Long arms of Islam reach Huston.
Al-Risala, May 1994, pp. 29–33
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ سرخی علامتی طور پر اس امکان کو بتا رہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لئے ابدی طور پر رکھ دیا ہے۔ وہ یہ کہ اسلام کے بازو اتنے لمبے ہیں کہ امریکہ بھی اس کی زد سے باہر نہیں۔ زمانہ میں اسلام کے حق میں اس امکان کو بہت کم استعمال کیا گیا ہے۔ ضرورت ہے کہ اس کو سمجھا جائے اور اس کو پوری طرح استعمال کیا جائے۔
جنرل ضیاء الحق صاحب ساڑھے گیارہ سال تک پاکستان کے با اختیار صدر رہے ۔ نے اپنے لڑکوں کو کوئی عہدہ نہیں دیا۔ ان کے لڑکے عام لوگوں کی طرح بینک وغیرہ میں سروس مگر ضیاء الحق صاحب کی وفات کے بعد ان کے دونوں لڑکے (اعجاز الحق، انوار الحق) نے انتخاب میں حصہ لیا۔ وہ بھاری ووٹوں سے کامیاب ہوئے۔ اب دونوں لڑکے مرکزی کیبنٹ میں منسٹر ہیں۔
عام طور پر با اختیار لوگ صرف یہ جانتے ہیں کہ وہ اپنے اختیار کو استعمال کر کے اپنے بیٹوں کو اچھے عہدے دلا دیں۔ مگر مذکورہ مثال بتاتی ہے کہ بیٹوں کو عہدہ نہ دلانا بھی انھیں بڑی چیز دینا ہے۔ ایسے لوگوں کے بچے خواہ اپنے والد کی زندگی میں ترقی کے درجات تک نہ پہنچیں مگر باپ کے بعد وہ ضرور اعلیٰ ترقیات تک پہنچ کر رہتے ہیں۔
کرامت شیخ صاحب نے بتایا کہ سابق صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے ایک بار علماء کی اس میں مولانا نورانی بھی تھے۔ وہ پان کھانے کے عادی ہیں۔ ان کے منہ میں پان دیکھ کر ضیاء الحق صاحب نے کہا کہ مولانا، آپ پان کھاتے ہیں، یہ اچھا معلوم نہیں ہوتا۔ مولانا نورانی نے کہا: آپ خود بھی تو سگریٹ (Dunhill) پیتے ہیں : ضیاء الحق صاحب نے یہ جملہ سننے کے بعد اسی وقت سگریٹ چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔ اور پھر ساری زندگی کبھی سگریٹ نہیں پیا۔ مسجد بلال (نیو گارڈن ٹاؤن) بڑی خوب صورت مسجد ہے۔ اس میں امام اور موذن کے لئے رہائش گاہ بھی بنی ہوئی ہے۔ میں نے امام صاحب کی رہائش گاہ کو دیکھا۔ فلیٹ کے اندر کا ایک کشادہ نہایت صاف ستھرا ہوا ۔ چپس کا فرش تھا۔ جدید طرز کا باورچی خانہ اور حمام وغیرہ اس کے اندر موجود تھے۔ پانی ، بجلی اور پائپ گیس کے کنکشن بھی تھے۔
بہت سے لوگ ملیں گے جو یہ کہیں کہ مسجدوں کے امام حضرات کو معاشرہ کی اصلاح کا کام کرنا
مگر میں سمجھتا ہوں کہ اٹھ کو زکودہ فعال بنانے کے لئے ان کی معاشی حالت کو بہتر بنانا ضروری اٹھ کی معاشی حالت اگر عام طور پر بہتر ہو جائے تو ان کے اندر اعتماد اور حوصلہ پیدا ہو گا اور وہ معاشرہ کی اصلاح میں اپنا موثر کردار ادا کرنے کے قابل ہو جائیں گے ۔
ایک صاحب سے میں نے پوچھا کہ پاکستان میں جو اسلامی رسالے نکلتے ہیں ، ان میں سے کون سا رسالہ ہے جو ہر حلقہ میں پڑھا جاتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ یہاں تو ایسا کوئی رسالہ نہیں۔ اسلامی رسالے نکلتے ہیں وہ سب کسی حلقہ سے نکلتے ہیں اور اسی حلقہ میں پڑھے جاتے ہیں ۔ اگر کوئی پرچہ ہر حلقہ میں پڑھا جاتا ہو گا تو وہ الرسالہ ہوگا۔
ایک نوجوان نے بتایا کہ یہاں انڈیا کی فلمیں پاکستانی فلموں سے زیادہ مقبول ہیں۔ انڈیا یا دوسرا ہالی وڈ کہا جاتا ہے ۔ یہاں کے نوجوان کہتے ہیں کہ انگریزی ہالی وڈ امریکہ میں ہے اور اردو ہالی وڈ انڈیا پاکستان کے سینما ہاؤسوں میں انڈیا کی فلم دکھائی نہیں جاتی ۔ البتہ اس کے ویڈیو گھروں کے اندر وی سی آر پر بہت بڑے پیمانے پر دیکھے جاتے ہیں ۔
گورنمنٹ فورمن کرسچین کالج یہاں کا بہت بڑا کالج ہے ۔ اس کا رقبہ ۱۸۲ ایکڑ ہے ۔ طلبہ کی تعداد چھ ہزار سے زیادہ ہے ۔ ۲۴ ستمبر کی دوپہر کو یہاں کے آڈیٹوریم میں خطاب کے بعد اتنے زیادہ سوالات آئے کہ کاغذات کا ڈھیر لگ گیا ۔ ایک سوال بہت صاف ہندی رسم الخط میں لکھا ہوا تھا ۔ کے جوش وخروش کو دیکھ کر میں نے کہا کہ آج میری سمجھ میں آگیا کہ یہاں کے لوگوں کے لئے کسی نے " زندہ دلان پنجاب " کا لفظ کیوں استعمال کیا تھا ۔
عبدالمجید صاحب ٹوکیو (جاپان) میں رہتے ہیں ۔ ان کا ایک خط مورخہ ۱۶ ستمبر جناب محمد اسلم آئی کے پاس دیکھا ۔ اس میں انھوں نے جاپانیوں کے حالات لکھے تھے ۔ انھوں نے لکھا تھا کہ جا پانی بہت باکردار قوم ہیں ۔ ان کے یہاں رشوت ، سفارش ، دھوکا ، چوری ، قتل وغیرہ کا نام تک میں نے کبھی کسی مرد یا عورت کو کسی سے جھگڑتے نہیں دیکھا۔ ان کی زندگی کا مقصد یہ ہے ۔ خود خوش رہو اور دوسروں کو خوش رہنے دو ۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ نظری اعتبار سے اس معیارِ اخلاق پر ہیں جس کو حدیث میں اس طرح بتایا گیا ہے کہ " مومن وہ ہے جو دوسروں کے لئے وہی پسند کرے جو اپنے
لئے پسند کرتا ہے۔ گویا کہ وہ لوگ ”۵۰ فیصد“ دین خداوندی کے قریب آچکے ہیں۔ ”پچاس فیصد“ مزید انھیں خدا کے دین کے قریب لانا ہے۔ اس کے بعد وہ یہ کہتے ہوئے خدا کے دین میں داخل ہو جائیں گے کہ " ہم تو پہلے ہی سے اس پر ایمان لائے ہوئے تھے “۔ جناب محمد اسلم اپلٰی اعلی تعلیم یافتہ ہیں اور اسی کے ساتھ نہایت سنجیدہ ہیں۔ کالج میں استاد ہیں۔ وہ اس کے سخت خلاف ہیں کہ تعلیم گاہوں میں سیاست کو داخل کیا جائے۔ انھوں نے ایک ملاقات میں کہا کہ اگر ہماری تعلیم گاہوں کے طلبہ اور معلم سیاسی مزاج کے ہو جائیں تو اس کے بعد ہمیں کسی اور دشمن کی ضرورت نہیں۔
We need not any enemy when teachers and the taught have been politicized. مجھے ان لوگوں کے نقطہ نظر سے تو سخت اختلاف ہے جنھوں نے جدید درس گاہوں کو "قتل گاہ“ مگر جناب اسلم صاحب کی مذکورہ رائے سے مجھے صد فیصد اتفاق ہے۔ میری قطعی رائے ہے کہ تعلیم گاہوں سے یونین کا نظام اور سیاسی سرگرمیوں کو مطلق طور پر بند کر دینا چاہئے۔ کے زمانہ میں طالب علم کو صرف پڑھنا چاہئے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔
ایک مجلس میں میں نے اسلام کی بنیادی تعلیمات اور دین کے بنیادی تقاضوں پر گفتگو کی، گفت گو ختم ہوئی تو ایک صاحب نے کہا کہ " اور بابری مسجد کا مسئلہ “ میں نے کہا کہ اجودھیا کی بابری مسجد کا مسئلہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ویسا ہی ہے جیسا لاہور کی مسجد شہید گنج کا مسئلہ۔ حقیقت یہ ہے کہ بابری مسجد کا مسئلہ مسجد کا مسئلہ نہیں بلکہ مسجد کو سیاست بنانے کا مسئلہ ہے۔ جہاں کہیں بھی آپ کسی دینی معاملہ کو سیاسی استحصال (political exploitation) کا ذریعہ بنائیں گے تو وہی ہوگا جو بابری مسجد کے ساتھ ہوا۔
آپ کے لئے اس کی ایک قریبی مثال لاہور کی مسجد شہید گنج ہے۔ اس مسجد کو ۱۹۳۵ میں سیاسی استحصال کا ذریعہ بنایا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان بننے کے ۴۵ سال بعد بھی مسجد شہید گنج تعمیر نہ ہوسکی۔ اسی سے آپ اجودھیا کی بابری مسجد کے معاملہ کو سمجھ سکتے ہیں۔ لاہور کی مسجد شہید گنج کا مسئلہ یہاں کے پر جوش لیڈروں نے پیدا کیا تھا۔ ٹھیک اسی طرح اجودھیا کی بابری مسجد کا مسئلہ
حقیقت یہ ہے ہندوستان کے کچھ نا اہل مسلم لیڈروں کا پیدا کیا ہوا ہے۔ دونوں کا معاملہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے بالکل یکساں ہے۔
یہاں خطابات کے علاوہ روزانہ صبح و شام کثرت سے لوگ ملنے کے لئے آتے رہے اور ان سے گفتگو اور تبادلہ خیال جاری رہا۔ چوں کہ میری گفتگو کا سب سے زیادہ ابھرا ہوا موضوع دعوت ہوتا تھا، اس لئے سوال و جواب بھی اکثر براہ راست یا بالواسطہ طور پر اسی سے متعلق تھے۔ کچھ لوگوں نے میرے دعوتی نقطہ نظر سے اختلاف کیا۔ ایک صاحب نے کہا کہ ہمارا سب سے پہلا کام مسلمانوں کی اصلاح ہے۔ دعوت کا مرحلہ اس کے بعد آتا ہے۔ دوسرے نے کہا کہ ہم کو پہلے اپنے ملک میں اسلام کا نظام قائم کرنا ہے اس کے بعد قوموں کو اسلام کا مخاطب بنانا ہے۔ نے کہا کہ سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ مسلمانوں کی اقتصادی حالت کو درست کیا جائے۔ اس کے بعد دعوت وغیرہ کا کام کیا جائے۔ چوتھے صاحب نے کہا کہ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم پہلے مسلم امہ کو تیار کریں، اس کے بعد یہ مسلم امہ دوسری قوموں پر دین کی گواہی کا کام انجام دے گی۔ اس قسم کی تمام باتوں کو میں غلط سمجھتا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ ختم نبوت کے بعد مسلمان مقام نبوت پر ہیں۔ انذار و تبشیر کا پیغمبرانہ کام ان کی لازمی ذمہ داری ہے۔ کسی بھی عذر یا کسی بھی تاخیر کے بغیر انہیں اس کام کے لئے اٹھنا ہے۔ اور اپنی پوری طاقت کو خرچ کر کے اس کام کو انجام دینا اس کام کی فطری ترتیب یہ ہے کہ جن افراد کے اندر اس کا احساس پیدا ہو، وہ افراد اس کام کے لئے اٹھ کھڑے ہوں ۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے دوسرے افراد بھی اٹھیں گے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آسکتا ہے کہ یہ کام اجتماعی سطح پر ہونے لگے۔
کچھ لوگوں نے کہا کہ مسلمان اس وقت ساری دنیا میں مسائل کے اندر گھرے ہوئے ہیں۔ کوئی بھی کوشش انہیں مسائل سے نجات دلانے والی نظر نہیں آتی۔ میں نے کہا کہ یہ معاملہ کسی قوم کی سازش کی بنا پر نہیں ہے، بلکہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنی اصل ڈیوٹی (دعوت الی اللہ) کو چھوڑ رکھا ہے۔ اس معاملہ میں مسلمانوں کا معاملہ سید نایونس جیسا ہے۔ وہ دعوت کے محاذ سے ہٹ گئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کو مچھلی نے اسی طرح مسلمانوں کو مسائل نے نگل رکھا ہے۔ یہ حالت صرف اس وقت ختم ہو گی جبکہ
مسلمان اپنی غلطی کا احساس کریں اور دوبارہ دعوتی ڈیوٹی انجام دینے کی طرف پلٹ آئیں، اس کے علاوہ کسی بھی دوسری تدبیر سے یہ صورت حال ختم ہونے والی نہیں۔
لاہور کے زمانہ قیام میں ہر روز خطابات کا پرو گرام رہتا تھا۔ اس کی خبریں روزانہ اخباروں میں آتی رہیں۔ مگر اخباری رپورٹرچوں کہ خاص طرح کی زبان کے عادی ہو چکے ہیں، اس لئے بعض اوقات رپورٹنگ میں بڑی عجیب سی غلطیاں ہو ئیں۔ مثلاً روزنامہ وفاق (۲۴ ستمبر) میں ایک تقریر کی رپورٹنگ میں یہ درج تھا کہ " مولانا نے کہا کہ اس وقت اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ لوگوں نے نماز روزہ ترک کر دیا ہے۔ بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کو دین کی روح سے بیگانہ کیا جا رہا ہے (صفحہ) آجکل یہ مزاج ہے کہ ہر خرابی کا ذمہ دار حکومت کو بتا کر اس کی مذمت کی جاتی ہے۔ رپورٹر کی زبان پر " بیگانہ کیا جا رہا ہے " کا جملہ آگیا۔ حالاں کہ الرسالہ پڑھنے والے جانتے ہیں کہ میرا میں نے اپنی بات " لازم " کے صیغہ میں کہی تھی، رپورٹر نے اس کو " متعدی " کے صیغہ میں تبدیل
ایک صاحب نے صدام حسین اور ان کے پیدا کردہ خلیجی المیہ پر گفت گو ہوئی۔ میں نے کہا کہ مسلم تاریخ میں اتنی بڑی نادانی کی کوئی اور مثال مشکل سے ملے گی۔ اس کے باوجود مسلمانوں کی اکثریت ہر جگہ بشمول پاکستان صدام حسین کی حامی بن گئی۔ انھوں نے کہا کہ صدام حسین کا جر أت مندانہ انداز اور اس کا امریکہ اور اسرائیل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولنا ایسا واقعہ تھا جس نے تمام مسلمانوں کو مسحور کر دیا۔ میں نے کہا کہ یہی مسلمانوں کی اصل کمزوری ہے۔ موجودہ مسلمان ایک الفاظ پسند قوم بن گئے ہیں۔ اور سیاسی لیڈر ان کی اسی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مگر الفاظ پسندی صرف زوال کی علامت ہے۔ امام مالک نے اپنی موطا میں قاسم بن محمد تابعی کا قول صحابہ کے بارے میں نقل کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو قول پر کچھ بھی خوش نہیں ہوتے تھے (ادرکت الناس وما یعجبون
زندہ لوگ ہمیشہ عمل کو اہمیت دیتے ہیں اور مردہ لوگ الفاظ کو۔ صحابہ کرام نہ زندہ لوگ تھے، اس لئے وہ عمل کو اہمیت دیتے تھے۔ موجودہ مسلمانوں میں زندگی نہیں۔ اس لئے وہ الفاظ کے پیچھے دوڑتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں یہی ہمارا سب سے بڑا المیہ ہے۔ مسلمانوں کی یہی وہ کمزوری ہے