صحیح طریقہ
Al-Risala, July 1994, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
شاہ عبد الرحیم صاحب شاہ ولی اللہ دہلوی کے والد بھی تھے اور ان کے استاد اور شیخ اور شاہ ولی اللہ صاحب اپنی نوجوانی کی عمر میں ایک بار کچھ لوگوں کے ساتھ ایک باغ کی سیر کے لیے جب واپس آئے تو والد صاحب نے فرمایا کہ ولی اللہ، تم نے اس دن رات میں وہ کیا حاصل کیا جو ہم نے تو اس مدت میں اتنا درود شریف پڑھا۔ شاہ صاحب کہتے ہیں کہ یہ سن کر میرا دل باغ کی سیر سے بالکل ہٹ گیا۔ اس کے بعد پھر اس کا شوق پیدا نہیں ہوا (تاریخ دعوت و عزیمت، حصہ پنجم، صفحہ ۱۰۳)
قرآن میں بار بار کہا گیا ہے کہ زمین و آسمان میں خدا کی نشانیاں بکھری ہوئی ہیں، ان پر غور شاہ ولی اللہ صاحب شہر کے باہر ایک باغ میں گئے۔ وہاں وہ غالباً ۲ گھنٹے تک رہے۔ اس قسم کا ایک باغ خدا کی نشانیوں کا چمنستان ہوتا ہے۔ وہاں چاروں طرف خدا کی تجلیات بکھری ہوئی ایسی حالت میں شاہ صاحب کے والد (شاہ عبد الرحیم صاحب) کو یہ کہنا چاہیے تھا کہ تم خدا کی نشانیوں کی دنیا میں گئے تھے۔ وہاں تم نے کیا کیا نشانیاں دیکھیں۔ خدائی معرفت کے کون سے تجربات وہاں تم کو حاصل ہوئے۔
مگر شاہ عبد الرحیم صاحب "سلوک" کے اس قرآنی طریقہ سے واقف نہ تھے۔ وہ صرف صوفیہ کے ایجاد کردہ سلوک کو جانتے تھے اور اسی پر ان کا عمل تھا۔ ان کا معمول تھا کہ روزانہ ایک ہزار بار درود، ایک ہزار بار نفی اثبات ، بارہ ہزار بار اسم ذات کا ورد کرتے تھے (صفحہ ۸۷) ایسی حالت میں وہ شاہ ولی اللہ صاحب کو وہی رہنمائی دے سکتے تھے جو انھوں نے دیا۔
صوفیا کے درمیان ذکر اور اوراد و وظائف کے نام سے اس قسم کا جو طریقہ رائج ہوا، وہ بلا شبہ بدعت تھا۔ قرآن وسنت کے مطابق صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اللہ کے جلال و کمال پر غور کرے۔ وہ کائنات میں بکھری ہوئی آیات (نشانیوں) میں اپنے رب کی جھلکیاں دیکھے۔ احتساب کے ذریعہ اپنے ذہن کو دنیا سے ہٹا کر آخرت کی فکر میں لگائے۔ ذکر ایک ذہنی عمل ہے نہ کہ ذکر یادِ الہی میں ڈوبنا ہے نہ کہ لفظ اللہ کا ورد کرنا۔ ذکر خدا کی عظمتوں کو پانا ہے نہ کہ خدا کے اسم کا شمار کرنا۔