Al-Risala · August 1994

عصر میں یسر

Al-Risala, August 1994, pp. 17–18

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام اور آپ کے ابتدائی اصحاب نے ممکہ میں توحید کی دعوت دینا شروع کیا تو وہاں کے لوگوں کی طرف سے سخت ردعمل پیش آیا۔ بظاہر ایسا معلوم ہونے لگا کہ مکہ کی سرزمین اسلام کے لیے صرف مشکلات و مصائب کی سر زمین ہے۔ اس وقت قرآن میں یہ رہنما آیت اتری کہ پس مشکل کے ساتھ آسانی ہے ،مشکل کے ساتھ آسانی ہے (فان مع العسر یسرا ان مع العسر یسرا)

اس سے پیغمبر کے فاتحانہ طریقہ کار کا ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا کے لیے خدا کا قانون یہ ہے کہ وہ کبھی بھی صرف مشکلوں کی آماجگاہ نہ بنے۔ یہاں ہمیشہ مشکل کے ساتھ عین اسی وقت آسانی بھی ضرور پائی جائے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جہاں بظاہر ہارڈ س ایڈوانٹج ہو وہیں عین اسی کے ساتھ ایڈوانٹج کی صورتیں بھی ضرور موجود ہو۔

"عصر میں یسر" کی مثال یہ ہے کہ کہ میں اگر ابو جہل جیسے منکر تھے تو وہیں عمر جیسے اعتراف کرنے والے بھی موجود تھے۔ اس وقت اگر کعبہ سے بتوں مکہ نکالنا مشکل تھا تو عین اسی وقت یہ ممکن تھا کہ لوگوں کے دلوں سے غیر اللہ کی پرستش کا جذبہ نکالا جائے۔ اسی طرح دورِ اول میں اہل اسلام کو عرب میں جو مشکلیں پیش آئیں وہ چیلنج بن کر اہل اسلام کی صلاحیتوں کو جگانے کا سبب بن گئیں۔ یہاں تک کہ، مارگریٹہ کے الفاظ میں۔ ان میں کا ایک ایک شخص ہیرو بن گیا۔

سیرت کا یہ پہلو بتاتا ہے کہ اہل اسلام جب اپنے آپ کو مسائل کے درمیان پائیں تو ان کو پیشگی طور پر یقین کرنا چاہیے کہ یہاں عین مسائل کے ساتھ ہی مواقع بھی موجود ہیں۔ ان کو چاہیے کہ مسائل کے خلاف فریاد کرنے کے بجائے مواقع کو دریافت کریں اور ان کو استعمال کر کے اپنی تاریخ کو آگے بڑھائیں۔ ہجرت: مقام عمل کی تبدیلی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات کو میں سخت سے سخت تر ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ وہاں کے مخالفین آپ کے قتل پر آمادہ ہو گئے۔ اس وقت آپ نے ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہیں کیا بلکہ مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے جس کو ہجرت کہا جاتا ہے۔

یہ ہجرت سادہ طور پر ترکِ وطن نہ تھی۔ یہ دراصل ایک اسٹریٹجی کامعاملہ تھا۔ اس کو ایک لفظ میں مقام عمل کی تبدیلی کہا جا سکتا ہے۔ آپ نے جب مکہ کوایک ناموافق مقام پایا تو آپ نے مدینہ کو

اپنا مرکز بنا لیا تا کہ وہاں سے اپنا مشن جاری رکھ سکیں۔

اس سے یہ اصول ملتا ہے کہ ایک جگہ کے لوگ اگر ضد اور مخالفت کی آخری حد پر آجائیں تو یہ صحیح نہ ہو گا کہ اہل اسلام وہیں ان سے لڑ کر ہلاک ہو جائیں۔ بلکہ انھیں دوسری مناسب جگہ تلاش کر کے وہاں اپنا اسلامی عمل جاری کر دینا چاہیے۔ یہ طریقہ ایک طرف اصل مشن کے زندہ رہنے کی ضمانت ہے، دوسری طرف اس میں یہ امکان بھی چھپا ہوا ہے کہ 'مدینہ' میں استحکام حاصل کرنے کے بعد مکہ بھی آخر کار قبضہ

Printed page