Al-Risala · May 1994

Large cabinet helps Nawaz Sharif survive.

Al-Risala, May 1994, pp. 21–28

By Maulana Wahiduddin Khan

نواز شریف (اسلامی جمہوری اتحاد ) اکتوبر ۱۹۹۰ کے الیکشن کے بعد بر سر اقتدار آئے تھے۔ پچھلے کچھ عرصہ سے مختلف پارٹیاں ان کے خلاف شور و غل کرتی رہی ہیں۔ ان کے سخت ناقدین میں جماعت اسلامی پاکستان بھی شامل ہے جو روایتی طور پر ان کی حلیف رہی ہے۔ مزید یہ کہ حال ہی میں اسلام آباد یونیورسٹی کے ایک سینئر استاد ڈاکٹر عنایت اللہ نے ۱۹۹۰ کے الیکشن کے بارہ میں اپنا

جائزہ شائع کیا ہے۔ اس کے مطابق، تقریباً چالیس حلقہ انتخاب میں واضح طور پر انتخابی دھاندلی کی گئی تھی۔

اس قسم کے مختلف واقعات سے مسٹر نواز شریف کی سیاسی حیثیت کمزور ہو رہی تھی۔ نے اس کا آسان حل یہ نکالا کہ مخالفین کو عہدے دے کر خاموش کر دیا۔ انھوں نے ۱۱ستمبر ۱۹۹۱ کو پاکستان کی مرکزی کابینہ میں توسیع کر کے ۲۹ نئے وزیروں کو اس میں شامل کر لیا۔ اس طرح اب ان کی کابینہ میں وزیروں کی مجموعی تعداد ۵۰ ہو گئی ہے۔

اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے میں نے ایک صاحب سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مدینہ کے انصار نے حکومتی عہدہ سے دستبرداری اختیار کر لی تھی۔ گویا اسلام کے دور اول میں حکومتی عہدہ چھوڑنے والوں نے اسلام کی تاریخ بنائی تھی، اب موجودہ زمانہ میں ایسے اسلام پسند ظاہر ہوئے ہیں جو حکومتی عہدوں پر قبضہ کر کے اسلام کی تاریخ بنانا چاہتے ہیں۔ کیسا عجیب ہے یہ فرق جو ماضی اور حال کے درمیان پایا جاتا ہے۔

اسلام آباد کے انگریزی اخبار مسلم نے ۳۵ سالہ مہاجر لیڈر الطاف حسین کا ایک انٹرویو شائع کیا تھا۔ میں نے اس انٹرویو کی وہ نقل دیکھی ہے جو دہلی کے انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس (۱۲ مارچ ۱۹۸۸) نے صفحہ ۸ پر شائع کی تھی۔ اس انٹرویو کے مطابق مہاجر لیڈر (قائد تحریک) نے کہا کہ ہندوستان کی تقسیم کے وقت جو مسلمان ہجرت کر کے پاکستان گئے، ان کو اور ان کی اولاد کو پاکستان میں تیسرے درجہ کا شہری سمجھا جاتا ہے۔ ان کو آج بھی برابر کے حقوق حاصل نہیں۔ یہاں کے قدیم باشندے ان کو خارجی سمجھتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی حکومت نے ان مہاجرین کو فرزندِ وطن کا درجہ

مسٹر الطاف حسین کے الفاظ میں، پاکستان میں مہاجرین کو ملازمتوں کے معاملہ میں تحفظ حاصل وہاں ان کی کوئی حیثیت نہیں۔ وہاں ان کی کوئی شناخت نہیں۔ یہاں ہر شخص اپنے کو پٹھان پنجابی، سندھی، بلوچی کہتا ہے اور اردو بولنے والے مہاجران خانوں میں سے کسی خانہ میں نہیں آتے۔ انھوں نے کہا کہ یہاں کی تمام پارٹیاں علاقائی پارٹیاں ہیں جو مذکورہ چار قومیتوں میں سے کسی ایک قومیت کی نمائندگی کرتی ہیں۔ اس بنا پر مہاجرین نے اپنی قومی تحریک شروع کی ہے تاکہ ان کو پانچویں

قومیت کی حیثیت سے پاکستان میں جگہ مل سکے۔

مسٹر الطاف حسین نے کہا کہ ہر مہا جر یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے جائز حقوق کو ناجائز طریقہ سے سلب کر لیا گیا ہے۔ اور تعلیم ، روزگار ، ٹیلیویژن ، حتیٰ کہ کھیلوں تک میں ان کے ساتھ امتیاز کیا جاتا ہے۔ انھوں نے شکایت کی کہ مہا جروں کو کرکٹ کی ٹیم میں منتخب ہونے کا اہل نہیں سمجھا جاتا اور اگر بعض خوش قسمت ایسے ہیں جنہیں منتخب کیا گیا تھا تو ان کو عروج پر پہنچنے سے پہلے ریٹائر کر دیا گیا۔ کہا کہ کراچی تک کی پولیس سپاہیوں سے بھری ہوئی ہے۔ اس محکمہ میں کسی مہا جر کو ملازمت نہیں

میں نے ایک صاحب سے کہا کہ پاکستان اب اپنے قیام کی نصف صدی پوری کر رہا ہے۔ وہاں کے اردو خواں مسلمانوں کے لئے بھی وہی مسائل ہیں جو ہندوستان کے اردو خواں مسلمانوں کو پیش اس سے کیا ثابت ہوتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ ہندوستان اور پاکستان یا ہندو اور مسلم کا نہیں ہے۔ بلکہ ذہنیت کا ہے۔ یہ در اصل ذہنیت ہے جو تمام مسائل پیدا کرتی ہے، اور دوبارہ یہ ذہنیت ہی ہے جو تمام مسائل کو ختم کرنے والی ہے۔ ایک لفظ میں ــ تمام مسائل کا سبب غیر حقیقت پسندی ہے۔ اور تمام مسائل کا حل حقیقت پسندی۔

ایک صاحب نے کہا کہ ہمارے یہاں اسلامی ذہن بنانے کے لئے بے شمار سرگرمیاں جاری مگر پچاس سالہ کوشش کے با وجود اب تک اسلامی انداز میں لوگوں کی ذہنی تربیت نہ میں نے کہا کہ مجھے آپ کے بیان کے نصف ثانی سے اتفاق ہے۔ مگر مجھے اس کے نصف اول سے اتفاق نہیں۔ اصل یہ ہے کہ اسلامی ذہن بنانے کی حقیقی کوشش ہی نہیں کی گئی۔ چیز کی کوشش ہی نہ کی گئی ہو وہ وجود میں کیوں کر آسکتی ہے۔

صرف اسلام کا نام لینے سے اسلامی تربیت نہیں ہوتی۔ اس کی ایک مثال دیتے ہوئے میں نے کہا کہ پاکستان کے پندرہ روزہ المنبر کے تازہ شمارہ ۲۵ ستمبر ۱۹۹۱ میں "ضیاء الحق شہید فاؤنڈیشن" کے زیر اہتمام ہونے والی کانفرنس کا تفصیلی تذکرہ ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ــ "ضیاء الحق فاؤنڈیشن کو فوری طور پر قوم کے کردار اور فکر کی تہذیب و تربیت کا کام شروع کرنا چاہئے" مگر محض اس طرح اسلام کا نام لینے سے اسلامی فکر اور اسلامی کردار پیدا نہیں ہوسکتا۔

اس کے لئے ضرورت ہوتی ہے کہ لوگوں کو حیات وکائنات کا اس طرح مطالعہ کرایا جائے کہ ان کے گردو پیش کی پوری دنیا ان کے لئے رزق ربانی کا دستر خوان بن جائے۔ مثال کے طور پر المنبر کے مذکورہ شمارہ میں سابق صدر جنرل ضیاء الحق صاحب کے تذکرہ کے تحت درج ہے کہ " یہ شہید صدر ہی تھے جن کی بدولت قرآن مجید کے لاکھوں نسخے روس میں تقسیم ہوتے رہے۔

یہ وہی واقعہ ہے جس کا ذکر الرسالہ نومبر ۱۹۹۰ (صفحہ ۲۷) میں کیا گیا ہے۔ سوویت سسٹم کا تجزیہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی اعلیٰ تدبیروں کے ذریعہ حالات میں وہ تبدیلی پیدا کی جس کے نتیجہ میں سوویت یونین کی آہنی دیواریں ٹوٹ گئیں اور وہاں اسلام کا داخلہ ممکن ہو گیا۔ دوسری طرف المنبر میں اس واقعہ کو تمام تر ایک انسان کی بدولت ظہور میں آنے والا واقعہ بتا یا گیا ہے۔

الرسالہ کے مضمون کو پڑھ کر آدمی کے اندر شکر خداوندی کا جذبہ امنڈے گا۔ کے اندر یہ جذبہ ابھرے گا کہ موجودہ زمانہ میں اسلامی دعوت کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں، اور ہم کو چاہئے کہ ہم ان کو استعمال کریں۔ جب کہ المنبر کے بیان سے صرف ہیرو ورشپ کا جذبہ ابھرے گا، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس سے آپ اندازِ کر سکتے ہیں کہ اسلامی تربیت کے لئے موجودہ اندازہ کلام کس طرح ناکافی ہے۔

ایک صاحب سے گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں اسلام کا اتنا زیادہ چرچا اس کے با وجود لوگوں میں حقیقی اسلامی اسپَرٹ پیدا نہیں ہوئی۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ اسلام کے سارے معاملے کو فخر کا معاملہ بنا دیا گیا ہے۔ اسلامی اسپرٹ تواضع کی اسپَرٹ کا نام اور یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ فخر کی باتیں کبھی تواضع کا مزاج پیدا نہیں کرتیں۔ میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے ایک ماہنامہ " ہمدرد صحت" کے نام سے اس کا تازہ شمارہ ستمبر ۱۹۹۱ میں ایک مضمون " قرآن حکیم کی تکریم " کے عنوان سے شائع اس مضمون میں کہا گیا ہے کہ قرآن شریف کی تعظیم یہ بھی ہے کہ دورانِ تلاوت اس کے مضامین کے لحاظ سے قلب میں پیدا ہونے والی کیفیات اور تاثرات کا بھی اندازہ کیا جائے ۔

ذکر عذاب پر خوف طاری نہ ہو، اگر جنت کی بشارت پر بشاشت پیدا نہ ہو، اگر عظمت وکبریائی کے ذکر سے دل مائل بہ سجود نہ ہو تو اس کی تکریم کا حق ادا نہیں ہوا (صفحہ ۶) یہ بات بظاہر درست ہے۔ مگر مضمون کے آخر میں جو کچھ کہا گیا ہے اس سے اس بات کی نفی ہو جاتی ہے۔ آخر میں کہتے ہیں کہ : قرآن حکیم وہ دولتِ دارین ہے جس پر ہمیں فخر بھی کرنا چاہئے۔ امت کے لئے سب سے بڑا اشرف اور اس کے لئے سب سے بڑا سرمایہ افتخار قرآن شریف ہے (صفحہ ۱۱)

یہ انسانی نفسیات کے سراسر خلاف ہے۔ قرآن کو اگر آپ مسلمانوں کے سامنے فخر کی کتاب کی حیثیت سے پیش کریں اور اس کو ان کے لئے سرمایہ افتخار بتائیں تو اس کے بعد اس احساس کا ابھر نا ناممکن ہو جاتا ہے جو تمام اصلاحات کی جان ہے۔ یعنی خوفِ خدا۔ جس چیز کو آدمی اپنے لئے فخر کا سامان سمجھ لے اس کے تصور سے اس کے اندر ناز کی کیفیت تو ابھر سکتی ہے مگر اس کے تصور سے اس کے اندر احتسابِ خویش کی کیفیت پیدا نہیں ہو سکتی۔

لاہور میں جو دینی حلقے ہیں ان میں سے ایک حلقہ وہ ہے جو مولانا جاوید احمد غامدی کی سربراہی میں قائم ہے۔ یہ سب کے سب نوجوان لوگ ہیں۔ ان کی اہم ترین صفت یہ ہے کہ وہ سب کے سب نہایت سنجیدہ ہیں۔ یہاں کے زمانہ قیام میں ان حضرات سے کئی بار انفرادی اور اجتماعی ملاقاتیں ان کی سنجیدگی اور ان کے اسلامی ذوق کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ ان حضرات سے جو باتیں ہوئیں ان کو نقل کرنا ممکن نہیں۔ تاہم ایک چیز جس پر میں نے سب سے زیادہ زور دیا وہ دعوت ہے۔ میں نے کہا کہ دعوت الی اللہ ایک لازمی فریضہ ہے جو ہر حال میں اسی طرح اہلِ اسلام پر عائد ہوتا ہے جس طرح کہ نماز، روزہ۔ فرق صرف یہ ہے کہ نماز روزہ ہر ہر فرد پر فرض ہے اور دعوتِ الی اللہ کی حیثیت فرضِ کفایہ کی ہے۔ یعنی کچھ لوگ اس کو ادا کر دیں تو پوری امت سے یہ فریضہ عملاً ساقط ہو جائے گا۔ ورنہ تمام امت ذمہ دار ٹھہرے گی۔ اس کام کے لئے یہ شرط نہیں ہے کہ مسلمان یا مسلمانوں کی پوری جماعت اصلاح یافتہ ہو جائے اس کے بعد اس کام کو انجام دیا جائے۔ دعوت سے مراد اسلام کی طرف دعوت ہے نہ کہ امت مسلمہ کی طرف دعوت۔ اس کا مطلب مدعو کو اس حقیقت واقعه سے خبردار کرنا ہے کہ وہ اس دنیا میں ۲۵ الرسائى ۱۹۹۳

حالت امتحان میں ہے۔ موت کے بعد اس کا حساب لیا جائے گا اور اس کے بعد اس کے لئے یا تو ابدی جنت ہے یا ابدی جہنم۔ دعوت سے مراد انذار و تبشیر ہے۔ اور انذار و تبشیر میں ساری اہمیت پیغام رسانی کی ہوتی ہے۔ اس کے سوا بقیہ تمام چیزیں اضافی بن جاتی ہیں۔

ایک مجلس میں یہ سوال سامنے آیا کہ آدمی نماز پڑھتا ہے ، روزہ رکھتا ہے۔ مگر اس کے اندر خوف خدا کی کیفیت پیدا نہیں ہوتی۔ اس کا سبب کیا ہے۔ جناب شیخ خاور محمود صاحب نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ اس کے مطابق زندگی نہیں گزارتے۔ یہ جواب اگر چہ سادہ تھا مگر مبنی بر حقیقت تھا۔ یہاں ایسے لوگ بڑی تعداد میں ہیں جو رسالہ اور دوسری کتابوں کو پڑھتے رہے ہیں اور ہمارے مشن سے بخوبی واقف ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ ایک صاحب نے اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا کہ اگر سالہ کے مطالعہ سے پہلے میرے اندر منفی سوچ تھی ۔ اب الحمد للہ منفی سوچ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ اب میں نے پوری طرح مثبت سوچ کو اپنا لیا ہے اور اسی پر اپنی زندگی کو ڈھالنے کی کوشش کر رہا ہوں۔

ایک نوجوان نے اپنی ڈائری دی اور کہا کہ اس میں کوئی چھوٹی سی نصیحت میرے لئے لکھ دیجئے! میں نے یہ جملہ لکھ دیا ؛ دانش مند وہ ہے جو چھوٹی بات کو بڑی بات کے روپ میں دیکھ سکے۔ ایک طالب علم سے میں نے پوچھا کہ پاکستان کے جو ہندو نو جوان تعلیم میں مسلم نوجوانوں سے آگے ہیں اس کا راز کیا ہے۔ اس نے کہا کہ اس سلسلہ میں مجھے خود تو ذاتی طور پر کوئی تجربہ نہیں۔ البتہ میرے ایک ٹیچر نے ایک بار کلاس میں یہی بات کہی۔ ہم لوگوں نے ان سے پوچھا کہ اس کا سبب کیا ہے۔ استاد نے کہا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ ہندو طلبہ مشترکہ مطالعہ (combined study) کرتے ہیں۔ اس طرح وہ ایک دوسرے کے علم سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اجتماعی مطالعہ کی بنا پر انہیں زیادہ معلومات حاصل ہو جاتی ہیں۔ اس کے برعکس مسلم طلبہ صرف انفرادی طور پر پڑھتے ہیں ، ان کی معلومات کم رہتی ہیں۔ اس طرح ہندو آگے بڑھ جاتے ہیں اور مسلمان ان کے پیچھے رہ جاتے ہیں۔

روزنامہ نوائے وقت (۲۳ ستمبر) میں ایک مضمون دیکھا۔ اس کا عنوان تھا : " ہندوؤں کی اسلام دشمنی" اس مضمون کا پہلا پیرا گراف یہ ہے ـــ یہ ایک ناقابل تردید اور اٹل حقیقت ہے جسے ہر پاکستانی کو مکمل طرح اپنے ذہن نشین کر لینا چاہئے کہ پاکستان اور پاکستانیوں کا ازل اور ابدی دشمن مسیحی نہیں، پارسی

نہیں، بدھ اور جین نہیں بلکہ ہنود۔ بروزن یہواد ہیں“ (صفحہ ۱۱)

ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ یہ سراسر غیر داعیانہ اندازِ کلام ہے۔ ہم اپنے کو داعی اور دوسری قوموں کو مدعو سمجھیں تو ہم تمام قوموں کو انسان کی نظر سے دیکھیں گے اگر بالفرض کوئی قوم زیادتی کرے تو اس کو نظر انداز کر کے اس کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کریں گے جیسا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔

عجیب بات ہے کہ اسی اخبار نوائے وقت ۲۴ ستمبر میں برطانویہ کی شہزادی ڈائ کی تقریر چھپی اس میں بتایا گیا تھا کہ برطانی خاتون نے اسلام آباد میں تقریر کرتے ہوئے علامہ اقبال کے شعر کا حوالہ دیا۔ جنھوں نے کہا ہے کہ بہت سے ایسے لوگ ہیں جو خدا سے محبت کرتے ہیں۔ وہ اس کی تلاش میں جنگل میں گھومتے ہیں۔ لیکن میں اس شخص سے محبت کروں گا جو خدا تعالیٰ کی تمام انسانیت سے پیار کرتا ہے۔ لیڈی ڈائنا نے کہا کہ اس شعر کے الفاظ دل کی گہرائیوں تک اثر کرتے ہیں اور میں اس کی گہرائیوں میں ڈوب جاتی ہوں ۔

میں نے ایک صاحب سے اس خبر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ محبت اپنے اندر تسخیری طاقت دعوت کا سب سے بڑا ہتھیار محبت ہے۔ مگر اس دنیا میں محبت نام ہے یک طرفہ محبت اس دنیا میں لازماً ایک کو دوسرے سے شکایت پیش آتی ہے۔ ایک کو دوسرے کی طرف سے زیادتی کا تجربہ ہوتا ہے۔ اس لئے اس دنیا میں وہی شخص محبت کر سکتا ہے جو شکایتوں اور زیادتیوں کے باوجود لوگوں سے محبت کرنے کا حوصلہ کر سکے۔

کرامت شیخ صاحب (پیدائش ۱۹۳۶) آٹومیٹک بک بائنڈنگ کی مشین اپنے یہاں لگانا نا اس مقصد کے لئے وہ لندن گئے۔ وہاں کی ایک کمپنی (Muller Martini) سے انھیں یہ مشین خریدنا تھا۔ کمپنی کے دفتر سے بات کر کے یہ طے ہو کہ اس کا نمائندہ کرامت شیخ صاحب کی قیام گاہ پر آئے گا اور ان کو ساتھ لے جا کر شوروم میں مذکورہ مشین دکھائے گا۔ طے شدہ وقت پر کمپنی کا ایک انگریز نمائندہ گاڑی لے کر آیا اور شیخ صاحب کو اپنے ساتھ لے گیا تاکہ انھیں مذکورہ مشین دکھائے۔ راستہ میں گفت گو کے دوران اسلام زیر بحث آیا۔ اس نے کہا کہ یہ کیسا مذہب اسلام ہے۔ ایک شوہر اپنی بیوی پر زبردستیاں کرتا ہے، وہ نسل

پریشان کرتا رہتا ہے ۔ مگر وہ عورت اپنے شوہر سے طلاق نہیں لے سکتی ۔

کرامت شیخ صاحب نے کہا کہ آپ کو غلط فہمی ہے ۔ ایسی عورت طلاق لے سکتی ہے ۔ اسلام میں اس کی اجازت ہے ۔ یہ سن کر وہ مبہوت ہو گیا ۔ اس نے حیرانی کے ساتھ کہا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے ۔ ہم تو سمجھے ہوئے تھے کہ ایسا نہیں ہو سکتا ۔ اسی طرح گفتگو ہوتی رہی ۔ آخر میں اس نے کہا __ جناب ، آپ جیتے ، میں ہار گیا ۔

کرامت شیخ صاحب نے اپنا ذاتی تجربہ بتانے کے بعد کہا : موجودہ زمانہ میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسلام کا پیغام دوسری قوموں تک پہنچایا ہی نہیں گیا ۔ اگر ہم صحیح طور پر اسلام کا پیغام جدید انسان تک پہنچائیں تو وہ چیخ اٹھے گا اور کہے گا کہ میں غلطی پر تھا ، تم حق پر ہو ۔ میں تمہارے دین کو قبول کرتا ہوں ۔

میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں دعوتی کام شروع نہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ مسلمان اپنی "غلطی" ماننے کے لئے تیار نہیں ۔ مسلمانوں کو پہلے یہ ماننا ہوگا کہ موجودہ زمانہ میں انھوں نے غلط تحریکیں چلائیں ، اس کے بعد ہی ان کے درمیان صحیح دعوتی تحریک ابھر سکتی ہے ۔

۲۱ ستمبر کو جناب مصطفی صادق (ایڈیٹر انچیف روزنامہ وفاق، سے ملاقات ہوئی ۔ نے بہت سے سبق آموز واقعات بتائے۔ انھوں نے بتایا کہ ۱۹۸۵ میں وہ سابق صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق کے ساتھ امریکہ گئے تھے۔ وہاں ہیوسٹن کی لیڈی میرنے ضیاء الحق صاحب کے اعزاز میں ہوٹل (Inn on the park) میں پارٹی دی۔ جب لوگ میز کے گرد جمع ہو گئے تو امریکی میٹر نے کہا کہ آج ہمارا مہمان ایک ایسا شخص ہے جو شراب نہیں پیتا۔ اور جس کے مذہب میں شراب حرام اس لئے ان کے احترام میں آج ہم نے یہاں شراب کا انتظام نہیں کیا ہے۔ مہمان حضرات اس کے لئے ہمیں معاف فرمائیں :

اگلے دن وہاں کے انگریزی اخبار ہیوسٹن ٹائمز (Huston Times) میں اس پارٹی کی خبر اس خبر کی سرخی اخبار نے ان الفاظ میں قائم کی تھی __ اسلام کے لمبے بازو ہیوسٹن تک پہنچ گئے :

Printed page