Al-Risala · July 1994

ایک اہم کردار

Al-Risala, July 1994, pp. 17–20

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام کے دورِ اول کی تاریخ میں ایک غزوہ وہ ہے جس کو غزوہ خندق (۵ھ) کہا جاتا ہے۔ اس میں مخالف قبائل کے ۱۲ ہزار آدمی مدینہ پر حملہ آور ہوئے تھے۔ قرآن میں اس کی تصویر کشی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ــــ جبکہ وہ تم پر چڑھ آئے، تمہارے اوپر کی طرف سے اور تمہارے نیچے کی اور جب آنکھیں پتھرا گئیں اور دل گلوں تک پہنچ گئے اور تم اللہ کے ساتھ طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ اس وقت ایمان والے امتحان میں ڈالے گئے اور بالکل ہلا دئے گئے (الاحزاب ۱۰-۱۱) اس نازک وقت میں مدینہ کے ایک شخص نے مسلمانوں کے حق میں نہایت اہم رول ادا اس نے حسن تدبیر کے ذریعہ ہونے والی خونی جنگ کو ٹال دیا تھا۔ اس آدمی کو آجکل کی زبان میں درمیانی (intermediary) شخص کہا جا سکتا ہے۔

ابن اسحاق کا بیان ہے کہ قبیلہ غطفان کے ایک آدمی نعیم بن مسعود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ انھوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، میں اسلام قبول کر چکا ہوں۔ مگر میری قوم میرے اسلام سے ابھی واقف نہیں اس طرح میں اب بھی ان میں معتمد علیہ شخص ہوں، آپ مجھ سے کوئی کام لینا چاہیں تو حکم فرمائیں۔ میں اس کو انجام دوں گا۔

اب ایک صورت یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نعیم بن مسعود پر شبہ کرتے۔ واپس کر دیتے اور مسلمانوں سے کہتے کہ ان سے دور رہو۔ یہ ہمارے دشمنوں کا ایجنٹ معلوم اس کے بجائے آپ اس کی بات سن کر خوش ہو گئے اور فرمایا کہ بے شک تم ہی ہمارے اندر ایک ایسے آدمی ہو (انما انت فینارجل واحد) سیرۃ ابن ہشام ۳/ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نعیم بن مسعود کی قدر دانی کی۔ ان کے حق میں دعا کی اور ان کو مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان جنگ کو ٹالنے کے لئے استعمال کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ کی سنتوں میں سے یہ بھی ایک سنت ہے کہ درمیانی آدمی پر بھروسہ کیا جائے۔ اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے اور اس کو اسلام اور مسلمانوں کے بہترین مقاصد کے لئے استعمال

مسلمانوں میں جب تک اسلام کی اعلیٰ اسپرٹ زندہ تھی تو اس سنت پر عمل بھی ہواتا رہا۔ مثلاً بنوامیہ کے زمانہ میں رجاء بن حیٰوۃ اسی قسم کے ایک درمیانی شخص تھے۔ ان کے ذریعہ مسلمانوں کو عمر بن عبدالعزیز جیسا عادل خلیفہ ملا۔ بنوعباس کے زمانہ میں امام ابویوسف اسی قسم کے ایک درمیانی شخص تھے۔ ان کے ذریعہ فقہ اسلامی کی ترقی میں زبردست مدد ملی۔ مغلیہ دور میں مجدد الف ثانی نے یہی درمیانی رول ادا کیا اور اسی باہمی اعتماد کی بنا پر ان کے لئے ممکن ہو کہ وہ دین الہی کے فتنے سے اس وقت کے مسلمانوں کو نجات دلائیں۔

مگر موجودہ زمانہ میں زوال کے نتیجہ میں مسلمانوں میں شکست خوردہ نفسیات پیدا ہوگئی۔ وہ اس قسم کے درمیانی افراد کو غیرضروری طور پر شبہ کی نظر سے دیکھنے لگے۔ یہ منظر اتنا عام ہے کہ اس کو ساری مسلم دنیا میں دیکھا جا سکتا ہے۔

مثلاً موجودہ زمانہ میں ہر مسلم ملک میں مسلمانوں کے اندر ایک طبقہ پیدا ہوا جس کو جدید تعلیم یافتہ طبقہ کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ اپنی تعلیمی اہلیت کی بنا پر حکومتی نظام میں لئے گئے۔ اور اس طرح انہیں حکمراں طبقہ سے قریب ہونے کا موقع ملا۔ یہ لوگ مسلم عوام اور حکمراں طبقہ کے بیچ میں 'درمیانی گروہ' کی حیثیت رکھتے تھے۔ ایک طرف وہ مسلمان ہونے کی بنا پر مسلمانوں سے جڑے ہوئے تھے اور دوسری طرف وہ حکمراں طبقہ کا اعتماد حاصل کئے ہوئے تھے۔ ایسے لوگوں سے بہت فائدہ حاصل کر سکتے تھے۔ مگر ساری دنیا میں ایسے لوگوں کو شبہ کی نظر سے دیکھا جانے لگا۔ ان میں کچھ لوگوں کو دنیا پرست اور منافق قرار دیا گیا اور کچھ لوگوں کو قتل کر دیا بہترین مواقع استعمال ہونے سے رہ گئے۔

ہندوستان میں بھی یہی غیر مطلوب صورت پیش آئی۔ مثلاً سرسید احمد خاں (۱۸۹۸ء-۱۸۱۷) مسلمانوں اور برطانوی حکمرانوں کے درمیان ایک نہایت قیمتی شخص تھے۔ مگر معاصر مسلمانوں نے ان کو استعمار کا پٹھو کہہ کر نظر انداز کر دیا۔ جسٹس امیر علی (۱۹۲۸ء-۱۸۴۹) بھی اسی طرح ایک مفید درمیانی شخص تھے۔ مگر معاصر مسلمانوں نے ان پر شبہ کیا اور ان سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔ (۱۹۵۸ء-۱۸۸۸) کانگریس کے واسطہ سے ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین درمیانی شخص کی حیثیت رکھتے تھے۔ مگر ان کو شو بوائے کہہ کر رد کر دیا گیا۔

موجودہ زمانہ کے ہندوستان میں اس طرح کے بہت سے قیمتی افراد تھے جو اپنے حالات کی بنا پر اکثریت اور اقلیت کے درمیان کامیاب طور پر درمیانی شخص کا رول کر سکتے تھے۔ مگر مسلمانوں کی اسی غیر ضروری حساسیت کی بنا پر وہ مسلمانوں کے درمیان اعتماد حاصل نہ کر سکے اور نتیجہ وہ مسلمانوں کے حق میں اپنی ممکن خدمات انجام دینے سے قاصر رہے۔ مثلاً ڈاکٹر سید محمود ، فخرالدین علی احمد، علی اور جنگ، وغیرہ وغیرہ۔

اس سلسلہ کی مزید نامعقول روش وہ ہے جس کو ہندؤوں اور مسلمانوں کے درمیان بے بنیاد تفریق کہا جا سکتا ہے۔ ۱۹۴۷ سے پہلے مسٹر محمد علی جناح مسلمانوں اور انگریزوں کے مابین درمیانی شخص بنے تو ان کو مسلمانوں کے درمیان خوب مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس کے برعکس مولانا حسین احمد مدنی جیسا مخلص عالم مسلمانوں میں غیر مقبول ہو گیا ، کیوں کہ وہ مسلمانوں اور ہندؤوں کے مابین درمیانی شخص بنا تھا۔

یہی غلط روایت آج بھی باقی ہے۔ چنانچہ موجودہ ہندوستان میں ایک مثال مولانا ابوالحسن علی ندوی (علی میاں) کی ہے۔ اور اس کے مقابلہ میں دوسری مثال مولانا سید اسعد مدنی کی ہے۔ دونوں ایک اعتبار سے درمیانی شخص کا رول ادا کر رہے ہیں۔ مگر مولانا علی میاں مسلمانوں کے درمیان نیک نام ہیں اور مولانا اسعد مدنی مسلمانوں کے درمیان بدنام۔

مولانا علی میاں ایک اعتبار سے گویا ہندوستانی مسلمانوں اور عرب کے درمیان کے آدمی اور مولانا اسعد مدنی ایک اعتبار سے گویا مسلمانوں اور حکومت ہند کے درمیان کے آدمی۔ واقعات بتاتے ہیں کہ مولانا علی میاں عرب کی خرابیوں پر چشم پوشی کرتے ہیں، جب کہ مولانا اسعد مدنی ایسا نہیں کرتے۔ مثلاً ہندوستان میں بابری مسجد ڈھائی گئی تو مولانا اسعد مدنی نے کھل کر اس کے خلاف احتجاج کیا۔ دوسری طرف عرب میں بھی متعدد مسجدیں ڈھائی گئیں مگر مولانا علی میاں نے کبھی اس کے خلاف کوئی مذمتی بیان نہیں چھپوایا اور نہ اس کے خلاف کوئی احتجاجی تقریر کی۔ اس کے باوجود مولانا علی میاں مسلمانوں کی گڈ بک پر ہیں اور مولانا اسعد مدنی مسلمانوں کی گڈ بک پر نہیں۔ اس تفوق کا سبب نہ عقل ہے اور نہ اسلام۔ کا سبب صرف یہ ہے کہ مسلمان ایک معاملہ میں حساس ہیں اور اسی قسم کے دوسرے معاملہ میں غیر حساس۔

درمیانی افراد ایک اجتماعی ضرورت ہیں۔ ان کا رول ہر سماج میں نہایت اہم ہے۔ چنانچہ اس قسم کے لوگ ایک ملک کی طرف سے دوسرے ملک میں سفیر بنائے جاتے ہیں۔ اسی قسم کے افراد تجارتی کمپنیوں اور حکومت کے درمیان واسطہ کا کام کرتے ہیں۔ اس طرح یہ درمیانی افراد بلا شبہ ہمارا بہترین سرمایہ ہیں۔ اور وہ مسلمانوں کے لئے نہایت مفید خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ مگر یہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ ایسے افراد مسلمانوں کے درمیان اپنی نیک نامی نہ انھیں مسلمانوں کا بھر پور اعتماد حاصل رہے۔

’’درمیانی افراد‘‘ پر شبہ کرنے کا سبب ہمیشہ ایسی معمولی باتیں ہوتی ہیں جن کی کوئی حقیقت مثلاً انگریزوں کے زمانہ میں کوئی شخص نکٹائی کا استعمال کرتا ہوا نظر آیا تو فورا اس کو تہذیبی مرتد قرار دے کر اس کا بائیکاٹ کر دیا گیا۔ موجودہ زمانہ میں کسی شخص نے بغیر ٹونٹی کا لوٹا استعمال کیا تو فورا شبہ کر لیا گیا کہ وہ ہندو تہذیب سے متاثر ہے۔ کسی شخص نے کھدر کے کپڑے پہن لئے تو سمجھ لیا گیا کہ وہ کانگریس کا ایجنٹ ہے، وغیرہ۔

اس قسم کی غیر ضروری حساسیت سے مسلمانوں کو اپنے آپ کو بچانا ہوگا۔ ان کو اس قسم کی غیر معقول اور غیر متوازن روش کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ ورنہ شدید اندیشہ ہے کہ ملی ترقی کا منصوبہ اپنی تکمیل کی منزل تک نہ پہنچے، وہ ہمیشہ کے لئے محض ایک خواب بن کر رہ جائے۔ الرسالہ ماہ اگست ۱۹۹۴ کا شمارہ انشاء اللہ سیرت نمبر کے طور پر شائع کیا جائے گا۔ اس کا نام ’’مطالعہ سیرت‘‘ ہوگا۔ اصحابِ ایجنسی مزید مطلوبہ تعداد سے فوری طور پر مطلع فرمائیں۔

Printed page