Al-Risala · May 1994

Diana impressed by Lahore cultural heritage.

Al-Risala, May 1994, pp. 45–46

By Maulana Wahiduddin Khan

جہاز میں پی آئی اے کا میگزین ہم سفر (ستمبر۔ اکتوبر 1991) موجود تھا۔ اس میں ایک مضمون کھیوڑہ کی نمک کی کانوں کے بارہ میں تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ دنیا میں نمک کے سب سے بڑے ذخائر پاکستان میں ہیں۔ یہاں کے پہاڑوں میں ایک ایسا طویل سلسلہ موجود ہے جو اندر سے مکمل طور پر نمک ان پہاڑوں کو کوہستان نمک (سالٹ رینج) کہا جاتا ہے۔ دنیا میں نمک کے دوسرے سب سے بڑے ذخائر پولین ڈ میں ہیں۔

نمک کی ان کانوں کو ماہرین نے ” ارضیاتی عجائب گھر کا نام دیا ہے۔ ماہرین ارضیات کا خیال ہے کہ نمک کے یہ پہاڑ تقریبا چار ارب سال پرانے ہیں۔ نمک کی یہ کانیں ۳۲۲ قبل مسیح میں سکندر اعظم کے زمانہ میں دریافت ہو چکی تھیں۔ کھیوڑہ میں سائنسی بنیادوں پر نمک کی کان کی کا آغاز ۱۸۴۹ میں انگریزوں کے دور حکومت میں ہوا۔ کھیوڑہ کی کانوں سے ہر روز تقریبا ۲۰ ہزار من نمک نکالا جاتا ہے۔ مضمون میں بہت سی دلچسپ معلومات تھیں۔ نیز بتایا گیا تھا کہ جس مقام سے نمک کے ذخائر

کا سلسلہ شروع ہوتا ہے وہاں ایک مسجد بنی ہوئی ہے۔ یہ دنیا میں اپنی نوعیت کی واحد مسجد ہے۔ اس مسجد کا فرش پورانک کا ہے۔ اس کی دیواروں میں جو اینٹیں لگی ہوئی ہیں وہ بھی سب تک ہیں۔ مسجد ۱۵ سال پہلے بنائی گئی تھی۔

۲۶ ستمبر ۱۹۹۱ کو میں دہلی واپس پہنچ۱۔ میں پاکستان میں صرف ویزا کی مدت کے بقدر رہ سکتا تھا۔ میں میرے قیام کے لئے بظاہر اس قسم کی کوئی تحدید نہیں ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ یہاں بھی میرا ٹھہرنا ایک محدود مدت تک ہی کے لئے ہے۔ اس کے بعد میرے لئے آخری روانگی کا وقت موجودہ سواری نے مجھے دہلی ایئر پورٹ پر اتارا ہے، اگلی سواری مجھے کہاں اتارے گی، اس کا علم اللہ کے سوا کسی اور کو نہیں ــــ کیسا عجیب مرحلہ حیات پیش آچکا ہے، کیسا عجیب مرحلہ حیات پیش آنے والا ہے۔

Printed page