Am I subject to the law. To say so is treason.
Al-Risala, January 1994, pp. 21–32
By Maulana Wahiduddin Khan
جسٹس کوک اپنے نظریہ پر قائم رہے ۔ اس کے نتیجہ میں بادشاہ نے ان کو جج کے عہدہ سے ہٹا دیا۔ کے بارہ میں تاریخ بتاتی ہے کہ بادشاہ سے ان کے قانونی اختلافات ہوئے اور آخر کار انہوں نے اپنا عہدہ کھو دیا :
That eventually broke his judicial career. (4/825)
جس وقت بادشاہ اور جسٹس کوک کا کیس برطانیہ کی پریوی کونسل میں آیا تو اس وقت کے اٹارنی جنرل فرانس بیکن (Francis Bacon) نے بادشاہ کی قانونی بالا تری کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ججوں کو شیر ہونا چاہیے مگر انہیں ایسے شیر ہونا چاہیے جو شاہی تخت کے ماتحت ہوں : Judges should be lions, but yet lions under the throne. (1/92)
پچھلے تمام زمانوں میں قانون کی دو قسمیں تھیں۔ اس کو برطانیہ کی قانونی روایات میں عوامی قانون (common law) اور شاہی قانون (Royal prerogative) کہا جاتا ہے۔
مطابق عوام کے لیے ایک قانون تھا اور بادشاہوں اور اعلیٰ خاندان کے لوگوں کے لیے دوسرا قانون۔ بادشاہ کی زبان قانون ہوتی تھی۔ وہ ہر قانون سے بالاتر تھا۔ یہ اسلام ہے جس نے معلوم تاریخ میں پہلی بار قانون کی اس تقسیم کو توڑا اور تمام لوگوں کے لیے یکساں قانون جاری کیا۔ اب شاہی قانون ختم ہو گیا اور ہر آدمی بشمول بادشاہ قانون کی (rule of king) (rule of law) کے تحت آگیا۔