Al-Risala · July 1994

Religions and Solidarity among peoples.

Al-Risala, July 1994, pp. 28–33

By Maulana Wahiduddin Khan

مجھے اس موقع پر ایک پیپر پڑھنا تھا۔ یہ پیپر انگریزی میں تیار کرکے میں نے پیشگی طور پر کانفرنس کے منتظمین کے پاس بھیج دیا تھا۔ مگر کانفرنس کے منتظمین نے بالکل آخر وقت میں کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ میں عربی زبان میں بھی کچھ کہوں۔ کیوں کہ یہاں قابل لحاظ تعداد میں عرب ہیں اور وہ عربی میں سننا پسند کریں گے۔

میرے پاس بمشکل آدھ گھنٹہ کا وقت تھا۔ منتظمین کے اصرار پر میں راضی ہوگیا۔ جانے سے پہلے میں ہال کے کنارہ کی ایک کرسی پر بیٹھ گیا اور فوری طور پر دو صفحہ عربی زبان میں لکھا۔ کے بعد میں ڈائس پر آیا۔ اپنے وقت پر میں نے پہلے عربی میں خطاب کیا۔ اس کے بعد انگریزی مقالہ

عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں تقریر پر ، نیز اس کے مضمون کی بنا پر لوگ بہت خوش ہندوستان کے جسٹس آر کھنہ (ریٹائرڈ جج سپریم کورٹ) نے مجھ کو الگ کرسی پر بیٹھ کر عربی تقریر تیار کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ اجتماع کے بعد وہ ملے اور کہا:

We are proud to have a scholar like you in India who can deliver an Arabic speech over an international assembly at such a short notice. بہت سے مسلم اور غیر مسلم صاحبان نے خوشی کا اظہار کیا۔ ان میں سے ایک الحافظ صبری کوتشی (مفتی ان کا نام و پتہ یہ ہے:

Hfz. Sabri Koei, Bashkesia Islamike, Tirane, Albania (Tel. 70223701)

انھوں نے عربی تقریر کی ایک کاپی طلب کی اور کہا: فضيلة الشيخ ! إننى فهمت من كلماتكم التى القیتم بين الناس أنكم تدعونهم الى الايمان - و في قلبي وجدت هذا المعنى من كلماتكم الكريمة.

فجزا کم اللہ خیر الجزاء۔ ایک لبنانی عالم نے کہا: اعجبتنی قرأتك العربية۔ اور کئی لوگوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔

ایک مسیحی عالم نے اپنی تقریر میں کہا کہ چرچ اس قسم کی جو کوششیں آج کر رہا ہے، اس کے لئے کیچ ورڈ صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے باہمی اعتماد کی بحالی (confidence building) اس بات کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ انسان کو دوبارہ اس کی فطری حالت پر لے آنا۔ کے مطابق ، اصل انسانی حالت یہی ہے کہ لوگ آپس میں ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہوئے زندگی لوگ ایک دوسرے کا احترام کریں۔ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ حسن ظن کے ساتھ لوگ ایک دوسرے کے بارہ میں منفی نفسیات کا شکار نہ ہوں۔

اسی فطری حالت پر اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ زندگی میں ہمیشہ بگاڑ اس وقت آتا ہے جب کہ فطرت کا یہ نقشہ بگڑ جائے۔ جب بھی ایسا ہو تو اصلاح پسند افراد کا کام یہ ہے کہ لوگوں کے فطری احساسات کو زندہ کریں تاکہ حیاتِ بشری کا نظام دوبارہ اپنی اصل حالت پر قائم

برو سیلز کے ہوٹل میں کھانا کھاتے ہوئے ایک بار ایک نوجوان سامنے کی کرسی پر بیٹھ گئے۔ گفت گو شروع ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ روم کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے اپنی عمر ۲۳ سال بتائی۔ وہ طالب علم تھے اور ان کا نام فیبیو لیبر اٹوری (Fabio Liberatori) تھا۔ میں نے پوچھا کہ موجودہ اٹلی میں ارینجڈ میرج (arranged marriage) کارواج ہے یا نہیں۔ انھوں نے کہا کہ بہت کم ہے۔ میں نے کہا کہ انڈیا میں زیادہ تر ارینجڈ میرج کا رواج ہے اور مغربی ملکوں میں زیادہ تر لو میرج (Love marriage) کا۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ انڈیا میں تفریق کے واقعات بہت کم ہوتے ہیں۔ جب کہ مغربی ملکوں میں شادی کے بعد تفریق کا رواج کثرت سے پایا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ لو میرج اور تفریق دونوں متضاد چیزیں ہیں۔ ایسی حالت میں اس کو لو میرج کہنا صحیح نظر نہیں آتا۔ ذاتی طور پر میرا خیال ہے کہ موجودہ قسم کی لو میرج کو ایکسیڈنٹل میرج کہنا چاہئے۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ کو میری اس رائے سے اتفاق ہے۔ انھوں نے کچھ دیر سوچا پھر کہا کہ ہاں مجھے آپ کی رائے سے صد فی صد اتفاق ہے۔

اس دنیا میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک چیز کو کچھ سمجھ لیتا ہے ۔ حالاں کہ حقیقت کے اعتبار سے وہ کچھ اور ہوتی ہے۔ اس کی بد ترین مثال موجودہ زمانہ کے اسلامسٹ“ ہیں۔ وہ جگہ جگہ پر تشدد عمل چھیڑے ہوئے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اسلامی حکومت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ باعتبار حقیقت وہ بربادی کے سوا کسی اور منزل پر پہنچنے والے نہیں۔

الجزائر کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ جیسا کہ معلوم ہے ، وہاں کے برسراقتدار طبقہ نے انتخابات کو معطل کر کے اسلام پسند جماعت کو اقتدار میں آنے سے روک دیا تھا۔ اب وہاں کی حکومت اور وہاں کے اسلام پسند طبقہ کے درمیان مسلسل کشمکش جاری ہے۔ حکومت اپنی پولیس کو اسلام پسند طبقہ کی سیاسی سرگرمیوں کو روکنے کے لئے استعمال کرتی ہے۔ اس کے جواب میں اسلام پسند طبقہ یہ کہہ رہا ہے کہ اس نے ناجائز ہتھیار جمع کر لئے ہیں اور پولیس افسروں یا سرکاری شخصیتوں کو اپنی گولی کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ حالاں کہ یہ قاتل اور مقتول دونوں مسلمان ہوتے ہیں۔

مذکورہ الجزائری نے بتایا کہ ” اسلامی سیاست“ کے ظہور سے پہلے الجزائر ایک بہترین ملک مگر نام نہاد اسلام پسندوں نے الجزائر کو ہر اعتبار سے تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ آخری اجلاس میں ڈائس پر چند افراد تھے ، ان میں سے ایک پولینڈ کے کارڈینال جوزف (Jozef glemp) تھے ۔ وہ مسیحی دنیا میں پوپ کے بعد نمبر ۲ کی شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ انھوں نے ڈچ زبان میں تقریر کی جس کا ترجمہ میں نے عربی زبان میں سنا جو ایک مسیحی مترجم کہہ رہا تھا۔ نے اپنی تقریر میں کہا کہ موجودہ زمانہ میں رجال دین خدا سے دور ہو گئے اس لئے خدا بھی ان سے دور ہو گیا ہے۔

اس کو سن کر میں نے سوچا کہ ایک مسلم عالم بھی اپنی تقریر میں یہی کہتا ہے اور مسیحی عالم بھی یہی کہہ رہا ہے۔ پھر دونوں میں کیا فرق ہے۔ یہ بات ان لوگوں کے لئے بہت زیادہ قابل توجہ ہے جو صرف اس قسم کے کلمات بولنے کی بنا پر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں۔

۵ ستمبر کی سہ پہر کو دعا (prayer) کا پروگرام تھا۔ تمام لوگ گاڑیوں کے ذریعہ ایک مقام پر لے جائے گئے۔ وہاں سے تقریباً ایک کلومیٹر کا سفر پیدل طے کیا گیا۔ سڑک کے دونوں طرف مقامی لوگ کھڑے ہوئے تالیوں کے ذریعہ شرکا ء کانفرنس کا استقبال کر رہے تھے۔

اگلے مقام پر ہر مذہب والوں کے لئے الگ الگ عبادت گاہ کا انتظام کیا گیا تھا۔ کے لئے ایک بڑے ہال کو خالی کرکے مسجد کی مانند بنایا گیا تھا۔ ہم لوگ تقریباً ۲۰ آدمی وہاں جمع ہوئے۔ کچھ دیر دینی موضوعات پر گفت گو ہوئی۔ پھر ایک عرب شیخ کی امامت میں ظہر اور عصر کی نماز جمع تقدیم کے ساتھ ادا کی گئی۔ امام مصلے پر کھڑے ہوئے تو انھوں نے مقتدیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: صلاة الظهر والعصر جمعا وقصراً۔ اذان سے لے کر نماز تک کا پورا عمل ٹیلی ویژن کے لوگ ریکارڈ کرتے رہے۔ ہال کے کنارے بڑی تعداد میں کھڑے ہوئے لوگ ہماری نماز کو دیکھ رہے نماز کے بعد پورا قافلہ ایک میدان میں جمع ہوا جو خاص طور پر اسی کے لئے بنایا گیا تھا۔ یہاں شرکاء کانفرنس کے علاوہ مقامی لوگ لاکھوں کی تعداد میں جمع ہوئے۔ وسیع میدان پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ یہاں امن (Peace) کے موضوع پر تقریریں اور دعائیں ہوئیں۔ کچھ اور رسوم ادا کرنے کے بعد یہاں سے روانہ ہو کر دوبارہ ہوٹل میں آگئے۔

جاپان کے بدھوں کی ایک ٹیم کانفرنس میں شریک ہوئی۔ ان کے علاوہ دو آدمی اور جاپان سے آئے تھے۔ ان میں سے ایک صاحب انگریزی بول سکتے تھے۔ ان کا نام و پتہ یہ ہے: Yasuni Hirose, President, Jinrui Aizenkai Ten' Onkyo, Kameoka, Kyoto, Japan انھوں نے بتایا کہ وہ شنٹومذہب کے ماننے والے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم کو اسلام سے خاص دلچسپی ہے۔ کیوں کہ ہم لوگ موحد ہیں۔ ہم نے کبھی جاپان کے بادشاہ کو کامی (خدا) اس کی وجہ سے پہلے ہم مسلسل تعذیب (Persecution) کا شکار رہتے تھے۔ مگر دوسری عالمی جنگ کے بعد خود جاپان میں یہ عقیدہ ختم ہوگیا کہ ہمارا بادشاہ کامی (خدا) ہے ۔ اس لئے اب ہم کو آزادانہ کام کرنے کے مواقع حاصل ہوگئے ہیں۔

اسی طرح البانیہ کے مفتی الحافظ صبری کوتشی (۷۰ سال) نے بتایا کہ قدیم کمیونسٹ حکومت وہاں کے مسلمانوں پر بے حد ظلم کرتی تھی۔ خود مفتی صاحب ۲۱ سال تک شدید مشقت کے ساتھ جیل میں رہے ہیں۔ کمیونسٹ حکومت نے مدرسے بند کر دئے ۔

1991 میں سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد البانیہ کی کمیونسٹ حکومت بھی ختم ہوگئی۔ کامل مذہبی آزا دی ہے۔

میں نے سوچا کہ قدیم زمانہ میں فتنہ (مذہبی جبر) کو ختم کرنے کے لئے جنگ کرنی پڑی تھی۔ اب اللہ تعالیٰ نے خود عالمی حالات میں ایسے اسباب پیدا کر دئے ہیں جو فتنہ بردار حکومتوں کا خاتمہ کر رہے ہیں۔ یہ زمانی فرق کا ایک معاملہ ہے جس کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ جو لوگ اس زمانی فرق کو نہ سمجھیں وہ موجودہ زمانہ میں دعوت توحید کی صحیح منصوبہ بندی نہیں کر سکتے۔ ایک تعلیم یافتہ عرب سے عالم اسلام کے قائدین کے بارہ میں گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ ایک بے مفکر قائد ، دوسرا ہے عوامی قائد۔ مفکر قائد وہ ہے جو خود اپنے تخلیقی افکار کی بنیاد پر لوگوں کے اندر ایک نئی سوچ پیدا کرے۔ اور عوامی قائد وہ ہے جو لوگوں کی خواہشات کی ترجمانی کر کے اپنے گردان کی بھیڑ اکٹھا کرلے۔

میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مشہور قائدین میں سے کوئی ایک شخص بھی نہیں جس کو فی الواقع مفکر قائد کہا جاسکتا ہو۔ موجودہ زمانہ کی مسلم شخصیتوں میں سے کسی بھی شخص کے یہاں تخلیقی فکر کا وجود نہیں۔ موجودہ زمانہ کے تمام مسلم قائدین عوامی قائد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے کسی ایک یا دوسری شکل میں عوامی خواہشات کی ترجمانی کر کے ان کے درمیان قیادت کا مقام حاصل کر لیا۔ مگر کسی قوم کی تعمیر صرف تخلیقی مفکرین کے ذریعہ ہوتی ہے۔ عوامی خواہشات کو استعمال کرنے والا قائد ، خواہ وہ کتنا ہی مخلص ہو ، وہ اپنی قوم کو صرف ہلاکت کے گڑھے میں پہنچاتا ہے۔ وہ کبھی اس کو فلاح کی منزل تک نہیں لے جاسکتا۔

ہمارا ابتدائی ٹکٹ صرف بروسیلز جانے اور وہاں سے واپس آنے کے لئے تھا۔ لندن اور قاہرہ میں مقیم کچھ عرب نوجوانوں کے مسلسل ٹیلیفون آئے کہ واپسی میں لندن اور قاہرہ میں بھی قیام کیا جائے ۔ چنانچہ ہم نے اپنا ٹکٹ ری روٹ کرایا۔ اس کے مطابق واپسی ہوئی ۔ 16 ستمبر کو فجر کی نماز بروسیلز کی آخری نماز تھی۔ ناشتہ سے فراغت کے بعد ڈاکٹر لیونارڈو کے ہمراہ ایئر پورٹ کے لئے روانگی ہوئی۔ ضروری کارروائی کے بعد اندر داخل ہوئے تو ایئر پورٹ کے چرچ کے نادر مل گئے۔ انھوں نے ہم کو پہچان لیا ، کیوں کہ انھوں نے کانفرنس میں ہمیں دیکھا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ یہاں ائیرپورٹ کے احاطہ میں ایک مسجد بھی ہے۔ یہ سن کر بہت خوشی ہوئی۔ نے ہمارا شوق دیکھ کر ہم کو مسجد تک پہنچایا۔ ہم نے کچھ وقت اس مسجد میں گزارا۔ یہ ایک چھوٹی سی خوبصورت مسجد ہے۔ لمبائی میں وہ دس قدم ہے اور چوڑائی میں سات قدم۔ میں نے یہاں دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھی اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے میرے جیسے کمزور آدمی کو ایسے زمانہ میں پیدا کیا جب کہ مذہبی تشدد دنیا سے ختم ہو گیا ہے۔ حتی کہ غیر مسلم حکومت اپنے ہوائی اڈہ کے اندر اپنے مسافروں کی سہولت کے لئے مسجد کی تعمیر کر رہی ہے۔ مسجد میں چند کتابیں تھیں جن میں قرآن کا ایک انگریزی ترجمہ بھی شامل تھا۔

مسجد میں بہت سے مسافر آتے اور جاتے ہوئے نظر آئے۔ ایسا معلوم ہوا کہ چھوٹی ہونے کے باوجود وہ مسافروں کے لئے سکون کی ایک جگہ ہے۔ مسجد میں قیام کے دوران ایک سفید فام تندرست ان کا سر کھلا تھا۔ وہ نیکر پہنے ہوئے تھے جس میں گھٹنوں سے اوپر تک کا حصہ کھلا ہوا تھا۔ اسی حالت میں وہ نیت باندھ کر کھڑے ہو گئے اور دو رکعت نماز ادا کی۔ وہ لبنانی مسلمان ہیں اور امریکہ میں رہتے ہیں۔ انھوں نے اپنا نام حسین مروّۃ (Hussein Mroiueh) بتایا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ تاجر ہیں ۔ پانچ وقتہ نماز پڑھتے ہیں۔ گفت گو میں کافی سنجیدہ نظر آئے۔ ائیر پورٹ پر چلتے ہوئے ایک جگہ سگریٹ کا اشتہار نظر آیا۔ یہ ایک مشہور سگریٹ کا خوبصورت اشتہار تھا۔ سگریٹ کے کھلے پیکٹ کے ساتھ سگریٹ کا نام روشن حرفوں میں درج اس کے اوپر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے :

Printed page