Al-Risala · July 1994

The taste of success

Al-Risala, July 1994, pp. 33–36

By Maulana Wahiduddin Khan

سگریٹ کے نقصانات کو دیکھئے تو یہ برعکس نہند نام زنگی کا فور کا مصداق نظر آئے گا۔ نام رکھنے کا یہی طریقہ انسانی دنیا میں بھی رائج ہے۔ کہیں تشدد کی تحریک کو پرامن تحریک کہا جاتا ہے۔ کسی مخرب اعظم کا نام لوگوں نے مفکر اعظم رکھ لیا ہے۔ کہیں ایک استغلالی منصوبہ کو فلاحی منصوبہ کے روپ میں پیش کیا جاتا ہے۔

۱۶ ستمبر کو بروسیلز سے لندن کے لئے برٹش ایئرویز کی فلائٹ ۳۹۳ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ راستہ میں برٹش ایئرویز کی میگزین (Highlife) کا شمارہ ستمبر ۱۹۹۲ دیکھا۔ ۷۰ صفحہ کے اس

میگزین میں زیادہ تر رنگین اشتہارات چھپے ہوئے تھے۔ جہاز ، مکان ، فرنیچر، گھڑی، زیور وغیرہ اشتہارات میں بار بار اس قسم کے الفاظ درج تھے:

Pleasure, happiness, enjoyment, desire, lovely, delight, charming. میں نے سوچا کہ انسان ایک لذت پسند مخلوق ہے۔ اس کے اندر سب سے زیادہ جس چیز کی طلب ہے وہ خوشی اور لذت کا حصول ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کے الفاظ فیھا ما تشتهیه الانفس وتلذ الاعين (الزخرف ۷۱)، بہت با معنی ہے ۔ انسان کو سماجی حیوان یا سیاسی حیوان یا اقتصادی حیوان کہنا محض سطحی تعبیر ہے ۔ صحیح یہ ہے کہ انسان ایک ایسا وجود ہے جو اپنی پسندیدہ چیزوں سے ابدی طور پر محظوظ ہونا چاہتا ہے۔ اور اس حظ کا حصول جنت کے سوا کہیں اور ممکن نہیں۔ برو سیلز سے جہاز ۱۳ بجے دن کو روانہ ہوا تھا۔ ۱۹ ہزار فٹ کی بلندی پر ایک گھنٹہ پرواز کرنے کے بعد جب وہ لندن ایئرپورٹ پر اترا تو دو بارہ لندن کی گھڑیوں میں ۱۲ بج رہے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لندن کا وقت برو سیلز کے وقت سے ایک گھنٹہ پیچھے ہے ۔ ۱۶ ستمبر کو لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر ضروری کارروائی کے بعد باہر آیا تو دو صاحبان ہمارے انتظار میں وہاں موجود تھے۔ ایک انیس قاری صاحب ، دوسرے، عارف عبد السلام احمد ۔ نے سوچا کہ موجودہ زمانہ میں دعوتی کام کتنا آسان ہو چکا ہے ۔ قدیم زمانہ میں ایک داعی کو اجنبی دنیا میں داخل ہو کر کام کرنا پڑتا تھا۔ آج یہ حال ہے کہ ایک داعی جس ملک میں بھی جائے وہاں مسلمانوں کی ایک جماعت اس کے استقبال کے لئے موجود ہوگی۔ حتی کہ زمانہ کی یہ تبدیلی یہاں تک پہنچی ہے کہ غیر مسلم صاحبان بھی یہ موقع دے رہے ہیں کہ ایک اسلامی داعی ان کے مقام تک پہنچے اور وہ اس کو اپنے اجتماع میں آزادانہ طور پر بولنے کا موقع دیں۔ یہاں میں نے ثانی اثنین خان کو لندن میں چھوڑ دیا۔ اور خود ایئرپورٹ ہی سے برادر عارف عبد السلام احمد کے ساتھ مانچسٹر جانے کا فیصلہ کیا۔ لندن ایئرپورٹ سے ٹرین (انٹرسٹی) کے ذریعہ مانچسٹر کے لئے روانگی ہوئی۔ خوب صورت اور منظم انداز میں بنی ہوئی یہ ٹرین نہایت آرام دہ روانگی کے وقت سے آخر تک کسی سیٹی کی آواز نہیں آئی ۔ کبھی چین پلنگ نہیں ہوئی۔ کسی قسم کا

شور یا جھگڑا دکھائی نہیں دیا۔ راجدھانی ایکسپریس کی طرح ساؤنڈ پر وف ہونے کی وجہ سے ٹرین کا شور بھی اندر نہیں آرہا تھا۔ ہوائی جہاز کی کرسیوں کی طرح کشادہ الگ الگ سیٹوں پر لوگ خاموش بیٹھے ہوئے تھے۔ اکثر افراد کتاب یا اخبار پڑھنے میں مشغول تھے۔ میرے سامنے کی سیٹ پر ایک تعلیم یافتہ انگریز ایک کافی موٹی کتاب (Administrative law) پڑھ رہا تھا اور ساتھ ساتھ وہ کاغذ پر نوٹ لیتا جاتا تھا۔ میرے اور اس کے درمیان ایک کشادہ میز تھی جس پر اس نے اپنا کاغذ اور قلم رکھ لیا تھا۔ چلنے کی حالت میں ڈبہ اتنا کم ہل رہا تھا کہ آدمی میز کے اوپر کاغذ رکھ کر بآسانی لکھ سکتا تھا۔ میں نے اپنے سفر نامہ کی کچھ سطریں اسی میز پر چلتی ہوئی حالت میں لکھیں۔

ڈبہ کے دونوں طرف کھڑکی کے بجائے بڑے بڑے شیشہ لگے ہوئے تھے۔ ان سے باہر کا منظر صاف دکھائی دے رہا تھا۔ ڈھائی گھنٹہ کے سفر میں دونوں طرف یا تو ہرے بھرے کھیت اور میدان نظر آئے یا خوب صورت مکانات۔ کہیں بھی جھگی جھونپڑی جیسا منظر دکھائی نہیں دیا۔ ٹھیک وقت پر ایک منٹ کی تاخیر کے بغیر مطلوب اسٹیشن پر پہنچ گئی۔

ٹرین کا نظام اپنے مسافروں (customers) کے ساتھ ہر موقع پر تعاون دینے کے لئے تیار رہتا ہے۔ ایک مسافر نے گفت گو کے دوران بتایا کہ چند مہینے پہلے وہ اسی لائن پر مانچسٹر سے لندن کے لئے سفر کر رہا تھا۔ رات کا وقت تھا۔ ٹرین کے لندن پہنچنے میں پانچ منٹ کی تاخیر ہو گئی۔ اس کی بنا پر وہ اور دوسرے مسافر اپنے گھروں کو جانے کے لئے انڈر گراؤنڈ ٹرین حاصل نہ کر سکے کیونکہ 12 بجے رات کے بعد اس کا چلنا موقوف ہو جاتا ہے۔ اب مجبوراً ان لوگوں کو ٹیکسی لینا تھا جب کہ انڈر گراؤنڈ ٹرین سے سفر بہت سستا ہے۔

کچھ مسافروں نے ریلوے عملہ کو اس مسئلہ کی طرف متوجہ کیا۔ فورا ہی اعلان کر دیا گیا کہ جو لوگ تاخیر کی وجہ سے انڈر گراؤنڈ ٹرین نہیں لے سکے ہیں وہ فلاں کاؤنٹر پر آ کر ہم سے ٹیکسی کا کرایہ لے لیں، اور ٹیکسی کے ذریعہ اپنے گھروں کو چلے جائیں۔

میرا قیام وگن (Wigan) میں ایک تعلیم یافتہ عرب نوجوان طارق حسین الکردی کے مکان انھوں نے یہاں کی شہریت لے لی ہے اور اب اپنی آئرش اہلیہ کے ساتھ مستقل طور پر یہیں رہتے ۱۶ ستمبر کی رات کو یہاں چند عرب نوجوانوں کے ساتھ دیر تک گفت گو ہوئی۔ میں نے قرآن کی آیت

إن في ذالک لآيات للمتوسمين)، اور بخاری کی حدیث ما خیر بین امرین الا اختار ایسرھما، کی تشریح کی اور مختلف واقعات کے ذریعہ اس کو واضح کیا۔ کے سلسلہ میں کہا کہ عربی میں کہا جاتا ہے کہ تو سمتُ فيه الخير ۔ یعنی میں نے اس کے اندر کچھ علامتیں دیکھیں جن سے میں نے استنباط کیا کہ اس کے اندر خیر ہے۔ متوسم وہ ہے جو ظاہری چیزوں سے باطنی حقیقتوں کو دریافت کرے اور ان کو اپنے لئے نصیحت بنائے ۔

۷ ستمبر کو بھی عرب نوجوانوں کے ساتھ ملاقات کا سلسلہ جاری رہا۔ طارق حسین الکردی نے آئرلینڈ کی شہریت لی ہے مگر آجکل وہ انگلینڈ میں رہ رہے ہیں۔ آئرلینڈ میں زیادہ تر پروٹسٹنٹ ہیں اور انگلینڈ میں زیادہ تر کیتھولک ۔ دونوں میں سخت نفرت ہے۔ برنارڈ شا ایک آئرش مصنف تھا۔ وہ انگریزوں کی زبان اور کلچر کا مذاق اڑایا کرتا تھا۔ مثلاً انگریزی زبان کے تلفظ کے نقائص بتاتے ہوئے ایک بار اس نے کہا کہ اگر میں انگریزی کے لفظ (Fish) کو گھوٹی پڑھتوں تو کوئی انگریز اس پر اعتراض کرنے کا حق نہیں رکھتا۔

میں نے طارق حسین الکردی سے پوچھا کہ آپ کی جنسیت آئرش ہے، پھر آپ انگلینڈ میں کس طرح رہتے ہیں اور یہاں کے قانون کے مطابق آپ کو یہاں کی تمام سہولتیں بھی حاصل ہیں ۔ کہا کہ یہ صحیح ہے کہ دونوں کے درمیان نفرت پائی جاتی ہے۔ مگر دونوں ملکوں کے درمیان اتفاقیہ (ایگریمنٹ) ہے کہ ایک جگہ کے شہری کو دوسری جگہ وہی سہولتیں حاصل رہیں جو اس کو اپنے ملک میں حاصل ہیں ۔

انگلینڈ اور آئرلینڈ میں جو اختلافات ہیں وہ تقریبا اُسی قسم کے ہیں جو ہندوستان اور پاکستان میں پائے جاتے ہیں۔ مثلاً آئرلینڈ والوں کو شکایت ہے کہ انگلینڈ والے عظیم تر انگلینڈ بنانا چاہتے ہیں اور اس میں آئرلینڈ کو ضم کر لینے کا منصوبہ بنائے ہوئے ہیں ۔ مگر اس قسم کے اختلافات کے باوجود یہاں دونوں ملکوں میں جو مفاہمت ہے وہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان نا قابل تصور ہے۔ مغربی دنیا کا مزاج اس انگریزی مثل سے معلوم ہوتا ہے کہ آؤ ، ہم اس پر اتفاق کر لیں کہ ہمارے درمیان اختلاف ہے :

Printed page