تھرڈ اپشن
Al-Risala, August 1994, pp. 19–20
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانہ میں مسلمانوں اور رومیوں کے درمیان موجودہ اردن
میں ایک جنگ پیش آئی جس کو غزوہ موتہ کہا جاتا ہے ۔ اس جنگ میں چند دن کے اندر بارہ اصحاب شہید ہو گئے ۔ اس کے بعد خالد بن الولید کو اسلامی لشکر کا سردار بنایا گیا۔ انھوں نے اندازہ کیا تو معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی تعداد تین ہزار ہے اور رومیوں کی تعداد دو لاکھ ہے۔ یہ فرق ناقابل عبور حد تک غیر مناسب (out of proportion) تھا۔ چنانچہ خالد بن الولید نے مقابلے کے میدان سے ہٹ کر واپسی کا فیصلہ کیا۔ یہ لوگ جب واپس ہو کر مدینہ پہنچے تو مدینہ کے کچھ لوگوں نے ان کا استقبال یا فرار (اے بھاگنے والو) کہہ کر کیا۔ اس وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیسوا با لفرار ولكنهم الكرار ان شاء اللہ تعالیٰ (وہ بھاگنے والے نہیں ہیں بلکہ دوبارہ اقدام کرنے والے ہیں) مدینہ کے مذکورہ مسلمان در اصل ثنائی طرزِ فکر (dichotomous thinking) میں مبتلا وہ سمجھتے تھے کہ ان کے لیے صرف دو میں سے ایک کا آپشن (انتخاب) ہے۔ پہلا آپشن یہ کہ دشمن سے بہادرانہ طور پر لڑا جائے ۔ اور دوسرا آپشن یہ کہ ہمت ہار کر بزدلانہ پسپائی اختیار کی جائے۔ آپشن غیر محمود تھا اس لیے ان کا خیال تھا کہ مسلم لشکر کو پہلے آپشن پر ہی قائم رہنا چاہیے تھا خواہ ان کا ایک ایک شخص لڑتے لڑتے اپنی جان دے دے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر رہنمائی دیتے ہوئے کہا کہ یہاں ایک تیسرا آپشن بھی اور وہ یہ کہ مقابلے کے میدان سے ہٹ کر مزید تیاری کی جائے تاکہ آئندہ زیادہ موثر انداز میں اقدام کیا جا سکے۔ خالد بن الولید کی موتہ سے واپسی فرار کی طرف واپسی نہیں تھی بلکہ وہ اسی تھرڈ آپشن کی طرف چنانچہ تاریخ بتاتی ہے کہ مسلم جماعت نے تین سال بعد مزید تیاری کے ساتھ اسامہ ابن زید کی سرداری میں دوبارہ رومی سرحد کی طرف اقدام کیا اور شاندار کامیابی حاصل کی۔