Al-Risala · June 1994

to exploit you is our business

Al-Risala, June 1994, pp. 30–31

By Maulana Wahiduddin Khan

زیورک (Zurich) سوئٹزرلینڈ کا سب سے بڑا صنعتی مرکز ہے۔ یہاں دور تاریخ سے پہلے انسانی آبادی قائم ہو چکی تھی۔ ۵۸ قم میں رومیوں نے اس علاقہ کو فتح کیا۔ اس کا موجودہ نام انہیں کا دیا ہوا ہے۔ تیسری صدی عیسوی میں یہاں تین مسیحی مبلغوں کو قتل کر دیا گیا تھا اسی مقام پر آج یہاں کا کیتھڈرل بنا ہوا ہے۔ رومی حکومت کے خاتمہ کے بعد یہاں فرانس کے مسیحیوں کی سلطنت قائم

اسی زمانے میں شارلمین (Charlemagne) نے موجودہ کیتھڈرل تعمیر کرایا۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب ہارون الرشید بغداد کا خلیفہ تھا۔

زیورک کا ایئرپورٹ سوئزرلینڈ کا سب سے زیادہ معروف ایئرپورٹ ہے۔ یہاں سے ستر ملکوں کے ۱۱۰ شہروں کے لئے ڈائرکٹ فلائٹ حاصل کی جاسکتی ہے۔ اتصالات کے یہ کیسے عجیب مواقع ہیں جو موجودہ زمانہ میں ہر طرف کھل گئے ہیں اور حق کے داعیوں کو خاموش زبان میں پکار رہے ہیں کہ آو، ان نئے مواقع کو استعمال کرو اور خدا کا کلمہ خدا کے تمام بندوں تک پہنچادو۔ زیورک ایئرپورٹ پر ایک تعلیم یافتہ ہندو سے ملاقات ہوئی۔ وہ ہندوستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ مگر آجکل وہ جرمنی میں مقیم ہیں۔ وہ اس کانفرنس میں شریک تھے جو جرمنی کی وشو ہندو پریشد کی طرف سے اگست ۱۹۹۲ کے آخر میں فرینکفرٹ کی گوئٹے یونیورسٹی میں منعقد کی گئی۔ واضح ہو کہ گوئٹے (J.W.V. Goethe) نے کالی داس کا جرمن ترجمہ پڑھا تھا اور وہ اس کے خیالات سے متاثر تھا (10/376) اس کانفرنس کی تھیم تھی ــــ ہندوازم جدید دنیا میں:

Printed page