Al-Risala · January 1994

طلاق اسلام میں

Al-Risala, January 1994, pp. 37–50

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ فطرت کا تقاضا ہے کہ ایک مرد اور ایک عورت باہم رشتہ ازدواج میں منسلک ہو کر ایک ساتھ زندگی گزاریں۔ اسلامی شریعت میں اس کے لیے نکاح کا طریقہ مقرر کیا گیا ہے۔ مطابق ، نکاح ایک معاشرتی عہد (civil contract) ہے جو ایک عورت اور ایک مرد کی باہمی رضامندی (mutual consent) سے وقوع میں آتا ہے۔

نکاح کا یہ عمل ایک اعتبار سے خاندانی زندگی کی تعمیر ہے۔ اور دوسرے اعتبار سے وہ پورے انسانی سماج کی تربیت ہے۔ عورت اور مرد اگر اپنی شادی شوہ زندگی میں اچھی بیوی اور اچھے شوہر ثابت ہوں تو یقینی طور پر وہ وسیع تر سماج کے لیے بھی اچھے شہری ثابت اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہے (خیرکم خیرکم لاھلہ) سنن ابن ماجہ ، کتاب النکاح شادی شدہ زندگی کی یہی خاص اہمیت ہے جس کی بنا پر اسلام میں اس رشتہ کو نہایت مقدس قرار دیا گیا ہے، اور اس کی پائیداری اور خوش گواری کے لیے تفصیلی احکام مقرر کیے گئے ہیں۔ تاہم زیادہ قانونی بندش بغاوت کا ذہن پیدا کرتی ہے۔ اس لیے اسلام میں فطری حد تک ضروری قانونی بندش مقرر کرنے کے بعد یہ کوشش کی گئی ہے کہ انسانی ارادہ کی اس طرح تربیت کی جائے کہ وہ خود اپنے فیصلہ سے اپنے آپ کو صحیح مطلوبہ حد کے اندر قائم رکھے۔ خاندان دراصل تربیت انسانی کا ابتدائی یونٹ ہے۔ خاندان کے ادارہ کا ٹوٹنا تربیت انسانی کے ادارہ کا ٹوٹنا ہے۔ اگر خاندان کا ادارہ بار بار ٹوٹنے لگے تو اس کا یہ عظیم نقصان ہوگا کہ تربیت افراد کا دہ کام ہونے سے رہ جائے گا جس کے اوپر انسانیت کی تعمیر کا انحصار ہے۔

اسلامی شریعت میں اس سلسلہ میں طلاق کے لیے جو قوانین بنائے گئے ہیں وہ بنیادی طور پر طلاق کو روکنے کے لیے ہیں نہ کہ طلاق کو وقوع میں لانے کے لیے۔ ساری کوشش یہ ہے کہ طلاق کے عمل کو روکا جائے۔ عورت اور مرد جب ایک بار رشتۂ

نکاح میں منسلک ہو کر ایک خاندان بنائیں تو وہ آخر وقت تک اس کو قائم رکھنے کی کوشش اسی لیے رشتہ نکاح کو قرآن میں میثاق غلیظ (النساء، ۲۱) کہا گیا ہے ، یعنی پختہ عہد۔ نکاح زندگی کا ایک عمومی قانون ہے اور طلاق صرف ایک استثناء ہے۔ اسی لیے اسلام میں نکاح کو انتہائی پسندیدہ چیز قرار دیا گیا ہے۔ ایک حدیث کے مطابق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

النکاح من سنتی فمن لم یعمل نکاح میرا طریقہ ہے۔ پس جو شخص میرے طریقہ پر بسنتی فلیس منی (سنن ابن ماجہ ، ابواب النکاح ، عمل نہ کرے وہ مجھ سے نہیں۔ باب ماجاء في فضل النکاح)

طلاق کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے ، اسلام میں اگر چہ طلاق کی اجازت ہے مگر اسی کے ساتھ تاکید کی گئی ہے کہ اس کو صرف انتہائی ناگزیر حالت میں استعمال کیا جائے۔ چنانچہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ طلاق اگرچہ حلال ہے مگر وہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض حلال ہے (ابغضُ الحلالِ إلى الله تعالى الطلاق) سنن ابی داؤد ، ابواب الطلاق ، باب فی کراہیۃ الطلاق جب ایک مرد اور ایک عورت شوہر اور بیوی کی حیثیت سے مل کر ساتھ رہتے ہیں تو ، فطرت کے عام قانون کے تحت ، دونوں کے درمیان اختلافات بھی ضرور پیدا ہوتے ہیں۔ یہ ایک حیاتیاتی اور نفسیاتی حقیقت ہے کہ اس دنیا میں پیدا ہونے والا ہر مرد اور پیدا ہونے والی ہر عورت ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ اس لیے اس دنیا میں اتحاد کی ایک ہی ممکن صورت ہے ۔ اختلاف کے باوجود متحد ہو کر رہنا۔

شکایت کو نظر انداز کرتے ہوئے مل کر رہنے کا یہ مقصد کس طرح حاصل ہو گا ، اس کا راز ، ایک لفظ میں صبر ہے۔ صبر کا مزاج ہی واحد چیز ہے جو دو شخصوں کے درمیان مشترک اور متحد زندگی کو ممکن بناتا ہے۔ جب انسانی فطرت کے تحت شکایت کے اسباب کا پیش آنا لازمی ہو ، اور اسی کے ساتھ عورت اور مرد کی مشترک زندگی بھی ایک لازمی انسانی ضرورت ہو تو عملی طور پر اشتراک اور اتحاد کی اس کے سوا اور کوئی صورت نہیں ہو سکتی کہ دونوں صبر و

اعراض کو زندگی کے ایک مستقل اصول کے طور پر اختیار کر لیں۔

کسی بھی سماج میں طلاق کے جو واقعات ہوتے ہیں، ان کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ فی صد طلاق کے واقعات کا سبب "زبان درازی" ہے۔ کسی بات پر عورت یا مرد کو غصہ آگیا یا کوئی بات اس کو ناگوار معلوم ہوئی۔ اس کے بعد اس کی زبان سے سخت الفاظ نکل گئے۔ فریق اس کو نظر انداز نہ کر سکا، اس نے بھی جواب میں سخت جملہ کہہ دیا۔ اب تلخ تکرار کی نوبت اس تلخی کے زیر اثر مرد نے کہہ دیا کہ تم کو طلاق۔ یا عورت نے کہہ دیا کہ میں تمہارے ساتھ نہیں طلاق یا علیحدگی کا سبب زیادہ تر اسی قسم کے واقعات ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں مومن مرد اور مومن عورت کی صفات بتاتے ہوئے ایک صفت والصاایسین والصابرات (الاحزاب (۳۵) کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ قرآن کی اس آیت کے مطابق، مرد کو بھی صبر کی روش اختیار کرنا ہے اور عورت کو بھی صبر کے طریقہ پر قائم رہنا دونوں کو ایک دوسرے کی ناخوش گوار باتوں کو برداشت کرنا ہے۔ اگر وہ صبر و برداشت کی روش اختیار نہ کریں تو ان کا باہمی رشتہ ٹوٹ جائے گا۔ اور باہمی رشتہ ٹوٹنے کے بعد دونوں کو اس سے زیادہ بڑی بات برداشت کرنی پڑے گی جو رشتہ کو باقی رکھنے کی صورت میں انہیں برداشت کرنے کی ضرورت تھی۔

زوجین کو صبر و برداشت کی عام تلقین کے علاوہ اس سلسلہ میں بعض خصوصی ہدایتیں بھی احادیث میں دی گئی ہیں جو نکاح کے بندھن میں پائیداری کے لیے ضروری ہیں۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

لا يفرك مؤمن مؤمنة إن کوئی مومن مرد کسی مومن عورت سے بغض نہ كره منها خلقاً رضى منها آخر۔ اگر اس کی کوئی عادت اس کو بری لگے صحیح مسلم، كتاب الرضاع ، باب الوصية بالنساء) تو اس میں دوسری عادت ہوگی جو اس کو خوش کر دے۔

یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ ہر آدمی کے اندر کچھ اچھی باتیں ہوتی ہیں اور اسی کے ساتھ کچھ بری باتیں ہوتی ہیں جن کو اس کی کمزوری کہا جا سکتا ہے۔ یہی معاملہ شوہر اور بیوی کا بھی ہے۔

حالت میں دونوں کے درمیان نباہ کا فطری اصول یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی شخصیت کے اچھے پہلو کو یاد رکھیں، اور دونوں ایک دوسرے کے کمزور پہلو کو نظر انداز کرتے رہیں ۔ اگر عورت اور مرد اس معاملہ میں باشعور ہو جائیں اور اس کو ایک اصول کے طور پر اپنی زندگی میں اختیار کر لیں تو یقیناً وہ ان کے لیے پائیدار ازدواجی زندگی کی ضمانت بن جائے گا ۔

تاہم کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مذکورہ تدبیر کافی نہیں ہوتی۔ شوہر اور بیوی کے درمیان ایسی شکایتیں پیدا ہو جاتی ہیں جو بظاہر اس سے زیادہ سخت ہوتی ہیں کہ ان کو نظر انداز کر دیا اس قسم کی صورت پیش آنے کے بعد بھی یہ صحیح نہیں ہے کہ جہاں ایسا ہو فوراً طلاق دے کر علاحدگی اختیار کر لی جائے ۔ اس کے بجائے تحمل سے کام لیتے ہوئے اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کرنا چاہیے ۔ اس سلسلہ میں ہم کو حسب ذیل آیت میں رہ نمائی دی گئی ہے :

وَ الَّتِی تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ اور جن عورتوں سے تم کو نافرمانی کا اندیشہ ہو وَاهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِع ان کو سمجھاؤ اور ان کو ان کے بستروں میں وَ اضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَاتَبْغُوا تنہا چھوڑ دو اور ان کو مارو ۔ پس اگر وہ تمہاری عَلَيْهِنَّ سَبِیلًا (النساء ۳۴) اطاعت کریں تو ان کے خلاف الزام کی راه تلاش نہ کرو۔

کسی مرد کو اگر اپنی بیوی سے شکایت پیدا ہو تو اس کے لیے پہلا کام طلاق دینا نہیں ہے، بلکہ عورت کو نصیحت کرنا ہے۔ یعنی نرمی، سنجیدگی اور خیر خواہی کے ساتھ اس کو سمجھایا نفرت کے جواب میں نفرت نہ کی جائے بلکہ نفرت کے جواب میں محبت کا طریقہ اختیار کیا جائے ۔

اگر نصیحت بے اثر رہ جائے تو اس کے بعد شوہر کو اپنی بیوی کے ساتھ ترک کلام یا ترک صحبت کا تجربہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ اس میں بھی انتقام کا جذبہ ہر گز شامل نہیں ہونا اس کو مکمل طور پر اصلاح اور تربیت کے ذہن کے تحت انجام دینا چاہیے ۔

اگر بالفرض کوئی عورت ایسی ہے جس کی لیے نصیحت اور ترک تعلق کی تدبیریں غیر مؤثر ثابت ہوتی ہیں تو اس کے بعد اجازت ہے کہ مرد اس کو ہلکی سزا دے سکتا ہے۔ یہاں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ضرب (مارنے) کی اجازت صرف اختلاف شکایت پر ہرگز نہیں ہے۔ یہ نشوز پر ہے۔ نشوز کی تشریح حدیث میں معروف میں نافرمانی سے کی گئی ہے (اضربوهن اذا عصينكم في المعروف) نیز یہ کہ اس ضرب کو بے تکلیف لی مار (ضرباً غير مبرح) ہونا چاہیے ۔ بے تکلیف کی مار کیا ہے، اس کی بابت حدیث میں آیا ہے کہ مسواک (ٹوتھ برش) یا اس جیسی کسی چیز سے مارنا ( (بالسواک ونحوه) جامع البیان للطبری ۶۷/۵ - ۶۹ ۲- زوجین میں اختلاف ظاہر ہو تو کوشش یہ ہونا چاہیے کہ دونوں آپس ہی میں صلح کرلیں، کیونکہ صلح کا طریقہ اللہ کے نزدیک ہر حال میں بہتر ہے (والصلح خير، النساء (۱۲۸) اور اگر گھریلو سطح پر معاملہ ختم نہ ہوتب بھی طلاق کی بات نہیں کرنا ہے بلکہ ثالثی کے طریقہ پر اس کو حل کرنے کی کوشش کرنا ہے : وإِن خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا اور اگر تم کو دونوں کے درمیان تعلقات بگڑنے حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ کا اندیشہ ہو تو ایک ثالث مرد کے رشتہ داروں أَهْلِهَا إِن يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ میں سے کھڑا کرو اور ایک ثالث عورت کے اللَّهُ بَيْنَهُمَا - إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا رشتہ داروں میں سے کھڑا کرو۔ اگر دونوں اصلاح (النساء ۳۵) چاہیں گے تو اللہ ان کے درمیان موافقت کر دے گا۔ بے شک اللہ جاننے والا باخبر ہے۔

دو شخصوں کے نزاع کو ثالث (arbiter) کے ذریعہ طے کرنے کا یہ اصول نہایت فطری اصول ہے۔ دو آدمیوں کے درمیان جب اختلاف پیدا ہو جائے تو دونوں ایک دوسرے کے بارہ میں متاثر ذہن کے تحت سوچنے لگتے ہیں۔ وہ حقائق کی بنیاد پر بے لاگ رائے نہیں قائم کر پاتے ۔ ایسی حالت میں جھگڑے کو ختم کرنے کی بہترین تدبیر یہ ہے کہ ان دونوں کے علاوہ ایک تیسرے فریق کو درمیان میں لایا جائے ۔ یہ تیسرا فریق معاملے سے ذاتی طور پر وابستہ نہ ہونے کی وجہ سے غیر متاثر ذہن کے تحت سوچے گا اور ایسے منصفانہ فیصلہ تک پہنچ جائے گا جو دونوں کے لیے

قابل قبول ہو۔

جب معاملہ کو ثالث کے سپرد کر دیا جائے تو اس وقت عورت اور مرد کو کس ذہن کے تحت اس کا استقبال کرنا چاہیے ، اس کا اندازہ خلافتِ راشدہ کے زمانہ کے ایک واقعہ سے ہوتا ہے ۔

خلیفہ چہارم علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں یہ واقعہ پیش آیا کہ ایک عورت اور مرد کے درمیان ازدواجی جھگڑا ہوا۔ دونوں حضرت علی کے پاس آئے ۔ آپ نے مذکورہ قرآنی آیت کے مطابق یہ حکم دیا کہ دونوں کے خاندان سے ایک ایک شخص کو لے کر ثالثی بورڈ بنایا یہ ثالثی بورڈ دونوں کے حالات معلوم کرنے جو فیصلہ دے اس کو دونوں بلا جچت اس کے بعد روایت کے الفاظ یہ ہیں :

فقالت المرأة رضيت بكتاب الله عورت نے کہا کہ میں راضی ہوں اللہ کی کتاب لي وعلى ـ فقال الرجل ا ما الفرقة پر خواہ فیصلہ میرے موافق ہو یا میرے خلاف۔ فلا ـ فقال علی کذبت ، واللہ لا تبرح مرد نے کہا کہ مگر تفریق کا فیصلہ مجھے منظور نہیں۔ حتى ترضی بمثل ما رضیت بہ حضرت علی نے فرمایا کہ تم نے جھوٹ کہا۔ ( جامع البیان للطبری ، ۷۱/۵) قسم تم یہاں سے اٹھ نہیں سکتے جب تک تم اس طرح راضی نہ ہو جاؤ جس طرح عورت راضی ہوئی ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ سچے مومن کے اندر یہ آمادگی ہونا چاہیے کہ وہ قرآنی حکم کے مطابق ، ثالث کو مانے اور یہ بھی آمادگی ہونا چاہیے کہ ثالث جو فیصلہ دے اس کو وہ مزید بحث کے بغیر قبول کرلے ۔

۴- تا ہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ زندگی کا نظام ہمیشہ مقرر انداز پر نہیں چلتا ۔ سارے تحفظات کے باوجود ایسا ہوتا ہے کہ کچھ شادی شدہ جوڑے کے بعد شادی کے بعد علیحدگی پر آمادہ ہو جاتے ہیں ۔ ان کے اندر نکاح کے بعد طلاق کا رجحان پیدا ہو جاتا ہے ۔ شریعت ان کی رہ نمائی اس طرح کرتی ہے کہ ان کے لیے طلاق کا ایک متعین ضابطہ مقرر کرد

یہ ضابطہ قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے :

الطلاق مرتان فإمساك بمعروف طلاق دو بار ہے۔ پھر یا تو قاعدہ کے مطابق او تسريح باحسان (البقره ۲۲۹) رکھ لینا ہے یا خوش اسلوبی کیساتھ رخصت کر دینا۔ اس آیت کی تشریح اس طرح کی گئی ہے کہ جو شخص (دو مہینے میں) دو بار طلاق دیدے تو وہ تیسری بار طلاق دینے میں اللہ سے ڈرے ۔ یا تو وہ اس کے حق میں کوئی بھی ظلم کیے بغیر اس کو چھوڑ دے ، یا اس کو حسن معاشرت کے ساتھ روک لے (اى من طلّق اثنتين فليتق الله في الثالثة فإما تركها غير مظلومة شيئا من حقها وإما مسكها محسنا عشرتها) الجامع لاحكام القرآن للقرطبی اس آیت اور دوسری آیات و احادیث کی روشنی میں علماء شریعت نے طلاق کا تفصیلی قانون مرتب کیا ہے ، اس سلسلہ میں فقہی تفصیلات کو چھوڑتے ہوئے بنیادی شرعی پوزیشن یہ ہے کہ اپنے مراحل کے اعتبار سے طلاق کی تین صورتیں ہیں طلاق رجعی، طلاق بائن ، طلاق مغلظہ۔

جب ایک شخص اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہے تو شریعت کی تعلیم یہ ہے کہ وہ ایسا نہ کرے کہ اچانک اس کو مطلقہ قرار دے کر اسے اپنے سے جدا کر دے۔ بلکہ اس کو یہ کرنا چاہیے کہ پہلے مہینہ میں حیض سے پاک ہونے کے بعد وہ اپنی عورت سے کہے کہ میں نے تم کو ایک طلاق دیا۔ اس کے بعد دونوں ایک مہینہ تک سوچتے رہیں۔ اس درمیان میں اگر رائے بدل گئی تو مرد اپنے قول طلاق کو واپس لے کر دوبارہ اپنی بیوی سے تعلقات قائم کر سکتا ہے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں اگلے مہینہ میں دوبارہ طہر کی حالت میں وہ اپنی بیوی سے کہے گا کہ میں نے تم کو دوسری بار طلاق دیا۔ اس اثناء میں دوبارہ مرد کے لیے یہ موقع ہے کہ اگر اس کی رائے بدل جائے تو وہ طلاق کو واپس لے کر اپنی بیوی سے دوبارہ تعلقات قائم کر سکتا ہے۔ اصطلاح میں ان دونوں کو طلاق رجعی کہا جاتا ہے ، کیوں کہ مرد کو ان سے مراجعت کا حق حاصل ہے۔ ابتدائی دو مہینوں میں مرد اگر اپنے قول سے رجوع نہ کرے اور تیسرا حیض آکر تیسرا مہینہ شروع ہو جائے تو اب عملی طور پر طلاق واقع ہو جائے گی۔ اس کو طلاق بائن کہا جاتا ہے۔

طلاق بائن پڑ جانے کے بعد مراجعت کے لیے تنہا مرد کا قول کافی نہیں۔ اب صرف عورت اور مرد کی باہمی رضامندی سے نکاح ثانی ہو سکتا ہے۔ اگر دونوں نے نکاح ثانی کر لیا تو دوبارہ وہ شوہر اور بیوی کی طرح ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔

تیسری صورت یہ ہے کہ آدمی تیسرے مہینے میں یا اس کے بعد یہ کہہ دے کہ میں نے تم کو تیسری بار طلاق دیا۔ ایسا کہنے کے بعد آخری طلاق واقع ہو جائے گی۔ اس کو طلاق مغلظ کہا جاتا اس کے بعد دونوں ایک دوسرے کے لیے حرام ہو جائیں گے۔ البتہ اگر حلالہ کی صورت پیدا ہو جائے تو دوبارہ ان کے درمیان نکاح ہو سکتا ہے۔

شوہر اگر دوسری بار طلاق دینے کے بعد اپنی بیوی سے مراجعت کا ارادہ نہ رکھتا ہو تب بھی اسے چاہیے کہ عورت کو اس کے حقوق دے کر خوش اسلوبی کے ساتھ اسے رخصت جہاں تک تیسری بار طلاق کا تعلق ہے تو شریعت نے اس کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ دو بار طلاق دے کر علیحدہ ہو جانے کے بعد بھی یہ امکان باقی رہتا ہے کہ شوہر تجدید نکاح کے ذریعہ پھر اپنی سابقہ بیوی سے تعلق قائم کرلے۔ مگر تیسری بار طلاق دینے کے بعد مذکورہ استثنائی صورت (حلالہ) کے علاوہ اس مرد اور اس عورت کے درمیان نکاح مستقل طور پر حرام ہو جاتا ہے۔

مذکورہ مقرر طریقہ نے طلاق کو ایک جذباتی اقدام کے بجائے ایک سوچا سمجھا منصوبہ بند عمل بنا دیا۔ اگر اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے کہ طلاق اکثر حالات میں غصہ کا نتیجہ ہوتا ہے تو معلوم ہوگا کہ مذکورہ طریقہ طلاق کے خلاف ایک زبردست روک (check) ہے۔ کوئی مستقل باقی رہنے والی چیز نہیں۔ ایک مدت گزرنے کے بعد لازما وہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ اس لیے یہ تقریبا یقینی ہے کہ جو لوگ غصہ کی بنا پر اپنی بیوی کو طلاق دینے کا فیصلہ کریں گے، وقت گزرنے کے بعد وہ خود ہی اپنے کیے پر پچھتائیں گے۔ اور رجوع کر لیں گے۔ طلاق کوئی سادہ بات نہیں۔ اکثر حالات میں وہ گھر کو اجاڑنے اور بچوں کے مستقبل کو تباہ کرنے کے ہم معنی ہے۔ غصہ ٹھنڈا ہوتے ہی آدمی کو طلاق کا برا انجام دکھائی دے گا اور وہ رجوع کر کے اس سے باز رہے گا۔

آدمی جب ایک عورت سے نکاح کرتا ہے تو اس کے لیے صرف ایک بار یہ کہنا کافی ہوتا ہے کہ میں نے تم کو اپنی زوجیت میں قبول کیا۔ مگر طلاق کے لیے شریعت میں یہ حکم دیا گیا کہ تین مہینے کے دوران مرحلہ وار طریقہ پر بتدریج اس کو مکمل کرو۔

گویا نکاح کے لیے تو ایک قول کافی ہے مگر طلاق کے عمل کی تکمیل کے لیے کئی قول کی مزید یہ کہ نکاح کے برعکس، طلاق کے ایک قول اور دوسرے قول کے درمیان شریعت نے لمبا وقفہ (gap) دینا پسند کیا ہے۔ اس وقفہ کا مقصد اس کے سوا کچھ اور نہیں ہو سکتا کہ اس دوران شوہر اپنے فیصلہ پر اچھی طرح غور کرلے۔ وہ اپنے قریبی لوگوں سے اس کے بارہ میں بخوبی مشورہ کرے ۔ حتی کہ اس کے متعلقین کو یہ موقع بھی مل جائے کہ جب انھیں طلاق کے معاملہ کی خبر ملے تو اس میں دخل دے کر وہ طرفین کو سمجھائیں اور طلاق کو روکنے کی کوشش کریں۔ یہ مقصد وقفہ کے بغیر پورا نہیں ہو سکتا تھا، اس لیے طلاق کو ایک باوقفہ عمل بنا دیا گیا۔ ان ساری پیش بندیوں کا واضح مطلب یہ ہے کہ جذباتی ابال کو ٹھنڈا کیا جائے اور اس طرح طلاق کے معاملہ کو اس کے آخری انجام تک پہنچنے سے روکا جائے۔ کیوں کہ طلاق کسی بھی شخص کے لیے مسئلہ سے نجات کے ہم معنی نہیں ہے۔ طلاق اپنے انجام کے اعتبار سے صرف یہ ہے کہ آدمی ایک مسئلہ سے چھٹکارا حاصل کر کے اپنے آپ کو دوسرے شدید تر مسئلہ میں مبتلا کر لے۔ ۵- ان ساری پیش بندیوں کے باوجود کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان بعض اوقات جہالت یا شدید غصہ کی وجہ سے معتدل انداز میں سوچ نہیں پاتا۔ وہ جوش میں آکر ایک ہی مجلس میں اپنی بیوی سے کہہ دیتا ہے کہ تم کو تین طلاق یا طلاق ، طلاق ، طلاق۔ ایسے واقعات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پیش آئے ۔ اور اب بھی پیش آتے ہیں۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو شخص ایسا کرے اس کے بارہ میں کیا فیصلہ کیا جائے۔ یعنی تین طلاق کو ایک طلاق قرار دے کر مذکورہ با وقفہ عمل جاری کرنے کی تلقین کی جائے ۔ یا تین طلاق کو تین طلاق قرار دے کر میاں بیوی کے درمیان علیٰحدگی کرا دی جائے ۔ اس سلسلہ کی ایک رہ نما حدیث یہاں درج کی جاتی ہے جس کو امام ابوداؤد اور دوسرے کئی محدثین نے نقل کیا ہے :

عن عبد اللہ بن عباس قال ، طلق رکانہ ابن عبد یزید نے اپنی بیوی کو ایک رکانہ بن عبد یزید امرأتہ مجلس میں تین طلاق دے دی۔ پھر وہ اس پر ثلاثاً فى مجلس واحد ـ فحزن عليها بہت غمگین ہوئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حزناً شديداً ۔ فسأله النبي صلى الله نے ان سے پوچھا کہ تم نے کس طرح طلاق دی۔ عليه وسلم ۔ كيف طلقتها ۔ قال ثلاثاً انھوں نے کہا کہ ایک مجلس میں تین بار ۔ فى مجلس واحد ـ فقال النبي صلى الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ سب ایک عليه وسلم ـ إنما تلك واحدة فارتجعها ہی ہے۔ اگر تم چاہو تو اپنی بیوی سے مراجعت إن شئت (فتح الباري ٢٤٥/١) کرلو۔

اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص جذبات سے مغلوب ہو کر ایک ہی مجلس میں تینوں طلاق دینے کا اعلان کر دیتا ہے تو اگر چہ یہ شریعت کے مقرر طریقہ سے انحراف ہے اور اس اعتبار سے وہ آدمی گنہگار ہے، تاہم انسانی کمزوری کی رعایت کرتے ہوئے اس کے اس فعل کو ایک لغو فعل قرار دیا جائے گا۔ اس کو تا کید بیان یا شدت اظہار پر محمول کرتے ہوئے تین طلاق کو ایک طلاق قرار دیا جائے گا۔ ایسے آدمی سے کہا جائے گا کہ ایک شرعی مسئلہ میں تم نے جو زیادتی کی ہے اس کے لیے اللہ سے توبہ کرو اور تین کو ایک شمار کرتے ہوئے حسب منشا اپنی بیوی کے ساتھ معاملہ کرو۔

تاہم اس مسئلہ میں دور اول میں ایک مختلف مثال ملتی ہے۔ یہ مثال خلیفہ ثانی عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ہے۔ یہ مثال امام مسلم کی ایک روایت میں اس طرح بیان ہوئی ہے : عن ابن عباس ، قال كان الطلاق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور على عهد رسول الله صلى الله عليه ابو بکر صدیق کی خلافت کے زمانہ میں اور عمر وسلم والبخيكر وسئتين من کی خلافت کے ابتدائی دو سالوں میں تین خلافة عمر طلاق الثلاث طلاق ایک ہی طلاق ہوتی تھی۔ پھر عمر بن واحدة - فقال عمر بن الخطاب خطاب نے کہا کہ لوگ اُس معاملہ میں جلد بازی ان الناس قد استعجلوا في امر کر رہے ہیں جس میں ان کے لیے مہلت تھی۔

بد كانت لہم فیہ اسنأء فلو پس کیوں نہ اس کو ہم ان کے اوپر نافذ کردیں ۔ امضيناه عليهم فامضاء عليهم چنانچہ انھوں نے ان کے اوپر اسے نافذ (صحیح مسلم بشرح النووی، ۷۰/۱۰) کردیا۔

خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق کا یہ عمل بظاہر قرآن و سنت کے طریقہ کے خلاف معلوم ہوتا ہے مگر یہ صرف ایک غلط فہمی ہے۔ اصل یہ ہے کہ یہ شریعت کے عموم میں ایک وقتی استثنا کی مثال ہے نہ کہ شریعت کے عموم میں ترمیم کی مثال۔ خلیفہ دوم کے اس عمل سے شریعت کا مذکورہ مسئلہ اس سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ شریعت اسلامی میں حالات کی مکمل رعایت رکھی گئی شریعت کا ہر قانون ایک دائمی قانون ہے۔ مگر مسلمانوں کے حاکم کو یہ اختیار ہے کہ وہ کسی فرد کے کیس کی مخصوص نوعیت کی بنا پر اس کے حق میں ایک استثنائی فیصلہ کرے۔ کا یہ فیصلہ صرف ایک وقتی حکم ہوگا نہ کہ ابدی قانون۔

اس سلسلہ کی مختلف روایات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خلیفہ دوم نے اپنے زمانہ کے جن چند افراد کیساتھ ایسا کیا وہ بطور شرعی مسئلہ نہیں تھا۔ بلکہ اس کی حیثیت ایک قسم کے انتظامی حکم (executive order) کی تھی۔ انھوں نے حاکم کی حیثیت سے بعض متعین افراد کے لیے بطور سزایہ حکم جاری کیا تھا۔

چنانچہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت عمر فاروق ﷺ کے پاس ایسا کوئی آدمی لایا جاتا جس نے اپنی عورت کو ایک مجلس میں بیک وقت تین طلاق دی تھی تو اس کو وہ اس کی سرکشی قرار دیتے اور اس کی پیٹھ پر کوڑامارتے (عن انس، ان عمر كان اذا أتى برجل طلق امرأته ثلاثا ا وجع ظهره) فتح الباری ۲۷۵/۹ ۷- یہاں ایک اور پہلو کا اضافہ کرنا ضروری ہے۔ اس اضافہ کے بغیر یہ بات بالکل ادھوری وہ یہ کہ حضرت عمر نے جب تین طلاق کو تین طلاق قرار دینے کا مذکورہ استثنائی فیصلہ دیا تو ان کی حیثیت موجودہ زمانہ کے ایک بے اختیار عالم جیسی نہ تھی۔ بلکہ وہ مکمل طور پر ایک با اختیار حاکم کی حیثیت رکھتے تھے۔ وہ مسلماً طور پر اس پوزیشن میں تھے کہ جو مرد اس قسم کا غیر قرآنی طریقہ اختیار کرے اس کو وہ سزا دیں، اس کو اور کوئی زیادتی کرنے سے روک سکیں۔

دوسری طرف وہ اس با اختیار حیثیت میں تھے کہ اس حکم کے نفاذ کے نتیجہ میں جو عورتہ نئے مسائل حیات سے دوچار ہوئی ہے، اس کی بھی کامل تلافی کر سکیں ۔ مثلاً سماج کے اندر اس کے لیے با عزت زندگی کی ضمانت، طلاق کے بعد اگر وہ معاشی اعتبار سے ضرورت مند ہوگئی ہے تو سرکاری بیت المال سے اس کے لیے مستقل گزارہ جاری کرنا، وغیرہ۔ آج اگر کوئی شخص تین طلاق کو نافذ کرنے کے لیے حضرت عمر فاروق کی نظیر پیش کرے تو اس سے پہلے اس کو خلیفہ جیسی با اختیار حیثیت کا مالک بننا چاہیے، اس کے بعد ہی اس کو یہ حق ہوگا کہ وہ خلیفہ دوم کے اس مسلک کا حوالہ دے یا اس پر عمل کرے۔ کیوں کہ حضرت عمر کا مذکورہ فیصلہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے حاکم وقت کا ایک فیصلہ تھا نہ کہ سادہ طور پر صرف عالم یا مفتی کا ایک فیصلہ۔

یہاں ایک غلط فہمی کا ازالہ کرنا ضروری ہے۔ خلیفہ دوم عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جب اپنا مذکورہ فیصلہ دیا تو بعض روایت کے مطابق صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے اختلاف بقیہ صحابہ جو اس وقت مدینہ میں موجود تھے یا جن کے علم میں یہ بات آئی ، انھوں نے اس سے اختلاف کا اظہار نہیں کیا۔ اس سے کچھ علماء نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اس مسئلہ پر صحابہ کا اجماع ہو چکا ہے۔ محمد علی الصابونی لکھتے ہیں :

واستدلوا باجماع الصحابة حين اس سے علماء نے استدلال کیا ہے کہ اس قضى به عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ پر صحابہ کا اجماع ہے۔ کیوں کہ جب حضرت عمر فاقروه ولم ينكر احد من نے یہ فیصلہ دیا تو صحابہ نے اس سے اتفاق کیا الصحابة وقوع الثلاث بلفظ اور صحابہ میں سے کسی نے اس کا انکار نہیں واحد على عمر بن الخطاب کیا کہ ایک بار میں تین طلاق دینے سے طلاق فدل ذلك على الاجماع واقع ہو جاتی ہے۔ پس اس سے ثابت ہوتا ( روائع البيان ۳۳۴/۱) ہے کہ اس پر اجماع ہے۔

یہاں یہ سوال ہے کہ صحابہ نے کس چیز پر اتفاق کیا تھا۔ صحابہ نے اس پر اتفاق نہیں کیا تھا کہ تین طلاق کو تین طلاق قرار دینا اصولاً درست ہے۔ بلکہ ان کا اتفاق اس پر تھا کہ ایسا کرنا نظاماً درست ہے۔

صحابہ کسی ایسی بات پر اتفاق نہیں کر سکتے تھے جو قرآن کے مقرر طریقہ کو بدلنے کے ہم معنی ہو۔ انھوں نے در اصل اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ حاکم کو یہ اختیار ہے کہ بوقت ضرورت وہ استثنائی طور پر کسی فرد خاص کے بارہ میں اس طرح کا ایک فیصلہ دے جو فیصلہ خلیفہ دوم نے اپنے زمانہ میں دیا۔

صحابہ کا یہ اجماع ترمیم شریعت پر نہیں تھا اور نہ ہو سکتا تھا۔ یہ اجماع صرف اس بات پر تھا کہ مسلمانوں کے حاکم کو یہ حق ہے کہ وہ اپنی صواب دید کے مطابق کسی شخص خاص کے لیے ایک ایسے تعزیری حکم کا نفاذ کرے جو شریعت کے عمومی قانون میں ایک وقتی استثناء کی حیثیت حاکم وقت کا یہ حق شریعت میں مسلم ہے، اور نکاح و طلاق کے علاوہ دوسرے امور میں بھی اس کی مثالیں موجود ہیں۔ جیسے قحط کے زمانہ میں چوری پر چور کا ہاتھ نہ کاٹنا۔ آخری بات یہ کہ شریعت میں جس طرح مرد کو تفریق کا حق دیا گیا ہے اسی طرح عورت کو بھی تفریق کا حق حاصل ہے۔ البتہ عورت چونکہ پیدائشی طور پر جذباتی (emotional) واقع ہوئی ہے اس لیے دونوں کے طریق کار میں کسی قدر فرق رکھا گیا ہے۔ اس کی صورت مختصر طور پر یہ ہے کہ مرد کو تفریق کا جو اختیار طلاق کی صورت میں حاصل ہے ، عورت کو وہی اختیار خلع اور تفویض طلاق کے ذریعہ دیا گیا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ مرد اگر خلع کے لیے راضی نہ ہو تو عورت اپنے معاملہ کو قاضی کے پاس لے جائے گی اور قاضی پوری روداد سننے کے بعد حسب حالات دونوں کے درمیان تفریق کرا دے گا۔

اس کے علاوہ عورت کے لیے ایک اور صورت ہے جس کو نکاح تفویض کہا جاتا ہے۔ یعنی عورت نکاح کے وقت خود یا اپنے وکیل کے ذریعہ اپنے ہو نے والے شوہر سے یہ ضابطہ عہد لے لے کہ شوہر اگر اس کے واجبی حقوق کی ادائیگی میں کوتاہ ثابت ہو تو عورت کو یہ اختیار ہو گا کہ وہ خود اپنے فیصلہ سے اس کے ساتھ رشتہ ازدواج کو توڑ دے اور اس سے علیحدہ ہو جائے ۔ اس کی مزید تفصیل کتب فقہ میں دیکھی جا سکتی ہے ۔ اوپر کی بحث سے معلوم ہوا کہ طلاق کے لیے شریعت کا مقرر طریقہ یہ ہے کہ طلاق الگ الگ

بتدریج دی جائے ، اور وہ لمبے وقفہ کے بعد مکمل ہو۔ یہی طلاق کا صحیح شرعی طریقہ ہے۔ ہر قانون کا غلط استعمال (misuse) ہوتا ہے ، اسی طرح کچھ لوگ طلاق کے قانون کا بھی غلط استعمال کرتے ہیں اور ایک ہی مجلس میں بیک وقت اپنی بیوی کو تین طلاق دیدیتے ہیں۔ قانون کے اس طرح غلط استعمال کی صورت میں طلاق دینے والے کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے ، اس میں حسب حالات دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اُس کے تین طلاق کو لفظی تاکید پر محمول کرتے ہوئے اسے ایک ہی طلاق مانا جائے ۔ اور اُس کو رجعت کے حق سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دے دی جائے۔

تاہم کسی شخص کو اس کے کیس کی مخصوص نوعیت کی بنا پر اس رخصت سے مستثنی قرار دیا جاسکتا اس کی سرکشی پر حاکم اسے تعزیری سزا دے سکتا ہے۔ یا اس کے تین طلاق کو تین طلاق قرار دے کر اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی بھی کر سکتا ہے ، تاکہ وہ اپنے گھر کی بربادی کی صورت میں اپنی غیر ذمہ دارانہ روش کی سزا بھگتے۔ نیز اس کا یہ فائدہ بھی ہے کہ ایسے افراد کے انحراف کے برے انجام کو دیکھ کر دوسرے لوگوں کو عبرت ہو اور آئندہ وہ اس قسم کے فعل کو دہرانے سے باز رہیں ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس معاملہ میں حضرت عمر فاروق کا انتظامی حکم اس لیے نہیں تھا کہ اس کو عمومی شرعی مسئلے کی مانند مستقل طور پر رائج کر دیا جائے ۔ وہ صرف اس لیے تھا کہ معاشرہ میں شرعی طریقہ سے انحراف کی حوصلہ شکنی ہو اور مشر وع طریقہ پر طلاق دینے کا رواج از سر نو لوگوں کے درمیان قائم ہو جائے ۔ خلیفہ دوم کا حکم ایک وقتی استثناء تھا نہ کہ کوئی مستقل شرعی یہ وقتی استثناء بشرطِ ضرورت آئندہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے جس طرح وہ ماضی میں اختیار

تاہم اس کا حق صرف با اختیار حاکم کو ہے۔ یہ در اصل ایک انتظامی حکم تھا، اور انتظامی حکم کا حق صرف منتظم کو ہوتا ہے ، عام آدمی کو ہر گز اس کا حق حاصل نہیں۔ کیوں کہ عام آدمی ان نتائج سے نمٹنے پر قادر نہیں جو اس قسم کے کسی حکم کے نفاذ کے بعد لازماً پیدا ہوتے ہیں۔

Printed page