653 embrace Islam in UAE
Al-Risala, June 1994, pp. 20–22
By Maulana Wahiduddin Khan
اس سرخی کے تحت چھپنے والی خبر میں بتایا گیا ہے کہ ۱۴۱۴ھ کے ایک سال کے دوران صرف عرب امارات میں بیرونی ملکوں کے جو لوگ دین اسلام میں داخل ہوئے ہیں ان کی مجموعی تعداد ۶۵۳ ہے۔ یہ دونوں خبریں صرف بطور مثال نقل کی گئی ہیں۔ ورنہ اس طرح کے دعوتی واقعات ہر روز دنیا کے ہر حصہ میں تقریباً تسلسل کے ساتھ پیش آرہے ہیں۔
اسلامی دعوت کی اہمیت نظری طور پر بھی مسلم ہے اور عملی تجربہ میں بھی اس کی افادیت پوری طرح ثابت ہو چکی ہے۔ اب ضرورت صرف یہ ہے کہ دعوت کو باقاعدہ ملی پروگرام قرار دے کر اس کے لیے منظم اور منصوبہ بند عمل شروع کر دیا جائے۔
دعوتی طریق کار کی کامیابی جزئی طور پر آج بھی ظاہر ہو رہی ہے، جب کہ ابھی دعوت کا کام منظم طور پر اور قومی فیصلہ کے تحت انجام نہیں دیا جا رہا ہے۔ پچھلے سو سال میں بے شمار سیاسی قربانیاں دی گئی ہیں۔ مگر اس سے ابھی تک کوئی حقیقی نتیجہ سامنے نہ آسکا۔ جب کہ اسی مدت میں دعوت نے لاکھوں انسانوں کو متاثر کر کے انہیں اسلام کے دائرہ میں داخل کیا ہے۔ اسلام دین فطرت ہے ۔ وہ واحد غیر محرف مذہب ہے۔ ہر قسم کی علمی صداقتیں اس کے حق میں جمع ہو چکی ہیں۔ ان چیزوں نے اسلام کو اپنی ذات میں ایک مؤثر طاقت بنا دیا ہے۔ چنانچہ ہر ملک میں اور دنیا کے ہر علاقہ میں لوگ برابر اسلام قبول کرتے رہتے ہیں۔ قرآن سے واضح طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ اہل اسلام کے مسائل و مشکلات کا واحد حل یہ ہے کہ وہ ان قوموں کے اوپر دعوت الی اللہ کا کام کریں جن کی طرف سے یہ مسائل اور مشکلات پیش
دوسرے لفظوں میں یہ کہ تحدیات اقوام کا مقابلہ کرنے کی سب سے زیادہ کارگر تدبیر دعوت اقوام ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی حسب ذیل آیت ایک فیصلہ کن رہنما کی حیثیت رکھتی ہے :
يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ اے پیغمبر، جو کچھ تمہارے اوپر تمہارے رب رَبِّكَ ، وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ، کی طرف سے اترا ہے اس کو پہنچا دو، اور اگر تم وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ نے ایسا نہ کیا تو تم نے اللہ کے پیغام کو نہیں پہنچایا، اور اللہ تم کو لوگوں سے بچائے گا۔
(المائدہ ، ۶۷)
قرآن کی یہ آیت واضح طور پر ثابت کرتی ہے کہ عصمت من الناس کاراز دعوت الی اللہ میں چھپا ہوا ہے۔ امت محمدی کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ مقدر کر دیا ہے کہ جب وہ قوموں کے اوپر دعوت کا کام کرے تو وہ ان کے مظالم سے پوری طرح محفوظ رہے۔
جب قرآن میں یہ واضح رہنمائی موجود ہے تو کیا وجہ ہے کہ عصر حاضر کے مسلمان مشکلات و مسائل کا شکار ہونے کے باوجود، دعوت الی اللہ کی مخصوص تدبیر کے لیے متحرک نہ ہو سکے۔ سبب صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے صبر نہ کرنا۔ صبر دعوت الی اللہ کی واحد لازمی قیمت ہے۔ لوگ صبر کی قیمت ادا نہ کر سکیں وہ دعوت الی اللہ کا کام بھی نہیں کر سکتے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی اس آیت کا مطالعہ کیجئے :
وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَى مَا آذَيْتُمُونَا وَعَلَى اللَّهِ اور جو تکلیف تم ہمیں دو گے اس پر ہم صبری اور بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی پر
بھروسہ کرنا چاہیے۔
یہ بات پیغمبروں نے اپنی مخاطب قوموں سے اس وقت کہی جب کی ان کی قوم ان کی مخالف ہوگئی اور ان پر زیادتیاں کرنے لگی۔ یہ زیادتی اور اذیت دیگر اقوام کی طرف سے ہمیشہ داعی حق کو پیش مگر داعی کو ان تمام زیادتیوں پر صبر کرنا پڑتا ہے تاکہ اس کی مثبت نفسیات بھنگ نہ ہونے پائے، تاکہ وہ مخاطبین کی زیادتیوں کو یک طرفہ طور پر برداشت کرتے ہوئے ان کے اوپر دعوت کے عمل کو جاری رکھے ۔
اس آیت میں تو کل سے مراد اللہ کے بتائے ہوئے طریقے پر یقین کرنا ہے۔ پوری طرح اس بات پر متوکل ہو جائے کہ وہ مخاطبین کے ظلم کے خلاف براہ راست کارروائی نہ کرتے ہوئے دعوت الی اللہ کا جو کام ان کے اوپر انجام دے گا۔ وہ پیغام الہی کی پیغام رسانی کے ساتھ اس کے قومی مسائل کا بھی یقینی حل بن جائے گا۔
آج اہل اسلام کو اسی تو کل علی اللہ کا ثبوت دینا ہے۔ اگر وہ حقیقی معنوں میں اس تو کل کا ثبوت دے دیں تو اس کے بعد ان کے تمام مسائل اس طرح حل ہو جائیں گے جیسے کہ ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔
از: ــــــــ مولانا وحید الدین خاں زندگی میں ہمیشہ مسائل بھی ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ مواقع اور امکانات یہ صحیح رہنمائی نہیں ہے کہ مسائل کو ڈھونڈ کر نکالا جائے اور ان کو بتا کر لوگوں کو مایوسی اور پست حوصلگی میں مبتلا کیا جائے۔ سچی رہنمائی یہ ہے کہ مواقع کی نشاندہی کی جائے تاکہ لوگوں کے اندر عمل کا حوصلہ پیدا ہو۔ پیش نظر کتاب میں یہی دوسرا انداز اختیار کیا گیا ہے۔ اس میں ٹھوس حقائق کی روشنی میں یہ بتایا گیا ہے کہ اگر ہوش مندی سے کام لیا جائے تو اس ملک میں مسلمانوں کے لئے ترقی کے وہ تمام امکانات پوری طرح موجود ہیں جو کسی بھی دوسرے مقام پر ہیں یا ہو سکتے ہیں۔ صفحات ۲۱۶ قیمت ۴۰ روپیہ یہ مقالہ الملتقى الاسلامى الاول لدول آسیا (کولمبو) میں ۲۷ اگست ۱۹۹۲ کو پڑھا گیا۔ سعودی عرب کی وزارة الاوقاف والشئون الاسلامية کے تحت کی گئی۔