Al-Risala · January 1994

تاریخ پر اثرات

Al-Risala, January 1994, pp. 32–36

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عمر کے آخری سال حج ادا فرمایا۔ اس موقع پر آپ نے وہ خطبہ دیا جو خطبہ حجۃ الوداع کے م سے مشہور ہے۔ اس خطبہ میں آپ نے جو تاریخی اعلانات فرمائے ان میں سے ایک اعلان یہ تھا :

الا كل شيء من امر الجاهلية تحت سن لو نا جاہلیت کے معاملہ کی ہر چیز میرے قدموں کے نیچے پامال کر دی گئی۔

ان الفاظ میں آپ نے ایک نئے دور کا اعلان فرمایا جو اللہ کی مدد سے آپ کے ذریعہ تاریخ انسانی میں ظاہر ہوا۔ آپ کے ذریعہ تاریخ میں وہ اسباب پیدا کیے گئے جس کے بعد یہ ناممکن ہو گیا کہ کوئی جاہلی طریقہ انسانی زندگی میں اپنی جڑ قائم کر سکے ۔

اسلام عرب سے نکل کر مختلف ملکوں میں پھیلا۔ دنیا کا بہت بڑا حصہ اہل اسلام کے زیر اقتدار آگیا۔ مگر کہیں بھی وہ نسلی تفریق ظہور میں نہ آسکي جو دوسری قوموں اور تہذیبوں کے عروج کے زمانہ میں پیدا اسی زمانہ میں افریقہ کے بیشتر باشندوں نے اسلام قبول کر لیا۔ یہ سب سیاہ فام تھے اور اسلام سے پہلے انہیں پیدائشی غلام سمجھا جاتا تھا۔ مگر اسلام قبول کرنے کے بعد ان کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا گیا۔ اسلام میں داخل ہو کر وہ یکساں طور پر اسلامی برادری کا حصہ بن گئے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۴) کے مقالہ نگار نے افریقہ اور دوسرے علاقوں میں اسلام کی اشاعت کا ذکر کرتے ہوئے اس تاریخی حقیقت کا اعتراف ان لفظوں میں کیا ہے کہ مسلم ملکوں میں کسی ملک میں بھی نسل کی بنیاد پر ذات کا نظام کبھی قائم نہ ہو سکا :

None of the Muslim countries ever developed a racial caste system. (15/361)

حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا ظہور دنیا میں ایک سماجی انقلاب کا ظہور تھا۔ یہ تاریخی تبدیلی اولاً عرب اور اطرافِ عرب میں آئی۔ اس کے بعد اس کے اثرات تمام دنیا میں پھیل گئے۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ انسانی سماج سے آزاد اور غلام کی تقسیم ہمیشہ کے لیے نابود ہو گئی۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے دنیا میں قانون کی حکمرانی کا دور شروع ہوا۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ سماجی نابرابری یا سماجی نا انصافی کو جائز ٹھہرانے والے تمام فلسفے دنیا سے ختم ہو گئے۔

یہ تاریخی تبدیلی اس حد تک مؤثر ہوئی ہے کہ اب اگر کوئی سر پھر ا شخص دوبارہ انسانیت کے بارہ میں اس قسم کا تفریقی نظریہ لے کر اٹھتا ہے تو وہ اپنے آپ مٹ کر رہ جاتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اس کی ایک مثال ہٹلر (۱۹۴۵-۱۸۸۹) ہے۔ ہٹلر کے نزدیک جرمن نسل سب سے عظیم (greatest) نسل تھی۔ اس نے کہا کہ جرمن نسل کا یہ پیدائشی حق ہے کہ وہ تمام دوسری قوموں کے اوپر حکومت کرے۔ اس کا خیال تھا کہ نسلوں اور افراد کے درمیان نابرابری ایک ناقابل تغیر فطری نظام ہے۔ اس نے آرین نسل کو انسانیت کا واحد تخلیقی عنصر قرار دیا : He regarded inequality between races and individuals as part of unchangeable natural order and exalted the Aryan Race as the sole creative element of mankind.

مگر ہٹلر کا انجام کیا ہوا وہ وقتی طور پر یورپ میں ابھرا۔ مگر آخر کار وہ خود اپنے ملک میں تنہا رہ گیا اور مایوسی کے عالم میں برلن کے ایک بنکر میں خودکشی کر لی۔ اس کے بعد وہ بھی مٹ گیا اور اس کی اٹھائی ہوئی نازی تحریک بھی ختم ہو گئی۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سماجی انقلاب برپا کیا، اس کے اثرات براہِ راست طور پر مسلم قوموں میں سفر کر رہے ہیں اور بالواسطہ طور پر سارے عالم انسانی میں۔ فرق کا سبب سوشل جسٹس یا مساوی انصاف (equal justice) کے بارہ میں محققین نے اعتراف کیا ہے کہ یہ مقصد اگر حقیقی طور پر کسی نظام میں حاصل ہوا ہے تو وہ صرف اسلام ہے۔ اس سلسلہ میں ایک بیان سوامی دیویکانند کا ہے جس کو ہم نے اوپر نقل کیا ہے۔ یہاں یہ سوال ہے کہ اس انسانی مقصد کو حاصل

کرنے میں صرف اسلام ہی کیوں کامیاب ہوسکا۔ دوسرے نظام یا مذہب اس مقصد کے حصول میں ناکام کیوں ہوگئے ۔ اس کی دو خاص وجہیں ہیں ۔ دونوں کو واضح کرنے کے لیے یہاں ہم ہندوازم اور مسیحیت کی مثال دیں گے ۔

اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اسلام میں انسانی برابری کے حق میں ایک مکمل آئیڈیالوجی پائی جاتی جب کہ دوسرے کسی نظام میں ایسی آئیڈیالوجی موجود نہیں ۔ مثال کے طور پر ہندوازم، جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا ، عین اپنے عقیدہ کی رو سے انسانیت کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ اس کی عین فلاسفی کا یہ تقاضا ہے کہ انسانوں میں ایک گروہ کو اونچا درجہ ملے ، اور دوسرے کو نیچے درجہ کی مخلوق سمجھا جائے ۔ اس عقیدہ کی موجودگی میں دونوں گروہوں سے برابر کا معاملہ کیا جانا ممکن جو لوگ اس اعتقادی نظام سے متاثر ہوں وہ کبھی ان لوگوں کو اپنا مساوی نہیں سمجھ سکتے جن کو وہ بظاہر اپنے سے کمتر دیکھ رہے ہوں ۔

یہاں میں یاد دلاؤں گا کہ ۱۹۵۳ میں پریسیڈنٹ آف انڈیا نے بیک ورڈ کلاس کمیشن (Backward Classes Commission) مقرر کیا تھا۔ اس کے چیرمین کا کا صاحب کا لیکر تھے۔ کمیشن نے مفصل جائزہ کے بعد ۱۹۵۵ میں اپنی ۲۶۲ صفحہ کی رپورٹ پیش کی جو گورنمنٹ پریس سے ۱۹۵۶ میں شائع ہوئی ۔ یہ مطبوعہ رپورٹ دہلی پبلک لائبریری میں موجود ہے اور میں نے وہیں سے لے کر اس کو پڑھا ہے ۔

اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بھارت میں ذات پات کا جو نظام پایا جاتا ہے وہ بقیہ دنیا سے بالکل الگ نوعیت کا ہے۔ یہ صرف معاشی اسباب سے نہیں ہے ، جیسا کہ عام طور پر دوسرے ملکوں میں ہوتا ہے۔ بلکہ اس کے اسباب زیادہ گہرے ہیں۔ اس کی جڑیں بھارت کے اقتصادی نظام میں پائی انھوں نے لکھا ہے کہ یہ صرف انڈیا کی خصوصیت ہے کہ اس نے سماجی نابراسری کو انسانی فطرت میں شامل قرار دیا۔ اس نے مذہبی اور روحانی پس منظر میں اس کو ایک پر اسرار ادارہ کی حیثیت دیدی : It is the peculiarity of India that it recognised the social differences inherent in human nature and gave them an institutional and mystic form with a religious and spiritual background. (p.14)

کالیکر کمیشن نے جو بات کہی وہ عین مطابق واقعہ ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انڈیا میں اونچ نیچ کو ایک پیدائشی فرق کی حیثیت دے دی گئی ہے۔ اس عقیدہ کے مطابق یہ ایک حتمی اور ناگزیر فطری حقیقت اور جہاں ایسا عقیدہ پایا جائے وہاں فرق کو مٹانے یا سب کو یکساں انصاف دینے کا ذہن ہی سرے سے پیدا نہیں ہو سکتا۔

اس سلسلہ میں دوسری رکاوٹ کی مثال مسیحیت کے نظام میں نظر آتی ہے۔ یہاں میں ایک رپورٹ کا حوالہ دینا چاہتا ہوں جو ٹائمز آف انڈیا کے سنڈے ریویو (۲۲ دسمبر ۱۹۹۱) میں چھپی ہے۔ پانچ کرسچین جرنلسٹوں کی ایک ٹیم نے تیار کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، انڈیا میں مسیحی فرقہ کی جو تعداد ہے، اس میں ۵۰ فی صد سے زیادہ نچلے طبقہ کے لوگ ہیں جن کو دلت کرسچین (Dalit Christians) کہا جاتا ہے۔ وہ اب تک چرچ کی طرف سے امتیازی سلوک کا شکار ہو رہے ہیں : Those who came over from the backward Hindu strata still find themselves bogged down in discrimination from the church. دلت کرسچین کا مردہ شخص "اپرا کا سٹ کرسچین" کے قبرستان میں دفن نہیں ہو سکتا۔ اس کا نکاح اونچے طبقہ کے مسیحیوں میں نہیں ہو سکتا۔ چرچ میں ان کے لیے علیحدہ نشست ہوتی ہے۔ تعلیمی اداروں میں ان کے ساتھ امتیاز برتا جاتا ہے۔ چرچ کے اعلیٰ عہدے ان کو نہیں دیے جاتے۔ کیرلا میں مسیحیت دو ہزار سال سے ہے مگر اب تک وہاں یہ تفریق پائی جاتی ہے۔ برابری کا درجہ (equal status) نہ ملنے کی وجہ سے دلت کرسچین میں سخت بے چینی پیدا ہوگئی ہے۔ چنانچہ اب تک چھ ہزار مسیحی اپنے مذہب کو چھوڑ کر دوسرے مذہب میں چلے گئے۔

مدراس کے کیتھولک آرک بشپ (Dr Casmur Guanadickman) سے اس سلسلہ میں سوال کیا گیا۔ انھوں نے اعتراف کیا کہ چرچ کے نظام میں طاقتور کاسٹ سسٹم (strong caste system) انھوں نے کہا کہ میں مانتا ہوں کہ یہ الٹی طرف قدم ہے۔ مگر بعض اوقات عقیدہ کی طاقت حقیقت کو توڑنے میں کامیاب نہیں ہوتی :

I agree, it was a retrograde step. But sometimes the power of faith cannot break

مسیحیت کا عقیدہ نابرابری یا سماجی بے انصافی کی تعلیم نہیں دیتا۔ مگر مسیحیت کی کمی یہ ہے کہ اس کے یہاں اس عقیدہ کی پشت پر مساوات کا کوئی طاقت ور تاریخی نمونہ موجود نہیں۔ حضرت مسیح کا مشن دعوت کے مرحلہ ہی میں ختم ہو گیا۔ وہ عملی انقلاب کے مرحلہ تک نہیں پہنچا۔ اس لیے مسیحیت کے دورِ اول میں مساوات کا طاقت ور عملی نمونہ بھی قائم نہ ہو سکا۔ ایسی حالت میں صرف عقیدہ عملی تبدیلی لانے کے لیے کافی نہیں ہو سکتا۔

اسلام کا معاملہ مذکورہ دونوں نظاموں کے برعکس یہ ہے کہ اس کے یہاں مساوات اور برابری کے سلوک کے حق میں ایک مکمل آئیڈیالوجی موجود ہے۔ اسی کے ساتھ اسلام میں ایک انتہائی کامل اور معیاری عملی نمونہ موجود ہے۔ اسلام کے دورِ اول کی تاریخ میں ان دونوں چیزوں کی موجودگی نے ہمیشہ کے لیے اسلام کی تاریخ کا رخ متعین کر دیا ہے۔ اب اسلامی تاریخ کو اسی رخ پر سفر کرنا کوئی اور رخ اتنا طاقت ور نہیں ہو سکتا کہ وہ اسلام کی تاریخ کے سفر کو اس کی طرف

اسلام کی یہ خصوصیت تمام انسانوں کے لیے رحمت ہے۔ وہ ساری قوموں کے لیے امید کی روشنی اس معاملہ میں اگر تعصب کو دخل نہ دیا جائے اور اسی طرح کھلے ذہن کا ثبوت دیا جائے جو مذہب کے علاوہ تمام سیکولر باتوں کے لیے ہمیشہ اختیار کیا جاتا ہے تو اچانک لوگوں کو معلوم ہو کہ اسلام کی صورت میں یہاں خدا و ند عالم کی ایک عظیم رحمت خدا کے تمام بندوں کے لیے موجود ہے۔ اسلام کسی گروہ کی قومی روایت نہیں۔ حتیٰ کہ وہ دوسرے مذاہب سے الگ کوئی انوکھا مذہب بھی نہیں۔ وہ پچھلے مذاہب ہی کا محفوظ اور مستند ایڈیشن ہے۔ وہ ہر ایک کی فطرت کی اس نظر سے دیکھا جائے تو اسلام ہر آدمی کو خود اپنا اثاثہ معلوم ہو گا۔ اسلام کو پانا اس کے لیے ایسا ہی ہوگا جیسے کوئی شخص خود اپنی ایک کھوئی چیز کو از سر نو پا جائے۔

Printed page