Al-Risala · July 1994

Let us agree to disagree

Al-Risala, July 1994, pp. 34–24

By Maulana Wahiduddin Khan

جن دنوں میں طارق حسین الکردی کے یہاں مقیم تھا، مقامی میٹروپولیٹن کونسل کے چیف ریٹنگ آفیسر مسٹر اے شا (A. Shaw) کی طرف سے ان کو ایک خط مورخہ ۱۵ ستمبر ۱۹۹۲ ملا۔ طارق حسین الکردی اس وقت کوئی کام نہیں کر رہے ہیں۔ اس لئے ان کو بے روزگاری کا الاؤنس اور دوسری رعایتیں ملی ہوئی ہیں۔ مذکورہ خط میں درج تھا کہ آپ نے اب تک (Housing Benefit) کا فارم پر کرکے نہیں بھیجا ہے، جب کہ آپ اس کے حق دار ہیں۔ لہٰذا ہمارے آفس کی طرف سے آپ کو فارم بھیجا جا رہا ہے۔ آپ اس کو ایک ہفتہ کے اندر پر کرکے بھیج دیں تاکہ آپ کو مکان کے سلسلہ میں ضروری رعایت دی جاسکے۔

طارق حسین الکردی نے بتایا کہ بے روزگار یا کم آمدنی والے شہریوں کو یہاں ۹۵ فی صد تک کرایہ مکان میں امداد دی جاتی ہے۔ یعنی کرایہ مکان کا بڑا حصہ کہ کرایہ دار کی طرف سے مالک مکان کو حکومت کے خزانہ سے ادا کیا جاتا ہے۔ ہندوستان میں اپنا حق حاصل کرنے کے لئے آدمی کو دفتروں میں دوڑنا پڑتا ہے۔ پھر بھی رشوت کی قیمت دئے بغیر اس کو اپنا واجبی حق نہیں ملتا۔ یہاں خود حکومت دوڑ رہی ہے کہ وہ حقدار تک ان کا حق پہنچائے۔ اور جہاں تک کرایہ دار کی طرف سے کرایہ ادا کرنے کا تعلق ہے، اس کا تو ہندوستان میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔

اس قسم کے مختلف واقعات یہاں لوگوں کے ذریعہ معلوم ہوئے اس کے بعد میں نے سوچا کہ مسلم لیڈروں نے انگریزی قوم کے سلسلہ میں کتنا بڑا ظلم کیا ہے۔ ۱۹۴۷ سے پہلے نام نہاد آزادی کے مسئلہ کو لے کر انگریزوں سے اتنا متنفر کیا گیا کہ "نفرت انگریز " ان کے ایمان کا حصہ بن گیا۔ مقدس اکابر تک کے تذکرہ میں یہ لکھا جانے لگا کہ " حضرت کو انگریزوں سے سخت نفرت تھی۔ کے بعد بھی " رشدی " جیسے مسائل کو لے کر یہ مخالفانہ پروپیگنڈا جاری ہے۔

مسلم رہنماؤں پر فرض کے درجہ میں ضروری تھا کہ وہ انگریز قوم کو دعوت کا موضوع بنائیں۔ انھوں نے اس کے برعکس یہ کیا کہ انگریز قوم کو نفرت اور عداوت کا موضوع بنا دیا۔ یہ ایک مجرمانہ غلطی تھی نہ کہ کوئی واقعی اسلامی کام۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیڑھ سو سالہ انگریز مخالف کوششیں حبط اعمال کا شکار ہوگئیں۔ کسی بھی درجہ میں ان کا کوئی فائدہ حاصل نہ ہوسکا۔ حتی کہ جن اکابر نے انگریز کو اسلام کا ازلی دشمن بتایا تھا، انھیں کی اولادیں اور انھیں کے شاگرد اب انگریز کے ملک میں آگر آباد

ہو رہے ہیں اور فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ میں یو کے میں سیٹل ہو گیا ہوں۔

۷ستمبر کی شام کو بولٹن کی زکریا مسجد دیکھی۔ لوگوں نے بتایا کہ یہ برطانیہ میں بنائی جانے والی دوسری مسجد ہے۔ باہر سے دیکھنے میں یہ مسجد یہاں کے معروف مکان کی مانند نظر آتی ہے۔ نماز کا حصہ بڑے ہال کی مانند ہے۔ اس کے اندر بچوں کا مدرسہ قائم ہے۔ میں جس وقت مسجد میں داخل ہوا تو وہاں بچوں کے قرآن پڑھنے کی آواز اسی طرح سنائی دے رہی تھی جس طرح ہندوستان کی ان مسجدوں میں سنائی دیتی ہیں جہاں مسجد کے ساتھ مدرسہ بھی قائم ہے۔ مسجد صاف ستھری تھی۔ تین آدمی ایک کنارے بیٹھے ہوئے قرآن کی تلاوت کر رہے تھے۔ مسجد کے اندر سکون کا ماحول مسجد کے بیرونی حصہ میں ایک بورڈ پر لکھا ہوا تھا:

To all Muslim brothers, please give your Lillah donations. مسجد دیکھنے کے بعد میں اپنے تین عرب ساتھیوں کے ہمراہ شہر کے باہر گیا۔ یہاں پہاڑیاں تھیں، اور قدرتی مناظر کا ماحول تھا۔ یہاں کی خالص ہوا میں ہم لوگوں نے کچھ وقت گزارا ۔ اور اس کے بعد گھر واپس آگئے۔

پہاڑی کے دامن میں ایک مقام پر گھوڑے کا فارم تھا۔ ایک جگہ میں نے دیکھا کہ ایک انگریز بچہ ایک گھوڑے کی پیٹھ پر سوار ہو کر اس کو گولائی میں دوڑا رہا ہے۔ بچہ کی عمر غالباً دس سال ہوگی، اور گھوڑا نہایت قومی ہیکل تھا۔ مگر وہ مکمل طور پر بچہ کے قابو میں تھا۔ بچہ جس طرف چاہتا اس کو لے جاتا اور جہاں چاہتا اس کو کدا تا۔ میں نے اپنے عرب ساتھیوں سے کہا کہ یہی تسخیر ہے۔ تعالیٰ نے گھوڑے کی فطرت اس طرح بنائی ہے کہ وہ انسان کی تابعداری کو قبول کرلے۔ اگر گھوڑے میں یہ پیدائشی صفت نہ ہوتی تو ناممکن تھا کہ انسان کا ایک بچہ اس طرح اس کو قابو میں کرکے اس کو اپنی سواری بنا سکے۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تمام چیزوں کو انسان کے لئے مسخر کر دیا ہے۔ یہ تسخیر کہیں براہ راست ہے اور کہیں بالواسطہ۔ یعنی کچھ چیزیں ایسی ہیئت پر بنائی گئی ہیں کہ وہ ہمیشہ انسان کے موافق ہیں۔ مثلاً زمین کی کشش یا سورج کی گرمی۔ اور کچھ چیزوں میں یہ صلاحیت رکھ دی گئی ہے کہ انسان اپنے تصرف سے ان کو اپنے موافق بنا سکے۔ مثلاً گھوڑا یا

اگر تسخیر کا یہ عمل پیشگی طور پر نہ کر دیا گیا ہوتا تو انسان کے لئے زمین پر زندہ رہنا یا تمدن کی تعمیر کرنا ممکن نہ ہوتا۔

ڈگن کے قیام کے دوران میری ملاقاتیں صرف عرب نوجوانوں سے یا کچھ انگریزوں سے یہ عرب نوجوان یہاں غیر مسلموں میں دعوتی کام انجام دے رہے ہیں۔ وہ خاص اسی مقصد کے لئے یہاں آکر مقیم ہوئے ہیں۔ وہ الرسالہ انگریزی لوگوں کو پڑھنے کے لئے دیتے ہیں۔ ہمارے یہاں کی انگریزی مطبوعات منگوا کر اس کو پھیلا رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ الرسالہ کے دعوتی مضامین چھوٹے چھوٹے پمفلٹ کی صورت میں چھپوا کر مفت تقسیم کرتے ہیں۔ یہ ایک خاموش دعوتی عمل ہے جس میں وہ لوگ رات دن مصروف رہتے ہیں۔

ان عرب نوجوانوں نے انگریزی زبان بخوبی سیکھ لی ہے۔ اب ان کا خیال ہے کہ ان میں سے ہر شخص کسی اور یورپی زبان کو کم از کم بقدر ضرورت سیکھے تاکہ وسیع تر دعوتی روابط قائم کرنے میں سہولت ہو۔ باہمی مشورہ سے طے ہوا کہ آپ لوگ کم از کم فی الحال اپنا کوئی الگ ادارہ قائم کرنے کی کوشش نہ کریں۔ بلکہ جو مسلم ادارے برطانیہ میں قائم ہو چکے ہیں یا پہلے سے کام کر رہے ہیں، ان سے جڑ کر اپنا مثبت کام جاری رکھیں۔

ایک مجلس میں کچھ لوگوں نے کہا کہ آپ اکابر پر تنقید کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے لوگ بھڑکتے آپ کو تنقید چھوڑ دینا چاہئے تاکہ لوگ آپ کے قریب آسکیں۔

میں نے کہا کہ تنقید پر بگڑنا، ایک قسم کا ذہنی نقص ہے جس کو علماء نفسیات دو قسمی طرز فکر (dichotomous thinking) کہتے ہیں۔ ایسا آدمی چیزوں کو صرف دو قسم میں رکھ کر سوچ پاتا وہ کسی تیسری قسم کو نہیں جانتا۔ اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ جب اس کے اکابر پر تنقید کی جائے تو وہ بگڑ جاتا ہے۔ کیوں کہ وہ سمجھتا ہے کہ تنقید اس کے اکابر کو ڈسکر یڈٹ کر رہی ہے۔ وہ یا تو بے تنقید حالت کو جانتا ہے یا با تنقید حالت کو۔ وہ سمجھتا ہے کہ جس آدمی پر تنقید کی جارہی ہے وہ غلط انسان ہے اور جس آدمی پر تنقید نہ کی جائے وہ صحیح انسان۔

حالاں کہ یہاں ایک تیسری حالت بھی ہے جس کو حدیث میں اجتہادی خطا کی حالت بتایا گیا یعنی آدمی بذات خود صحیح اور قابل قدر ہو مگر کسی معاملہ میں اس سے اجتہادی غلطی ہو جائے۔

اس قسم کی غلطی کسی بھی شخص سے ہو سکتی ہے، حتیٰ کہ صلحا ء سے بھی۔ ایسی غلطی کی نشاندہی کرنا نہ تو کوئی ناممود فعل ہے اور نہ کسی کے بارہ میں ایسی غلطی کا ثابت ہونا اس کی شخصیت کو ختم کرنے کے ہم معنی

میری قیام گاہ پر بہت سی عربی کتابیں تھیں، ان میں سے کچھ کتابوں کو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ابن جوزی البغدادی (م ۵۹۷ھ) کی مشہور کتاب تلبيس ابليس کو پڑھتے ہوئے کئی سبق آموز چیزیں نظر آئیں ۔ صفحہ ۲۸۳ - ۲۸۴ پر انھوں نے لکھا ہے کہ سعید بن مسیب نے کہا کہ اصحاب رسول شام میں تجارت کرتے تھے ، ان میں طلحہ، بن عبید اللہ اور سعید بن زید ہوتے تھے۔ احمد بن حنبل نے تو کل کے نام پر گھر بیٹھ رہنے کے خلاف کہا کہ اصحاب رسول بر اور بحر میں تجارت کرتے تھے۔ وہ کھجور کے باغوں میں کام کرتے تھے اور انھیں کے اندر ہمارے لئے نمونہ ہے (كان اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يتجرون في البر والبحر ويعملون في نخيلهم ولنا القدوة بهم) :

عن أحمد ان رجلا قال له - أريد امام احمد سے ایک شخص نے کہا کہ میں تو کل کی بنیاد الحج على التوكل فقال له فاخرج في پر حج کرنا چاہتا ہوں ۔ انھوں نے اس سے کہا کہ پھر غير القافلة فقال لا ۔ قال فعلى جراب تم قافلہ کے بغیر نکلو۔ اس نے کہا کہ نہیں۔ نے کہا کہ پھر تم نے لوگوں کے نیچے کیچے پر تو کل کیا ہے۔

ابن جوزی غیر معمولی ذہین اور قابل شخص تھے۔ ان کی تفسیر قرآن (زاد المسیر فی علم التفسیر) نہایت قیمتی ہے۔ جو لوگ قرآن کا گہرا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں، ان کو ابن جوزی کی تفسیر قرآن ضرور پڑھنا یہ تفسیر ابھی تک صرف عربی زبان میں ہے۔ میرے علم کے مطابق اس کا ترجمہ ابھی تک کسی اور زبان میں شائع نہیں ہوا۔

۸ستمبر کو جمعہ کا دن تھا۔ تین عرب نوجوانوں کے ساتھ میں وگن سے مانچسٹر گیا ۔ ہم ایک بلڈنگ کے پاس اترے ۔ معلوم ہوا کہ اس کی چوتھی منزل پر مسجد ہے۔ ہم لوگ ایک قدیم لفٹ میں داخل ہو کر یہاں دوبارہ ایک قدیم طرز کا ہال تھا۔ فرش سے لے کر دیوار تک ہر چیز فرسودہ حالت میں نظر آئی۔ میں نے چل کر دیکھا تو اس کا اندرونی حصہ چوڑائی میں ۲۳ قدم اور لمبائی میں ۳۱ قدم

باہر کے ایک بورڈ سے معلوم ہوا کہ نئی مسجد کی تعمیر کے لئے رقم کی فراہمی جاری ہے۔ مسجد کا وضو خانہ جدید اور صاف ستھرا نظر آیا۔

امام صاحب نے انگریزی میں خطبہ دیا۔ دو خطبوں میں کچھ عربی کلمات کے ساتھ انہوں نے انگریزی میں تقریر کی۔ تقریر کا مضمون آخری حد تک روایتی تھا۔ مجھے یقین نہیں ہے کہ ان کی دونوں تقریروں سے حاضرین کوئی سبق کی بات لے گئے ہوں کیوں کہ سبق کی کوئی بات سرے سے تقریر میں موجود تھی ہی نہیں۔ تقریر کے دوران وہ بار بار آدرپرافٹ صلی اللہ علیہ وسلم کا لفظ بول رہے تھے۔ یہی تمام مسلمانوں کا حال ہے۔ اللہ نے اپنے آخری رسول کو سارے عالم کا پیغمبر بنا کر بھیجا تھا۔ مگر مسلمانوں نے اس کو اپنا پیغمبر بنا دیا۔ کیوں کہ جیسا کہ خطیب نے کہا، مسلمان پیغمبر کو اپنا پرائڈ سمجھتے ہیں۔ اور پرائڈ کی نفسیات کی تسکین کے لئے ضروری ہے کہ اس کو اپنے پیغمبر کی حیثیت سے پیش کیا جائے۔

ایک مجلس میں میں نے کہا کہ دور زوال میں جو خرابیاں پیدا ہوئیں ان میں سے ایک خرابی یہ ہے کہ ہمارے علماءء قرآن وحدیث کو فروعی باتوں پر منطبق کرنا جانتے ہیں مگر وہ ان کو اساسی امور پر منطبق کرنا نہیں جانتے۔ مثلاً حدیث میں ہے کہ من احدث في امرنا هذا ما ليس منه فهو رد ۔ اسی طرح حدیث میں ہے کہ مونچھ کو تراشو اور داڑھی کو بڑھاؤ (اعفوا اللحی وقصوا الشوارب) اب اگر کوئی شخص کہے کہ داڑھی کو تراشو اور مونچھ کو بڑھاؤ تو علما فوراً کہیں گے کہ یہ بدعت ہے۔ مگر زیادہ بڑے بڑے اور اساسی مسائل میں وہ خود احداث (بدعت) میں مبتلا رہتے ہیں اور انھیں اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔

مانچسٹر میں ایک دیندار مسلمان سے ملاقات ہوئی، گفتگو کے دوران "یونی پولر ورلڈ" کا تذکرہ ہوا۔ انھوں نے غصہ اور تشویش کے انداز میں کہا کہ جارج بش نے کہا ہے کہ اب کسی ملک میں پریذیڈنٹ یا پرائم منسٹر، ہماری مرضی کے بغیر نہیں بن سکتا۔ اس نے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ کے عزائم کتنے خطرناک ہیں۔

میں نے کہا کہ آپ ماشاء اللہ دین دار ہیں۔ یقیناً آپ روزانہ قرآن کی تلاوت کرتے کیا آپ نے قرآن میں یہ آیت نہیں پڑھی : قل اللهم مالك الملك تؤتي الملك

من تشاء وتنزع الملك ممن تشاء وتعز من تشاء وتذل من تشاء بيدک الخیر إِنَّکَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِیر (آل عمران ۲۶ ) آپ کو اس کے جواب میں کہنا چاہئے تھا کہ امریکی پریذیڈنٹ نے یہ ایسی بات کہی ہے، جو اس کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ قرآن کی صراحت کے مطابق کسی کو حکمراں بنانا یا کسی کو حکمرانی سے ہٹانا یہ مکمل طور پر اللہ رب العالمین کے اختیار میں ہے۔ پھر ایسی بے معنی بات پر تشویش کی کیا ضرورت۔

یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں قرآن پڑھنے والوں کا طرز فکر بھی قرآنی طرز فکر نہیں۔ لوگ ٹوپی اور داڑھی کے معاملہ میں سنت رسول کا اہتمام کرتے ہیں۔ مگر انہیں اس سنت رسول کی خبر نہیں کہ عرب کی ایک مشرک عورت نے آپ کو مذمّم کہا تو آپ نے اس کو لغو سمجھتے ہوئے نظر انداز کر دیا اور فرمایا کہ اس عورت کو دیکھو، یہ مجھ کو مذمم کہہ رہی ہے حالاں کہ اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ مجھ کو تاریخ میں محمد کا مقام عطا کرے۔ اسی بے خبری کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمان ہر فضول گو سے لڑنے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں حالاں کہ یہ بھی پیغمبر اسلام کی ایک سنت ہے کہ فضول گو لوگوں کو نظر انداز کر کے اپنا مثبت کام جاری رکھا جائے۔

وگن کی ایک چھوٹی لائبریری میں مشہور انگریز سائنس داں سر جیمز جنینز کی کتاب طبیعیات اور فلسفہ (Physics and Philosophy) دیکھی۔ اس کے دیباچہ (Preface) کے نیچے مصنف کے دستخط کے ساتھ ۸ جولائی ۱۹۴۴ کی تاریخ درج ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب ۴۲ - ۱۹۴۱ میں لکھی گئی ہے۔ کتاب کا سب ٹائٹل مصنف نے ان الفاظ میں تجویز کیا ہے ــ ایک طبیعیات داں کے تاثرات کچھ فلسفیانہ مسائل کے بارے میں:

The reflections of a physicist on some of the problems of philosophy. مصنف نے زیر بحث موضوع کا مطالعہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کائنات کی سائنس نے ہم کو جہاں پہنچا یا ہے اس کے بعد بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت کا دروازہ کھولنا ممکن ہے، بشرطیکہ ہم اس کا دستہ حاصل کر سکیں :

مصنف نے مزید لکھا ہے کہ اگر جدید معلومات کی روشنی میں دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ مادہ پرستی کے نظریہ کی نئی سائنسی معلومات کی روشنی میں از سر نو تشریح کرنے کی ضرورت ہے: میں نے اس کو پڑھاتو میں نے سوچا کہ ۴۲ - ۱۹۲۱ میں ہمارے رہنما جس وقت انگریز کو نفرت اور عداوت کا موضوع بنا کر اس سے لڑ رہے تھے ، عین اسی وقت انگریز کا علم اس کو اس مقام پر پہنچارہا تھا کہ سائنس اور مادی تہذیب اپنی ساری ترقیوں کے باوجود نا کافی ہے۔ لمبا علمی سفر طے کرنے کے بعد وہ جہاں پہنچا ہے وہاں اس کو دکھائی دے رہا ہے کہ سامنے کا دروازہ بند ہے، اور اس کو کھولنے کے لئے جمہ ہینڈل در کار ہے وہ اس کو حاصل نہیں۔ یہ ہینڈل خوش قسمتی سے قرآن کی صورت میں ہمارے پاس تھا۔ اور مغربی طرز کی مادیت کے مقابلہ میں زیادہ صحیح دنیاوی نقطہ نظر بھی قرآن و سنت کی صورت میں ہمارے پاس موجود تھا۔ مگر دعوتی ذہن کی غیر موجودگی کی بنا پر ہمارے رہنما اس امکان کو دریافت نہ کر سکے۔ کو صرف دشمن کے روپ میں دیکھتے رہے ، حالاں کہ امکانی طور پر وہ دوست اور رفیق کی حیثیت

۱ستمبر کو میں وگن کے مکان میں تھا۔ صاحب بیت نے ایک اخبار لا کر دیا۔ اس کا نام وگن رپورٹر (Wigan Reporter) تھا ۔ اور وہ ۸۰ صفحہ پر مشتمل تھا۔ معلوم ہوا کہ یہ ہفتہ وار اخبار ہے اور لوگوں کے درمیان بلاقیمت تقسیم کیا جاتا ہے۔ ضمیمہ اخبار اشتہارات سے بھرا ہوا تھا ۔ سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہاں زندگی کا طریقہ کیا ہے۔ یہ اخبار کے نام پر اشتہار کو گھر گھر پہنچانے کی ایک تدبیر ہے۔ مگر شاید ہی کوئی شخص ہو جو اول سے آخر تک اسے دیکھتا ہو۔ برطانیہ سے قرآن کا ایک انگریزی ترجمہ چھپا ہے۔ اس کا ایک نسخہ میں نے دیکھا۔ بغیر وہ ۵۰۵ صفحات پر مشتمل ہے۔ مترجم کی حیثیت سے اس پر دو نام لکھے ہوئے تھے :

Printed page