی کی روح ہے۔ وہ اپنے اسی فلسفہ کی روشنی میں قرآن کی تفسیر کیا کرتے تھے۔

ہر فکری کتاب کی طرح، قرآن کی بھی ایک شاہ کلید ہے۔ ضروری ہے کہ آدمی اس شاہ کلید کے تعین میں غلطی نہ کرے۔ ورنہ وہ قرآن کو سمجھنے میں کامیاب نہ ہو سکے گا۔ قرآن فہمی کی شاہ کلید کوئی فن، کوئی نظریہ یا کوئی علی نکتہ نہیں ہے، قرآن فہمی کی شاہ کلید تقویٰ ہے۔ جس آدمی کے اندر یہ شرط موجود ہو وہ قرآن کو سمجھے گا۔ اور جس آدمی کے اندر یہ بنیادی شرط نہ پائی جائے وہ دوسری تمام خصوصیات کے باوجود بھٹک کر رہ جائے وہ قرآن کا ماہر ہو کر بھی قرآن نہی سے محروم رہے گا۔ اسی لئے قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ: هُدًى لِلْمُتَّقِينَ کراچی (چاندنی چوک، ناظم آباد) کی محمدی مسجد کے خطیب جناب سید عبد الرؤف صاحب کو ایک تلخ تجربہ ہوا۔ انھوں نے ایک بار جامعہ کراچی میں قرآن کی تلاوت کی۔ تلاوت کے خاتمہ پر، عام قاریوں کے معمول کے خلاف، انھوں نے صدق اللہ العظیم نہیں کہا۔ اس پر ایک طالب علم نے انھیں ٹوکا اور کہا:

جناب، آپ ایک آیت چھوڑ گئے ہیں۔

جناب عبدالرؤف صاحب پر اس کا سخت رد عمل ہوا اور ان کے ذہن میں یہ خیال جوڑا پکڑ گیا کہ چوں کہ علماء اور قراء نے اختتامِ تلاوت پر صدق اللہ العظیم کہنا اپنا معمول بنا لیا ہے، لہٰذا اس تواترِ عمل نے عام لوگوں کے ذہنوں میں یہ مغالطہ پیدا کر دیا ہے کہ شاید یہ الفاظ بھی قرآن کا مستقل حصہ ہیں۔ ان کا یہ احساس اتنا شدید ہوا کہ وہ تلاوت قرآن کے آخر میں اس کلمہ کے کہنے کو بدعت و گمراہی سمجھنے لگے۔ انھوں نے اس سلسلہ میں ایک سخت مضمون لکھا جو لاہور کے ماہنامہ حکمتِ قرآن (نومبر، دسمبر ۱۹۸۹) میں دو قسطوں میں چھپا۔

اس مضمون کی اشاعت کے بعد جوابی رد و کد ہوئی، یہاں تک کہ حکمتِ قرآن (مارچ ۱۹۹۰) میں مدیرِ محترم نے لکھا کہ یہ انتہا پسندانہ نقطہ نظر ہے۔ اگر دورِ اول میں اس کا معمول نہ ہو تب بھی تلاوتِ قرآن کے آخر میں صدق اللہ العظیم کہنا بدعت اور گمراہی نہیں۔ یہ گویا اختتامِ تلاوت کی علامت ہے اور اس اعتبار سے اس میں کوئی قباحت نہیں۔

میں نے ایک صاحب سے گفتگو کے دوران کہا کہ مذکورہ طالب علم کی بات محض ایک انفرادی بات تھی، اس کو اتنی زیادہ اہمیت دینا اور اس کو عمومی گمراہی سمجھ کر اس پر بحث جاری کر دینا صحیح نہیں۔ سے ہمارے مذہبی حلقوں میں عام طور پر یہی ذہن چھایا ہوا ہے۔ اور اختلاف کا اصل سبب یہی مزاج ہے۔ وفاق پبلی کیشنز لاہور نے ۱۰۰ صفحہ کی ایک کتاب چھاپی ہے۔ اس کا نام نفاذِ اسلام : منزل بہ منزل روز نامہ وفاق کے پینل نے جناب مصطفیٰ صادق کی قیادت میں سابق صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق سے کئی انٹرویو لئے تھے۔ ان سب کو کتاب کی صورت میں جمع کر دیا گیا ہے۔ اس کے صفحہ ۸۶ پر سابق صدر پاکستان کا ایک جواب نقل کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، انھوں نے ایک سوال کے جواب میں جلسہ جلوس کی سیاست کو بے مقصد آگ بھر کا نا بتا یا۔ انھوں نے کہا:

میرے اپنے نقطہ نظر کے مطابق، جلسہ اور جلوس وقت کا ضیاع ہے۔ اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس سے عوام کی تربیت پر غلط اثرات پڑتے ہیں۔ اگر (جلسہ جلوس) کا یہ طریق کار اختیار کر لیا گیا تو اس کے اثرات اچھے نہیں ہوں گے۔ میں اس کے لئے موزوں الفاظ استعمال کرنا چاہتا ہوں۔ کسی نے کہا ہے: Political activities of procession and public meeting have generated more heat

اس پر گفتگو کے دوران میں نے ایک صاحب سے کہا کہ اس معاملہ میں ٹھیک یہی حالت ہندوستان کی بھی ہے۔ یہاں بھی جلوس اور عوامی جلسوں کی صورت میں جو سیاسی سرگرمیاں جاری کی جاتی ہیں انھوں نے روشنی سے زیادہ گرمی پیدا کرنے کا کام کیا ہے۔ مثلاً سلمان رشدی کی کتاب کے مسئلہ پر بمبئی میں جلوس نکالا گیا اس نے ماحول میں صرف گرمی پیدا کی اور مسلمانوں کی قیمتی جانیں بے فائدہ طور پر ضائع ہوئیں۔ اسی طرح بابری مسجد کے مسئلہ پر جلسہ اور جلوس کے جو ہنگامے جاری کئے گئے اس نے بھی مسلمانوں کو کوئی روشنی نہیں دی۔ البتہ ماحول کے اندر جو گرمی پیدا ہوئی اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کو مختلف قسم کے اندوہناک نقصانات اٹھانے پڑے۔

پاکستان کے سابق صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے پندرہ روزہ امپیکٹ (لندن) کو ایک انٹرویو دیا یہ انگریزی ہفت روزہ پاکستان کے اسلام پسند نوجوان نکالتے ہیں۔ انٹرویو زیادہ تر پاکستان میں اسلام نظام اور جمہوریت سے متعلق تھا۔ اس کا ایک سوال و جواب یہ ہے : Q: You are trying to reform democracy. Is it not necessary to reform the administrative structure as well so that it is able to run the Islamic system you are introducing? A: I wish I can'do that, but I don't think we can. I am sorry to say that if I tell... to start growing a beard, he will be the first to say no, because I myself do not keep a beard. (Radiance Weekly, April 12, 1981)

سوال : آپ پاکستان میں جمہوریت کی اصلاح کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیا یہ ضروری نہیں کہ انتظامی ڈھانچہ کی بھی اصلاح کی جائے تاکہ وہ اس اسلامی نظام کو چلانے کے قابل ہو سکے جس کو آپ ملک میں لا رہے ہیں۔

جواب : میری خواہش ہے کہ میں ایسا کر سکتا۔ مگر میں نہیں سمجھتا کہ ہم ایسا کر سکتے ہیں۔ مجھے یہ کہتے ہوئے افسوس ہوتا ہے کہ اگر میں انتظامی کارکنوں سے کہوں کہ تم داڑھی رکھو تو وہ سب سے پہلے نہیں کر دے گا۔ کیوں کہ میں خود داڑھی نہیں رکھتا۔

اس انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے میں نے ایک صاحب سے کہا کہ جنرل محمد ضیاء الحق کو پاکستان میں کامل اقتدار ملا۔ وہ ساڑھے گیارہ سال تک پاکستان کے مطلق حکمران بنے رہے۔ اس کے باوجود ان

کے لئے یہ ممکن نہ ہو سکا کہ وہ طاقت کے زور پر مکمل اسلامی نظام نافذ کر دیں۔ ایسی حالت میں جو لوگ آج تشدد کی تحریکیں چلا رہے ہیں تاکہ اقتدار پر قبضہ کر کے اسلامی نظام کو نافذ کریں، وہ یا تو انتہائی نادان ہیں یا انتہائی غیر سنجیدہ۔ ان دو کے سوا کوئی اور خانہ نہیں جس میں ان کو جگہ دی جاسکے۔

۱۹۹۱ کے الیکشن کے بعد انڈیا کی پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں جو ممبران منتخب ہو کر آئے ہیں ان میں مسلم ممبروں کی تعداد ہمیشہ سے بہت کم ہے۔ اس پر یہاں کے مسلم حلقوں میں طرح طرح کے مایوسانہ تبصرے کئے جارہے ہیں۔ اس سلسلہ میں دہلی کے روزنامہ قومی آواز (۹ ستمبر ۱۹۹۱) میں مسٹر دیش راج گوئل کے قلم سے ایک مضمون چھپا ہے۔ اس کا عنوان ہے : ”ملک کا سب سے زیادہ پریشان حال طبقہ“۔ مضمون نگار لکھتے ہیں :

سوال یہ ہے کہ کیا بھارتی پارلیمنٹ میں مسلمان ممبران کی زیادہ تعداد ان مسائل کو حل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے جو بھارت میں انھیں درپیش ہیں۔ پاکستان کی قومی اسمبلی میں تو مسلمان ہی بھاری اکثریت میں موجود ہیں۔ پھر کیا یہ مسلم ممبران پاکستان کے مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے میں میں نے ایک صاحب سے کہا کہ ہندو لیڈر کے یہ الفاظ مسلمانوں کے لئے چشم کشا حیثیت رکھتے ہیں مسلمانوں کا مسئلہ مسلم ممبران حل نہیں کرسکتے۔ اگر ایسا ہوتا تو پاکستان اور بنگلہ دیش میں مسلمانوں کے مسائل حل ہوچکے ہوتے۔ مگر وہاں بھارت سے بھی زیادہ سنگین مسائل موجود ہیں۔ یہ ہے کہ مسائل کے حل کے لئے ہمیں خود مسلم قوم کو تیار کرنا چاہئے۔ مسلم قوم میں جب تک تعمیری انداز میں فکری بیداری نہ لائی جائے، کوئی بھی دوسری تدبیر ان کے مسائل کو حل کرنے والی نہیں، خواہ بھارت کا معاملہ ہو یا پاکستان اور بنگلہ دیش کا معاملہ۔

اگست ۱۹۹۱ کے آخری ہفتہ میں جماعت اسلامی پاکستان نے اپنے ”پچاسویں یوم تاسیس“ کی تقریبات لاہور میں منعقد کیں۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے ذمہ داروں نے پر جوش تقریریں کیں۔ اخباری رپورٹ کے مطابق، ان تقریروں میں بڑی دلچسپ باتیں کہی گئیں جماعت اسلامی پاکستان اپنے آٹھ ممبران اسمبلی کے ساتھ ”اسلامی جمہوری اتحاد“ کی حکومت میں شامل ہے۔ مگر جماعت کے

امیر قاضی حسین احمد صاحب نے اسلاءمی جمہوری اتحاد کے صدر اور پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میاں نواز شریف اپنے انتخابی منشور کو چھوڑ چکے ہیں۔ وہ اسلامی جمہوری اتحاد کا نام تو لیتے ہیں لیکن عملاً اُن پر بھارتی لابی کی گرفت ہے۔

پاکستان کی جماعت اسلامی کے سابق امیر میاں طفیل محمد صاحب نے اپنی تقریر میں پاکستان کے شریعت ایکٹ کو ایک منافقانہ قانون بتایا۔ انھوں نے کہا کہ اس شریعت ایکٹ نے گزشتہ (ایوبی) دور کے فیملی لا کو بھی مات کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ "بھارت میں تو سابق وزیر اعظم چندر شیکھر نے مسلمانوں کو حقوق دے رکھے ہیں۔ خود پاکستان میں بھی تمام اقلیتوں کو حقوق حاصل ہیں۔ مسلمانوں کو حقوق حاصل نہیں " (روزنامہ وفاق، لاہور، ۲۸ اگست ۱۹۹۱، صفحہ ۶) نوائے وقت (۳۰ اگست ۱۹۹۱) کے مطابق، جماعت اسلامی کے موجودہ اکابر کی تحریروں میں " دو قومی نظریہ، تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کا سارا کریڈٹ مولانا مودودی کو دیا گیا ہے۔ طرف جماعت کے لوگ یہ کریڈٹ لینا چاہتے ہیں کہ انھوں نے پاکستان بنوا کر وہاں کے مسلمانوں کو محفوظ کر دیا۔ دوسری طرف وہی یہ بھی اعلان کر رہے ہیں کہ اس محفوظ خطہ میں بھی بھارت کی انتہائی طاقت ور لابی موجود ہے۔ اور یہ کہ پاکستانی مسلمانوں کو اتنا حق بھی حاصل نہیں جتنا بھارت میں بسے ہوئے مسلمانوں کو حاصل ہے۔ اسی بنا پر نوائے وقت (۳۰ اگست ) نے ایک مضمون اس عنوان کے تحت چھاپا ہے کہ ؛ جماعت والوں کی مت ماری گئی۔

ہندوستان ٹائمز کے نمائندہ مسٹر بھابنی سین گپتا نے حال ہی میں پاکستان کا سفر کیا تھا۔ ان کی ایک رپورٹ ہندوستان ٹائمز (۱۸ ستمبر ۱۹۹۱) میں چھپی ہے۔ اس کا عنوان ہے ۔ نواز شریف کی بقاء میں مددگار :

Printed page