Al-Risala · July 1994

خبرنامه اسلامی مرکز ۶۶

Al-Risala, July 1994, pp. 45–51

By Maulana Wahiduddin Khan

مغرب (مراکو) کی وزارت الاوقاف والشئون الاسلامیہ کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے مغرب کا سفر کیا۔ وہاں دو ہفتہ قیام رہا۔ اس درمیان میں کئی پروگرام ہوئے۔ اس سفر کی رو داد انشاء اللہ الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔ ۱ فروری کو سفر شروع ہوا اور ۲۴ فروری ۱۹۹۴ کو واپسی ہوئی۔

۱| برلن (جرمنی) کے ڈاکٹر مائیکل شیڈ (Dr. Michael Schied) بابری مسجد کے مسئلہ پر ریسرچ کر رہے ہیں۔ ۲۶ فروری ۱۹۹۴ کو وہ مرکز میں آئے اور صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو اس مسئلہ پر ریکارڈ کیا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ بابری مسجد کا مسئلہ ایک چھوٹا سا مسئلہ تھا۔ مگر مسلم لیڈروں نے اس کو انتہائی غیر متناسب طور پر بڑھا کر موجودہ حالت تک پہنچا دیا۔ اسلامی اصول کے مطابق، اس المیہ کی تمام تر ذمہ داری نا اہل مسلم لیڈروں پر آتی ہے۔

۲| امریکہ میں مقیم ایک مسلمان مشہ رفیق لو دھیانہ نے امریکہ میں منظم انداز میں الرسالہ مشن کو پھیلانے کا کام شروع کیا ہے۔ انھوں نے انگریزی الرسالہ کے منتخب مضامین کو لیکر ان کا ایک مجموعہ بنایا ہے۔ ان مضامین کی ۲۵۰۰ کاپیاں بنا کر وہ ان کو ملک کے مختلف علاقوں میں سنجیدہ افراد کے درمیان تقسیم کر رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ ایک انگریزی میگزین بھی نکالنا چاہتے ہیں جس میں الرسالہ کے مضامین شامل ہوں گے۔ ۳| انگریزی اخبار دی ایشین ایج کی اسپیشل کرسپانڈنٹ شیلا ریڈی نے ۲۶ فروری ۱۹۹۴ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا تعلق زیادہ تر مسلم مسائل سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ ہندو اور مسلمان دونوں کا ہمارے نزدیک سب سے بڑا مشترک مسئلہ صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے شعور کی ناپختگی۔

۴| ہندی ہفت روزہ نئی زمین کی نمائندہ مینا پانڈے نے یکم مارچ ۱۹۹۴ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر بندے ماترم کے مسئلہ

ہفت روزہ نئی دنیا (نئی دہلی) کے نمائندہ مولانا عقیدت اللہ قاسمی نے ۳ مارچ ۱۹۹۴ء کو صدر آل انڈیا ریڈیو (نیشنل چینل) سے ۴ مارچ ۱۹۹۴ء کو صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر نشر کی گئی۔ نیوز ایجنسی ارنا (IRNA) کے نمائندہ مسٹر سعید عالم نے ۹ مارچ ۱۹۹۴ء کو ٹیلیفون پر جاگرن و چہار پنج (دینک جاگرن) کی طرف سے ۱۲ مارچ ۱۹۹۴ء کو نئی دہلی (تین مورتی راشٹر پہل منچ کی طرف سے ۱۷ مارچ ۱۹۹۴ء کو ہماچل پر دیش بھون میں ڈنکل ڈرافٹ مالپ گوڑ گائوں، کی نو تعمیر مسجد میں ۱۸ مارچ ۱۹۹۴ء کو ایک جلسہ ہوا۔ قاری محمد سلیمان صاحب گاندھی سمریتی (برلا ہاؤس) میں ۲۸ مارچ ۱۹۹۴ء کو ایک میٹنگ ہوئی۔ یہ مہاتما گاندھی کے

۱۳ ٹوکیو (جاپان) کے بدھسٹ اداره (Shakuson kai) کے پریذیڈنٹ کانے هیرو اونو (Rev. Kanehiro Ono) کی آمد کی تقریب میں ۲۵ مارچ ۱۹۹۴ کونئی دہلی کے اچاریہ سوشیل کمار آشرم میں ایک مذہبی میٹنگ ہوئی۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور مختصر طور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ۱۴ لندن سے بی بی سی کے نمائندہ مسز قربان علی نے ۲۸ مارچ ۱۹۹۴ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر شرعی عدالت کے قیام سے تھا۔ سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ اس وقت شرعی عدالت سے زیادہ ضروری کام لوگوں میں شرعی مزاج بنانا ہے۔ شرعی مزاج جب تک نہ پیدا ہو شرعی عدالت کا کوئی

۱۵ انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس کے اسپیشل کرسپانڈنٹ مسٹر بھاسکر رائے نے ۲۹ مارچ ۱۹۹۴ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ٹیلی فون پر ریکارڈ کیا گیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر مسلمانوں کے تعلیمی مسئلہ سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ مسلمانوں کا مسئلہ نمبر ایک تعلیم ہے۔ اگر ان میں صد فی صد تعلیم آجائے تو بقیہ مسائل اپنے آپ حل ہو جائیں گے۔

۱۶ ٹائمز آف انڈیا کی نمائندہ مسٹر سکینہ یوسف خان نے ۳۱ مارچ ۱۹۹۴ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو اسلامی مدارس کے بارے میں تھا۔ کے جواب میں کہا گیا کہ موجودہ اسلامی مدارس کی اہمیت ملکی اور سماجی اعتبار سے بھی بہت کیوں کہ یہ مدارس گویا اخلاق اور کردار پیدا کرنے کے ادارے یہ سماج میں اخلاقی روایات کو باقی رکھنے کا ذریعہ ہیں۔ اگر یہ مدارس نہ رہیں تو ہمارے سماج میں اخلاقی روایات کا تسلسل ٹوٹ جائے گا۔

۱۷ دہلی کے ویویکانند فاؤنڈیشن (یٹ پر گنج) میں ۱۳ اپریل ۱۹۹۴ء کو راشٹر ایکتا سمیلن ہوا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور مذکورہ موضوع پر ایک تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ باہمی احترام کے ذریعہ ملک میں ایکتا لائی جا سکتی ہے۔

بمبئی کے اردو روزنامہ اخبار عالم کے نمائندہ نے صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو اخبار عالم کے شمارہ ۲ جنوری ۱۹۹۴ میں مکمل طور پر شائع ہوا ہے۔ اس میں ان تمام اعتراضات کا واضح جواب دیا گیا ہے جو آجکل بعض حلقوں کی طرف سے بے بنیاد طور پر رسالہ مشن کے بارے میں کئے جا رہے ہیں۔ ہندستان ٹائمس کی نمائندہ مسز کرم چڈھانے ۲۲ جنوری ۱۹۹۴ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ کا تعلق زیادہ تر موصوف کے حالیہ امریکہ کے سفر سے تھا۔

کاچی پورم کے شنکر اچاریہ چندر شیکھریند رجی کا ایک سوا یک سال میں دسمبر ۹۱ میں انتقال ہو گیا۔ کو شردھان جلی دینے کے لئے ہماچل بھون نئی دہلی میں ۲۵ جنوری ۱۹۹۴ کو ایک تقریب ہوئی۔ کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور مختصر تقریر کی صورت میں اپنے خیالات کا

جین اسٹویڈیو نئی دہلی نے ۲۷ جنوری ۱۹۹۴ کو صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر وڈیو ٹیپ پر ریکارڈ کی۔ یہ تقریر رمضان کے روزہ کے بارہ میں تھی۔ ایک گھنٹہ کی تقریر میں روزہ کے احکام اور اس کی حکمتیں بیان کی گئیں۔ یہ پروگرام سٹلائٹ ٹی وی کے ذریعہ پورے جنوبی ایشیا میں دکھایا جائے گا۔ بی بی سی کی نمائندہ مسز سونیا ٹھا کر نے ۲۸ جنوری ۱۹۹۴ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق اسلام کے مسائل خاص طور پر نکاح و طلاق سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ موجودہ زمانہ میں اسلام پر تشدد پسندی کا جو الزام لگایا جا رہا ہے وہ اگر صحیح ہو تو اس کا الزام ان مسلمانوں پر ہوگا جو بعض ملکوں میں تشدد دانہ قسم کی تحریکیں چلا رہے ہیں۔ اس قسم کی تحریکوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ کچھ مسلمان اگر اسلام کا نام لیں تو محض ان کے نام لینے سے ان کی تحریک اسلام سے منسوب نہیں ہو جائے گی۔

بنگلور میں ۳۰ جنوری ۱۹۹۴ کو ایک سیمنار ہوا۔ اس کا موضوع یہ تھا کہ انڈین نیشنلزم کے اجزا ترکیبی یہ سمینار ہندوستانی آندولن کی طرف سے منظم کیا گیا تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور اس موضوع پر اسلامی نقطہ نظر پیش کیا۔

ورلڈ فیلوشپ آف ریلیجنز کی طرف سے نئی دہلی میں ۳-۷ فروری ۱۹۹۴ کو ایک عالمی مذاہب کانفرنس اس میں ۵۲ ملکوں کے لوگ شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس کے دو

پروگرام میں شرکت کی۔ ۳ فروری کو پیس مارچ تھا جو ریلوے اسٹیشن سے شروع ہو کر لال قلعہ پر ختم ہوا۔ ۴ فروری کو اس کا عام اجلاس ہوا جس میں تقریباً دو لاکھ آدمیوں نے حصہ لیا۔ اس میں دلائی لاما بھی اس موقع پر صدر اسلامی مرکز نے مختصر تقریر میں اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔ ۳۸ جامعہ ملیہ اسلامیہ (نئی دہلی) کے کانفرنس ہال میں ۸ فروری ۱۹۹۲ کو ایک سیمنار ہوا۔ موضوع تھا: مذہب اور انسان دوستی۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور اس موضوع پر اسلامی نقطہ نظر پیش کیا۔

۳۹ نو بھارت ٹائمس کے نمائندہ مسٹر منورنجن بھارتی نے ۹ فروری ۱۹۹۲ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی سوالات کا تعلق زیادہ تر قدیم دہلی اور جدید دہلی سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ دہلی کے مسائل اضافہ آبادی کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ اضافہ کرپشن کا نتیجہ ہیں۔ ۴۰ مراکو کے ملک الحسن الثانی کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے فروری ۱۹۹۲ میں مراکو کا سفر کیا۔ وہاں کے مختلف پروگراموں میں شرکت کی اور بہت سے عرب شیوخ سے ملاقاتیں کیں۔ کی روداد انشاء اللہ سفر نامہ کے تحت الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔

۴۱ قسنطینہ (الجزائر) کی جامعۃ الامیر عبدالقادر للعلوم الاسلامیہ کے ایک طالب علم بشیر قلانی نے اپنے ریسرچ کے مقالہ کا موضوع یہ مقرر کیا ہے: أسس البعث الحضاری بین مالک بن نبی و وحید الدین خان۔ اس سلسلہ میں انھوں نے ضروری معلومات طلب کی ہیں جو ان کو بھیج دی گئی ہیں۔

۴۲ صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے ۷ فروری ۱۹۹۲ کو نشر کی گئی۔ رمضان کے روزہ کے بارہ میں تھی۔ اس میں بتایا گیا کہ روزہ کا مقصد یہ ہے کہ زندگی کو صابرانہ طور پر گزارنے کے لئے تیار کیا جائے۔

۴۳ صدر اسلامی مرکز نے بھارتیہ ودیا بھون کی دعوت پر نومبر ۱۹۹۳ میں بمبئی کا سفر کیا۔ اور وہاں چند اجتماعات میں خطاب کیا۔ اس کی روداد انشاء اللہ سفر نامہ کے تحت الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔ ۴۴ ملکی دوروں کے سلسلہ میں ایک کتاب " اسفار ہند" تقریباً تیار ہے۔ ان شاء اللہ جلد شائع اس کا تعلق زیادہ تر غیر مسلموں کے درمیان اسفار سے ہے۔

از : مولانا وحید الدین خاں زندگی میں ہمیشہ مسائل بھی ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ مواقع اور امکانات یہ صحیح رہنمائی نہیں ہے کہ مسائل کو ڈھونڈ کر نکالا جائے اور ان کو بتا کر لوگوں کو مایوسی اور پست حوصلگی میں مبتلا کیا جائے۔ سچی رہنمائی یہ ہے کہ مواقع کی نشاندہی کی جائے تاکہ لوگوں کے اندر عمل کا حوصلہ پیدا ہو۔ پیش نظر کتاب میں یہی دوسرا انداز اختیار کیا گیا ہے۔ اس میں ٹھوس حقائق کی روشنی میں یہ بتایا گیا ہے کہ اگر ہوش مندی سے کام لیا جائے تو اس ملک میں مسلمانوں کے لئے ترقی کے وہ تمام امکانات پوری طرح موجود ہیں جو کسی بھی دوسرے مقام پر ہیں یا ہو سکتے ہیں۔ صفحات ۲۱۶ قیمت ۴۰ روپیہ نئی اور زیر طبع مطبوعات عظمتِ اسلام از مولانا وحید الدین خاں 292 50 .Rs

The Need For A Positive Outlook By Maulana Wahiduddin Khan Man must run the gauntlet of adversity in this life, for that is in the very nature of things. But repeated emphasis on the darker side of life, with no mention of brighter prospects ahead can lead only to discouragement, depression and inertia. The better way to find solutions to the problems besetting us would be to seek out and lay stress on whatever opportunities present themselves, so that those upon whom fortune has not smiled may feel encouraged to take the initiative in improving themselves and their lot in life. In the light of concrete realities, this book focuses, therefore, on how, in entering upon the more positive avenues open to them, Muslims may avail themselves of the same kind of opportunities right here in India as they would find at any other point on the globe. For them treading this path is treading the path of wisdom. Price Rs. 175 (Hardbound)

Rs. 65 (Paperback)

ISBN 81-85063-80-X (HB)

ISBN 81-85063-81-8 (PB)

Printed page