When all think alike, no one thinks very much.
Al-Risala, June 1994, p. 63
By Maulana Wahiduddin Khan
اس قول میں سادہ الفاظ میں بہت اہم بات کہہ دی گئی ہے۔ سوچنے اور جاننے کی باتیں اس دنیا میں بے شمار ہیں۔ اگر لوگوں کو سوچنے کی آزادی ہو تو ہر آدمی مختلف رخ پر سوچے گا۔ مجموعی طور پر لوگ بہت زیادہ باتوں کو جان لیں گے۔ اور اگر ایسا ماحول بنا دیا جائے جس میں تمام لوگ ایک ہی رخ پر سوچیں تو ایسے ماحول میں لوگوں کی مجموعی واقفیت بھی بہت کم ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں فکری آزادی ہو ۔ اختلاف اور تنقید کو پسند کیا جاتا ہو، وہاں علم میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایسے ماحول میں زندہ انسان ابھرتے ہیں۔ اس کے برعکس جہاں فکری آزادی نہ ہو، جہاں اختلاف اور تنقید کو برا سمجھا جاتا ہو وہاں علم کی ترقی رک جاتی ہے۔ لوگوں کے اندر ذہنی جمود پیدا ہوجاتا ہے، لوگ اس ذہنی پستی میں مبتلا ہو جاتے ہیں جس کو ایک شخص نے ” ذہنی بونا پن “ سے تعبیر کیا ہے۔ جب لوگوں کو اپنے اپنے انداز پر سوچنے کی آزادی ہوگی تو لازماً اختلاف رائے پیدا ہوگا۔ ایک دوسرے کے نقطہ نظر پر تنقید کریں گے۔ اب جو شخص تنقید کی مخالفت کرے وہ سادہ طور پر تنقید کا مخالف نہیں ہے بلکہ وہ ذہنی ارتقاءء کا مخالف ہے۔ یاد رکھیے، اس دنیا میں ہمارے لیے انتخاب (Option) تنقید اور بے تنقید میں نہیں ہے ، بلکہ تنقید اور ذہنی جمود میں ہے۔ اگر آپ تنقید کو بند کریں تو جو چیز باقی رہے گی وہ ذہنی جمود ہوگا نہ کہ بے تنقید ۔
تنقید کے ماحول میں ذہنی ارتقا ہوتا ہے، اور بے تنقید ماحول میں ذہنی جمود۔