Al-Risala · June 1994

Minorities in India and the National Mainstream

Al-Risala, June 1994, pp. 45–49

By Maulana Wahiduddin Khan

منتظمین نے صدر اسلامی مرکز کو دعوت دی کہ وہ اس میں ۶ نومبر ۱۹۹۳ کو اختتامی خطاب

(valedictory address) کریں۔ اس کے لئے ایک پیپر تیار کر لیا گیا تھا۔ اسلامی مرکز اس میں ذاتی شرکت نہ کر سکے۔ تیار ا ہوا پیپر انہمیں بھیج دیا گیا۔ ۷| ہندی ہفت روزہ پانچ جنیہ کے نمائندہ مسٹر مہاراج کرشن بھرت اور مسٹر ارن کمار پانڈے نے ۴ اکتوبر ۱۹۹۳ء کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا تعلق موجودہ ہندوستان میں ممسلمانوں کے مسائل سے تھا۔ آخری پیغام کے طور پر کہا گیا کہ زندگی کی مشکلات میں جینے کا نام ہے۔ اس لئے ہیں مشکلات کی شکایت کرنے کے بجائے ہم کو مشکلات کو حل کرنے کی تدبیر کرنا چاہئے۔ ۸| مسٹر ونود دوا (Vinod Dua) نے ۶ اکتوبر ۱۹۹۳ء کو دور درشن کے لئے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ وہ ۵ اکتوبر کی شام کونیشنل چینل پر دکھایا گیا ۔ انٹرویو کا موضوع یہ تھا کہ موجودہ حالات میں قرآن کیا رہنمائی دیتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ قرآن میں صبر کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ پورا قرآن گویا کتاب صبر ہے۔ قرآن میں براہ راست طور پر ڈیڑھ سو صبر کی آیتیں ہیں۔ اور بالواسطہ طور پر تقریباً ساری ہی آیتیں صبر سے تعلق رکھتی ہیں۔

۹| جرنل آف انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنز (نئی دہلی) نے نومبر ۱۹۹۲ء میں ایک خصوصی شمارہ (Indian Horizons) کے عنوان سے شائع کیا۔ اس میں صدر اسلامی مرکز کو .. پر مشتمل پر مشتمل ایک مقالہ دینے کی پیش کش کی گئی۔ اس کے مطابق انہیں ایک مفصل مقالہ تیار کر کے دیا گیا اس کا عنوان تھا (Plurality of Religions & Cultures)

۱۰| بی اے جی فلمس پرائیویٹ لمیٹڈ (نئی دہلی) نے ۸ نومبر ۱۹۹۳ء کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ویڈیو پر ریکارڈ کیا۔ مسلمانوں کی الیکشن پالیسی کے سلسلہ میں بتایا گیا کہ داخلی سطح پر سلمان جب تک منظم اور تعلیم یافتہ نہ ہو جائیں محض الیکشن میں کسی پارٹی کو ہرانے یا جتانے سے ان کو کچھ فائدہ ملنے والا نہیں۔

۱۱| آل انڈیا ریڈیو کی ٹیم ۱۶ نومبر ۱۹۹۳ء کو مرکز میں آئی اور صدر اسلامی مرکز کا بیان اردو اور انگریزی میں ریکارڈ کیا۔ اس بیان میں کشمیری نوجوانوں کو اس پر مبارک باد دی گئی تھی کہ آج صبح وہ پر امن طور پر حضرت بل سے باہر نکل آئے اور درگاہ اور مسجد کو نقصان سے بچا لیا۔ نیز انہیں یہ پیغام دیا گیا کہ وہ حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے اپنے مستقبل کی تعمیر کریں۔

۱۲ انگریزی اخبار امرت بازار پتریکا کے نمائندہ مسٹر دنیش شرما نے ۱۴ نومبر ۱۹۹۳ کو ٹیلیفون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا موضوع خاص طور پر حضرت بل کا معاملہ تھا۔ ان سے کہا گیا کہ حضرت بل کا ایک مہینے کا محاصرہ اگر چہ ایک المیہ تھا۔ مگر اس المیہ سے ایک بہتر بات نکل آئی۔ یہ کہ کشمیری نوجوانوں کو محسوس ہوا کہ تشدد کاراستہ تباہی کا راستہ ہے۔ یہ ایک مثبت آغاز کی

۱۳ دور درشن کی ٹیم ۱۴ نومبر ۱۹۹۳ کو مرکز میں آئی۔ اس نے صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو اردو میں اور انگریزی میں ریکارڈ کیا۔ اس انٹرویو میں آج صبح حضرت بل کے بحران کے خاتمہ پر کشمیری نوجوانوں کو اور حکومت کو مبارک باد دی گئی۔ اور یہ امید ظاہر کی گئی کہ اب کشمیر میں امن قائم ہو جائے گا اور وہاں کے لوگ دستور ہند کے تحت اپنی زندگی کی تعمیر پر امن طور پر شروع کر دیں گے۔ ۱۴ مسٹر جواہر لال دویدی علی یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر ہیں۔ وہ ذیل کے موضوع پر مقالہ تیار کر رہے ہیں ــــ تقسیم کے بعد دہلی کے مسلمانوں کا سیاسیات میں حصہ :

Political participation of Muslims in Delhi since partition. ۱۴ اپریل ۱۹۹۳ کو انھوں نے اس سلسلہ میں صدر اسلامی مرکز سے تفصیلی ملاقات کی اور موضوع سے متعلق ان کے خیالات قلم بند کئے ۔

۱۵ ترکی کے ایک پروفیسر عبد الحمید بر ایشیق ترکش ۱۴ نومبر ۱۹۹۳ کو مرکز میں آئے۔ وہ تفسیر قرآن کے موضوع پر ریسرچ کر رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں انھوں نے صدر اسلامی مرکز سے تفصیلی انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ قرآن کی تفسیریں تو ہزاروں کی تعداد میں لکھی گئی ہیں۔ سائنٹفک اسلوب میں قرآن کی تفسیر لکھنے کا کام ابھی باقی ہے۔

۱۶ مسٹر ہلال عاطف (ریسرچ اسکالر دہلی یونیورسٹی نے ۲۲ نومبر ۱۹۹۳ کو انٹرویو لیا۔ اس انٹرویو کا تعلق زیادہ مدارس عربیہ کے نظام اور کار کردگی کے بارہ میں تھا۔

۱۷ ٹائمس آف انڈیا کے نمائندہ مسٹر سری نواس لکشمن (ٹیلیفون ۳۶۱۸۹۲۳) نے صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی یہ انٹرویو ۲۲ نومبر ۱۹۹۳ کو ٹائمس آف انڈیا کی بمبئی اور دہلی دونوں اشاعتوں میں چھپا ہے۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر موجودہ ملکی اور ملی مسائل سے تھا۔

انگریزی ہفت روزہ آرگنائزر کے نمائندہ مسٹروینو گوپالن اور مسٹر پرمود کمار نے ۲۴ نومبر ۱۹۹۳ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا تعلق ہندوستان میں ہندو مسلم تعلقات نیز مسلم مسائل سے تھا۔ فیچر اینڈ نیوز الائنس (Feature & News Alliance) کے نمائندہ مسٹر ایم اے سراج نے ۲۸ نومبر ۱۹۹۳ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا تعلق زیادہ تر اس سوال سے تھا کہ بابری مسجد کے انہدام کے بعد مسلمانان ہند کا عملی نقشہ کیا ہونا چاہئے۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں سے ایک سنت یہ بھی ہے کہ نزاعی معاملات میں آئیڈیل پر اصرار نہ کرتے ہوئے عملی حل کو قبول کر لیا جائے۔ ہندی اخبار راشٹریہ سہارا کے نمائندہ مسٹر برزنے ۳۰ نومبر ۱۹۹۳ کو ٹیلیفون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا تعلق زیادہ تر الیکشن کے موجودہ نتائج سے تھا ان کو بتایا گیا کہ اس الیکشن کا ایک امید افزا پہلو یہ ہے کہ اس میں کمیونل اشوز کو دوبارہ مقبولیت حاصل نہ ہو سکی۔ واشنگٹن کے جرنل ای آئی آر (Executive Intelligence Review) کی دو نمائندہ لنڈا ڈی ہولیوز اور سوسن بر اڈی نے یکم دسمبر ۱۹۹۳ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا تعلق دو چیزوں سے تھا۔ فیملی پلاننگ کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظر۔ انڈیا میں مسلمانوں کا مستقبل۔ اسلامک ریپبلک نیوز ایجنسی (ارنا) کے نمائندہ مسٹر سعید عالم نے یکم دسمبر ۱۹۹۳ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا تعلق زیادہ تر سلمان رشدی کا مسئلہ، حالیہ ریاستی الیکشن کا رزلٹ ، بابری مسجد کے مسئلہ کا حل سے تھا۔ ہندی اخبار جن ستا کے نمائندہ مسٹر رام بہادر رائے نے صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا جو جن ستا کے شمارہ ۲۵ دسمبر ۱۹۹۳ میں شائع ہوا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر دو چیزوں سے تھا۔ بابری مسجد، ریاستوں کا موجودہ الیکشن اور مسلمان۔ بی بی سی (لندن) کی خاتون نمائندہ جلین رائٹ (Gillian Wright) نے ۲۲ دسمبر ۱۹۹۳ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق اسلام کے بعض عقائد اور عبادات تھا۔ نیز ہندوستان میں مسلمانوں کے مسائل پر بھی مختصر گفت گو ہوئی۔

انگریزی روزنامہ ہندوستان ٹائمس کے سینئر سپرنٹنڈنٹ مسٹرجے رائے نے۴ دسمبر۱۹۹۳ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ہندوستانی مسلمانوں کے موجودہ مسائل سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ نومبر۱۹۹۳ کا ریاستی الیکشن ایک اعتبار سے گویا ریفرنڈم تھا۔ یوپی میں بی جے پی کی حکومت نہ بننا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ رام مندر بنانا یا دوسری مسجدوں کو ڈھانا یہ ہندو کا مین کنسرن نہیں۔ یہ انٹرویو ہندوستان ٹائمس کے شمارہ ۵ دسمبر ۱۹۹۳ میں چھپا ہے۔ ہندی اخبار ہندوستان کے نمائندہ سٹر موہن سنگھ نے ۱۲ دسمبر ۱۹۹۳ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو سوالات کا تعلق زیادہ تر نیشنل اشوز سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ ہندو اور مسلمان دونوں اپنی فطرت کے تحت مل جل کر ہی رہنا چاہتے ہیں۔ مگر نا اہل لیڈر جھوٹے آنسو بہا کر دونوں کے درمیان گرہ بڑھکاتے رہتے ہیں۔

آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی نے ۱۶ دسمبر ۱۹۹۳ کو صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر نشر کی۔ کا تعلق کیریکٹر بلڈنگ سے تھا۔ اس میں بتایا گیا کہ سماجی زندگی میں ایک فرد کو کامیابی اور ترقی کے لئے کیا کرنا چاہئے۔

امریکی اداره (International Religious Foundation) کے ایگزیکٹیو ڈائرکٹر ٹامس والش (Thomas G. Walsh) ۱۶ دسمبر ۱۹۹۳ کو مرکز میں آئے اور صدر اسلامی مرکز سے انٹر ریلیجس ڈائیلاگ کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا۔ اس کی اہمیت سے اتفاق کرتے ہوئے انھیں بتایا گیا کہ اس وقت سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ مختلف مذاہب کے درمیان ٹکراؤ کے بجائے ہم آہنگی کی فضا پیدا کی جائے۔

بھارتیہ آریہ پرتی ندھی سبھا کے زیر اہتمام ۱۹ دسمبر ۱۹۹۳ کو ایک جلسہ ہندو مہاسبھا بھون (دہلی) اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور ہندو مسلم اتحاد اور شانتی کے موضوع پر تقریر کی۔

امریکہ دلاس (انگلینڈ) میں دسمبر ۱۹۹۳ میں انٹرنیشنل سیرت کانفرنس ہوئی۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور سیرت کے موضوع پر ایک پیپر پیش کیا۔ اس سفر کی رو داد انشاء اللہ رسالہ میں شائع کردی جائے گی۔

Printed page