Al-Risala · August 1994

آئیڈیلزم کے بجائے پریکگیٹزم

Al-Risala, August 1994, pp. 21–22

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں سے ایک سنت یہ ہے کہ اپنی ذات کے معاملہ میں آئیڈیلزم کواختیارکرنے کی کوشش کرو۔ مگر دوسروں سے معاملہ کرنے میں پریکمیٹک حل

(pragmatic solution) پر راضی ہو جاؤ۔ یہ آپ کی ایک اہم سنت ہے اور آپ کی پوری زندگی اس سنت کی مثال نظر آتی ہے۔

جس وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان حدیبیہ کا معاہدہ لکھا جا رہا تھا، آپ نے اس میں یہ الفاظ لکھوائے : ھذا ما صالح علیہ محمد رسول اللہ۔ قریش کے نمائندہ نے اعتراض کیا کہ ہم آپ کو خدا کا رسول نہیں مانتے۔ اس لیے آپ محمد رسول اللہ کے بجائے محمد بن عبد اللہ لکھوائیے۔ آپ نے محسوس کیا کہ اگر میں رسول اللہ کے لفظ پر اصرار کروں تو صلح کا معاہدہ نہیں ہو سکے گا۔ اس لیے آپ نے رسول اللہ کا لفظ کاغذ سے مٹا دیا اور اس کے بجائے محمد بن عبد اللہ لکھوا دیا۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب میں جو عظیم کامیابی حاصل کی اس میں اس سنت کا بڑا دخل یہ دنیا ایک ایسی دنیا ہے جہاں بے شمار لوگ ہیں اور ہر آدمی کو آزادی حاصل ہے۔ یہاں عملی معاملات میں پر یگمیٹزم کا اصول اختیار کیے بغیر کوئی بڑی کامیابی حاصل کرنا ممکن نہیں۔ پر یگمیٹک سولیوشن یا عملی حل کو ماننا کوئی تنزل کی بات نہیں ہے۔ یہ حقیقت پسندی کی بات ہے، اور اس دنیا میں حقیقت پسندی ہی تمام کامیابیوں کی کنجی ہے۔

Printed page