دلیل نبوت
Al-Risala, August 1994, pp. 5–15
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ اعلم حیث يجعل رسالته (الانعام ۱۲۴)اس اس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ اپنی پیغمبری کو کہاں یعنی پیغمبر کو بھیجنے کے لیے وہ مناسب شخص اور مناسب وقت اور مناسب جگہ کو بخوبی جانتا ہے اور اسی کے مطابق اس نے اپنے پیغمبر کو مبعوث کیا ہے۔
اس آیت میں جعل سے مراد وضع (placement) ہے۔ حضرت ابراہیم نے کعبہ کے وقت یہ دعا کی تھی کہ یا اللہ، تو اسماعیل کی نسل میں ایک نبی پیدا کر (البقرہ ۱۲۹) اس دعا کے ڈھائی ہزار سال بعد محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب مکہ میں پیدا ہوئے۔ گہرا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ وضع رسالت انتہائی موزوں تاریخی لمحہ میں وقوع میں آیا۔ پوری نسل اسماعیل میں سے اس انسان کا انتخاب کیا گیا جو اس منصب کے لیے موزوں ترین تھا۔ وہ اس ملک میں پیداہوئے جو اس کام کے لیے سب سے زیادہ مناسب ملک تھا اور اس وقت خاص میں ان کا ظہور ہوا جب کہ تمام موافق اسباب حیرت انگیز طور پر ایک ساتھ جمع ہو گئے تھے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عظیم کارنامہ انجام دیا وہ حیرت انگیز ہے۔ مگر اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز مختلف موافق اسباب کا وہ اجتماع ہے جو عین آن کی مدت عمر میں بیک وقت ان کے حق میں اکٹھا ہو گئے۔ آپ کے حق میں یہ غیر معمولی تاریخی مساعدت بیک وقت دلیل توحید بھی ہے اور دلیل نبوت بھی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس عالم کے پیچھے ایک عظیم ذہن اور عظیم ارادہ والی ہستی موجود ہے۔ نیز یہ کہ یہی وہ ہستی ہے جس نے محمد عربی کو اتنے زیادہ موزوں تاریخی وقت میں اور اتنے زیادہ موزوں جغرافی مقام پر مبعوث فرمایا۔ خدائے عظیم و برتر کے سوا کوئی بھی ایسا کرنے پر قادر نہ تھا۔
کوئی بڑا کارنامہ یا کوئی انقلابی کام انجام دینے کے لیے تین چیزیں انتہائی طور پر ضروری ہیں ــــــــ اعلیٰ قائد، موزوں مقام، موافق تاریخی حالات۔ اسلامی انقلاب کے حق میں یہ تینوں اسباب اعلیٰ ترین صورت میں جمع ہو گئے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم متفقہ طور پر اعلیٰ ترین قائدانہ اوصاف
کے مالک تھے ۔ عرب مطلوبہ انقلاب کے لیے موزوں ترین مقام تھا ۔ جس کا اعتراف اکثر مورخین نے کیا ہے ۔ اسی طرح تاریخی وقت کے اعتبار سے وہ وقت سب سے زیادہ موزوں تھا جب کریں۔ مکہ آپ کی بعثت ہوئی ۔
کوئی انقلابی کام انجام دینے کے لیے تاریخ کی موافقت انتہائی طور پر ضروری ہے ۔ کی موافقت کے بغیر اس دنیا میں کوئی بڑا انقلاب برپا نہیں کیا جا سکتا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ آپ نے عظیم ترین انقلاب بر پا کیا ۔ ایسا اس لیے ممکن ہوا کہ حیرت انگیز طور پر اعلیٰ ترین تاریخی اسباب آپ کے حق میں جمع ہو گئے تھے ۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ۵۷۰ء میں ہوئی ۔ عین اسی سال اصحاب فیل کا واقعہ پیش آیا ۔ یمن کے حاکم ابرھہ نے ہاتھیوں کی ناقابل تسخیر فوج کے ساتھ مکہ پرحملہ کیاتاکہ کعبۃ اللہ کو ڈھادے ۔ مگر معجزاتی طور پر یہ واقعہ پیش آیا کہ ان کے اوپر کنکریوں کی بارش ہوئی جس میں ساری فوج بھس بن کر رہ گئی ۔
یہ ایک انتہائی غیر معمولی واقعہ تھا جس نے اہل عرب کی نظر میں توحید کی عظمت کو از سر نو قائم کر دیا اور شرک و بت پرستی کا پورا نظام بے قیمت ہو کر رہ گیا ۔ یہی بات ہے جس کی طرف قرآن کی سورہ نمبر ۱۰۵ ، ۱۰۶ میں اشارہ کیا گیا ہے ۔ عین اس عظیم مظاہرہ توحید کے زمانہ میں پیغمبر اسلام کی پیدائش ہوئی جو اس لیے دنیا میں بھیجے گئے کہ وہ شرک کو ختم کریں اور توحید کی عظمت دنیا میں قائم کر دیں ۔ پیغمبر توحید کا عین عام الفیل میں پیدا ہونا خدائی منصوبہ بندی کی ایک حیرت انگیز مثال ہے ۔ پیغمبر اسلام کو یہ موقع ملاکہ وہ توحید کی دعوت کاکام مکہ میں شروع کریں۔ کہ کی خصوصیت یہ تھی کہ صدیوں کے حالات کے نتیجہ میں وہ عرب قیادت کا مرکز بن گیاتھا۔ مکہ میں بین اقوامی تجارت اور بین اقوامی تعلق کی روایات پائی جاتی تھیں ۔ چنانچہ یہاں ایسے لوگ موجود تھے جن کو اپنے زمانہ میں اصحاب فکر اور اصحاب قیادت کا درجہ حاصل تھا ۔ مثال کے طور پر ابو بکر بن ابی قحافہ اور عمر بن الخطاب ، وغیرہ ۔ اس قسم کے اعلیٰ افراد کو اسلامی تحریک کی حمایت میں لینا ضروری تھا ۔ اسلامی جماعت کے بیشتر تاریخ ساز افراد مکہ ہی سے حاصل ہوئے ۔ یہی وہ حقیقت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا میں نظر آتی ہے کہ اے اللہ ! اسلام کو ابو الحکم بن ہشام ( رسالہ اگست ۱۹۹۴ )
یا عمر بن الخطاب کے ذریعہ طاقت دے (اللہم اید الاسلام بابی الحکم بن ہشام اوبعمربن الخطاب) السیرة النبویہ لابن کثیر ۳۵/۲ تاہم مکہ والوں کے لیے شرک ایک اقتصادی انٹرسٹ کا معاملہ تھا۔ انھوں نے عرب کے ۳۶۰ قبیلوں کے ۳۶۰ بت کعبہ میں رکھ دیے تھے۔ یہ قبیلے سال بھر مکہ آتے تھے۔ ان کی وجہ سے مکہ کی تجارت کو فروغ حاصل ہوتا تھا۔ ان بت پرست قبائل کی مکہ میں آمد ٹھیک اسی طرح تجارتی نوعیت رکھتی تھی جس طرح کسی سیاحتی ملک میں سیاحوں کی آمد تجارتی اہمیت رکھتی ہے۔ موجودہ زمانہ میں سیاحت کو انڈسٹری سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح مکہ والوں کے لیے شرک ایک انڈسٹری تھی۔ ان کے بیشتر تجارتی مفادات اسی انڈسٹری سے وابستہ تھے۔ اس لیے مکہ میں عمومی سطح پر توحید کو مقبولیت حاصل نہیں ہوئی۔ بات تھی جس کو قرآن کے بیان کے مطابق، اہل مکہ نے اس طرح کہا تھا : اگر ہم تمہارے ساتھ ہو کر توحید کی اس ہدایت پر چلنے لگیں تو ہم اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے (القصص ، ۵۷) ۳-کہ میں جب حصول افراد کا وہ کام مکمل ہو گیا جس کو قرآن میں قطع طرف (آل عمران ، ۱۲۷)کہاگیاہے یعنی ان کے بہتر حصہ کو کاٹ کر نکال لینا ، تو اس کے بعد آپ نے وہاں سے ہجرت کا فیصلہ فرمایا۔ کوئی فرار نہیں تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ مدینہ جاکر وہاں کے امکانات کو استعمال کیا جائے۔ یہ تاریخی امکانات اللہ تعالیٰ نے پیشگی طور پر مدینہ میں پوری طرح جمع کر دیے تھے۔
مثلاً مدینہ کے علاقہ میں یہود کے تین قبائل (نضیر ، قریظہ ، قینقاع) کی موجودگی ۔ ۷۰ء میں رومی شہنشاہ تیتس (Titus) نے فلسطین کو فتح کیا۔ اس نے یروشلم کو تباہ کر دیا۔ اس کے بعد یہودی جلاوطن ہو کر مختلف ملکوں میں چلے گئے۔ ان میں سے کچھ مدینہ بھی آئے ۔ چند صدیوں میں ان کی تعداد چار ہزار سے زیادہ ہو گئی ۔ ان یہودیوں کے اختلاط سے اہل مدینہ کو ایک آنے والے نجات دہندہ کا تصور ملا جو اچانک آکر قوم کے تمام مسائل کو حل کر دے گا۔
چنانچہ ہم سیرت کی کتابوں میں پڑھتے ہیں کہ حج کے موسم میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبائل عرب سے ملنے کے لیے نکلے تو آپ کی ملاقات مدینہ کے قبیلہ خزرج کے کچھ آدمیوں سے ہوئی۔ ان کے سامنے آپ نے اسلام پیش کیا اور ان کو قرآن پڑھ کر سنایا۔ نے آپ کی بات سنی تو آپس میں کہنے لگے :
یا قوم ، تعلمو والله انـه للنبـی الـذی لوگو سمجھ لو۔ خدا کی قسم ،ضروریہ وہی نبی ہے جس کا ذکر توعدکم به یهود فلا تسبقنکم تم سے یہودی کیا کرتے تھے۔ دیکھو، کہیں وہ اس اليه فـاجـابـوه فيمـا دعـاهـم الـيـه ۔ کی جانب تم پر سبقت نہ لے جائیں۔ پس جس چیز (سيرة النبی لابن ہشام ۳۸/۲) کی دعوت آپ نے انہیں دی اس کو انھوں نے قبول کر لیا۔
یہی معاملہ خود مدینہ کے عربوں کے سلسلہ میں ایک اور شکل میں پیش آیا۔ ہجرت سے چند سال پہلے ۶۱۸ میں مدینہ کے قبائل اوس اور خزرج میں خون ریز جنگ ہوئی۔ ان حالات میں وہ محسوس کرنے لگے کہ انھیں ایک قومی قائد کی شدید ضرورت ہے۔ یہی بات ہے جس کو حضرت عائشہ نے اس طرح فرمایا : كان يوم بعاث یوماقدمہ الله بعاث کا واقعہ ایک ایسا واقعہ تھا جو اللہ نے اپنے رسول لرسوله صلى الله عليه وسلم فقدم رسول الله کی خاطرتمہیدکے طورپربرپاکیا۔ چنانچہ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ صلى الله عليه وسلم و قد افـتـرق مـلاهم علیہ وسلم مدینہ آئے تو ان کے سردار متفرق ہو چکے تھے۔ وقتلت سرواتهم وجـرحـوا فـقـدمـه الله ان کے سربر آوردہ لوگ مقتول اور زخمی ہو گئے تھے۔ لرسوله صلى الله عليه وسلم في دخولهم چنانچہ اس واقعہ کو اللہ نے اپنے رسول کے لیے بطور تمہید برپا في الاسلام - (فتح الباری بشرح صحیح البخاری ۱۲۷/۷) کیا جو اہل مدینہ کے لیے دخولِ اسلام میں معاون بنا۔ یہی بات انسائیکلوپیڈیابرٹانیکاکے مقالہ نگار نے اس طرح کہی ہے کہ مدینہ کی ایک قبائلی جنگ میں بہت زیادہ خون بہا تھا جو ۶۱۸ میں ہوئی ۔ اس کے بعد امن پوری طرح قائم نہیں ہوسکاتھا۔ محمد کو مدینہ بلا کر وہاں کے بہت سے عرب غالباً یہ امید کر رہے تھے کہ وہ مخالف گروہوں کے درمیان ثالث کا کام کریں گے۔ یہود سے اہل مدینہ کے ربط نے غالباً انھیں ایک عیسائی مذہبی قائد کو قبول کرنے کے لیے تیار کیا ہو گا جو انھیں ظلم سے نجات دلائے اور ایک ایسی سلطنت بنائے جس میں انھیں انصاف مل سکے : Much blood had been shed in a battle at about 618, and peace was not fully restored. In inviting Muhammad to Medina, many of the Arabs there probably hoped that he would act as an arbiter among the opposing parties, and their contact with the Jews may have prepared them for a messianic religious leader, who would deliver them from oppression and establish a kingdom in which justice prevaild. (12/607)
پیغمبر اسلام کے مشن کا ایک جز یہ تھا کہ اس دور کو دنیا سے ختم کردیں جس کو فرانسیسی مورخ ہنری پرین نے مطلق شہنشاہیت (absolute imperialism) سے تعبیر کیا ہے۔ یہی سیاسی نظام ہے جو قدیم زمانہ میں انسانی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ چنانچہ آپ کی پیدائش جزیرہ نمائے عرب میں ہوئی جو اس زمانہ کی دو عظیم ترین شہنشاہیتوں ، رومی ایمپائر اور ساسانی ایمپائر کے درمیان میں واقع تھا۔
اس مقصد کے لیے آپ کا مقابلہ ان شہنشاہیتوں کے ساتھ پیش آنے والا تھا۔ اعتبار سے آپ کا ظہور انتہائی موزوں وقت میں ہوا۔ یہی وہ وقت ہے جب کہ رومیوں اور ایرانیوں کے درمیان پچیس سالہ جنگ (۶۲۸-۶۰۳) پیش آئی۔ یہ دونوں اپنے زمانہ میں ناقابل تسخیر حد تک طاقت ور سلطنتیں تھیں۔ مگر پیغمبر اسلام کی بعثت حیرت انگیز طور پر عین اس زمانہ میں ہوئی جب کہ دونوں سلطنتیں آپس میں لڑ کر تباہ ہو چکی تھیں۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کی طرف قرآن کی سورہ نمبر ۳۰ میں اشارہ کیا گیا ہے (غلبت الروم فى ادنى الارض وهم من بعد غلبهم سيغلبون) پیغمبر اسلام کی پیدائش کے بعد ۶۰۳ میں ایران نے رومی سلطنت پر حملہ کر دیا۔ جنگ کے بعد رومیوں کو شکست ہوئی۔ یہاں تک کہ ۶۱۶ میں یروشلم سمیت رومن ایمپائر کی مشرقی سلطنت کا بڑا حصہ ایرانیوں کے قبضہ میں چلا گیا۔
اس کے بعد قیصر روم کے اندر نیا حوصلہ پیدا ہوا۔ اس نے تیاری کر کے ۶۲۲ میں ایران کے اوپر جوابی حملہ کیا۔ ۶۲۴ء میں اس نے ایران پر فیصلہ کن فتح حاصل کی۔ ۶۲۷ء میں اس نے اپنے مقبوضہ علاقے دوبارہ ایرانیوں سے واپس لے لیے۔ تاہم ان دو طرفہ لڑائیوں میں دونوں عظیم سلطنتوں کی طاقت ٹوٹ گئی۔ دونوں کمزور ہو کر رہ گئیں۔
یہی وہ زمانہ ہے جب کہ پیغمبر اسلام کا ظہور ہوا۔ آپ نے اور آپ کے بعد آپ کے اصحاب نے دونوں سلطنتوں سے ٹکر لی اور دونوں کو توڑ کر تاریخ میں ایک نئے دور آزادی کا آغاز کیا۔ انسائیکلوپیڈیابرٹانیکا(۱۹۸۴)میں میں بازنطینی ایمپائر (Byzantine Empire) کے نام سے ۲۶ صفحہ کا ایک مقالہ شامل ہے۔ اس کے مصنف بازنطینی تاریخ کے ایک ایکسپرٹ پروفیسر نیکل (Donald MacGillivray Nicol) ہیں ۔ مسلم عہد کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں :
۶۳۲ء میں پیغمبر کی وفات کے بعد خلفاء نے عرب بدوؤں کی طاقت کا رخ ایک بامقصداورمنظم منصوبہ فتح کی طرف موڑ دیا۔ نتیجہ نہایت شاندار نکلا۔ ۶۳۶ء میں بازنطینی فوج کو دریائے یرموک کے کنارے ایک جنگ میں شکست ہوئی۔ اس کے بعد فلسطین اور شام کا دروازہ عربوں کے لیے کھل اسکندریہ نے ۶۴۲ء میں ہتھیارڈال دیااورپھرہمیشہ کے لیے مصر کا صوبہ بازنطینیوں کے اقتدار سے نکل گیا۔ اسی درمیان عربوں نے میسوپوٹامیا کے علاقہ میں پیش قدمی کی اور جلد ہی ایرانی فوج کو شکست دے کر ان کی راجدھانی کو فتح کر لیا۔ اس طرح ایرانی شہنشاہیت کی لمبی تاریخ ختم ہوگئی۔ اس وقت کی بازنطینی سلطنت اور ایرانی سلطنت کے کم از کم تین پہلوؤں نے عربوں کے لیے اس شاندار کامیابی کو آسان بنا دیا جس کی وجہ سے انھوں نے اپنے دشمنوں پر فتح حاصل کی۔ دونوں سلطنتیں جنگوں کے نتیجہ میں بالکل ختم ہو چکی تھیں اور ۶۳۲ء سے پہلے انھوں نے اپنی فوجوں کو گھٹا دوم، دونوں ہی سلطنتیں عرب سرحد پر اپنی ماتحت حکومتوں کی مدد بند کر چکی تھیں جنھوں نے پچھلی ایک صدی سے صحرائی بدوؤں کو آگے بڑھنے سے روک رکھا تھا۔ سوم، اور خاص طور پر بازنطینیوں کے معاملہ میں مذہبی اختلافات جنھوں نے شامیوں اور مصریوں کی قسطنطنیہ کے ساتھ وفاداری کو کمزور کر دیا تھا :
At least three aspects of the contemporary situation of Byzantium and Persia account for the phenomenal ease with which the Arabs overcame their `enemies: first, both empires, exhausted by wars, had demobilized before 632; second, both had ceased to support those client states on the frontiers of the Arabian Peninsula that had restrained the Bedouin of the desert for a century past; third, and particularly in reference to Byzantium, religious controversy had weakened the loyalties that Syrians and Egyptians rendered to
موسموں کی تبدیلی کا تعلق سورج کے گرد زمین کی گردش پر ہے۔ شمسی کیلنڈر اسی کی بنیاد پر بنایا چنانچہ شمسی کیلنڈر میں ہر موسم ہمیشہ ایک ہی مہینہ میں آتا ہے۔ مثلاً دسمبر میں ہمیشہ سردی اور جون میں ہمیشہ گرمی۔ مگر قمری کیلنڈر، جس کا سال شمسی سال سے گیارہ دن کم ہوتا ہے، ماہ قمری مہینوں کی بنیاد پر بنایا گیا ہے۔ اس لیے قمری کیلنڈر میں مہینے ہمیشہ موسم کے مطابق نہیں ہوتے۔ رمضان کا مہینہ کبھی جاڑے کے موسم میں آتا ہے اور کبھی گرمی کے موسم میں۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے جب اللہ کے حکم سے کعبہ کی تعمیر کی اور حج کا نظام
قائم کیا تو انھوں نے اس کا نظام قمری کیلنڈر کی بنیاد پر بنایا تھا۔ یعنی یہ کہ حج کی عبادت ذی الحجہ کے مہینہ میں ادا کی جائے۔ قدیم زمانہ میں مکہ کا قبیلہ قریش کعبہ کا متولی تھا۔ ان کی معاشیات کا سب سے بڑا ذریعہ کعبہ کا حج تھا۔ عرب کے تمام قبائل ہر سال حج و زیارت کے لیے مکہ آتے۔ وہ اس پر چڑھاوے اس کے علاوہ ان کے آنے سے مکہ کی تجارت کو فروغ حاصل ہوتا جس طرح سیاح آج کل جس ملک میں بڑی تعداد میں آتے ہیں وہاں کی تجارت کو ان سے فروغ حاصل ہوتا ہے۔ قریش نے دیکھا کہ ذی الحجہ کا مہینہ جب معتدل موسم میں پڑتا ہے تو زائرین کے قافلے زیادہ بڑی تعداد میں مکہ آتے ہیں۔ اور جب ذی الحجہ کا مہینہ سخت موسم میں پڑتا ہے تو زائرین کی تعداد کافی کم ہو جاتی ہے۔ اس تجربہ کے بعد قریش نے حج کے نظام کو بدل دیا۔ انھوں نے اس کو قمری کیلنڈر سے ہٹا کر شمسی کیلنڈر کی بنیاد پر قائم کر دیا۔ تاکہ حج کی تاریخ کو ہمیشہ معتدل اور موافق موسم میں انجام دیں اور اس طرح اپنے تجارتی مفاد کو بلا روک ٹوک حاصل کر سکیں۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کا ایک جز یہ بھی تھا کہ آپ حج کی عبادت کو دوبارہ ابراہیمی طریقہ پر قائم کر دیں۔ اس تبدیلی کا اعلان آپ فتح مکہ (۸ھ) کے موقع پر کر سکتے تھے۔ مگر آپ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اجتماعی اصلاح کے سلسلہ میں آپ کی ایک مستقل سنت یہ تھی کہ روایات کو توڑے بغیر ان کو نافذ کیا جائے۔ اگر آپ فتح مکہ کے دن اس کا اعلان فرماتے تو ایسی کارروائی روایات کو توڑے بغیر نہیں ہو سکتی تھی۔
اصل یہ ہے کہ قمری کیلنڈر چونکہ شمسی سال سے گیارہ دن کم ہوتا ہے۔ اس لیے ۳۳ سال کی گردش کے بعد دونوں ایک دوسرے کے برابر ہو جاتے ہیں۔ مثلاً رمضان کا مہینہ اس سال اگر فروری میں پڑے تو ۳۳ سال کے بعد دوبارہ وہ فروری کے مہینہ میں آجائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے دو مہینہ پہلے یہ ۳۳ سالہ دور پورا ہونے والا تھا۔ اور دوبارہ حج کا موسم ذی الحجہ کے مہینہ میں آنے والا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد نہ تو حج کے نظام میں تبدیلی کا اعلان فرمایا اور نہ اس کے بعد آنے والے حج میں آپ نے شرکت کی۔ آپ نے ۱۰ھ میں پہلا حج کیا جس کو عام طور پر حجة الوداع کہا جاتا ہے۔ اس سال کا حج اپنے آپ خود گردش کے نظام کے نتیجہ میں ذی الحجہ میں ۱۱ الرس ال اگست ۱۹۹۳
پڑنے والا تھا۔ چنانچہ آپ نے اپنی وفات سے تقریباً دو ماہ پہلے مکہ جا کر حج ادا فرمایا۔ میں آپ نے جو خطبہ دیا ، اس میں آپ نے اعلان کردیااورفرمایاکہ اے لوگو ، زمانہ گھوم گیا پس آج کے دن وہ اپنی اس ہیئت پر ہے جس دن کہ اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا تھا تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : حقیقتِ حج، صفحہ ۳۲)
یعنی ۳۲ سال دور کو پورا کر کے اب حج کا موسم دوبارہ ذی الحجہ کے مہینے میں پڑ رہا ہے۔ یہی نظام مشیت خداوندی کے مطابق ہے۔ اب قریش کا جاری کردہ نظام ختم کیا جاتا ہے۔ کے لیے قمری کیلنڈر کے مطابق ذی الحجہ کے مہینے میں حج ادا کیا جائے گا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ روایات کو توڑے بغیر اصلاحات کرتا۔ اسی لیے آپ نے حج کی تاریخوں میں اصلاح فرمائی مگر یہ کام آپ نے روایات کو توڑے بغیر انجام دیا۔ یہ بے حد حیرت انگیز بات ہے کہ آپ کی پیدائش اور آپ کی وفات انتہائی موزوں وقت میں ہوئی۔ طرف مذکورہ ۳۲ سال دور پورا ہوا، اور دوسری طرف آپ اپنی مدت حیات پوری کر کے اس مخصوص مہینہ اور سال میں پہنچ گئے جب کہ آپ روایت شکنی کے بغیر فطری انداز میں حج کے نظام کی اصلاح کر سکیں۔ یہاں واضح طور پر آپ کی پیدائش اور آپ کی وفات کے وقت کی تعیین میں اس برتر خالق کا ہاتھ کام کرتا ہوا نظر آتا ہے جو تخلیق کے پورے نظام کو کنٹرول کر رہا ہے۔ عمر اور خارجی زمانہ میں اگر یہ مطابقت نہ ہوتی تو آپ اتنی صحت کے ساتھ اپنے مشن کو پورا نہیں کر سکتے تھے یہ واقعہ بھی اللہ (علم حيث يجعل رسالتہ) کی ایک ایمان افروز مثال ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن میں یہ بھی تھا کہ آپ حج کی سالانہ عبادت میں اس طرح اصلاح کریں کہ وہ شمسی کیلنڈر سے ہٹ کر قمری کیلنڈر پر آجائے۔ اور اس عمل کے درمیان روایات کو بھی توڑنا نہ پڑے۔ یہ ایک ایسا کام تھا جو محدود عمر کے ایک انسان کی استطاعت سے اس انقلابی تبدیلی کو قائم کرنے کے لیے ضروری تھا کہ مصلح کی پیدائش بالکل حسابی انداز میں ایسے زمانہ میں ہو جب کہ کائنات کا آفاقی نظام بھی اس کی مدت حیات کے ساتھ مساعدت کر رہا ہو۔ صرف خداوند عالم ہی اس پر قادر ہو سکتا تھا۔ اور پیغمبر اسلام کی زندگی میں ان آفاقی اسباب کا جمع ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ آپ خداوند عالم کے فرستادہ تھے۔
دنیا کے تمام انقلابات، خالص نظریاتی اعتبار سے، ناکام انقلابات ہیں۔ کیوں کہ کوئی بھی انقلاب اپنے نظریاتی معیار والانظام نہ بنا سکا۔ تمام انقلابات صرف ارباب حکومت کی تبدیلی کے ہم معنی ہیں۔ کا آغاز خوش نما نظریات کی تبلیغ سے ہوا۔ مگر جب عملی انقلاب کی نوبت آئی تو ان کا نتیجہ اس کے سوا کچھ اور نہ تھا کہ ایک گروہ کی سیاسی حکمرانی ختم ہو کر دوسرے گروہ کی سیاسی حکمرانی قائم ہو گئی۔ انقلابات کی تاریخ میں اسلامی انقلاب واحد انقلاب ہے جس میں عین اس کے نظریہ کے مطابق، ایک مثالی معاشرہ بنا اور ایک مثالی سماج قائم ہوا۔
اس فرق کا بنیادی سبب یہ ہے کہ بقیہ تمام انقلابات دوسری اور تیسری نسل میں مکمل ہوئے ۔ جب کہ اسلامی انقلاب اپنی پہلی ہی نسل میں عملی تکمیل کے مرحلہ تک پہنچ گیا۔ کسی نظریاتی تحریک کی پہلی نسل ہوتی ہے اس کے افراد کے لیے وہ نظریہ ذاتی دریافت ہوتا ہے۔ ان کے اندر اس نظریہ کے حق میں کامل اخلاص موجود رہتا ہے۔ جب کہ دوسری اور تیسری نسل تک پہنچ کر نظر یہ صرف ایک قسم کا رسمی عقیدہ بن کر رہ جاتا ہے۔ زندگی میں قوتِ محرکہ کے اعتبار سے وہ اپنی حیثیت کھو دیتا ہے۔ ڈیموکریسی (جمہوریت) کا نظریہ سترھویں صدی کے کچھ یورپی مفکرین نے پیش کیا ۔ مگر عملی صورت میں ڈیموکریسی اٹھارویں صدی کے آخر میں قائم ہوئی ۔ ۱۷۷۶میں امریکہ میں اور ۱۷۸۹ء میں فرانس میں۔ اس طرح ڈیموکریسی اپنی پہلی نسل میں صرف نظریہ کے درجہ میں باقی رہی۔ وہ اپنی تیسری نسل میں پہنچ کر عملی واقعہ بن سکی جب کہ اس کے ابتدائی نظریہ ساز ختم ہو چکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیموکریسی کے نام پر آنے والے انقلابات ڈیموکریسی کا حقیقی عملی نمونہ نہ بن سکے۔
اسی طرح کمیونزم کا نظریہ انیسویں صدی میں ابھرا۔ مگر اس کا عملی نفاذ بیسویں صدی میں کمیونسٹوں کی دوسری اور تیسری نسل میں ہوا۔ پہلی نسل کے افراد کے لیے اس کو عملی روپ دینا ممکن نہ ہو سکا۔ چنانچہ حکمرانوں کی تبدیلی کے معنی میں تو کمیونزم نافذ ہو گیا۔ مگر اس کا نظریاتی معیار کبھی اور کسی ملک میں واقعہ نہیں بنا۔
اس کے برعکس اسلام کا نظریہ پہلی ہی نسل (محمد صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما) کے زمانہ میں اپنی آخری تکمیل تک پہنچ گیا۔ اگر مثال کے طور پر ایسا ہوتا کہ عرب کی فتح بنو امیہ کی خلافت کے زمانہ میں ہوتی اور ایران و روم کی فتوحات بنو عباس کی خلافت کے زمانہ میں انجام پاتیں تو نا ممکن
تھا کہ اسلام کی تاریخ میں حیات انسانی کا وہ مثالی ماڈل موجود ہو جو اسلام کے پہلے دور میں بنا اور جو عام انسانوں کے لیے دائمی طور پر مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیوں کہ اگلی نسل تک پہنچتے پہنچتے اسلام کی اصل اسپرٹ لوگوں میں کافی کمزور ہو چکی تھی۔
کیا وجہ ہے کہ دوسرے انقلابات کی تکمیل کئی نسلیں گزرنے کے بعد ہوئی۔ مگر اسلامی انقلاب پہلی ہی نسل میں مکمل ہو گیا۔ اس کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ دوسرے نظریات کو پہلی نسل میں بڑی تعداد میں مردانِ کار حاصل نہ ہو سکے۔ جب کہ اسلامی نظریہ کو ہی پہلی ہی نسل میں مردانِ کار کی ایک طاقت اور ٹیم مل گئی جس نے غیر معمولی جد و جہد اور قربانی کے ذریعہ پہلی ہی نسل میں اس کو تکمیل کے آخری مرحلہ تک پہنچا دیا۔
اوپر جو آیت ہم نے نقل کی ہے کہ اللہ کو معلوم ہے کہ وہ اپنی پیغمبری کو کہاں رکھے (الانعام ۱۴۲) اسی کا ایک پہلو یہ تھا کہ پیغمبری کی جائے پیدائش اور مقام عمل کے لیے اس جگہ کا انتخاب کیا جائے جہاں اس کو پہلے ہی مرحلہ میں اعلیٰ صلاحیت کے مردان کار مل سکیں۔ ظہورِ محمدی کے زمانہ کو دیکھئے تو بظاہر عرب کا ملک اس مقصد کے لیے سب سے زیادہ غیر اہم نظر آتا ہے۔ اس وقت عربوں کی تصویر دنیا کی نظر میں کیا تھی، اس کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ فردوسی اپنے شاہنامہ میں ان کے بارہ میں لکھتا ہے کہ اے آسمان تجھ پر افسوس ہے کہ اونٹ کا دودھ پینے والے اور گوہ کا گوشت کھانے والے عربوں کا معاملہ اب یہاں تک پہنچا ہے کہ وہ ایرانی تخت کی آرزو کر رہے ہیں :
زشیر شتر خوردن و سوسمار عرب را بجائے رسید است کار کہ تخت کیان را کند بند آرزو تفو بر تو اے چرخ گرداں تفو اس وقت صرف خدا ہی جان سکتا تھا کہ اس بظاہر غیر اہم قبائلی مجموعہ کے اندر ایک عظیم قوم بننے کے امکانات چھپے ہوئے ہیں۔ مارگولیتھ نے عربوں کو ہیروئوں کی ایک قوم (a nation of heroes) مگر یہ اعتراف واقعہ کے ظہور میں آنے کے بعد کا ہے۔ ظہور واقعہ سے پہلے صرف خدا ہی یہ جان سکتا تھا کہ عرب قوم کے اندر کیا امکانی اوصاف چھپے ہوئے ہیں۔
ان عربوں میں دوسری غیر معمولی صفات کے ساتھ ایک انوکھی صفت یہ تھی کہ وہ ہر قسم کے تعصب سے خالی تھے۔ ان کے مزاج میں یہ چیز رچی بسی ہوئی تھی کہ وہ حق کا فورا اعتراف کر لیں۔
اسی صلاحیت کی بنا پر یہ ممکن ہوا کہ پیغمبر کی زندگی ہی میں ایک لاکھ سے زیادہ آدمی آپ پر ایمان لاکر آپ کے ساتھی بن گئے ۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو عرب میں مبعوث کرنا کوئی سادہ بات نہیں تھی۔ انتہائی اعلیٰ منصوبہ بندی کا معاملہ تھا۔ اس میں منصوبہ ساز کو یہ جاننا تھا کہ ساری دنیا میں وہ کون سا مخصوص مقام ہے جوپیغمبراسلام کو اپنا کام شروع کرنے کے لیے موزوں ترین ہے ۔
نہ صرف پیغمبروں کی تاریخ بلکہ کوئی تخلیقی نظریہ پیش کرنے والے ہر آدمی کی تاریخ بتاتی ہے کہ معاصر زمانہ میں بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو اس کے پیغام کو گہرائی کے ساتھ سمجھیں اور اس کے زمانہ ہی میں اس کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہو جائیں۔ عرب جیسی قوم میں مبعوث کرنے ہی کی وجہ سے یہ ممکن ہوا کہ اپنی زندگی ہی میں پیغمبر اسلام کو کثیر تعداد میں ایسے ساتھی مل گئے جو مطلوبہ انقلاب کے لیے جہاد عظیم کر سکیں ۔
یہ واقعہ اتنا اہم اور اتنا زیادہ استثنائی تھاکہ بائبل میں اس کے بارہ میں پیشگی خبر دے دی گئی ۔ بائبل(کتاب (کتاب استثنا) میں ہے کہ رم خدا موسیٰ نے جو دعا ئے خیر دے کر اپنی وفات سے پہلے بنی اسرائیل کو برکت دی وہ یہ ہے ۔ اور اس نے کہا : خدا وند سینا سے آیا ۔ اور شعیر سے ان پر آشکارا ہوا ۔ وہ کوہ فاران سے جلوہ گر ہوا ۔ اور وہ دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آیا : and he came with ten thousands of saints.
بائبل کی اس آیت میں سینا سے آنے والے حضرت موسیٰ ہیں۔ شعیر سے آنے والے حضرت مسیح ہیں اور فاران سے آنے والے سے مراد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ساتھ یہ انوکھا واقعہ پیش آیا کہ وہ آغاز نبوت کے صرف ۲۰ سال بعد دس ہزار صحابہ کے ساتھ فاتحانہ طور پر مکہ میں داخل ہوئے :
He received his prophetic call in about 610, and in January 630 he entered Mecca with 10,000 men. (VII/84)