Al-Risala · August 1994

تدرّج کا اصول

Al-Risala, August 1994, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

صحیح البخاری میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ قرآن جب اترنا شروع ہوا تو اس میں سب سے پہلے وہ آیتیں اتاری گئیں جن میں جنت اور جہنم کا ذکر تھا۔ اس طرح (تقریباً ۱۵ سال بعد) جب لوگوں کے دل نرم ہو گئے تو اس کے بعد قرآن میں یہ حکم اترا کہ زنا چھوڑ دو اور شراب چھوڑو۔ بعد وہ کہتی ہیں کہ اگر قرآن میں یہ احکام شروع ہی میں اتار دیے جاتے تو عرب کہتے کہ ہم تو کبھی زنا نہیں چھوڑیں گے ، ہم تو کبھی شراب نہیں چھوڑیں گے (لا ندع الزنا ابداً ولا ندع الخمر ابداً) اس سے معلوم ہوا کہ اسلامی شریعت کا نفاذ ہمیشہ ترتیب و تدرّج کے اصول پر کیا جاتا ہے۔ پہلے لوگوں کے دلوں میں اس کی آمادگی پیدا کی جاتی ہے۔ اس کے بعد عملی طور پر اس کا نفاذ کیا جاتا ہے۔ کوڑے اور بندوق کے زور پر کبھی شریعت کا نفاذ ممکن نہیں ہوتا ۔ اگر کوئی شخص ایک غیر تیار شدہ معاشرہ میں محض طاقت کے زور پر شریعت کے احکام کو نافذ کرنا چاہے تو یہ سنتِ رسول کے خلاف ہوگا۔ سنتِ رسول کی خلاف ورزی کر کے کوئی کامیابی اس دنیا میں ممکن نہیں۔

Printed page