Al-Risala · June 1994

صبر، بے صبری

Al-Risala, June 1994, p. 56

By Maulana Wahiduddin Khan

کسی آدمی کے ساتھ آپ کا مسئلہ پیدا ہو تو ایک صورت یہ ہے کہ آپ خود اس کے حل کی ذمہ داری قبول کریں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آپ مسئلہ کے حل کی ذمہ داری دوسرے آدمی کے پہلا طریقہ صبر کا طریقہ ہے، اور دوسرا طریقہ بے صبری کا طریقہ۔ صبر کا مطلب خود ذمہ داری قبول کرنا ہے، اور بے صبری کا مطلب دوسرے کے اوپر ذمہ داری ڈالنا۔ یہی مختصر الفاظ میں صبر اور بے صبری کا خلاصہ ہے۔

صبر آدمی کے اندر مثبت نفسیات پیدا کرتا ہے۔ صبر والا آدمی پیش آمدہ صورت حال کو چیلنج سمجھتا ہے اور اس سے مقابلہ کر کے اس کو حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اپنی ساری طاقت کو محنت اور عمل کی طرف موڑ دیتا ہے۔ وہ اپنے وقت کا ہر لمحہ اور اپنے اثاثہ کا ہر ذرہ تعمیر کے راستوں میں لگاتا ہے۔ نئے حالات کا جھٹکا اس کو از سر نو بیدار کر دیتا ہے، بھر پور جد و جہد کے ذریعہ وہ مزید اضافہ کے ساتھ اپنی غلطیوں کی تلافی کر لیتا ہے۔

اس کے برعکس بے صبر آدمی کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس کی پوری سوچ منفی ہو جاتی ہے۔ ذہن احتجاج اور شکایت کے رخ پر چل پڑتا ہے۔ وہ اپنے اثاثہ کو تعمیر خویش کے بجائے تخریب غیر کے محاذ پر لگا دیتا ہے، وہ اپنی کمی کو دور کرنے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ دوسرے کو غلط ثابت کرنے کو کام سمجھ کر اس میں مصروف ہو جاتا ہے۔ پہلے اگر وہ اپنی بے عملی سے محروم ہوا تھا تو اب وہ غلط عمل کی بنا پر اپنے کو مزید محروم کر لیتا ہے۔ صبر کا مطلب سوچ کر کرنا ہے اور بے صبری کا مطلب بے سوچے سمجھے کرنا۔ صبر منصوبہ بند عمل ہے اور بے صبری عجلت کی کارروائی۔ صبر حالات کا اندازہ کر کے حالات سے نپٹنا ہے اور بے صبری حالات کا اندازہ کیے بغیر حالات میں کود پڑنا۔ صبر دانش مندانہ تدبیر ہے اور بے صبری جذباتی ہنگامہ آرائی۔ صبر انجام کار کو ملحوظ رکھتے ہوئے متحرک ہونا ہے اور بے صبری انجام کار سے بے پروا ہو کر حرکت میں آجانا۔

صبر گویا اپنے ساتھ دوسروں کو بھی جاننا ہے اور بے صبری گویا صرف اپنے آپ کو جاننا۔ ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے اور دوسرا آدمی ہمیشہ ناکام۔

Printed page