استقلال
Al-Risala, July 1994, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
فارسی کا مثل ہے کہ یک درگیر و محکم گیر۔ یعنی ایک در کو پکڑو اور وہیں مضبوطی کے ساتھ جمے رہو۔ یہ فطرت کا ایک قانون ہے جس کا تعلق زندگی کے ہر شعبہ سے ہے۔ آپ ایک پودا زمین میں لگائیں، اور اس کے بعد ہر روز اس کی جگہ بدلتے رہیں تو ایسا پودا کبھی بڑا درخت نہیں بن سکتا۔ ہر بار جب آپ اس کو کھود کر نکالیں گے تو اس کی کچھ جڑیں کٹ جائیں گی۔ اس طرح بار بار جڑوں کے کٹنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ اس قابل ہی نہیں رہے گا کہ زمین میں جاؤ حاصل کرے اور پھر اوپر اٹھ کر فضا میں اپنی شاخیں پھیلائے۔ ایک آدمی پرائیویٹ ملازمت میں ہے۔ وہ اگر ایسا کرے کہ آئے دن ایک جگہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ جائے تو وہ لوگوں کی نظر میں ہمیشہ بے قیمت بنا رہے گا۔ اگر وہ ایک جگہ وفاداری کے ساتھ رہتا تو وہاں اس کو اپنے عمل سے وہاں وہ اپنے مالک کا دل جیتتا اور پھر اس کو ترقی کا درجہ ملتا۔ لیکن جگہ بدلنے کی صورت میں وہ ہمیشہ پریشان رہے گا۔ وہ اپنے لیے ایک قابل اعتماد زندگی بنانے میں کامیاب نہیں ہوگا۔ دنیا میں استقلال کے بغیر کوئی کامیابی ممکن نہیں۔
ایک ڈاکٹر اگر بار بار اپنے کلنک کی جگہ بدلے۔ یا ایک دکان دار بار بار ایک دکان کو چھوڑ کر دوسری دکان شروع کرتا رہے تو نہ ایسا ڈاکٹر کبھی کامیاب ہوگا اور نہ ایسا دکان دار۔ دونوں ہی آخر کار ترقی سے محروم ہو کر رہ جائیں گے۔
کوئی آدمی جب ایک سماج میں رہتا ہے تو وہ اپنے کردار سے اپنی ایک تاریخ بناتا ہے۔ ہر انسان کا عظیم ترین سرمایہ ہے۔ اگر آپ کی یہ تاریخ بن جائے کہ آپ جھوٹ نہیں بولتے، آپ وعدہ خلافی نہیں کرتے، آپ خیانت نہیں کرتے۔ آپ کسی کے ساتھ بد خواہی کا معاملہ نہیں کرتے۔ آپ اپنے اصولوں سے کبھی نہیں ہٹتے، آپ جو کام کرتے ہیں ذمہ داری کے ساتھ کرتے ہیں، تو آپ کی یہ تصویر آپ کا سب سے بڑا
مگر یہ تصویر اسی وقت بنے گی جب کہ آپ ایک جگہ دیر تک ٹھہریں۔ اگر آپ بار بار جگہ بدلیں تو لوگوں کی نظر میں آپ کی تصویر بھی نہیں بنے گی۔ آپ لوگوں کا اعتماد حاصل نہ کر سکیں گے اور اعلیٰ ترقی کے درجہ تک پہنچنے میں کبھی کامیاب نہ ہوں گے۔