Al-Risala · August 1994

ممکن سے آغاز

Al-Risala, August 1994, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو اس وقت عرب میں مختلف مسائل تھے۔ ۳۶۰ بت رکھے ہوئے تھے۔ رومن ایمپائراورساسانی ایمپائرنے عرب میں سیاسی نفوذ حاصل کر رکھا تھا۔ معاشرہ میں سود، زنا، شراب خوری جیسے جرائم پھیلے ہوئے تھے۔

مگر قرآن میں آپ کے اوپر پہلا حکم اترا تو وہ یہ نہیں تھا کہ طهروا الكعبة من الأصنام یاقاتل الفرس والرومان ، يا نفذ حدود الله على المجرمين۔ اس کے برعکس آپ کے اوپر پہلا حکم جو اتارا گیا وہ قرات اور تعلیم کے بارے میں تھا : إقرأ باسم ربك الذي خلق - خلق الانسان من اِقْرَأ وَرَبُّكَ الأكرم الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ - عَلَّمَ الإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمُ - اس سے معلوم ہوا کہ اسلامی عمل (Islamic activism) کا صحیح نقطہ آغاز یہ ہے کہ ممکن سے آغاز کیا جائے۔ بعثت کے وقت جو حالات تھے اس کے اعتبار سے تطہیر مسجد، سیاسی استقلال، اور تنفیذ حدود کا کام مطلوب ہونے کے باوجود، عملی طور پر ممکن نہ تھا۔ البتہ تعلیم اور دعوت سے آغاز کرنا پوری طرح دائرہ امکان میں تھا۔ آپ نے ، اللہ تعالیٰ کی رہنمائی میں ناممکن کو چھوڑ کر ممکن سے عمل اسلامی کا آغاز کیا۔ کا مقولہ ہے کہ سیاست ممکن کا فن ہے (politics is the art of possible) میں کہوں گا کہ عمل اسلامی کا پیغمبرانہ طریقہ یہ ہے کہ ممکن سے آغاز کیا جائے :

Prophetic way of beginning is to begin from the possible.

Printed page