Al-Risala · July 1994

سیاسی اخلاقیات

Al-Risala, July 1994, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

۱۹۳۰ میں ہندوستان میں مہاتما گاندھی کی رہنمائی میں ستیہ گرہ کی تحریک شروع ہوئی۔ اس سلسلہ میں جواہر لَالَ نہرو گرفتار کر کے جیل بھیج دیئے گئے۔ ان کی گرفتاری کے بعد ان کی اہلیہ کملانہرو الٰہ آباد کانگریس کمیٹی کی صدر مقرر ہوئیں۔ پانڈے ان کے سکریٹری تھے۔

مسٹر پانڈے نے اپنی یادداشت میں لکھا ہے کہ کملانہرو جب سٹی کانگریس کی صدر ہوئیں تو انھوں نے پرجوش طور پر کام کرنا شروع کیا۔ بدیسی کپڑوں کی دکانوں پر پکٹنگ کے لیے انھوں نے نئی نئی خواتین کی انھیں میں سے ایک لال بہادر شاستری کی اہلیہ للتا شاستری بھی تھیں۔ مسٹر پانڈے لکھتے ہیں کہ جب میں پکٹنگ کے مقام پر پہنچا تو میں نے دیکھا کہ للتا شاستری نے اپنی کلائیاں زخمی کر لی ہیں۔ اور ان کے کپڑوں پر خون کے دھبے ہیں۔ میں سکتے میں آگیا۔ کملانہرو نے بڑے فخر کے ساتھ اس نئی شرمیلی خاتون رضا کار کی بہادری کا قصہ بیان کیا۔ للتا شاستری ایک گاہک سے ہاتھ جوڑ کر درخواست کر رہی تھیں کہ وہ بدیسی اس پر دکان دار نے برجستہ کہا، "بہن جی! آپ ولایتی کپڑا خریدنے کو منع کر رہی ہیں، مگر آپ نے جو چوڑیاں پہن رکھی ہیں یہ بھی تو ولایتی ہیں ۔ للتا شاستری حیرت سے بولیں "اچھا ؟ دکان دار: "ہاں بہن جی ! یہ چوڑیاں ولایتی ہیں!

للتا جی نے دکان دار کے اس جملہ کو دہرایا۔ پھر دکان دار کے ہاتھ سے آہنی گز لے کر اپنی ساری چوڑیاں توڑ ڈالیں اور ہاتھ جوڑ کر دوبارہ اس خاتون گاہک سے درخواست کی کہ وہ ولایتی کپڑانہ خریدے اور دکاندار سے کہا کہ وہ ولایتی کپڑانہ فروخت کریں۔ اس اچانک عمل پر گاہک اور دکان دار گم سم رہ گئے۔ پڑوس کے تمام دکاندار نادم ہو گئے اور اس کے بعد انھوں نے اپنی دکانیں فوراً بند کر دیں۔ ساٹھ سال پہلے کانگریس کارکنوں کا یہ جوش محض ایک سیاسی تحریک کا جوش تھا نہ کہ حق و صداقت کا جوش۔ یہی وجہ ہے کہ ۱۹۴۷ء میں آزادی ملنے کے بعد انھیں کانگریسیوں کی اولادوں کی سب سے بڑی خواہش یہ بن گئی کہ اپنے گھروں کو بدلیسی سامان سے بھر لیں ۔ تحریک اور سیاسی جوش کی یہ قسم مسلم جماعتوں میں بھی بڑے پیمانے پر پائی جاتی ہے۔

Printed page