Al-Risala · August 1994

میدانِ عمل کی تبدیلی

Al-Risala, August 1994, pp. 20–21

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ چلے آئے ۔ مگر مکہ کے سردار اب بھی خاموش نہیں ہوئے ۔ انھوں نے آپ کے خلاف باقاعدہ جنگ چھیڑ دی ۔ کئی بار دونوں طرف کی فوجوں میں مگر جنگ کے ذریعہ آخری فیصلہ نہ ہوسکا۔

اس کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ سے وہ معاہدہ کر لیا جو صلح حدیبیہ کے نام سے یہ در اصل دونوں فریقوں کے درمیان دس سال کا نا جنگ معاہدہ تھا۔ اس معاہدہ کے

ذریعہ آپ نے فریق ثانی کے ساتھ میدان مقابلہ کو بدل دیا۔ اب تک دونوں کا مقابلہ جنگ کے میدان میں پیش آرہا تھا ۔ اب دونوں کا مقابلہ نظریاتی میدان میں منتقل ہو گیا۔ اس معاہدہ کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان بڑے پیمانہ پر طنا جٹنا شروع ہو گیا۔ اس اختلاط کے دوران اسلام کی نظریاتی برتری اپنے آپ ثابت ہونے لگی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہو کر اسلام میں داخل ہونے لگے۔ اہل اسلام کی تعداد مسلسل بڑھ رہی تھی اور فریق ثانی کی تعداد مسلسل گھٹ رہی تھی۔ یہاں تک کہ مزید جنگ کے بغیر محض عوامی طاقت سے اہل اسلام غالب آگئے ۔

اس سنت رسول کا مطلب یہ ہے کہ حریف سے ایک میدان میں مقابلہ اگر موثر نہ ہو رہا ہو تو مقابلہ کے میدان کو بدل کر اس کو اپنے موافق میدان میں لایا جائے جہاں اہل اسلام اپنی کوششوں کو زیادہ موثر بنا سکیں۔

Printed page