۲۹ ارسال مئی ۱۹۹۴
Al-Risala, May 1994, pp. 40–45
By Maulana Wahiduddin Khan
انگریزی حکومت نے مسلمانوں کو مطمئن کرنے کے لئے مال روڈ پر مسجد شاہ چراغ کو واگزار کر دیا جو تقریباً ۷۵ سال سے انگریزوں کے قبضہ میں چلی آرہی تھی۔ مگر مسلمان اس پر راضی نہیں ہوئے مجلس اتحاد ملت کے نیلی پوش رضا کاروں نے سول نافرمانی شروع کر دی۔ ہزاروں نوجوان جیلوں میں چلے گئے۔ مسلمانوں کے تمام لیڈر بھی قید میں تھے۔ ایک نوجوان ابو سعید انور اور اس کے ساتھی بادشاہی مسجد کو اڈاہٹ کر حکومت کے خلاف تحریک چلا رہے تھے۔
اسی کے ساتھ لاہور کی دو مسلم جماعتوں کے درمیان معرکہ گرم ہوگیا۔ دہلی دروازہ کے باہر سرخ رنگ کی دیگیں چڑھی ہوئی تھیں۔ جو شخص ادھر سے گزرتا، احرار اس کی قمیص اتار کر سرخ رنگ میں رنگ دوسری طرف موچی دروازہ کے باہر نیلے رنگ کی دیگیں تیار رہتی تھیں۔ یہاں لوگوں کے کرتے نیلے رنگ میں رنگے جارہے تھے۔ بازاروں میں سرخ پوش اور نیلی پوش کثرت سے نظر آرہے تھے۔ مجلس احرار کا نشان سرخ رنگ تھا اور مجلس اتحاد ملت کا نشان نیلا رنگ مسجد شہید گنج کی تحریک کے زمانہ میں ان دونوں کا جوش اپنے شباب پر پہنچ گیا تھا۔ چنانچہ وہ عام مسلمانوں کو پکڑ کر ان کے کپڑے اپنے پسندیدہ رنگ میں رنگنے لگتے تھے۔ اس نے مسجد شہید گنج کے مسئلہ کو تو حل نہیں کیا۔ البتہ اس جنونی عمل کے نتیجے میں مسلمانوں اور سکھوں کے درمیان ناقابل بیان نفرت پیدا ہوگئی۔ موجودہ زمانہ کی تمام مشہور مسلم تحریکوں کا ہوا ہے۔
قرآن میں حکم ہے کہ اللہ کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں ان پر سب وشتم نہ کرو، ورنہ یہ لوگ حد سے گزر کر جہالت کی بنا پر اللہ کو سب وشتم کرنے لگیں گے۔ اسی طرح ہم نے ہر گروہ کی نظر میں اس کے عمل کو خوشنما بنا دیا ہے۔ پھر ان سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے۔ اس وقت اللہ انہیں بتادے گا جو وہ کرتے تھے (الأنعام ۱۰۹)
علماء نے کہا ہے کہ اس آیت کا حکم اس امت پر ہر حال میں باقی ہے۔ جب بھی اہل باطل طاقتور حیثیت میں ہوں اور یہ اندیشہ ہو کہ اسلام پر یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یا اللہ پر سب وشتم کیا جائے گا تو کسی مسلمان کے لئے جائز نہ ہوگا کہ وہ ان کی صلیب کو یا ان کے دین کو یا ان کے عبادت خانہ کو برا کہے اور نہ کوئی ایسا فعل کرے جس کا یہ نتیجہ نکلنے والا ہو۔ کیونکہ یہ ان کو معصیت پر ابھارنے کے ہم معنی ہے (الجامع لاحکام القرآن للقرطبی ۷ / ۶۱) اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی شریعت میں ایسے ہر اقدام سے منع کیا گیا ہے جو الٹا نتیجہ (کاؤنٹر پروڈکٹو)
ثابت ہونے والا ہوا۔ مگر موجودہ زمانہ میں مسلم رہنماؤں نے بڑے پیمانہ پر یہ فعل انجام دیا ہے۔ مسجد اقصی (۱۹۲۸) سلمان رشدی (۱۹۸۹)، شاہ بانو بیگم (۱۹۸۵)، بابری مسجد (۱۹۸۶) وغیرہ مسائل پر جو دھواں دھار تحریکیں چلائی گئیں وہ سب اسی کے تحت آتی ہیں۔ ان تحریکوں سے کوئی بھی مثبت فائدہ نہیں ملا۔ البتہ ان کا یہ نا قابل تلافی نقصان ہوا کہ ساری دنیا میں اسلام سے نفرت پیدا ہو گئی۔ دین رحمت، لوگوں کی نظر میں صرف دین تشدد بن کر
۲۶ جنوری ۱۹۳۸ کو لاہور ہائی کورٹ نے مسجد شہید گنج کے مقدمہ میں مسلمانوں کے خلاف فیصلہ دیا۔ اگلے دن اسلامیہ کالج کے گراؤنڈ میں احتجاجی جلسہ ہو۔ اس کے بعد بادشاہی مسجد میں ایک جلسہ عام ہوا: شہر کے مختلف حصوں سے جلوس نکل رہے تھے، سب کی منزل بادشاہی مسجد تھی۔ مسجد مسلمانوں سے مولانا ظفر علی خاں جلسہ کی صدارت کے لئے آئے۔ وہ منبر پر کھڑے ہوئے۔ انھوں نے کہا: عزیزان ملت، میں تمہارے لئے ایک بشارت لایا ہوں۔ انھوں نے اتنا ہی کہا تھا کہ ہر طرف اللہ اکبر کے نعرے گونجنے لگے۔ بڑی مشکل سے انھوں نے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے کہا کہ آج میری آنکھوں نے یہ روح پرور منظر دیکھا کہ ہزاروں مسلم نوجوان ننگے سر اور دیوانہ وار سڑک پر چلے جا رہے ہیں۔ ایک طالب علم کہتا ہے: تم کو کیا چاہئے (What do you want) اور پھر سب کے سب جواب دیتے ہیں: مسجد شہید گنج (Shahid ganj mosque) لوگو، جب کسی قوم کے نوجوان اس طرح فیصلہ کر لیں تو کوئی طاقت انھیں کامیابی سے روک نہیں سکتی۔
شورش کاشمیری نے اپنی کتاب" بوئے گل نالہ دل دود چراغ محفل" میں مسجد شہید گنج کا قصہ تفصیل کے ساتھ لکھا ہے۔ اس کے کچھ حصے یہاں نقل کئے جاتے ہیں:
جولائی ۱۹۳۵ میں ایک دن ہنگامہ برپا ہو گیا کہ سکھ اس مسجد کو گرا رہے ہیں۔ پورا شہر بھڑک اٹھا۔ اس روز جمعہ کا دن تھا۔ جمعہ کی نماز کے بعد مسلمانوں نے شہید گنج کا رخ کیا۔ ہزار ہا مسلمان نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے شہید گنج کی طرف روانہ ہو گئے۔ سیکڑوں لوگ مسلح تھے ۔ اور بعض نوجوانوں نے تیزاب کی پچکاریاں بھری ہوئی تھیں۔ میں بھی تماشائی کے طور پر ساتھ ہو گیا۔
جلوس شہید گنج کے چوک پر پہنچا تھا کہ اسی وقت گھڑ سوار پولیس آ گئی۔ پیادہ پولیس بھی کافی تعداد میں تھی۔ سٹی مجسٹریٹ نریندر سنگھ نے آتے ہی مسلمانوں پر لاٹھی چارج کا حکم دے دیا۔ اہم الرسائل مئی ۱۹۹۴
سکھوں نے شہید گنج کی بالکونی سے "راج کرے گا خالصہ" کے نعرے بلند کئے۔ مسجد بدستور گرتی رہی اگلی صبح تک مسجد کا نام ونشان نہ تھا۔ جب لاٹھی چارج کافی نہیں ہوا تو پولیس نے گولی چلائی جس میں بہت سے مسلمان ہلاک ہوگئے ۔ دو دن متواتر مسلمانوں نے گولیاں کھائیں۔
اس سے پہلے سکھوں نے گوردوارہ تحریک چلائی تھی۔ ان کی بے مثال قربانیوں کے بعد گوردوارہ ایکٹ بنا تو گوردوارے مہنتوں اور گیانیوں سے لے کر گور دوارہ پر بندھک کمیٹی کے سپرد کئے گئے۔ اس فہرست میں شہید گنج کو بھی شامل کیا گیا۔ نواب مظفر خاں نے سکھوں کا یہ حق تسلیم کر لیا اور انہیں کے دستخطوں سے شہید گنج سکھوں کو ملی تھی۔ مسلمان اپنا دعوی ہار چکے تھے۔ بارہ سال بعد ان کا دعوائے ملکیت برطانوی قانون کے نزدیک بے معنی تھا۔ آخر کار مورچہ ختم ہوگیا۔ اسی زمانہ میں پیر جماعت علی شاہ نے اعلان کیا تھا کہ اگر شہید گنج مسجد مسلمانوں کے حوالے نہ کی گئی تو وہ شاہی مسجد کے مینار پر چڑھ کر چھلانگ لگا دیں گے۔ مسلمان اس اعلان پر جھوم اٹھے۔ مگر شاہی مسجد کے مینار سراپا انتظار بنے کھڑے رہے۔ پیر صاحب نے عذر تراش کہ شاہی مسجد کا امام وہابی ہے ، اور وہ آج تک وہاں کی مسجد میں نہیں گئے۔
اس کے بعد ریزولیوشن پاس ہوتے رہے۔ کانفرنسیں ہوتی رہیں۔ لطف یہ ہے کہ شہید گنج اب بھی اسی طرح پڑی ہے اور اسلامی سلطنت کے دور میں بھی وہ سکھوں کی ملکیت تسلیم کی جاتی ہے !
موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں نے ہمیشہ منفی تحریکیں چلائیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کا عام مزاج منفی مزاج بن گیا۔ اب مسلمان ہمیشہ اس وقت جوش دکھاتے ہیں جب کہ مسئلہ " مسلم ورسس نان مسلم" ہو۔ جب نان مسلم نشانہ سے ہٹ جائے تو اس کے بعد مسلمانوں کا جوش عمل بھی ختم ہو جاتا ہے۔
یہی معاملہ خود ہندوؤں کا بھی ہے۔ ہندوستان کے جو ہندو مسلمانوں کے خلاف جوش دکھاتے ہیں وہ اسی لئے ایسا کر رہے ہیں کہ مسلمانوں نے اپنے آپ کو ان کے نشانہ پر کھڑا کر رکھا ہے۔ اگر مسلمان اپنے آپ کو ان کے نشانہ سے ہٹالیں تو اس کے بعد ان ہندوؤں کا جوش بھی ختم ہو جائے گا۔ اور پھر اجودھیا کے " رام مندر" کا بھی وہی انجام ہوگا جو لا ہور کی مسجد شہید گنج کا ہوا ہے۔
اس مزاج کا ایک دلچسپ مظاہرہ ستمبر ۱۹۹۱ میں ہواا ہے۔ دور درشن پر بچوں کے ایک پروگرام میں کوئز (Quiz) کے دوران ایک ہندو بچے سے پوچھا گیا کہ "شوبوائے" کی تاریخ کیا ہے۔ نے کہا کہ آزادی سے پہلے مسٹر جناح نے یہ لفظ مولانا ابوالکلام آزاد کے لئے استعمال کیا تھا۔ کے بعد مسلمانوں میں دور درشن کے خلاف ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ اس قول کی اصل ذمہ داری مسٹر جناح مگر مسلمانوں نے کبھی مسٹر جناح کے خلاف ہنگامہ نہیں کیا۔ البتہ یہی لفظ ٹی وی پر ایک ہندو بچہ نے دہرایا تو اس کے خلاف وہ ہنگامہ کرنے لگے۔ وہ یہ مطالبہ لے کر کھڑے ہو گئے کہ ٹی وی کے اس عملہ کو برطرف کیا جائے جس نے اس قسم کا کوئز ٹی وی پر دکھایا ہے۔
لاہور کے سفر کے لئے جب میرا رزرویشن ہوا تو اس کے مطابق ، مجھے ۱۹ ستمبر کو وہاں جانا تھا اور ۲۶ ستمبر کو دہلی واپس آنا تھا۔ یہ مدت میرے لئے غیر معمولی طور پر زیادہ تھی۔ چنانچہ لاہور پہنچتے ہی یہ حال ہو کہ میں دن گننے لگا۔ ایک ایک دن ختم ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ ۲۶ ستمبر آگیا جب کہ مجھے یہاں سے روانہ ہونا تھا۔ ۲۶ ستمبر کی صبح کو جب میں اٹھا اور روانگی کی تیاری کرنے لگا تو ایسا محسوس ہوا کہ گویا میں سفر آخرت کی تیاری کر رہا ہوں ۔
میں نے سوچا کہ جس طرح لاہور میں ایک ایک دن ختم ہو کر آخر کار ۲۶ ستمبر آگیا۔ اسی طرح دنیا میں بھی میرے ایک ایک دن گزر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ آخر کار وہ لمحہ آجائے گا جب کہ دنیا سے نکل کر مجھے آخرت کی طرف سفر کرنا ہوگا۔ ایک مدت ختم ہوگئی۔ اسی طرح دوسری مدت بھی ختم ہو جائے گی ۔ کے خاتمہ پر انسانی سواری مجھے لاہور سے اٹھا کر دہلی پہنچارہی ہے۔ دوسری مدت کے خاتمہ پر فرشتوں کی سواری آجائے گی اور مجھ کو دنیا سے نکال کر آخرت کے عالم میں پہنچا دے گی۔ کیسا عجیب ہے وہ وقت جو آچکا، کیسا عجیب ہے وہ وقت جو آنے والا ہے۔
۲۶ ستمبر ۱۹۹۱ کو پی آئی اے کی فلائٹ ۲۶۰ کے ذریعہ لاہور سے دہلی کے لئے روانگی ہوئی۔ پہنچا تو معلوم ہوا کہ میری سیٹ کینسل ہو چکی ہے۔ دہلی سے اگر چہ میری واپسی کی سیٹ کنفرم تھی۔ کے مطابق ، مجھے اپنی سیٹ کو ری کنفرم کرانا چاہئے تھا۔ مگر میں نہ کر سکا۔ اس بنا پر حسب قاعدہ میری سیٹ مگر ایئر پورٹ کے عملہ نے غیر معمولی تعاون دیا۔ مجھے سیٹ دوبارہ مل گئی۔ ایئر پورٹ پر میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ روانگی کے اعلان کا انتظار کر رہا تھا۔ ان میں جناب ۰۰۰۰۰۰۰ ... | ۵۳
امیر العظیم صاحب (انچارج شعبہ اطلاعات جماعت اسلامی پاکستان) بھی تھے۔ امیر العظیم صاحب کے ہاتھ میں ایک ”موبائل ٹیلیفون“ تھا۔ ٹیلی فون کا عام تصور یہ ہے کہ گھر یا آفس میں جہاں ٹیلی فون نصب ہو، وہیں سے رابطہ قائم کیا جا سکتا ہے۔ مگر موبائل ٹیلی فون ایک چلتا پھرتا ذریعہ رابطہ ہے۔ چنانچہ امیر العظیم صاحب کے دستی ٹیلی فون پر کئی بار گھنٹی بجی۔ انھوں نے لاہور کے اندر اور لاہور کے باہر مختلف مقامات سے اس طرح گفتگو کی جیسے کہ دونوں پاس بیٹھے ہوئے ہوں۔ امیر العظیم صاحب نے کہا کہ پہلے مجھ سے رابطہ قائم کرنے کے لئے ضروری تھا کہ میں اپنے دفتر یا گھر میں موجود رہوں۔ اب میں خواہ جہاں بھی رہوں فوراً لوگوں کے ساتھ میرا رابطہ قائم ہو جاتا ہے۔
یہ دیکھ کر مجھے قرآن کی وہ آیت یاد آئی جس میں بتایا گیا ہے کہ تم جہاں کہیں بھی ہو اللہ تم سب کو لے آئیگا، بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے (البقرہ ۱۴۸) اللہ کے لئے پوری طرح ممکن ہے کہ وہ مختلف مقامات پر بکھرے ہوئے انسانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کو اپنے پاس بلائے۔ مگر موجودہ زمانہ کی ایجادات نے اس عقیدہ کو واقعاتی طور پر قابل فہم بنا دیا ہے۔ جہاز کے اندر داخل ہو کر میں اپنی سیٹ پر بیٹھا تھا کہ جہاز کے عملہ کے ایک صاحب مسکراتے ہوئے میرے پاس آئے۔ ان کے ہاتھ میں لاہور کے اخبار وفاق (۲۶ ستمبر) کا شمارہ تھا۔ انھوں نے کہا کہ یہ اخبار ”مولانا وحید الدین نمبر“ کے طور پر نکالا گیا ہے۔ اس کی تصویروں سے میں نے سمجھا کہ وہ آپ اس کے بعد انھوں نے کہا: ”آپ بزرگ آدمی ہیں۔ خصوصی دعائیں کریں ہمارے لئے۔ حال ہے ہمارا۔ ان کے چہرہ پر داڑھی تھی۔ انھوں نے اپنا نام اکرام اللہ بتایا۔ اکرام اللہ صاحب کا یہ جملہ سن کر میرے سامنے وہ مناظر گھومنے لگے جو لاہور میں میرے ساتھ ایک صاحب سے میری ملاقات کرائی گئی۔ وہ کرتا اور پاجا مہ پہنے ہوئے تھے۔ سر پر گول ٹوپی اور چہرہ پر داڑھی تھی۔ بظاہر وہ ایک مولوی معلوم ہوتے تھے۔ مگر تعارف کرانے والے نے بتایا کہ یہ ہمارے یہاں کے فلاں شعبہ کے ڈائرکٹر ہیں۔ اسی طرح بہت سے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ انجینئر تھا اور کوئی ڈاکٹر، کوئی پروفیسر تھا اور کوئی بہت بڑا تاجر۔ مگر اسی کے ساتھ دین دار اور اسلامی تشخص کو اپنائے ہوئے۔ اسی فہرست میں اکرام اللہ صاحب کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ میں نے سوچا کہ جب پاکستان میں ایسے قابل رشک دین دار موجود ہیں تو اکرام اللہ صاحب نے ایسا سہ سالہ مئی ۱۹۹۳
مایوس کن جملہ کنیوں کہا۔ غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ اس کا اصل سبب موجودہ اخبارات ہیں۔ اخبارات ملک کے اچھے واقعات کو نمایاں نہیں کرتے۔ وہ زیادہ تر برے واقعات کو اپنے صفحات میں نمایاں کرتے ہیں۔ عام آدمی جو صبح سے شام تک اپنے کام میں مشغول رہتا ہے، اس کے لئے اخبارات ہی ملکی حالات کو جاننے کا ذریعہ ہیں۔ اخباروں کا" زرد صحافت " کا انداز انہیں ملک کے حالات کے صرف ۵۰ فیصد سے باخبر کرتا ہیں۔ بقیہ ۵۰ فیصد ان کے لئے لامعلوم بنا رہتا ہے۔ اس صورت حال نے سوچنے والے لوگوں میں غیر ضروری طور پر مایوسی کی نفسیات پیدا کر دی ہے۔ حالاں کہ وہ اصل حقیقت کے مطابق نہیں۔ جہاز میں لاہور کا انگریزی اخبار پاکستان ٹائمز (۲۶ ستمبر) دیکھا۔ اس کے صفحہ اول اور صفحہ آخر پر لیڈی ڈیانا کی رنگین تصویر تھی۔ اس کے علاوہ بھی اس میں موصوفہ کی بہت سی تصویریں تھیں۔ بتایا گیا تھا کہ لیڈی ڈیانا جب بادشاہی مسجد پہنچیں تو وہاں کے امام مولانا عبد القادر نے ان کو قرآن کا ہدیہ پیش کیا اور سیرت رسول پر ایک کتاب انہیں عطا کی۔ تصویر میں دکھایا گیا تھا کہ امام صاحب سے قرآن کا ہدیہ لیتے ہوئے شہزادی ڈیانا نے اپنے سر کو دوپٹے سے ڈھانک رکھا تھا۔ خبر کی سرخی ان الفاظ میں قائم کی گئی تھی :