Al-Risala · January 1994

اسلامی انقلاب کی ہمہ گیری

Al-Risala, January 1994, pp. 28–21

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ اور تابعین کا زمانہ اسلام میں زرّیں زمانہ ہے۔

میں اسلام کی اقدار پوری طرح سماج کے اوپر چھائی رہیں۔ بعد کی نسلوں میں جب اس انقلاب کے اثرات کم ہوئے اس وقت بھی ماحول میں کوئی بنیادی تبدیلی نہ آسکی۔ حتی کہ مسلم بادشاہوں کو بھی اس سے سرتابی کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔

اسلام کے ذریعہ توحید کا جو انقلاب آیا اس نے خدا کا رب ہونا اور انسان کا صرف عبد ہونا اتنے طاقت ور انداز میں لوگوں کے ذہنوں پر راسخ کر دیا کہ کسی کے لیے یہ ممکن نہ رہا کہ وہ دولت یا اقتدار پا کر اپنے آپ کو دوسروں سے اعلیٰ وارفع سمجھنے لگے، جیسا کہ پچھلی تاریخ میں ہوا کرتا تھا۔ نصر بن احمد بن اسد بن سامان (م ۲۷۹ھ) دولت السامانیہ (Samanids) کا بانی ہے۔ حکومت ایران یا ماوراء النہر (Transoxania) میں ۸۱۹ء سے ۹۹۹ء تک قائم رہی۔ سلطان نصر نے جب نیشاپور کو فتح کرکے اس کو اپنی سلطنت میں شامل کیا تو وہاں اس نے ایک شاندار دربار منعقد کیا۔ تخت نشینی کی رسم کے افتتاح کے لیے ایک حافظ سے تلاوت کرائی گئی۔ وہ تلاوت کرتے ہوئے اس آیت پر پہنچے : یوم هم بارزون لا يخفى علی الله منهم شیئ۔ لمن الملك اليوم ۔ لله الواحد القهار (المومن (16) حافظ قرآن نے جب یہ آیت پڑھی تو اس کو سن کر سلطان نصر کے جسم پر کپکپی طاری ہو گئی۔ شدتِ احساس کے تحت وہ تخت سے نیچے آگیا۔ اس نے تاج کو اپنے سر سے اتارا اور زمین پر سجدہ میں گر گیا۔ اس نے کہا : اے میرے رب، بلاشبہ بادشاہی تیری ہے نہ کہ میری۔

قدیم زمانہ شاہی مطلق العنانی کا زمانہ تھا۔ اس زمانہ کے غالب فکر میں بادشاہ کی برتری اور بقیہ انسانوں کی کمتری ایک مسلمہ کا درجہ اختیار کر گئی تھی۔ اس کا اثر عملی واقعات پر پڑتا تھا۔ اسلامی انقلاب نے شخصی بڑائی کے دور کو ختم کیا۔ اس نے انسانی برابری کے تصور کو ایک مسلمہ کی حیثیت سے تاریخ میں رواج اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسانی اعمال اس فکر کے زیر اثر انجام پانے لگے۔ پوری اسلامی تاریخ اس قسم کے واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ یہاں موضوع کی نسبت سے میں دورِ آخر کے ایک واقعہ کا حوالہ دینا چاہتا ہوں۔ یہ مغل بادشاہ جہانگیر کا واقعہ ہے۔ اس واقعہ کو مورخ اسلام مولانا شبلی نعمانی نے "عدل جہانگیری" کے عنوان سے نظم کیا ہے۔ یہ پوری نظم اگلے صفحہ پر نقل کی جارہی ہے :

قصر شاہی میں کہ ممکن نہیں غیروں کا گزر کوئی شامت زدہ رہ گیر اُدھر آنکلا غیرتِ حسن سے بیگم نے طپنچہ مارا ساتھ ہی شاہِ جہانگیر کو پہنچی جو خبر حکم بھیجا کہ کنیز انِ شبستانِ شاہی نخوتِ حسن سے بیگم نے بصد ناز کہا ہاں مجھے واقعۂ قتل سے انکار نہیں اس کی گستاخ نگاہی نے کیا اُس کو ہلاک مفتی دین سے جہانگیر نے فتویٰ پوچھا مفتی دیں نے بے خوف و خطر صاف کہا لوگ دربار میں اِس حکم سے تھرا اٹھے ترکوں کو یہ دیا حکم کہ اندر جا کر پھر اُسی طرح اِسے کھینچ کے باہر لائیں یہ وہی نور جہاں ہے کہ حقیقت میں یہی اس کی پیشانیِ نازک پہ جو پڑتی تھی گرہ اب نہ وہ نور جہاں ہے نہ وہ اندازِ غرور اب وہی پاؤں ہر اک گام پہ تھراتے ہیں ایک مجرم ہے کہ جس کا کوئی حامی نہ شفیع خدمتِ شاہ میں بیگم نے یہ بھیجا پیغام مفتیِ شرع سے پھر شاہ نے فتویٰ پوچھا وارثوں کو جو دیے لاکھ درم بیگم نے ہم کو مقتول کا لینا نہیں منظورِ قصاص ہو چکا جب کہ شہنشاہ کو پورا یہ یقیں اُٹھ کے دربار سے آہستہ چلا سوئے حرم دفعۃً پاؤں پہ بیگم کے گرا اور یہ کہا ایک دن نور جہاں بام پہ تھی جلوہ فگن گرچہ تھی قصر میں ہر چار طرف سے قدغن خاک پر ڈھیر تھا اک کشتۂ بے گور و کفن غیظ سے آگئی ابروئے عدالت پہ شکن جا کے پوچھیں آئیں کہ سچ یا کہ غلط ہے یہ سخن میری جانب سے کرو عرض بہ آئینِ حسن مجھ سے ناموسِ حیانے یہ کہا تھا کہ بزن کشورِ حسن میں جاری ہے یہی شرعِ کہن کہ شریعت میں کسی کو نہیں کچھ جائے سخن شرع کہتی ہے کہ قاتل کی اُڑا دو گردن پر جہانگیر کے ابرو پہ نہ بل تھا نہ شکن پہلے بیگم کو کریں بستۂ زنجیر و رسن اور جلاد کو دیں حکم کہ ہاں تیغ بزن تھی جہانگیر کے پردہ میں شہنشاہِ زمن جا کے بن جاتی اوراقِ حکومت پہ شکن نہ وہ غمزے ہیں نہ وہ عربدۂ مہر شکن جن کی رفتار سے پامال تھے مرغانِ چمن ایک بیکس ہے کہ جس کا نہ کوئی گھر نہ وطن خوں بہا بھی تو شریعت میں ہے اک امرِ حسن بولے جائز ہے ، مارضا مند ہوں گر بچہ و زن سب نے دربار میں کی عرض کہ اے شاہِ زمن قتل کا حکم جو رُک جائے تو ہے مستحسن کہ نہیں اس میں کوئی شائبۂ حیلہ و فن تھی جہاں نور جہاں معتکفِ بیتِ حزن تو اگر کشته شدی آہ چه می کردم من

مغل بادشاہ جہانگیر کے زمانہ میں یہ واقعہ ہوا کہ اس کی ملکہ نور جہاں نے ایک غریب آدمی کو بے گناہ قتل کر دیا۔ یہ معاملہ عدالت میں پیش ہوا۔ اسلامی قاضی نے فیصلہ کیا کہ مقتول کے بدلے قاتل (نور جہاں) کو قتل کر دیا جائے۔ بادشاہ یا ملکہ کسی کو ہمت نہیں ہوئی کہ قاضی کے فیصلہ کو ماننے سے انکار کرے۔ یہاں تک کہ خود اسلامی قانون ہی کی ایک اور دفعہ کے تحت معاملہ کو طے کیا گیا۔ اب اس کے مقابل کی مثال لیجئے۔ ہندوستانی حکمراں جہانگیر (۱۶۲۷ - ۱۵۶۹) کا ہم عصر برطانویہ کا حکمراں جیمز فرسٹ (۱۶۲۵ - ۱۵۶۶) تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ میں قانون سے اوپر ہوں، میں ذاتی رائے سے جو چاہوں فیصلہ کر سکتا ہوں ۔ اس زمانہ کے برطانی چیف جسٹس سر ایڈورڈ کوک (۱۶۳۴ - ۱۵۵۲) نے اس سے اختلاف کیا۔

جان بیٹ (John Bate) ایک برٹش مرچنٹ تھا۔ اس نے ایک بار امپورٹڈ کشمش پر ٹیکس دینے سے انکار کر دیا۔ کیونکہ پارلیمنٹ نے ایسا قانون نہیں بنایا تھا۔ بلکہ جیمز فرسٹ نے ذاتی فرمان سے اس کو جاری کیا تھا۔ جسٹس کوک نے جان بیٹ کی حمایت کی۔ اس پر بادشاہ غصہ ہو گیا ۔ اس نے کہا کہ کیا میں قانون کے ماتحت ہوں ۔ یہ تو غداری ہے :

Printed page