Al-Risala · June 1994

Hinduism in the modern world

Al-Risala, June 1994, pp. 31–44

By Maulana Wahiduddin Khan

مذکورہ ہندو پروفیسر نے کہا کہ ہندوازم کا خلاصہ وحدت انسانیت (One world family) اور عدم تشدد (Non-violence) ہے مگر یہ تاریخ کا عجیب المیہ ہے کہ وہ مذہب جس میں اتنی وسعت ہے کہ وہ منکر مین مذہب تک کو اپنے دائرہ میں لے لیتا ہے، وہ اس وقت تعصب کے الزام کے مقابلہ میں اپنے دفاع پر مجبور ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہندو مذہب کے بارہ میں جو غلط باتیں پھیلائی جا رہی ہیں ان کا دفعیہ کریں ، ورنہ بالاخر وہ ہندوستان کی تصویر بگاڑنے والی ثابت ہوں گی:

We want to counter the disinformation now spreading regarding the Hindu religion; otherwise it will ultimately affect the image of India. میں نے کہا کہ اگر آپ ہندوازم کی تصویر کو بگڑنے سے بچانا چاہتے ہیں تو آپ کو چاہئے کہ اس عمل کو بدلیں جو انڈیا میں وشو ہندو پریشد انجام دے رہی ہے۔ اس قسم کی تقریری کانفرنسوں سے تصویر درست ہونے والی نہیں۔

عجیب بات ہے کہ خود مسلمان بھی ٹھیک اسی غلطی میں مبتلا ہیں۔ موجودہ زمانہ میں مذہب ہر ہو کر جگہ جگہ متشد دانہ عمل کر رہے ہیں اور جب دنیا یہ کہنے لگتی ہے کہ اسلام تشد دکی تعلیم دیتا ہے تو فورا وہ کانفرنس کر کے اعلان کرتے ہیں کہ یہ جس انفاریشن ہے۔ ورنہ ہم تو جس مذہب پر ہیں وہ امن و سلامتی کے سوا اور کچھ نہیں۔

ہوا میں پرواز کرنے کا تخیل انسان کے اندر کب پیدا ہوا۔ اس کی کوئی قطعی تاریخ معلوم نہیں۔ تا ہم تقریبا یقینی طور پر یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ پرواز کا پہلا خیال انسان کے اندر اس وقت آیا جب اس نے چڑیا کو فضا میں اڑ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہوئے دیکھا۔

غالباً مچھلی کو دیکھ کر انسان کے اندر پانی میں تیرنے کا خیال آیا اور چڑیوں کو دیکھ کر فضا میں انسان نے جلد ہی کشتی بنا کر پانی میں تیر نا شروع کر دیا۔ مگر فضا میں اڑنے کا تخیل بہت دیر میں واقعہ بن سکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سادہ کشتی بنانے کا کام قدیم دستکاری کے دور میں بھی ہو سکتا تھا۔ مگر ہوائی جہاز بنانا صرف اس وقت ممکن تھا جب کہ اس سے پہلے دنیا میں صنعتی انقلاب برپا ہو چکا ہو۔ دوسری کئی چیزوں کی طرح ، ہوائی جہاز کو ترقی دینے میں جنگجو یانہ ذہن کا بڑا حصہ ہے۔ کا لوئی چہار دہم (Louis XIV) ایک جنگجو بادشاہ تھا۔ اس کو جب معلوم ہوا کہ ایسی سواری بنائی جا سکتی ہے جو فضا میں اڑ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جائے تو اس نے اس کام کی حوصلہ افزائی ١٦٦٠ میں اس نے اس کام کے لئے کچھ لوگوں کو ہر قسم کے وسائل دئے ۔ تاہم ابتدائی نوعیت کی مشینی سواری (Powered flight) غالب ۱۸۶۸ میں سومر سیٹ میں بنائی جا سکی۔ جہازوں کے ماڈل کو دیکھا جائے تو ان میں ایک تدریجی ارتقاء نظر آئے گا۔

۱۲ ستمبر کی صبح کو سوئس ایئر کی فلائٹ کے ذریعہ آگے کے لئے روانگی ہوئی۔ گھنٹہ کی پرواز کے بعد ہم بروسیلز میں اتر گئے۔ یہاں کانفرنس کے لوگ رہنمائی کے لئے موجود تھے۔ ان کے ساتھ ہمارا قافلہ شہر کے لئے روانہ ہوا۔ بروسیلز کی سڑکیں بہت صاف ستھری نظر آئیں۔ مکانات اور دکانیں بھی نہایت آراستہ تھے۔ ہر طرف پھیلا ہوا سبزہ اور خوشگوار موسم مزید اس میں اضافہ کر رہا تھا۔

بروسیلز میں میرا قیام بیلسن ہوٹل (Belson Hotel) کے کمرہ نمبر ۱۳۶ میں تھا۔

کے کنارے خوشنما مقام پر واقع ہے۔ ایک بار میں لفٹ میں تھا۔ اچانک بجلی چلی گئی۔ لفٹ رک گئی۔ اس کے اندر مکمل اندھیرا چھا گیا۔ مجھے یاد تھا کہ اس کے اندر ٹیلی فون ہے۔ مگر میرے ذہن میں یہ تھا کہ اس سے پیغام دینے کے لئے کسی نمبر کو ڈائل کرنا ہوگا اور تاریکی کی وجہ سے نمبر کو دیکھنا اور اس کو ڈائل کرنا اسی میں رسیور اٹھایا تو اپنے آپ گھنٹی بجنے لگی۔

لفٹ کے ٹیلی فون پر نمبر ڈائل کئے بغیر صرف رسیور اٹھانے سے گھنٹی بجتی ہے۔ اگر ایسا ہو تو لفٹ کے اندر اندھیرا ہو جانے کے بعد ٹیلی فون کو استعمال کرنا نا ممکن ہو جائے۔ اس کے بعد ہنگامی موقع پر اس ٹیلی فون کو صرف وہ شخص استعمال کر سکتا ہے جس کے پاس ٹارچ موجود ہو۔ یہ ایک سادہ سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پیش بندی کس چیز کا نام ہے۔ پیش بندی کسی بھی عمل کی کامیابی کے لئے ضروری ہے۔

(Catholic University of Louvain) ۱۲ ستمبر کی شام کو لووین کی کیتھولک یونیورسٹی میں شرکاء کانفرنس کی اجتماعی ملاقات اور کھانا تھا۔ یہ یونیورسٹی چو دھویں صدی عیسوی میں قائم ہوئی ۔ اس میں ۲۵ ہزار طلبہ تعلیم پا رہے ہیں۔ دوسرے شعبوں کے ساتھ اس میں فیکلٹی آف تھیالوجی کا بہت بڑا اس کے تحت اسلامک اسٹڈیز کا بھی انتظام ہے۔ یہ یونیورسٹی قدیم طرز کی نہایت عظیم عمارت میں واقع ہے۔

چودھویں صدی اور اس کے بعد کی صدیوں میں یورپ میں علم کا چرچا بہت زیادہ بڑھ گیا ۔ یہ زیادہ تر بغداد اور اسپین کے زیر اثر تھا۔ مگر بعد کے دور میں، بڑی بڑی سلطنتوں اور بڑی شخصیتوں کے باوجود، مسلم دنیا میں علم کا چرچا باقی نہ رہا۔ علم کا آغاز مسلمانوں نے آیا تھا، مگر اس کی تکمیل کے دور میں سارا کریڈٹ مغربی قوموں نے حاصل کر لیا۔ یہی علمی پس ماندگی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ ہے نہ کہ فرضی سازشیں جس کا اعلان غلط طور پر ہمارے لکھنے اور بولنے والے لوگ ہر صبح و شام کرتے

یونیورسٹی دیکھنے کے بعد ہوٹل واپس کیا تو کافی رات ہو چکی تھی۔ عین اس وقت کمرہ کے ٹیلی فون کی رسیور اٹھایا تو ایک عرب نوجوان متاثر ہو سے بول رہے تھے۔ مجھے تعجب ہوا کہ انھوں نے برو سیلز میں ہمارے ٹیلی فون کا نمبر کیسے حاصل کر لیا۔ معلوم ہوا کہ انھوں نے دہلی ، لندن اور برو سیلز میں

کوئی ٹیلی فون کئے۔ آخر کار ان کو معلوم ہوگیا کہ میں بروسیلز کے بیلین ہوٹل کے کمرہ نمبر ۱۳۱ میں ٹھہرا ہوا انھوں نے بتایا کہ عرب نوجوانوں کی ایک جماعت لندن میں اور دوبارہ عرب نوجوانوں کی ایک جماعت قاہرہ میں میرا انتظار کر رہی ہے۔ اس لئے میں اپنا ٹکٹ ری روٹ کرا کر واپسی میں لندن اور قاہرہ ہوتے ہوئے دہلی واپس جاؤں۔

اس واقعہ کے بعد مجھے فارسی کا مثل یاد آگیا کہ ڈھونڈنے والا پاتا ہے (جو جستجو یا بندہ) انسانی دماغ کی یہی وہ صلاحیت ہے جس کی بنا پر وہ قیامت کے یوم الحساب میں مسئول قرار پاتا ہے کیونکہ انسان اپنی صلاحیت کے اعتبار سے اس پوزیشن میں ہے کہ وہ حقیقی طور پر جس چیز کا طالب ہو اس کو وہ جان سکے۔ ایسی حالت میں اگر ایک شخص موجودہ دنیا میں زندگی گزارتا ہے مگر وہ حق سے بے خبر رہتا ہے تو یہ لازمی طور پر اس کی اپنی کوتاہی ہے۔ اور جو شخص کوتاہی کرے وہ اس عالم اسباب میں اس کے انجام سے بچ

مجھے ٹیلی ویژن سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اس لئے کمرہ کے ٹی وی سیٹ کو استعمال کرنے کا خیال بھی مجھے نہیں آتا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ سرہانے کی چھوٹی میز پر ریموٹ کنٹرول کا سگھڑ پیکٹ جیسا آلہ رکھا ہوا اس کا سوئچ اتفاق سے دب گیا۔ اس کے بعد ٹی وی سیٹ کے شیشہ پر نہایت عمدہ رنگین تصویریں دیکھتاا تو سمندری زندگی اور جنگل کی زندگی کے مناظر دکھائے جارہے تھے۔ فطرت کا یہ منظر حیران کن حد تک عجیب تھا۔ محویت کے ساتھ اس کو دیکھ رہا ہوں۔ اس کو دیکھ کر یہ آیت زبان پر آگئی: فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ قرآن میں فطرت کے مشاہدہ اور آیات کون پر غور وفکر کے لئے بہت زور دیا گیا ہے۔ اس کے علم کو خشیت الہی کا ذریعہ بتایا گیا ہے (إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءِ اس سے معلوم ہوا کہ معرفت الہی کا اصل ذریعہ کائنات میں پھیلی ہوئی قدرت کی نشانیوں پر غور کرنا ہے۔ ہمارے ہوٹل سے لووین کا فاصلہ ۳۰ کلومیٹر ہے۔ ۱۲ستمبر کی شام کو جب میں اپنے ساتھی کے ہمراہ کار میں وہاں کی تقریب میں شرکت کے لئے جارہا تھا تو سارے راستہ میں صنعتی ترقی کے مناظر دکھائی دئے سڑکوں سے لے کر عمارتوں تک ہر چیز واضح طور سے ہندوستان سے مختلف نظر آئی۔

یہی تمام مغربی ملکوں کا حال ہے۔ میں نے سوچا کہ مغرب کے وسائل سے زیادہ وسائل ہندوستان

کے پاس موجود ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ہندوستان اب تک ایک غیر ترقی یافتہ ملک بنا ہوا ہے۔ پر غور کرتے ہوئے سمجھ میں آیا کہ ہندوستان کا مذہب لکشمی پوجا ہے اور مغرب کا مذہب جیون پوجا، ہندوستانی آدمی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جیسے بھی ہو زیادہ سے زیادہ دولت جمع کرے۔ اس کے مقابلہ میں مغربی انسان کا مقصد یہ ہے کہ وہ ہر ممکن طریقہ سے زندگی کو بہتر بنائے۔ ہندوستانی آدمی زر اندوزی کو سب کچھ سمجھتا ہے جب کہ مغرب کے آدمی کے لئے سب کچھ یہ ہے کہ وہ حیات مادی کی تعمیر کرے ۔ سورج کی یہی فرق ہے جس نے دونوں دنیاؤں میں وہ فرق پیدا کر دیا ہے جس کو آج ہم دیکھ رہے ہیں۔

۱۳ستمبر کو ناشتہ سے فارغ ہونے کے بعد ڈاکٹر لیونارڈو شہر دکھانے کے لئے گئے۔ شانی اسٹین بھی میرے ساتھ تھے۔ شہر کا کچھ حصہ کار پر بیٹھ کر دیکھا۔ اس کے بعد میں نے ڈاکٹر لیونارڈو سے کہا کہ شہر کو زیادہ اچھی طرح دیکھنے کے لئے پیدل چلنا چاہئے۔ اس لئے اگر آپ کو زحمت نہ ہو تو گاڑی کسی مقام پر پارک کر دیں اور ہم لوگ پیدل چل کر شہر کو دیکھیں ۔ انھوں نے اتفاق کیا۔ مسجد کے پاس پارک کر دی گئی اور ہم لوگ شہر دیکھنے کے لئے چل پڑے۔

بروسیلز نہایت منظم اور نہایت خوب صورت شہر ہے۔ سڑکیں نہایت عمدہ اور صاف کہیں ٹوٹ پھوٹ کا منظر دکھائی نہیں دیتا۔ چاروں طرف گاڑیاں دوڑ رہی تھیں۔ مگر نہ ہارن کی آواز تھی اور نہ دھواں۔ خوب صورت فٹ پاتھ ہیں مگر خوانچہ فروشوں کا کہیں وجود نہیں۔ گم شور و غل نہیں۔ دکانیں ہیں مگر لوٹ نہیں۔ برگرمیاں ہیں مگر بے قاعدگی نہیں، مکانات ہیں مگر غیر قانونی تعمیرات نہیں۔ سارا شہر ایک ڈھلا ہوا ماڈل نظر آتا ہے۔

ایک سڑک پر چلتے ہوئے ایک بہت بڑی عمارت نظر آئی۔ سیکڑوں لوگ اندر داخل ہونے کے لئے لمبی قطار میں کھڑے ہوئے تھے۔ اس کے گیٹ پر مقامی تلفظ میں لکھا ہوا تھا پارلی منٹ (Parlement) سامنے بڑا سا جھنڈاا لہرا رہا تھا جس کے اوپر بارہ ستارے بنے ہوئے تھے۔ معلوم ہوا کہ یہ۔ یورپین پارلی منٹ ہے۔ متحدہ یورپ کا تصور اس وقت مغربی یورپ میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ چنانچہ اس کے بارہ میں شریک ملکوں کی نمائندگی کرتے ہوئے بارہ ستاروں کا جھنڈ اپنایا گیا ہے۔ اگرچہ ملکی قومیت کے ماننے والے اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ تحریک نے عملی صورت اختیار کر نا شروع کر دیا ہے۔ اور اگر کسی وقت یورپ متحد ہو گیا تو یقینی ہے

کہ امریکہ نمبر ۲ پر چلا جائے گا۔

ایک بار برو سلس میں نماز پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ یہاں میں مشرق کی سمت میں نماز پڑھ رہا ہوں اگر کوئی شخص مجھ کو دیکھ کر کہے کہ ہندوستان میں تو آپ مغرب کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے تھے اور بلجیم میں مشرق کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہے ہیں۔ کیا آپ نے اپنا قبلہ بدل دیا۔ حالاں کہ اسلام میں جان بوجھ کر اپنا قبلہ بدلنا کفر کے ہم معنی ہے۔

یہ تنقید بظاہر صحیح مگر باعتبار حقیقت غلط ہوئی کیوں کہ مسلمان کا اصل قبلہ مشرق یا مغرب نہیں ہے، بلکہ کعبہ ہے۔ ہندوستان میں کعبہ چونکہ مغرب کی سمت میں واقع ہے اس لئے وہاں مغرب کے رخ پر نماز ادا کی جاتی ہے۔ بلجیم میں کعبہ مشرق کے رخ پر ہو جاتا ہے اس لئے یہاں مشرق کے رخ پر نماز ادا کی جاتی ہے۔

لاہور کے اردو روزنامہ نوائے وقت (۱۳ اگست ۱۹۹۲) میں میں نے بلجیم کے بارہ میں ایک رپورٹ پڑھی تھی۔ یہ بلجیم کے ایک سیاح سمٹ رونی سے نوائے وقت کے نمائندہ طاہر ملک کی گفتگو پر مشتمل تھی۔ بلجیم کو دیکھنے کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ مذکورہ سیاح کی بات تقریباً صد فیصد درست مزید یہ کہ اس نے جو بات پاکستان کے بارہ میں کہی، وہی ہندوستان پر بھی پوری طرح چسپاں ہوتی اس رپورٹ کا ایک حصہ یہ ہے:

"میں چالیس سے زیادہ ممالک کی سیاحت کر چکا ہوں۔ مگر پولیس کی بہتات پاکستان میں سب سے زیادہ دیکھی ہے۔ یہاں بے شمار چیکنگ پوسٹ ہیں جہاں بلاوجہ شہریوں کو روک کر تلاشی لی جاتی ہے بلجیم میرا ملک ہے۔ وہاں نہ تو مسلح پولیس ہوتی ہے اور نہ ہی عوام کو روک کر جگہ جگہ چیک کیا جاتا ہے۔ صوبہ سرحد میں عام افراد کے ہاتھوں میں سرعام اسلحہ پہلی بار دیکھ کر میں خوف زدہ ہو گیا۔ کا اظہار بلجیم سے پاکستان سیاحت کیلئے آئے سمٹ رونی نے نمائندہ نوائے وقت کے سوال پر کہ آپ کو پاکستان میں سب سے منفرد کیا چیز لگی؟ کا جواب دیتے ہوئے کیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ ان کے ملک میں جرائم اور دہشت گردی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بلجیم مکمل طور پر ایک پرامن ملک ہے۔ انھوں نے بتایا کہ بلجیم میں قانونی طور پر پولیس، فوج اور عام شہریوں سمیت کسی کو آبادی میں سرعام اسلحہ لے کر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اپنی بات کی وضاحت

کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان کے ملک میں قانون کے مطابق پولیس فوج یا لائسنس اسلحہ رکھنے والا کوئی بھی فرد شہری علاقوں میں اسلحہ کی نمائش نہیں کر سکتا۔

فوج کو عوام حالات میں آبادی میں یونیفارم میں آنے کی اجازت بھی نہیں ہے۔ طور پر فوج مسلح یونیفارم میں صرف ایمرجنسی کی صورت میں آبادی میں آنے کی مجاز ہے۔ بتایا کہ بلجیم میں فوج کی چھاؤ نیاں آبادی سے دور بنائی جاتی ہیں تاکہ عام کا فوجی چھاؤنی سے گزر بھی نہ ہو سکے۔ جس کی وجہ بیان کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ وہاں کی حکومت کے خیال میں آبادی کے علاقے میں قانون نافذ کرنے والے افراد کے پاس اسلحہ سے عام شہری کے خوف زدہ ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔ اس طرح عوام اپنے مقابلہ میں پولیس یا فوج کو برتر خیال کر سکتے ہیں۔ پولیس کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ پولیس اسلحہ کے بغیر اپنے فرائض انجام دیتی ہے اور صرف ضرورت کے وقت مسلح نظر آتی ہے۔ پولیس کا عوام سے رویہ نہایت دوستانہ اور ہمدردانہ ہوتا جرائم کی روک تھام کے علاوہ پولیس عوام کی ذاتی مشکلات میں امداد بھی کرتی ہے جس کی مثال دیتے ہوئے سمٹ روڈنی نے کہا کہ اگر کسی شخص کی گاڑی راستے میں خراب ہو جائے تو پولیس خراب گاڑی کو درست کرنے میں مدد کرتی ہے یا اس شخص کو سرکاری سواری میں منزل مقصود تک لے جاتی ہے پاکستان سے موازنہ کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ یہاں جگہ جگہ مسلح پولیس والے نظر آتے ہیں جو کہ عوام کے دوست ہونے کی بجائے اتھارٹی کا تاثر دیتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ یہاں جب مسلح پولیس والوں کو دیکھتے ہیں تو تحفظ کی بجائے خوف محسوس سیاحت کے حوالے سے اخراجات پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ان کا کل خرچہ ۵۵ ہزار روپے کے قریب ہوا ہے اور بلجیم میں ان کی تنخواہ ماہانہ ۲۷ ہزار پاکستانی روپے ہے وہ ہر سال بونس ملنے پر چھٹیوں میں آسانی سے غیر ملکی سیاحت کے لئے نکلتے ہیں۔ یوں وہ ہر سال ایک یا دو ملک کی سیاحت کرتے ہوئے پوری دنیا دیکھنے کا خواب پورا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں (صفحہ ۳) ۱۳ ستمبر کو ہم نے بروسیلز کی جامع مسجد دیکھی۔ یہ مسجد شہر کی نہایت اہم سڑک کے کنارے واقع اس کا جائے وقوع نہایت شاندار ہے۔ اس کے ایک طرف مصروف سڑک کے کنارے شہر کی پرشوکت تجارتی عمارتیں کھڑی ہوئی ہیں۔ دوسری طرف بے حد وسیع پارک ہے۔

اس کی وجہ سے دور تک سبزہ ہی سبزہ نظر آتا ہے۔ ایک گنبد کی یہ مسجد خود بھی نہایت عظیم اور پر وقار عمارت کی صورت میں کھڑی ہوئی ہے۔

یہ مسجد رابطہ العالم الاسلامی کے تعاون سے بنائی گئی ہے۔ اس کے دروازہ پر المسجد الجامع بیروکسل (Grande Mosque) لکھا ہوا ہے۔ ایک اور بورڈ بتا رہا ہے کہ اسی عمارت میں بلجیم کا اسلامی اور ثقافتی مرکز (المركز الاسلامی والثقافی بیلجیکا) بھی قائم ہے۔ ساتھ وسیع احاطہ بھی موجودہے۔ ہم یہاں ۱۳ بجے دن میں پہنچے تھے۔ اس وقت مسجد کے دونوں دروازے بند تھے۔ اس لئے ہم مسجد کے اندر داخل ہو کر تحیۃ المسجد ادا نہ کر سکے ۔ کے نوٹس بورڈ پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے : المسجد يفتح ابوابه في وقت الصلاة ۔ یعنی مسجد کے دروازے نماز کے وقت کھلتے ہیں۔

المركز الاسلامی والثقافاتی المسجد الجامع بيروكسل

(St. Michael's Cathedral) اس کے بعد آگے بڑھے تو بروسیلز کا بڑا چرچ وہ کھلا ہوا تھا۔ زائرین کا ہجوم جاتا اور باہر نکلتا ہوا نظر آیا۔ میں نے سوچا کہ اگر کوئی شخص بروسیلز کی مسجد اور یہاں کے کیتھڈرل کے اس فرق کو دیکھ کر خود مسیحیت اور اسلام کے بارے میں رائے قائم کرے اور کہے کہ دیکھو، مسیحی مذہب شاندار طور پر زندہ ہے اور اسلام کی عمارت پر قفل پڑ چکے ہیں تو بظاہر صحیح دکھائی دینے کے باوجود وہ ایک لغو بات ہوگی۔ کیوں کہ یہ ایک مقامی معاملہ ہے نہ کہ عمومی طور پر پوری دنیا کا معاملہ۔ بروسیلز کا یہ تاریخی کیتھڈرل مکمل طور پر پتھروں کا بنا ہوا ہے۔ اس کی عمارت پر ہیبت حد تک بلند اور عظیم ہے۔ وہاں مفت تقسیم کے لئے ایک پمفلٹ موجود تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ گیارہویں صدی عیسوی میں اس مقام پر ایک بڑا رومن چرچ (Romanesque church) تھا ۔ اس کے کھنڈر پر ہنری اول (Henry کے حکم سے تیرہویں صدی میں ایک بڑا چرچ بنایا گیا۔ اس کے بعد تین سو سال تک اس میں تعمیرات جاری شاہ چارلس پنجم (Charles V) کے زمانہ میں موجودہ عظیم عمارت کی تکمیل ہوئی۔ کے ساتھ ایک مذہبی تعلیمی ادارہ بھی ہے۔ یہاں مسیحیت کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس کو چرچ کالج (collegiate church of SS Michael) کہا جاتا ہے۔

تعمیری عظمت کے اعتبار سے یہ کیتھڈرل یہاں کی مسجد سے بہت زیادہ بڑا ہے۔ کے چاروں طرف صرف عمارتوں کا ماحول ہے۔ جب کہ مسجد کے اردگرد ہرا بھرا ماحول ہے۔ مسجد گویا ایک بہت بڑے پارک کے درمیان کھڑی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ تاہم جیسا کہ عرض کیا گیا، کیتھڈرل کے اندر زبر دست سرگرمیاں تھیں لیکن مسجد میں اس وقت کوئی انسانی سرگرمی نظر نہیں آئی۔ کیتھڈرل کے اندر مختلف قسم کے لٹریچر مسیحیت سے متعلق رکھے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک کو میں نے لے لیا۔

۱۳ دسمبر کی شام کو کانفرنس کا افتتاحی اجلاس تھا۔ یہ بروسیلز سے ۳۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر لووین (Louxain) کے اسپورٹس سنٹر میں رکھا گیا تھا۔ یہ سنٹر غیر معمولی طور پر بڑا ہے۔ کے جس ہال میں اجلاس کا انتظام تھاوہ اپنی غیر معمولی تعمیرات سے عجیب پر اثر معلوم ہو رہا تھا۔

وسیع ہال میں دو ہزار سے زیادہ اعلیٰ تعلیم یافتہ مرد اور عورت موجود تھے۔ اس سے متصل ایک کمرہ میں اخباری رپورٹروں کا انتظام تھا۔ یہ کمرہ اتنا بڑا تھا کہ وہ خود ایک ہال کی مانند نظر آرہا تھا۔ یہاں مختلف یورپی اخباروں کے نمائندے کثیر تعداد میں جدید ترین سامانہوں کے ساتھ

افتتاحی اجلاس میں زیادہ تر رسمی انداز کی تقریریں ہوئیں۔ ہر مذہب کے نمائندہ نے اپنے مذہب میں امن اور انسانی ہمدردی کی اہمیت بیان کی۔ جاپان کے بدھسٹ پیشوا اتائی یادا (Etail Yamada) نے بدھزم کی طرف سے جاپانی زبان میں تقریر کی۔ ان کی عمر ۹ سال ہو چکی وہ وہیل چیئر کے ذریعہ ہال تک پہنچائے گئے تھے۔

زمبابوے کے وزیر اعظم رابرٹ موگابے (Robert G. Mugabe) نے انگریزی زبان میں پرجوش تقریر کی۔ ان کی تقریر پر سب سے زیادہ تالیاں بجائی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ مسیح نے (اور دوسرے مذہبوں نے یہ تعلیم دی ہے کہ پڑوسی کو اس کا حق دو۔ اس کا تعلق صرف فرد سے نہیں بلکہ قوموں سے بھی ہے۔ آج ہر قوم کا ایک ’پڑوسی‘ ہے اور اس پڑوسی کے ساتھ اس کو مذہبی حکم کی تعمیل کرنا چاہئے۔ اس کے بعد انھوں نے بہت سے نام گنوائے۔ مثلاً یہودی کے پڑوسی ہندوؤں کے پڑوسی ہندوستانی مسلمان ہیں۔ جگہ جگہ مسلمانوں کے پڑوسی مسیحی ہیں اور مسیحی کے پڑوسی مسلمان وغیرہ۔ اسلام کی نمائندگی تیونس کے مفتی اعظم محمد مختار سلامی نے کی۔ ان کی تقریر عربی میں ہوئی۔ تمام تقریروں کے ترجمے عین اسی وقت مختلف زبانوں میں کئے

افتتاحی اجلاس کا اہتمام غیر معمولی حد تک بڑے پیمانہ پر کیا گیا تھا۔ اس کا ہر جزو نہایت منظم اور باقاعدہ تھا۔ میرے قریب کی کرسی پر سوڈان کے شیخ اسحاق ادریس بیٹھے ہوئے تھے۔ آجکل وہ رابطہ العالم الاسلامی (جدہ) سے وابستہ ہیں۔ ان سے میں نے کہا کہ : المسلمون لا يستطيعون ان يخططو امثل هذا التخطيط مع انهم يمتلكون كل الامكانيات فما هو السبب۔ انھوں نے فوراً جواب دیا کہ انانیت۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کی بڑھی ہوئی انسانیت نے انھیں اس کے لئے نااہل کر دیا ہے کہ وہ کوئی بڑا اجتماعی منصوبہ تیار کریں اور اس کو تکمیل

شام کا کھانا فیکلٹی کلب میں تھا۔ یہ لووین یونیورسٹی کے تحت ہے اور اپنی وسعت کے اعتبار سے خود ایک پوری دنیا ہے۔ میں نے قصدًا گوشت نہیں لیا۔ صرف سادہ سبزی پر قناعت کھانے سے فراغت کے بعد ہم لوگ باہر گیٹ پر آئے۔ میرے ساتھ ڈاکٹر لیونارڈ اور ڈاکٹر ثانی اثنین تھے۔ گیٹ پر کھڑے ہوئے آدمی نے حسب قاعدہ واکی ٹاکی پر، ہمارے ڈرائیور کو آواز دی، وہ ابھی کھانے میں مشغول تھا اس لئے وہ چند منٹ کی تاخیر سے پہنچا۔ گیٹ پر ہم لوگوں کو کھڑا دیکھ کر وہ دوڑتا ہوا اس مقام پر گیا جہاں گاڑیاں پارک کی گئی تھیں۔ اور فوراً ہی گاڑی لے کر آگیا۔ یہ منظر دیکھ کر مجھے وہ آیت یاد آگئی کہ اذانودي للصلاة من يوم الجمعة فاسعوا إلى ذكر الله۔ میں نے سوچا کہ آج دنیا کے بے شمار لوگ تیز رفتاری کے ساتھ دوڑ رہے ہیں مگر دین کے لئے کوئی دوڑنے والا نہیں۔ اگر بظاہر کوئی شخص دین کے لئے دوڑ رہا ہے تو وہ بھی دین کے اس پہلو کے لئے ہے جس میں دنیوی اور مادی قدر پیدا ہو چکی ہے۔ دینی سرگرمیوں کے ہجوم میں دین کا وہ میدان بالکل خالی پڑا ہوا ہے جہاں دوڑنے میں کوئی دنیوی یا مادی کشش موجود نہیں۔ اس کانفرنس میں اٹلی کے لوگ کثرت سے شریک ہیں۔ ہوائی جہاز سے آنے والوں کے علاوہ ایک اسپیشل ٹرین روم سے یہاں آئی جس میں دو ہزار اطالوی سفر کر کے بروسیلز پہنچے ہیں۔ روم سے آنے والے ایک صاحب سے بات ہو رہی تھی۔ انھوں نے میرا کپڑا دیکھ کر پوچھا کہ اس کو انڈیا میں کیا کہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ کرتا۔ پھر میں نے کہا کہ عربی میں اس کے لئے قمیص کا لفظ انھوں نے بتایا کہ اطالین میں اس کو کمیشا (Kamisha) کہا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ عربی اور اطالین میں بہت سے مشترک الفاظ موجود ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دور اول میں عربوں اور اطالیوں کے درمیان کتنا زیادہ تعلق پایا جاتا تھا۔

۴ ستمبر کو کانفرنس کے تمام شرکاء مختلف گروپوں میں تقسیم کر دئے گئے۔ ہر گروپ کے لئے الگ الگ موضوع مقرر کر دیا گیا جس پر وہ ڈسکشن کریں۔ اس طرح آٹھ الگ الگ ہال میں آٹھ الگ الگ اجتماعات ہوئے۔ ہر ایک میں کچھ منتخب لوگوں نے اپنے پیپر پیش کئے اور اس کے بعد ان پر بحث و تنقید ہوئی۔ موضوعات حسب ذیل تھے :

The great religions in dialogue : from Assisi to Brussels. Religions, the Middle East and Europe. the Churches of America and Europe. Christians and Jews: their common responsibility in the new Europe. South-North: the Churches of Africa and Europe. Peoples, differences and the new Europe. Voices of peace from Asia. The economic responsibilities of the new Europe: the cost of peace. Towards an Islamic-Christian dialogue. اس طرح کی انٹر نیشنل کانفرنس کے انعقاد کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ شرکاء کو کسی ایک ہوٹل میں ٹھہرایا جائے ۔ اور اسی ہوٹل کے کسی ہال میں تمام کارروائیاں انجام دی جائیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ لوگوں کو ایک سے زیادہ ہوٹل میں ٹھہرایا جائے اور کانفرنس کی کارروائی بھی مختلف مقامات پر انجام دی جائے ۔ موجودہ کانفرنس کے منتظمین نے دوسری صورت اختیار انہوں نے شرکاء کو دو ہوٹلوں میں ٹھہرایا اور تقریباً دس مختلف مقام پر اس کی کارروائیاں

یہ صورت ذاتی طور پر میرے لئے تکلیف کا باعث ہوتی ہے۔ کیوں کہ اس میں بار بار کار میں سفر کرنا پڑتا ہے اور اس طرح کے سفروں میں مجھے چکر آنے لگتا ہے۔ ہمارے استعمال کے لئے اگرچہ نہایت نفیس اور جدید کار موجود تھی ۔ مگر بار بار آنے جانے سے میرے سر میں چکر کی کیفیت پیدا ہو گئی۔

کبھی کبھی مجھے خیال آتا ہے کہ میں شاید دنیا کا سب سے زیادہ کمزور انسان ہوں ۔ حال یہ ہے کہ پرتعیش ہوٹلوں میں ٹھہرنا اور شاندار کاروں میں سفر کرنا بھی میرے لئے عذاب کے ہم معنی ہے۔ میں سوچنے لگا کہ آخر اللہ تعالیٰ نے مجھے اتنا کمزور کیوں بنایا۔ پھر سمجھ میں آیا کہ شاید اس لئے کہ عجز کی سطح پر انسان کو حقیقت کی دریافت کا تجربہ کرایا جائے۔ کیوں کہ قدرت کی سطح پر حقیقت کی دریافت اتنی نادر ہے کہ ساری تاریخ انسانی میں وہ صرف پیغمبروں ہی کو حاصل ہوئی ہے۔ میں صرف چند ہی قابلِ ذکر استثنا پائے جاتے ہیں ، مثلاً عمر فاروق رض۔

۲۴ ستمبر کے اجلاس میں میرا مقالہ تھا۔ کانفرنس کے منتظمین نے اس کا عنوان ”جدید چیلنج اور اسلام“ مقرر کیا تھا۔ اس سیشن کے لئے مجھ کو چیئرمین بھی بنایا گیا تھا۔ مگر میں نے کہا کہ مجھے ” بیک سیٹ پر بیٹھنا زیادہ پسند ہے۔ اس لئے آپ چیئر مین کسی اور کو مقرر کر دیں۔ میں صرف اپنا مقالہ پیش کر دوں گا اور اس کے بعد جو سوالات ہوں گے ان کا جواب دے دوں گا۔ پر وہ لوگ راضی ہو گئے۔ چنانچہ میں نے اس اجلاس میں اپنا مقالہ پیش کیا۔ یہ مقالہ انگریزی میں انشاء اللہ اس کو انگریزی الرسالہ میں شائع کر دیا جائے گا۔

ایک عرب نے اپنی تقریر میں سیکولرزم کی مخالفت کی۔ انھوں نے کہا کہ سیکولرزم کا ترجمہ عربی میں علمانيہ کیا جاتا ہے۔ مگر یہ ترجمہ درست نہیں۔ اس کا صحیح ترجمہ لادینیت ہے۔ طور پر صرف فصل الدين عن الدولة کا نام نہیں ہے۔ بلکہ اس کا صحیح مطلب زندگی کے نظام کو غیر دینی بنیاد پر قائم کرنا ہے (المدلول الصحيح للعلمانية هو اقامة الحياة على غير الدين) میں نے کہا کہ مجھے اس سے اتفاق نہیں۔ گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو سیکولرزم کا مقصد مذہب کو رد کرنا (rejection) نہیں ہے بلکہ مذہب کے معاملہ میں ریاست کا غیر جانبداری (indifference) کی پالیسی کو اپنانا ہے۔ میں نے کہا کہ سیکولرزم کا نظریہ در اصل اس قدیم تصور کی تردید ہے جب کہ ریاست اور مذہب کو ایک دوسرے کے معاملہ میں دخل دینے کا اختیار

اس اعتبار سے سیکولرزم کی روح وہی ہے جو صلح حدیبیہ کی روح تھی۔ صلح حدیبیہ میں دونوں فریقوں کو اس بات کا پابند کیا گیا تھا کہ وہ ایک دوسرے کے معاملہ میں جنگی مداخلت نہیں کریں گے۔ سیکولرزم کے ذریعہ جدید ریاست نے اپنے آپ کو اس بات کا پابند کیا ہے کہ وہ مذہبی امور میں غیر جانب دار رہے گا۔ اس نظریہ کے موجودہ زمانہ میں دعوت کے وہ مواقع کھول دئے ہیں جو قدیم زمانہ میں موجود نہ تھے۔ چنانچہ آج دینی کام کے سب سے زیادہ مواقع سیکولر ملکوں میں پائے جاتے ہیں۔ بالفرض اگر سیکولرزم کا نظریہ اصولی طور پر ہمارے مطابق نہ ہو تب بھی اس کا عملی نتیجہ یقینی طور پر ہمارے حق میں ہے۔ کیوں کہ ہم کو ریاست کے تدخل سے محفوظ رکھ کر دعوتی عمل کے مواقع دیتا ہے۔ اس لئے اگر کسی کو سیکولرزم سے نظریاتی اتفاق نہ ہو تب بھی عقل مندی یہ ہے کہ اس کے نتیجہ میں پیدا شدہ

ماحول کو دعوتی مقاصد کے لئے استعمال کیا جائے۔ اس کے نظری پہلو کو لے کر بے فائدہ طور پر اس سے الجھنا ہرگز دانش مندی نہیں۔

ایک مسیحی مقرر نے کہا تھا کہ اسلام میں فکری جبریت ہے۔ اسلام تنقید کو پسند نہیں کرتا۔ وجہ ہے کہ اسلام دوسروں کے ساتھ مفاہمت نہیں کر پاتا۔ مراکش کے ایک عرب عالم نے اس کی تردید میں کہا کہ اصل معاملہ اس کے برعکس ہے۔ اسلام میں نہ صرف تنقید کی اجازت ہے۔ بلکہ اسلام میں تنقید کو حد درجہ پسند کیا گیا ہے۔ اپنے خیال کی تائید میں انہوں نے خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ قول پیش کیا کہ اللہ اس آدمی پر رحم فرمائے جو مجھ کو میرے عیوب تحفہ میں دے (رَحِمَ اللہ امرأ أهدى إلى عيوبي)

یہ بات نہایت درست ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام سے پہلے دور فتنہ میں تنقید کا دروازہ بند تھا۔ اسلام کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس نے بند دروازہ کو کھولا اور صحابہ و تابعین کے زمانہ میں ہر شعبہ حیات میں اس کی شاندار عملی مثالیں قائم ہوئیں۔ یہ جمود اور زوال کی نشانی ہوگی اگر تنقید کو ناپسند کیا جائے یا اس کے دروازہ کو دوبارہ بند کرنے کی کوشش کی جائے۔ ۴ ستمبر کو شام کا کھانا مالین کے بشپ کے یہاں تھا۔ کانفرنس کے تمام شرکاء وہاں لیجائے بشپ کی رہائش گاہ غیر معمولی طور پر بڑی اور شاندار تھی۔ چنانچہ اس کو "پلیس" کہا جاتا ہے۔ تاہم اس پلیس کے اندر ہر چیز بالکل سادہ تھی۔ حتیٰ کہ ڈنر بھی سادہ انداز میں دیا گیا تھا۔ اس محل میں بہت سے بشپ نے قیام کیا ہے۔ ان سب کی تصویریں ان کے سال پیدائش اور سال وفات کے ساتھ دیواروں پر پینٹنگ کی صورت میں نقش کی گئی تھیں۔

ایک مسیحی نے اپنا تعارف مانک (monk) کے لفظ سے کرایا۔ میں نے پوچھا کہ مانک نکاح انھوں نے کہا ہاں۔ پھر میں نے کہا کہ آپ اپنے تجربہ کی روشنی میں بتائیے کہ مانک بننے کے بعد آپ کو اپنی زندگی میں تنہائی (loneliness) کا احساس ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا ہاں تنہائی کا احساس ہوتا ہے اور بعض اوقات بے حد شدید ہوتا ہے۔ میں نے سوچا کہ جو لوگ دین کی خدمت کے لئے غیر فطری طریقہ اختیار کریں اس کا سب سے پہلا نقصان خود ان کو بھگتنا پڑتا ہے۔ کیوں کہ اس طرح ان کی شخصیت کا ارتقاء نہیں ہو سکتا۔

Printed page