مسلمان اور جدید تحدیات
Al-Risala, June 1994, pp. 17–20
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانے کے مسلمان سو سال سے بھی زیادہ عرصہ سے مسائل کا شکار ہیں۔ ان مسائل کے خلاف ان کی جدوجہد ۱۹ ویں صدی کے نصف آخر سے شروع ہوتی ہے۔ اس وقت مسلم رہنماؤں کا عام ذہن یہ تھا کہ ہمارے تمام مسائل کا اصل سبب مغربی قوموں کا سیاسی غلبہ ہے۔ اگر مغرب کا سیاسی غلبہ ختم ہو جائے تو اس کے بعد ہمارے تمام مسائل کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ ایشیا کے مسلمان سوسال سے بھی زیادہ عرصہ سے مسائل کا شکار ہیں، اس کے خلاف ان کی جدوجہد ۱۹ ویں صدی کے نصف آخر سے شروع ہوتی ہے۔ اس وقت مسلم رہنماؤں کا عام ذہن یہ تھا کہ ہمارے تمام مسائل کا اصل سبب مغربی قوموں کا سیاسی غلبہ ہے۔ اگر مغرب کا سیاسی غلبہ ختم ہو جائے تو اس کے بعد ہمارے مسائل کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ نشانہ پورا ہو گیا۔ اس کے بعد تمام مسلم علاقے مغرب کے سیاسی غلبے سے آزاد ہو گئے۔ مگر مسلمانوں کے مسائل ختم نہیں ہوئے۔ وہ بدستور پوری شدت کے ساتھ آج بھی باقی ہیں۔
اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مغرب کا غلبہ سادہ طور پر صرف سیاسی غلبہ نہ تھا۔ جدید صنعتی تہذیب کا نتیجہ تھا۔ سیاسی غلبہ کے خاتمہ کے باوجود صنعتی تہذیب کی فاتحانہ حیثیت بدستور انھیں مغربی قوموں کو حاصل تھی، اس لیے ان کا غلبہ بھی بدستور جاری رہا، صرف اس فرق کے ساتھ کہ پہلے یہ غلبہ براہ راست تھا، اور اب یہ غلبہ بالواسطہ انداز میں ہے۔
اس منفی انجام کو دیکھنے کے بعد کچھ مسلم دانشور یہ کہہ رہے ہیں کہ ہماری اصل کمی صنعتی پس ماندگی ہے۔ سب سے پہلے ہمیں اس کمی کو دور کرنا ہوگا۔ ہمیں دوسری قوموں کی طرح ایک بڑی صنعتی طاقت بننا اس کے بغیر ہماری قسمت بدلنے والی نہیں۔
مگر یہ بھی ہمارے مسئلے کا حل نہیں ہے۔ کیوں کہ زمانہ ٹھہرا ہوا نہیں ہے۔ وہ مسلسل ترقی کر رہا اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم صنعتی ترقی کی طرف بڑھنا شروع کریں تو ساری کوشش کے بعد جب ہم انڈسٹریل دور میں داخل ہوں گے تو، الون ٹافلر کے الفاظ میں، مغربی قو میں سپر انڈسٹریل
دور میں داخل ہو چکی ہوں گی۔ اس طرح ہم بدستور پیچھے رہیں گے اور ہمارا اصل مسئلہ اس کے بعد بھی غیر حل شدہ پڑا رہے گا۔
آج مسلمان جس قسم کے مسائل سے دوچار ہیں ۔ اور سیاسی، اقتصادی، صنعتی، تہذیبی اور ثقافتی سطح پر جو تحدیات ان کو درپیش ہیں، وہ کوئی نئی صورتِ حال نہیں ہے۔ اس قسم کے حالات کا تجربہ امت مسلمہ کی طویل تاریخ میں بار بار مختلف شکلوں میں پیش آتا رہا ہے۔ تاریخ مزید بتاتی ہے کہ ہر خطرہ یا ہر چیلنج سے گزرنے کے بعد امت پہلے سے زیادہ طاقت ور اور مستحکم ہوگئی ہے۔ اب ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ اس سے پہلے امت کو جب اس قسم کے مسائل اور تحدیات سے دوچار ہونا پڑا تو کیا صورت پیش آئی اور کس طرح اس کا مقابلہ کیا گیا۔ اس کا جواب تاریخ کی روشنی میں صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ یہ کامیابی اسلام کی دعوتی طاقت کے ذریعہ حاصل کی گئی۔ تیرھویں صدی عیسوی کے وسط میں تاتاریوں نے عالمِ اسلام کو غیر معمولی نقصان پہنچایا۔ خوں خوار تاتاریوں کی طاقت بظاہر ناقابل شکست بنی ہوئی تھی۔ مگر اس کے بعد اسلام کی دعوتی طاقت ظاہر ہوئی ۔ اس نے تاتاری قوم کو مسخر کر لیا۔ ایک مستشرق نے اس کا اعتراف ان الفاظ میں کیا ہے کہ مسلمانوں کے مذہب نے وہاں فتح حاصل کرلی، جہاں ان کے ہتھیار ناکام ہو چکے تھے : The religion of the Muslims had conquered where their arms had failed.
آج مسلمانوں کو اسلام کی اسی دعوتی طاقت کو لے کر اٹھنا ہے۔ اگر وہ دعوت الی اللہ کے کام کو صحیح طور پر انجام دے سکیں تو یقینی طور پر ان کے حالات بدل جائیں گے۔ اس کے بعد وہی ہوگا جس کی خبر قرآن میں دی گئی ہے کہ جو لوگ بظاہر ہمارے دشمن نظر آتے ہیں وہ ہمارے دوست اور ساتھی بن جائیں گے (حم السجدہ : ۳۴)
موجودہ زمانہ میں اسلام کے دعوتی عمل کو زندہ کرنے کے مواقع غیر معمولی حد تک بڑھ گئے ہیں۔ ایک طرف یہ ہوا ہے کہ مذاہب کے علمی مطالعہ نے یہ ثابت کیا ہے کہ اسلام کے سوا تمام مذاہب غیر معتبر کسی بھی دوسرے مذہب کو تاریخی اعتباریت حاصل نہیں۔ جبکہ اسلام ہر علمی جانچ میں معتبر ثابت اس طرح گویا اسلام اس حیثیت میں ہے کہ وہ بلا مقابلہ کامیابی حاصل کرسکے۔
جہاں تک انسانی ساخت کے آزموں کا تعلق ہے، وہ بھی سب کے سب ناکام ہو چکے ہیں، اس سلسلہ کا آخری فیصلہ کن واقعہ کمیونسٹ ایمپائر کا ٹوٹنا ہے۔ کمیونسٹ ایمپائر کی موجودگی میں دنیا اس غلط فہمی میں تھی کہ ہمارے پاس ایک آئیڈیالوجی موجود ہے۔ مگر ۱۹۹۱ء میں جب کمیونسٹ ایمپائر ٹوٹ کر گر گئی تو اس بھرم کا بھی خاتمہ ہو گیا اب ساری دنیا میں ایک فکری اور نظریاتی خلا (ideological vacuum) ہے۔ اس خلا کو صرف اسلام پر کر سکتا ہے۔
اب آخری طور پر وہ وقت آگیا ہے کہ مسلمان اسلام کی دعوت کو لے کر اٹھیں اور اس کے ذریعہ سے اقوام کی فکری تسخیر کر کے اسلام کی نئی تاریخ بنائیں ۔
اب ہمارا کام یہ ہونا چاہیے کہ ہم خود اپنی تاریخ کے اس تجربہ کو نئے حالات میں دہرائیں جو بار بار اپنی کامیابی کو ثابت کر چکا ہے۔ یعنی ہم موجودہ مسائل اور تحدیات کا مقابلہ اسلام کی دعوتی طاقت کے مسلمان اپنی طویل تاریخ میں ہمیشہ دعوت کی طاقت سے فتح یاب ہوئے ہیں، اور آج بھی یقینی طور پر اسی کے ذریعہ وہ فتح یاب ہو سکتے ہیں۔
دعوت کی تسخیریت کاراز اس کی نفع بخشی کی صفت ہے۔ اس دنیا کے لیے خدا کا قانون یہ ہے کہ جو چیز لوگوں کے لیے نافع ہو ، اس کو لوگوں کے درمیان قبولیت اور جاؤ ملے ۔ سب سے بڑی نفع بخش چیز ہے۔ وہ انسان کی تلاش حق کا جواب ہے ، وہ انسان کو سچا نظریہ حیات دیتا ہے۔ وہ انسان کو ذہنی سکون عطا کرتا ہے، وہ انسان کی فطرت کے عین مطابق وہ انسان کو اس شاہراہ کی دریافت کراتا ہے جس پر چل کر وہ دنیا سے لے کر آخرت تک محفوظ سفر طے کر سکے۔
بلاشبہ اس سے زیادہ نفع بخش اور کوئی چیز انسان کے لیے نہیں۔ اس لیے اس سے زیادہ قابل قبول چیز بھی انسان کے لیے کوئی اور نہیں ہو سکتی۔
اسلام کا یہ تمیزی پہلو ایک معلوم اور مشہور حقیقت ہے۔ اگر آپ کے پاس زیادہ تحقیقی مطالعہ کا موقع نہ ہو تو آپ صرف اتنا کر سکتے ہیں کہ آپ ریاض سے نکلنے والے عربی ہفت روزہ الدعوہ کو یامکہ سے نکلنے والے اخبار العالم الاسلامی کو پڑھ لیں۔ آپ دیکھیں گے کہ ان کے تقریبا ہر شمارہ میں اسلام کی دعوتی تسخیر کی خبریں موجود ہیں۔
مثال کے طور پر اسی مہینہ میں الدعوه (ریاض) کے شمارہ ۱۲ اگست ۱۹۹۳ میں ایک خبر اس سرخی کے ساتھ چھپی ہوئی ہے کہ ۹۰۰ شخص يعتنقون الاسلام۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے چند مہینے میں جنوبی افریقہ میں تقریباً نو سو آدمیوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ ان میں سے چار عیسٰی پادری ہیں۔ اسی طرح اسی مہینہ میں العالم الاسلامی (مکہ) کے شمارہ ۱۶- ۲۲ اگست ۱۹۹۳ کے انگریزی حصہ میں ایک خبر شائع ہوئی ہے جس کی سرخی یہ ہے :