Al-Risala · January 1994

مساویانہ انصاف کا نمونہ

Al-Risala, January 1994, pp. 26–28

By Maulana Wahiduddin Khan

سوشل جسٹس کے معاملہ میں اسلام کا تیسرا عظیم کنٹری بیوشن یہ ہے کہ اس نے مساویانہ انصاف کا ایک کامل تاریخی نمونہ قائم کر دیا ہے۔ عام خاندانی اور سماجی زندگی سے لے کر حکومت اور اقتدار تک ہر مرحلہ میں اس اصول کو عملاً برت کر دکھا دیا گیا ہے کہ تمام انسان برابر ہیں۔ ہر انسان یکساں عزت کا مستحق ہے۔ اور ہر انسان سے یکساں گرفت کی جائے گی ، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔

اسلام کی تاریخ اس عملی نمونے کی مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔ اسلامی تاریخ کی کسی بھی کتاب میں ان کو دیکھا جاسکتا ہے۔ یہاں چند واقعات کا مختصر ذکر کیا جاتا ہے۔

زینب بنت جحش (وفات ۲۰ھ) پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی کی لڑکی تھیں اور قریش کے اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ قدیم زمانہ میں کسی اعلیٰ خاندان کی لڑکی کا نکاح کسی غلام کے ساتھ ناقابل تصور تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رسم کو توڑنے کے لیے یہ فیصلہ فرمایا کہ زینب کا نکاح ایک غلام کے ساتھ کیا جائے۔ چنانچہ ایک حبشی غلام زید بن حارثہ کے ساتھ آپ نے سیدہ زینب کا نکاح قدیم زمانہ میں یہ انتہائی انوکھا واقعہ تھا۔ کیوں کہ غلام کا نکاح آزاد سے کرنا قدیم زمانہ میں بالکل ناقابل تصور تھا۔

کعبہ ایک مقدس عبادت خانہ تھا۔ اس کی چھت پر صرف شریف قبیلہ کے افراد ہی چڑھ سکتے تھے۔ نیچے طبقہ کے کسی فرد کا کعبہ کی چھت پر چڑھنا قدیم زمانہ کے لوگوں کو کسی طرح گوارا نہ تھا۔ مکہ فتح ہوا تو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رسم کو اس طرح توڑا کہ حبشی غلام بلال بن رباح کو حکم دیا کہ وہ کعبہ کی چھت پر چڑھیں اور اس کے اوپر کھڑے ہو کر اذان دیں۔

یہ عرب کی تاریخ میں (اور ساری قدیم دنیا کی تاریخ میں) انوکھا واقعہ تھا۔ اگر اسلام غالب نہ آچکا ہوتا تو اس ”گستاخی“ پر یقیناً لوگ بلال کو مار ڈالتے۔ تاہم ان کے سخت تبصروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس سے انہیں کتنا سخت جھٹکا لگا تھا۔ مکہ کے عتاب بن اسید نے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ میرا باپ مر گیا اور آج وہ اس منظر کو دیکھنے کے لیے موجود نہیں (الحمد لله الذي قبض ابى حتى لايرى هذا اليوم) الحارث بن ہشام نے کہا کہ کیا محمد کو اس کالے کوے کے سوا کوئی اور مؤذن نہیں ملتا تھا (ما وجد محمد غير هذا الغراب الاسود مؤذناً) (الجامع لاحكام القرآن ۲۴۱/۱۶)

خلیفہ چہارم علی بن ابی طالب کی ایک زرہ گم ہوگئی۔ اس کے بعد وہ کوفہ کے ایک نصرانی کے یہاں بر آمد ہوئی۔ یہ معاملہ وقت کے قاضی شریح بن الحارث کی عدالت میں پیش ہوا۔ علی بن ابی طالب عام شہری کی طرح ان کی عدالت میں گئے ۔ حضرت علی نے اپنے بیٹے کو گواہی میں پیش کیا تو قاضی نے اس کو یہ کہہ کر رد کر دیا کہ بیٹے کی گواہی باپ کے حق میں معتبر نہیں۔

خلیفہ وقت عدالت سے اپنا مقدمہ ہار گئے۔ تاہم نصرانی اس بات سے بہت متاثر ہوا کہ اسلام

کی عدالت میں خلیفہ اور عام شہری کے درمیان اس قدر برابری کا معاملہ کیا جاتا ہے۔ اس نے خود سے اقرار کر لیا کہ علی بن ابی طالب سچے ہیں اور یہ زرّہ واقعۃً انہیں کی ہے۔ (عظمت صحابہ ۲۶-۲۷) خلیفہ ثانی عمر فاروق کے زمانہہ کا واقعہ ہے۔ مصر کے حاکم عمرو بن العاص کے لڑکے محمد بن عمر و ایک قبطی پر غصہ ہو گئے اور اس کو کوڑے سے مارا۔ یہ قبطی مصر سے چل کر مدینہ آیا اور عمر فاروق سے عمر فاروق نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ محمد بن عمر و نے اس کو ناحق مارا ہے۔ انہوں نے فوراً اپنا آدمی مصر بھیج کر حاکم مصر اور ان کے لڑکے کو بلایا۔ جب وہ آگئے تو قبطی سے کہا کہ ان کو مارو۔ قبطی نے حاکم مصر کی موجودگی میں ان کے لڑکے کو مارنا شروع کیا اور ان کو لہولہان کر دیا۔ وہ پوری طرح مار چکا تو عمر فاروق نے عمرو بن العاص اور محمد بن عمر و کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنا لیا، حالانکہ ان کی ماؤں نے ان کو آزاد جنا تھا (عظمت صحابہ ۴۰۔ فلسطین عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانہ میں فتح ہوا۔ مفتوحہ قوم سے معاہدہ طے کرنے کے یہ مقرر ہوا کہ خلیفہ خود فلسطین آئیں ۔ عمر فاروق مدینہ سے روانہ ہوئے۔ وہ اس طرح چلے کہ ان کے جسم پر معمولی کپڑا تھا اور ایک خادم اور ایک اونٹ۔ انہوں نے اپنے خادم سے کہا کہ اگر میں تنہا اونٹ پر بیٹھوں اور تم پیدل چلو تو میں تمہارے اوپر ظلم کروں گا۔ اگر تم اونٹ پر بیٹھو اور میں پیدل چلوں تو تم میرے اوپر ظلم کرو گے۔ اور اگر ہم دونوں اونٹ کی پیٹھ پر بیٹھ جائیں تو ہم اونٹ کے اوپر ظلم بہتر ہے کہ ہم تینوں باری مقرر کر لیں۔

چنانچہ تین باری مقرر ہوئی ایک بار عمر فاروق بیٹھتے اور خادم پیدل چلتا۔ پھر خادم بیٹھتا اور عمر فاروق پیدل چلتے۔ اس کے بعد اونٹ خالی رہتا اور دونوں پیدل چلتے۔ خلیفہ دوم اس طرح سفر کرتے ہوئے مدینہ سے فلسطین پہنچے۔ (تعمیر کی طرف ۵۶۔

اسلام نے اس طرح اپنے فکری انقلاب اور اپنے عملی نمونوں کے ذریعہ ایک ایسی تاریخ پیدا کی جس نے زمین کے تقریباً تمام آباد حصہ کو متاثر کیا۔ یہ انقلاب اتنا طاقت ور تھا کہ اس کے اثرات ہزار سال بعد تک بھی ختم نہ ہو سکے ۔

Printed page