Al-Risala · May 1994

لاہور میں اجتماعی بروگرام

Al-Risala, May 1994, pp. 34–39

By Maulana Wahiduddin Khan

۲۰ ستمبر ۱۹۹۱ء مسجد بلال نیو گارڈن ٹاؤن، خطبہ جمعہ سے پہلے تقریر ، موضوع: نماز کی حقیقت مسجد بلال گارڈن ٹاؤن، بعد نماز مغرب : درس قرآن لاہور کے کچھ مسلم نوجوانوں سے ملاقات : اسلامی جماعتیں ۲۱ ستمبر قائد اعظم لائبریری کے ہال میں خطاب : اسلام اور عصر حاضر روزنامہ جنگ کے صدر دفتر کے ہال میں صحافیوں سے خطاب : اسلام اور امن عالم پریس کونسل آف انٹرنیشنل افیرس کے تحت ، ہلٹن ہوٹل : صحابہ کرام کے کارنامے گارڈن ٹاؤن کے ایک مکان پر درس حدیث ۲۲ ستمبر قارئین الرسالہ سے ملاقات پر مکان کرامت شیخ صاحب : تاثرات، سوال و جواب مسجد شان اسلام، گلبرگ میں خطاب : اسلام کا عقیدہ آخرت ہفت روزہ زندگی کی ٹیم سے تفصیلی انٹرویو : ملت اسلامی کے مسائل ۲۳ ستمبر روزنامہ نوائے وقت کے نمائندہ مسٹر عطاء الرحمن سے انٹرویو : مسلمانان ہند کے مسائل ادارہ امور پاکستان کے ہال میں خطاب : اسلام اور نیا چیلنج ماہنامہ اشراق کے دفتر میں ملاقات : مسائل حاضرہ پر گفتگو ۲۴ ستمبر گورنمنٹ فورمن کرسچن کالج میں خطاب : اظہار اسلام کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کی مسجد میں خطاب : دین کی حقیقت مسجد بلال ، نیو گارڈن ٹاؤن میں بعد نماز مغرب : درس حدیث ۲۵ ستمبر نوجوانوں کے ایک حلقہ سے ملاقات : موجودہ اسلامی تحریکیں گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن میں اساتذہ و طلبہ سے خطاب عہد حاضر کا چیلنج مسجد بلال میں نماز مغرب کے بعد درس حدیث جم خانہ کلب میں آج کا انسان اور اسلام ۲۶ ستمبر اخبار پاکستان کے نمائندہ مسٹر حفیظ قریشی سے انٹرویو مسلمانان ہند کے مسائل نوجوانوں کے ایک اجتماع سے خطاب توحید اور آخرت

جس نے انھیں استحصال پسند لیڈروں کی شکار گاہ بنا دیا ہے۔

کرسٹینا لیمب برطانیہ کی ایک خاتون جرنلسٹ ہیں۔ وہ فنانشل ٹائٹس کی کرسپانڈنٹ کی حیثیت سے کئی سال تک پاکستان میں رہی ہیں۔ پاکستان کے بارہ میں اپنے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں انھوں نے ۳۰۰ صفحہ کی ایک کتاب تیار کی ہے۔ یہ کتاب لندن سے چھپی ہے : Waiting for Allah — Pakistan's Struggle for Democracy وہ لکھتی ہیں کہ ابتدا ء جب میں پاکستان آئی تو اس سے مجھے بہت دلچسپی ہوئی۔ اس کے بارہ میں بڑی بڑی امیدیں قائم کر لیں ۔ مگر حقیقی تجربات نے مجھے اس کے بارہ میں مایوس خاص طور سیاسی کرپشن پاکستان کر اتنا زیادہ برباد کر چکا ہے کہ بظاہر اس کی ترقی کا کوئی امکان ان کے خیالات کا خلاصہ خود ان کے الفاظ میں یہ ہے کہ ـ آؤ ہم خدا پر بھروسہ کریں اور انتظار کریں کہ وہ ہم کو نجات دے گا ۔ کیونکہ ہم خود یہ کام نہیں کر سکتے : Let us have faith in Allah and wait for Him to redeem us, because we cannot do it ourselves. کتاب کا مطالعہ بتاتا ہے کہ پاکستان کے بارہ میں برطانوی خاتون کے احساسات اس کے معاند کے احساسات نہیں ہیں بلکہ اس کے دوست کے احساسات ہیں۔ تاہم میں نے ایک صاحب سے کہا کہ پاکستان کی موجودہ صورت حال کی ذمہ داری سب سے زیادہ جس کے اوپر آتی ہے وہ یہاں کا " اسلام پسند طبقہ ہے ۔ پاکستان بننے کے فوراً بعد ان لوگوں نے نہایت غیر دانش مندانہ طور پر یہ کیا کہ وہ " اسلامائزیشن آف پاکستان " کا سیاسی جھنڈا لے کو کھڑے ہو گئے۔ حالاں کہ ان کے کرنے کا کام یہ تھا کہ وہ اسلامائزیشن آف مین کے محاذ پر اپنی ساری قوتیں صرف کرتے ۔ اگر وہ ایسا کرتے کہ سیاست کے معاملہ کو نارمل پولیٹیکل پراسس کے حوالے کر دیتے اور خود فرد اور معاشرہ کی اصلاح کی مہم میں لگ جاتے تو یقینی طور پر پاکستان کی تاریخ اس سے مختلف ہوتی جو برطانی صحافی جیسے یہی خواہ ہوں کو آج وہاں نظر آتی ہے۔

ایک صاحب نے کہا کہ مسلم دنیا کو ایٹمی طاقت بننا چاہئے ۔ انھوں نے حوالہ دیا کہ لیبیا کے لیڈر

معمر قذافی نے عرب ملکوں سے کہا ہے کہ انھیں اگلے ۲۰ سال میں متحدہ طور پر ایٹمی ہتھیاروں پر مشتمل مزاحمتی طاقت بنانا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ اگر لیبیا نے مناسب مقدار میں طاقت ور اسلحہ بنا لیا ہوتا تو پھر ہم ۱۹۸۶ میں امریکہ کی بم باری کا جواب دیتے۔ اگر ہمارے پاس نیویارک پہنچنے والے میزائل ہوتے تو اس بم باری کے جواب میں اسی وقت ہم اپنی فوجوں کو نیویارک پر میزائل پھینکنے کی ہدایت کرتے۔ اس لئے ہمیں یہ طاقت حاصل کرنا چاہئے تاکہ آئندہ امریکہ یا کوئی اور ہم پر دوبارہ حملہ کرنے کے بارے میں نہ سوچے۔ (نوائے وقت ، ۲۳ اپریل ۱۹۹۰)

میں نے کہا کہ ہتھیار کی جس طاقت کو معمر قذافی حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ سوویت روس کے پاس بھاری مقدار میں موجود تھی۔ اس کے باوجود اس نے اپنے ہتھیار کو اپنے دشمن امریکہ پر استعمال کرنے کے لئے اپنے آپ کو عاجز پایا۔ چنانچہ اس نے امریکہ پر میزائل مارنے کے بجائے اس سے مصالحت کی بات چیت کی۔ حتیٰ کہ اس مصالحت کو ممکن بنانے کے لئے اس پر راضی ہو گیا کہ وہ اپنے ہتھیاروں کو برباد کر دے۔

مختلف واقعات نے ثابت کیا ہے کہ آج دنیا اس حد تک بدل چکی ہے کہ اب تشدد کی طاقت نے اپنی اثر انگیزی کھو دی ہے۔ آج تشدد کی طاقت کے مقابلہ میں امن کی طاقت زیادہ مؤثر ہے۔ اس معاملہ کی ایک مثال جاپان ہے۔ جاپان نے صنعتی اعتبار سے غیر معمولی ترقی کی ہے۔ کے پاس آج بھی کوئی قابلِ ذکر فوجی طاقت نہیں۔ مگر جاپان کی تعمیری ترقی امریکہ کے لئے زیادہ بڑا خطرہ بن گئی ہے۔ امریکہ میں اوپی نین پول سے معلوم ہوا ہے کہ بیشتر امریکی روس کی فوجی طاقت کے مقابلہ میں جاپان کی صنعتی اور اقتصادی طاقت کو اپنے لئے زیادہ بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔ ٹائم (۳۰ اپریل ۱۹۹۰) نے ایک اوپی نین پول میں اپنے امریکی قارئین سے پوچھا کہ : Was the U.S. right or wrong to get involved in the Vietnam War? اس سوال کے جواب میں ۲۹ فی صد امریکیوں نے کہا کہ امریکہ اپنے اس اقدام میں رائٹ تھا اور ۵۷ فی صد امریکیوں نے کہا کہ امریکہ اپنے اس اقدام میں را نگ تھا۔ یہ ویت نام جنگ ختم ہونے کے پندرہ سال بعد کا جواب ہے۔ ویت نام کی جنگ (۱۹۵۷ - ۱۹۶۵) میں امریکہ کے ۵۸۰۲۲ مرد اور عورت ہلاک ہوئے۔ ویت نام کی جنگ ۱۹۶۵ سے ۱۹۷۵ تک جاری رہی۔

ٹائمس آف انڈیا (۳۰ ستمبر ۱۹۹۱) میں یہ خبردی گئی ہے کہ مولانا عبدالقادر آزاد کو کچھ لوگ نشانہ تنقید بنا رہے ہیں جنھوں نے شہزادی ڈائنا کو بادشاہی مسجد میں داخل ہونے کی اجازت دی تھی۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ شہزادی ڈائنا جس وقت مسجد کے اندر داخل ہوئیں ان کی ٹانگیں کھلی ہوئی تھیں، اور یہ اسلام کی رو سے جائز نہیں۔ مولانا عبدالقادر آزاد نے اس کے جواب میں کہا کہ اسلام کا یہ اصول مسلم عورتوں کے لئے ہے نہ کہ غیر مسلم عورتوں کے لئے۔

خبر میں بتایا گیا ہے کہ لاہور کے ایک وکیل کی معرفت کچھ لوگوں نے مولانا عبدالقادر آزاد کے خلاف ایک فوجداری کیس (criminal complaint) دائر کر دیا ہے۔ خبر میں یہ اشارہ ہے کہ اس کے پیچھے اصل میں سیاسی مقصد ہے۔ مولانا عبدالقادر آزاد وزیر اعظم نواز شریف سے قریبی تعلق رکھتے ہیں۔ نواز شریف کے مخالفین اس واقعہ کو وزیر اعظم کو بدنام کرنے کے لئے استعمال کرنا

اسلام کو سیاسی مقصد کے لئے استعمال کرنے کی یہ سیاست مسلمانوں میں بہت عام ہے۔ وہ بہت بڑا گناہ ہے اور مسلمانوں کو آخری حد تک اس سے بچنا چاہئے ۔

لاہور کے ایک اخبار کے نمائندہ انٹرویو لینے کے لئے آئے۔ انھوں نے ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں دریافت کیا۔ ان کے ہاتھ میں دہلی کا انگریزی ماہنامہ "مسلم انڈیا" تھا۔ میں نے کہا کہ آپ ہندوستانی مسلمانوں کی حالت اسی سے سمجھ سکتے ہیں کہ ہندوستان کا مسلمان اپنے ماہنامہ کا نام "مسلم انڈیا" رکھتا ہے اور برسوں سے اس کو نکال رہا ہے۔ مگر اس کو کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئی۔ اس کے برعکس پاکستان کے ہندو اگر "ہندو پاکستان" کے نام سے اپنا ماہنامہ نکالیں تو مجھے امید نہیں کہ یہاں وہ اس کو نکالنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔

میں نے کہا کہ ہندوستان میں ہم کو مکمل آزادی ہے۔ وہاں "ہندوستان میں اسلام کا غلبہ" (مومنٹ اگست ۱۹۹۱) کے عنوان سے مضامین چھپتے ہیں۔ حالاں کہ پاکستان میں ہندوؤں کے لئے ناممکن ہے کہ وہ "پاکستان میں ہندو ازم کا غلبہ" کے عنوان سے مضامین چھپائیں۔ لاہور کے ایک صاحب ہندوستان جاتے ہیں اور وہاں یہ تقریر کرتے ہیں کہ ہم آر مر اسٹرگل کے ذریعہ اسلامی انقلاب بر پا کریں گے۔ اور وہاں ان کی تقریر پر پابندی نہیں لگتی۔ حالاں کہ انڈیا سے ایک ہندو اگر یہاں تقریر

کرے کہ ہم ہتھیاروں کے زور پر ہندو نظام قائم کریں گے ، تو ناممکن ہے کہ وہ یہاں اس قسم کی تقریر کر سکے ۔

انڈیا میں ۳ لاکھ مسجدیں ہیں ۔ ان مسجدوں میں اسی طرح لاؤڈ اسپیکر پر اذان ہوتی ہے جس طرح پاکستان میں ہوتی ہے ۔ وہاں ہر شہر اور ہر بستی میں لاکھوں کی تعداد میں مدرسے قائم ہیں ۔ اور سب کامیابی کے ساتھ چل رہے ہیں ۔ مسلمان اسلام کے نام پر بڑے بڑے جلسے اور کانفرنسیں کرتے ہیں ۔ وغیرہ وغیرہ ۔ انھوں نے کہا کہ ”مسلم انڈیا“ تو لکھتا ہے کہ مسلمان سرکاری ملازمتوں میں بہت کم ہیں ۔ نے کہا کہ مسلم انڈیا آدھی بات لکھتا ہے ۔ اصل یہ ہے کہ مسلمان تعلیم میں دوسری قوموں سے بہت زیادہ پیچھے ہیں ۔ اور جب تعلیم میں پیچھے ہیں تو برسوں میں وہ برابری کا درجہ کس طرح پا سکتے ہیں ۔ نے کہا کہ پھر ہندوستان میں ہندو مسلم فساد کیوں ہوتے ہیں ۔ میں نے کہا کہ اسی بنا پر جس بنا پر پاکستان میں مسلم مسلم فساد ہوتے ہیں ۔ دونوں کا سبب ایک ہی ہے ۔ اور وہ ہے صبر و اعراض نہ کرنا۔ مجھے اشتیاق تھا کہ لاہور کے اس تاریخی مقام کو دیکھوں جو ”مسجد شہید گنج“ کے نام سے مشہور ہے ۔ ستمبر کی شام کو جناب کرامت شیخ صاحب کے ساتھ اس کو دیکھا ۔ یہ مقام یہاں کے مشہور نو لکھا بازار میں واقع ہے ۔ جب ہم وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ ہماری گاڑی نو لکھا بازار کی تنگ گلیوں میں داخل نہیں ہو سکتی ۔ ہم نے گاڑی کو باہر سڑک پر چھوڑ دیا اور نو لکھا بازار میں داخل ہو کر پیدل روانہ ہوئے ۔ پر ہجوم گلی سے گزرتے ہوئے آخر کار ہم وہاں پہنچے جہاں مذکورہ عمارت واقع ہے ۔

وہاں پہنچ کر سب سے پہلا عجیب منظر جو دکھائی دیا وہ عمارت کے مقام داخلہ پر لگا ہوا بورڈ تھا اس بورڈ پر انگریزی اور اردو میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے : گور دوارہ شہید گنج سنگھیاں ۔ کے اعتبار سے یہ عمارت مسجد نہیں ہے بلکہ گور دوارہ ہے۔

یہ مقام اس وقت پاکستان وقف بورڈ کے تحت ہے ۔ یہاں بورڈ کی طرف سے ایک صاحب چوکیدار کی حیثیت سے رہتے ہیں ۔ ان سے ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے اپنا نام عادل بادشاہ ۴۵ سال ) بتایا۔ انھوں نے کئی عبرت انگیز باتیں بتائیں ۔ انھوں نے کہا کہ تقریباً ڈیڑھ سال پہلے یہاں انڈیا کے ایک مسلمان آئے ۔ ان کی عمر تقریباً ۷۰ سال تھی ۔ وہ اندر داخل ہوئے تو صحن میں پہنچ کر بری طرح رونے لگے ۔ میں نے پوچھا کہ آپ کیوں رو رہے ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ جب انگریز پولیس نے

مسلمانوں پر گولی چلائی تھی، اس وقت میں یہاں موجود تھا۔ میں نے دیکھا کہ بہت سے مسلمان یہاں جمع ہیں اور اندر داخل ہونا چاہتے ہیں۔ لیکن انگریز پولیس نے ایک نشان کر دیا تھا کہ اس حد سے آگے کرئی نہ بڑھے۔ مسلمان نہایت جوش میں تھے۔ وہ بڑھ کر اس حد کو پار کرتے۔ میں نے دیکھا کہ ایک مسلمان پولیس نے گولی چلائی۔ اور وہ وہیں ڈھیر ہوگیا۔ دوسرا مسلمان آگے بڑھا۔ نے گولی چلائی۔ اور اس کی لاش وہیں گر پڑی۔ اس طرح بارہ آدمی بڑھے اور سب کے سب گولی کھا کر گرتے رہے۔ اس کے بعد مجھے دیکھنے کی تاب نہ رہی۔ میں وہاں سے ہٹ گیا۔ مجھے یہیں معلوم کہ اس کے بعد کیا ہوا۔

خدا بخش لائبریری جرنل کے حوالہ سے ہفت روزہ نقیب (پٹنہ) کے شمارہ ۹ ستمبر 1991 میں ایک دستاویز شائع ہوئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ لاہور ریلوے اسٹیشن کے قریب لنڈا بازار میں دو سو سال پہلے ایک مسجد تعمیر ہوئی جو مسجد عبداللہ خاں کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس کو لاہور کے کوتوال عبد اللہ خاں نے بنوایا تھا۔ سکھوں کی شورش کے زمانہ میں پنجاب کے مغل گورنر نے ان کی سرکوبی شروع مسجد کے قریب ہی کو توالی میں سکھ مجرموں کو سزا دی جاتی تھی۔ اسی زمانہ میں ایک سکھ لیسنڈر تار و سنگھ نہیں مارا گیا۔

اس کے بعد جب سکھوں کا راج آیا تو انھوں نے مسجد پر قبضہ کر لیا اور اس کے قریب تارو سنگھ کی یاد میں ایک سمادھی بنا دی ۔ جون ۱۹۳۵ میں سکھوں نے فیصلہ کیا کہ مسجد عبد اللہ خاں (جو اب مسجد شہید گنج کہی جاتی تھی) کو ڈھاکو وہ میں گور دوارہ بنایا جائے۔ اس پر مسلمانوں میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔ مسلم رہنماؤں کا ایک وفد انگریز گورنر سے ملا لیکن اس کی شنوائی نہیں ہوئی ۔ اور برطانوی سنگینوں کی حفاظت میں سکھوں نے مسجد کو گرا دیا۔

اس پر مسلمانوں کا بہت بڑا جلوس نکلا جو اندرون شہر سے دہلی دروازہ کے باہر پہنچا۔ پولیس نے صف بندی کی ۔ مگر جلوس صف بندی کو توڑ کو آگے بڑھ گیا۔ اس کے بعد پولیس اور فوج کے ساتھ مسلمانوں کا خونیں تصادم شروع ہوا جو ۴۸ گھنٹے تک جاری رہا۔ دو دن کے اندر دس بار گولی تیرہ نوجوان ہلاک ہو گئے اور سیکڑوں مسلمان زخمی ہوئے۔ گورنمنٹ نے مسجد کے انہدام سے پہلے ہی مسلمانوں کے لیڈر ظفر علی خاں وغیرہ کو پکڑ کر جیل میں بند کر دیا تھا۔

Printed page