There isn’t really anything to celebrate.
Al-Risala, January 1994, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
ہر سال ۱۰ دسمبر کو اقوام متحدہ کی طرف سے ”یوم حقوق انسانی“ منایا جاتا ہے۔ اس سال اس موقع پر اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل جیویر پریز ڈی کوئیار (Javier Peres de Cuellar) نے جو بیان جاری کیا ، اس میں انھوں نے دنیا بھر میں طاقت کے اندھا دھند استعمال اور انسانوں کے ساتھ ہونے والے وحشیانہ سلوک پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ۴۳ سال پہلے اقوام متحدہ کے تحت منظور شدہ اعلان حقوق انسانی (یونیورسل ڈکلیریشن آف ہیومن رائٹس) کے باوجود اب بھی بڑے پیمانہ پر اس کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے (نیشنل ہیرالڈ ۱۱ دسمبر ۱۹۹۱)
امن اور انصاف کے قیام میں ان اداروں کی ناکامی کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسانی زندگی میں امن اور انصاف اپیلوں یا اخباری بیانوں سے قائم نہیں ہوتا۔ اس کے لیے ضرورت ہے کہ اس کے موافق ایک صحیح آئیڈیالوجی ہو ، اس آئیڈیالوجی کی بنیاد پر لوگوں کے اندر فکری انقلاب پھر یہ اصلاح یافتہ لوگ سماجی اداروں کو درست کریں اور اگر حکومت ان کے قبضہ میں آجائے تو حکومت کے ذریعہ سماج کے اندر امن وانصاف قائم کریں۔
ان شرطوں کو تاریخ میں ایک ہی بار کامل طور پر پورا کیا گیا۔ یہ پورا کرنے والے پیغمبر اسلامؐ اور آپ کے اصحاب تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ امن وانصاف پر مبنی ایک حقیقی نظام قائم کرنے میں کامیاب اس قسم کی کامیابی نہ اس سے پہلے کسی کو ملی اور نہ اس کے بعد۔