حديبیہ منہاج
Al-Risala, August 1994, pp. 24–33
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈاکٹر مائیکل ہارٹ کی مشہور کتاب (100 The) کا تعارف غالباً مسلم دنیا میں سب سے پہلے الرسالہ (اکتوبر ۱۹۷۸ء) میں چھپا۔ اس میں امریکی مصنف نے تاریخ کے ایک سو انتہائی ممتاز آدمیوں کا انتخاب کیا ہے۔ اور ان پر مضامین لکھے ہیں۔ اس سلسلہ میں مصنف نے اپنی فہرست میں نمبر ایک پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رکھا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ محمد تاریخ کے سب سے زیادہ کامیاب انسان (supremely successful man) تھے ۔
الرسالہ میں اس مضمون کی اشاعت کے بعد ہمارے پاس کثرت سے مسلمانوں کے ہر خط میں یہ پوچھا گیا تھا کہ مذکورہ کتاب کو حاصل کرنے کا پتہ کیا ہے۔ لوگوں نے اس کے اردو ترجمہ کی بابت دریافت کیا۔ تاہم لوگوں کی تحریروں سے اندازہ ہوا کہ ہر مکتوب نگار کو صرف سپریم سکس فل انسان سے دلچسپی تھی ، ان میں سے کسی کو بھی اس سے دلچسپی تھی کہ وہ اس سپریم سکس فل انسان کی سپریم سکس کار از معلوم کرنے کی کوشش کرے۔ یہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا عام مزاج ہے۔ اور اس مزاج کا سبب ہیرو ورشپ کی نفسیات ہے۔ موجودہ مسلمانوں نے رسول اور اصحاب رسول کو اپنا ہیرو بنالیا ہے کہ نہ اپنا یہ دراصل ان قوموں کی نفسیات ہے جو خود کوئی کارنامہ انجام نہ دے سکیں۔ اپنی تاریخی شخصیتوں کے پر عظمت تذکرہ کو اپنے لئے تسکین کا سامان بنا لیتے ہیں۔ کسی نے نہایت صحیح کہا ہے کہ تاریخ ان لوگوں کی پناہ گاہ ہے جنھوں نے خود کچھ زیادہ نہ کیا ہو جس کی وہ تعریف
History is often the refuge of those who have not done much themselves to امت مسلمہ جب زندہ حالت میں ہو تو اس کا پیغمبر اس کے لئے نمونہ عمل ہوتا ہے۔ اور امت مسلمہ کے لوگ جب زندہ حالت پر باقی نہ رہیں تو وہ اپنے پیغمبر کو اپنے لئے فخر کا نشان بنا لیتے ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان اسی دوسری حالت میں مبتلا ہیں۔
موجودہ مسلمانوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے لئے فخر کانشان بنالیا ہے۔ اور فخر کے جذبہ کی تسکین اسی طرح ہوتی ہے کہ آپ کو سپر یملی سکس فل کہا جائے ۔ قرآن میں پیغمبر اسلام کو اسوہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے نہ کہ فخر کے طور پر ۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة (الاحزاب ۲۱) مگر موجودہ مسلمانوں نے اپنی تشریح میں اس کو بدل کر لقد كان لكم فى رسول الله مفخرة حسنة بنادیا ہے۔
قرآن کی تعلیم کے مطابق ، ہمارے لئے سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہم یہ معلوم کریں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سپر یم سکس کاراز کیا تھا ۔ کیوں کہ اس راز کو جان کر ہی ہم دوبارہ اسلام کو اعلیٰ کامیابی کے مقام پر پہنچا سکتے ہیں۔
اس سوال کو لے کر جب ہم قرآن میں غور کرتے ہیں تو سب سے پہلے ہمارے سامنے قرآن کی وہ سورہ آتی ہے جس کا نام الفتح ہے ۔ اس سورہ میں اس واقعہ کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے کہ ہم نے تم کو کھلی فتح دیدی ( انا فتحنا لك فتحا مبینا ) ، ڈاکٹر مائیکل ہارٹ نے جس چیز کو سپر یم سکس بتایا ہے، اس کو قرآن میں فتح مبین کہا گیا ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فتح مبین یا سپر یم سکس کس طرح حاصل ہوئی ۔ قرآن کی مذکورہ آیت بتاتی ہے کہ آپ کو یہ غیر معمولی فتح صلح حدیبیہ کے ذریعہ اور اس کے بعد حاصل ہوئی ۔ مذکورہ آیت صلح حدیبیہ ہی کے بارہ میں اتری تھی ۔ اس لئے یہاں بطریق نص یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اس فتح کا راز وہ مخصوص طریقہ تھا جس کا استعمال حدیبیہ کے واقعہ میں کیا گیا ۔ اس کو ہم حدیبیہ منہاج کہہ سکتے ہیں۔
حدیبیہ سے بظاہر آپ اپنے مقصد کو حاصل کئے بغیر واپس آئے تھے ۔ چنانچہ حدیبیہ سے مدینہ واپس جاتے ہوئے راستہ میں جب سورہ فتح نازل ہوئی تو ایک شخص نے کہا کہ یہ تو کوئی انھوں نے ہم کو بیت اللہ میں داخلہ سے روک دیا۔ آپ نے فرمایا ۔ بلکہ وہ تمام فتحوں میں سب سے بڑی فتح ہے (قال رجل عند مُنْصَرَفِهم - ما هذا بفتح - لقد صدونا عن البيت - فقال النبی صلی الله عليه وسلم : بل ھواعظم الفتوح ) الجامع لا احکام القرآن ۲۶۰/۱۶
البرا ابن عازب صحابی نے بعد کے لوگوں سے کہا کہ تم لوگ فتح مکہ کو فتح سمجھتے ہو۔ مگر ہم لوگ (اصحاب رسول ) حدیبیہ کو فتح سمجھتے تھے۔ ابن شہاب زہری تابعی نے کہا کہ اسلام میں صلح حدیبیہ کو فتح اعظم کا درجہ حاصل ہے۔ (السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ۳۲۴٫۳)
یہ جو کچھ کہا گیا، اس سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اور اصحاب رسول کو جو عظیم کامیابی ملی، اس کا راز صلح حدیبیہ تھا۔ اسلام کا قافلہ حدیبیہ سے گزر کر فتح اعظم کے درجہ کو پہنچا۔ لحاظ سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اہل اسلام کے لئے فتح اعظم یا سپریم سکس کے مقام تک پہنچنے کا ذریعہ یہ ہے کہ وہ حدیبیہ منہاج کو اختیار کریں۔
اب غور کیجئے کہ حدیبیہ منہاج کیا ہے۔ یہ تمام قربانیوں میں سب سے بڑی قربانی ہے۔ ثبوت یہ ہے کہ اصحاب رسول جیسے فن کاروں کا گروہ بھی اس معاملہ میں وقتی طور پر متزلزل ہو گیا اور نہایت دشواریوں کے ساتھ اس امتحان میں پورااترسکا۔
اصحاب رسول کے سامنے بدر اور احد کے محاذ آئے جس میں انھیں اپنی جانوں کی قربانی پیش کرنی تھی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اصحاب رسول کسی سستی اور تذبذب کے بغیر اس میدان میں کود پڑے ۔ انھوں نے خون بہا کر اپنی جاں بازی اور قربانی کا ثبوت دیا۔ دوسری طرف تاریخ بتاتی ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کا معاہدہ کر لیا اور عمرہ کئے بغیر مدینہ کی طرف واپس جانے پر راضی ہوگئے تو ایک ابو بکر صدیق کو چھوڑ کر تمام اصحاب رسول نے اس پر اپنی عدم رضامندی کا اظہار کیا۔ بھی اس کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شدید اصرار اور دبائو کے تحت آخر کار وہ اس پر راضی ہوئے۔
یہاں سوچنے کی بات ہے کہ بدر و احد میں اور حدیبیہ میں کیا فرق ہے کہ اصحاب رسول جیسا سرفروش گروہ بدر و احد کی قربانی کے لئے بخوشی راضی ہو گیا مگر حدیبیہ کی قربانی پر راضی ہونا اس کے لئے سخت مشکل بن گیا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ بدر و احد کے محاذ پر جان کی قربانی دینا تھا، اور حدیبیہ کے محاذ پر وقار کی قربانی دینے کا مسئلہ تھا۔ اور ساری تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ انسان کے لئے
جان کی قربانی اتنی آسان ہے کہ ساری معلوم تاریخ میں بے شمار لوگ مسلسل جان کی قربانی دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ لیکن وقار کی قربانی اتنی زیادہ مشکل ہے کہ معلوم تاریخ میں چند اللہ کے بندوں کے سوا کوئی بھی دکھائی نہیں دیتا جو واقعی رضامندی کے ساتھ وقار کی قربانی دینے پر آمادہ
اس کی وجہ یہ ہے کہ جان کی قربانی میں آدمی ہیرو بن رہا ہوتا ہے جب کہ وقار کی قربانی میں وہ اچانک زیر و بن جاتا ہے۔ جان کی قربانی میں وہ اپنے آپ کو فتح کی طرف جاتا ہوا دیکھتا ہے اوروقارکی قربانی میں وہ محسوس کرتا ہے کہ میں نے خود اپنے فیصلے سے شکست کو قبول کر لیا۔ جان کی قربانی بظاہر ایک عزت کا عمل ہے اوروقار کی قربانی اس کے برعکس بے عزتی کا عمل۔ قربانی میں آگے بڑھناہوتاہے اوروقار کی قربانی میں پیچھے ہٹ جانا۔ جان کی قربانی میں استدام کا سہرا بندھتا ہے اور وتار کی قربانی میں پسپائی کا الزام سہنا پڑتا ہے ـــــ یہی وجہ ہے کہ جان کی قربانی چھوٹی قربانی ہے اور وتار کی قربانی زیادہ بڑی قربانی۔
یہ ایک معلوم بات ہے کہ جتنی بڑی قربانی اتنی ہی بڑی کامیابی۔ سب سے بڑی کامیابی کسی کو صرف اس وقت ملتی ہے جب کہ وہ سب سے بڑی قربانی دینے کے لئے تیار ہو۔ اور اصحاب رسول نے چوں کہ حدیبیہ کے موقع پر سب سے بڑی قربانی دی اسی لئے وہ اس دنیا میں سب سے بڑی کامیابی کے مستحق قرار پائے۔
حدیبیہ منہاج میں وہ کون سی خصوصی طاقت ہے جس کی بنا پر وہ فتح مبین کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ اس کا سراغ اس واقعہ میں ملتا ہے کہ ذوالقعدہ ۶ھ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ سے مکہ کا سفر فرمایا، اس وقت آپ کے ساتھ جو مردان کار تھے، ان کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے بھی کم تھی۔ مگر اس کے دو سال سے بھی کم عرصہ بعد رمضان ۸ھ میں جب آپ نے دوبارہ مکہ کی طرف مارچ کیا تو آپ کے ساتھ مردان کار کی تعداد دس ہزار ہو چکی تھی۔ میں اہل مکہ نے آپ کو حدیبیہ کے مقام سے لوٹنے پر مجبور کر دیا تھا۔ دوسرے سفر میں آپ کے عظیم قافلہ کو دیکھ کر وہ اتنا مرعوب ہوئے کہ مقابلہ کے بغیر انہوں نے شکست قبول کر لی۔ اس سے معلوم ہوا کہ حدیبیہ منہاج انسانی تسخیر کا منہاج ہے۔ حربی منہاج میں انسانوں
کے جسم کو قتل کیا جاتا ہے ۔ اور حدیبیہ منہاج میں انسانوں کی روح کو مسخر کیا جاتا ہے۔ جنگ کا منہاج یہ ہے کہ دشمن کا خاتمہ کر کے اس کے اوپر قبضہ کیا جائے۔ حدیبیہ منہاج یہ ہے کہ دشمن کو دوست بنا کر اس کو اپنی صف میں شامل کر لیا جائے۔ جنگ کے منہاج میں صاحب منہاج کا ہاتھ لوگوں کی گردن پر ہوتا ہے اور حدیبیہ کے منہاج میں صاحب منہاج کا ہاتھ لوگوں کے قلوب پر ۔ جنگ کا منہاج دوسروں کو مٹا کر اپنا غلبہ قائم کرنا ہے اور حدیبیہ کا منہاج لوگوں کو شریک کر کے حق کو سربلند کرنا ہے۔ جنگ کا منہاج اگر صرف میں کا نام ہے تو حدیبیہ منہاج میں اور آپ دونوں کا نام ۔ جنگ کے منہاج میں نفرت کامیابی کا ذریعہ بنتی ہے اور حدیبیہ کے منہاج میں محبت کامیابی کی منزل تک پہنچاتی ہے۔ حدیبیہ کا واقعہ نبوت کے تقریباً ۲۰ سال بعد پیش آیا۔ غور کیجئے کہ ایسا کیوں ہوا۔ اس طریقہ کو اختیار کرنے میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی۔ حدیبیہ منہاج کے اس پہلو پر غور کیا جائے تو اس سے یک اور عظیم حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے۔
اس معاملہ کا سراغ سورہ الفتح کے مطالعہ سے ملتا ہے۔ اس میں اصحاب رسول کو مخاطب کر کے بتایا گیا ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر جب قریش کے سرداروں نے سرکشی کا مظاہرہ کیا تو یہ ممکن تھا کہ تم کو جنگ کی اجازت دیدی جائے اور اللہ کی مدد سے تمہیں فتح بھی حاصل ہو۔ ایک خاص مصلحت کی وجہ سے تم کو جنگ کی اجازت نہیں دی گئی۔
وہ مصلحت یہ تھی کہ مکہ میں اس وقت بہت سے مرد اور عورت تھے جن کے دل میں اسلام داخل ہو چکا تھا۔ مگر انھوں نے چوں کہ ابھی اپنے اسلام کا اعلان نہیں کیا تھا، اس لئے تم ان کو نہیں گویا کہ امکانی طور پر وہ مسلمان تھے۔ اگر دونوں فریقوں میں جنگ چھڑتی تو یہ لوگ بھی اس میں مارے جاتے۔ تم لاعلمی میں اہل انکار کے ساتھ اہل اقرار کو بھی پیس ڈالتے۔ بلاشبہ یہ بہت بڑا نقصان ہوتا۔ (الفتح ۲۲ - ۲۵ )
پھر فرمایا کہ اللہ نے وہ بات جانی جو تم نے نہ جانی (فعلم ما لم تعلموا)، اس علم کی بنا پر حدیبیہ کے موقع پر یہ ہدایت دی گئی کہ ایک طرفہ شرط ماننا ہو تب بھی اس کو مان کر سرداران مکہ سے صلح کر لو۔ تاکہ ان امکانی مسلمانوں کو یہ موقع مل جائے کہ وہ اپنے پوشیدہ ایمان کا اعلان ۲۸ الرسائل اگست ۱۹۹۴ء
کر کے اسلام کی صفوں میں داخل ہو جائیں۔
اس صورت حال کا پس منظر یہ ہے کہ عرب کے لوگ (بنو اسماعیل عموماً سادہ مزاج تھے اور اپنی فطرت پر قائم تھے۔ ان کا شرک اوپری قسم کا تھا، وہ زیادہ گہرائی کے ساتھ ان کے اندر سرایت نہیں کرسکاتھا۔ یہی یہی وجہ ہے کہ اسلام کے ابتدائی دور میں کثرت سے ایسے واقعات ملتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا ہے۔ وہ سادہ قسم کے سوالات کرتا ہے اور اس کے بعد یا تو آپ کی صداقت کا اعتراف کر لیتا ہے یا اسی وقت کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کر لیتا ہے۔
مثلاً عمرو بن عبسہ ایک صحابی ہیں۔ وہ اولاً مکہ میں آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ سے کہا کہ جو کچھ اللہ نے آپ کو بتایا ہے اس میں سے مجھے بتائیے (علّمني مَقامَعْتُكَ اللہ)، آپ انھیں توحید ، صلہ رحمی اور حسن اخلاق کی باتیں بتاتے ہیں۔ فوراً کہہ اٹھتے ہیں کہ کتنی اچھی یہ باتیں ہیں جن کے ساتھ اللہ نے آپ کو بھیجا ہے (نعم ما ارسلک الله به) حیاۃ الصحابہ ۱/ ۲۷ اس طرح کے واقعات کثرت سے سیرت اور حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں ۔ سے ظاہر ہوتا ہے کہ قدیم عربوں کا بگاڑ اوپری نوعیت کا تھا۔ ان کی اصل شخصیت فطری حالت پر قائم تھی اور معمولی تحریک سے حق کو پہچان لیتی تھی۔
قدیم عربوں کی اسی سادگی کا نتیجہ تھا کہ ان کے چند سرداروں کو چھوڑ کر عام عربوں کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار زیادہ تر غلط فہمی کی بنا پر تھا نہ کہ حقیقۃ سرکشی کی بنا پر اپنے اسی مزاج کی بنا پر انھیں یہ جرات ہوئی کہ بدر کی جنگ سے پہلے وہ دعا کریں جس کا ذکر سورہ انفال میں کیا گیا ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ مکہ کے لوگ جب ایک ہزار کی تعداد میں مکہ سے نکل کر بدر کی طرف روانہ ہوئے تاکہ رسول اور اصحاب رسول سے جنگ کریں تو وہ بیت اللہ میں گئے۔ اور کعبہ کے پردے کو پکڑ کر دعائیں کیں۔ اس دعا میں انھوں نے کہا کہ اے اللہ دونوں گروہوں میں سے جو گروہ زیادہ ہدایت پر ہو اور دونوں دینوں میں سے جو دین زیادہ
افضل ہو، تو اس کی مدد فرما اور اس کو فتح دے (انعم لنا نفس و الى نصرة العير تعلقوا با ستار الكعبة وقالوا: اللهم انصر أهدى الطائفتين و افضل الدينين)، الجامع لاحكام القرآن ۳۸۷/۴ اس کے بعد جب دونوں فریقوں میں ٹکراؤ ہوا تو اہل ایمان کو فتح اور اہل شرک کو چنانچہ قرآن میں اہل مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ اگر تم فیصلہ چاہتے تھے۔ تو فیصلہ تمہارے سامنے آگیا اور اگر تم باز آجاؤ تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے (الانفال ۱۹) جنگ بدر کی اسی خصوصیت کی بنا پر اس کو یوم الفرقان (الانفال ۴۱) کہا گیا ہے ۔ جنگ بدر میں واضح فیصلہ آنے کے بعد عرب کے لوگ، تھوڑے سے سرداروں کو چھوڑ کر ، سخت متزلزل ہوگئے ۔ ان کا یہ خیال ہو گیا کہ صداقت ہماری طرف نہیں ہے بلکہ محمد کی طرف اس طرح بدر کے بعد عربوں کی اکثریت دین توحید کی طرف مائل ہوگئی۔ تاہم کچھ جابر اور سرکش سرداروں کے خوف سے ہر ایک اپنے ایمان کو چھپائے رہا۔
حقیقت یہ ہے کہ قدیم عرب (بنو اسماعیل)، اپنی سادگی اور اپنے فطری مزاج کی بنا پر اول روز ہی سے امکانی طور پر مومن تھے۔ اس کے بعد بدر کے موقع پر خدا سے افتتاح جب الٹی شکل میں برآمد ہوا تو ان کا ابتدائی میلان زیادہ طاقتوررجحان میں تبدیل ہوگیا۔ وہ امکانی طور پر اسلام کے دروازہ پر پہنچ گئے۔
اب مسئلہ صرف ایک تھا، اور وہ سرداران قریش کا تھا۔ وہ اپنی قیادت اور برتری کو قائم رکھنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ چھیڑے ہوئے تھے اور بظاہر اس پر راضی نہ تھے کہ آپ کا اور آپ کے موحدانہ مشن کاخاتمہ کئے بغیروہ اپنی جنگ جوئی کو ختم انھیں سرکش سرداروں کے خوف سے مکہ اور اطراف مکہ کے لوگ اسلام قبول کرنے سے گھبراتے تھے۔
کسی ندی میں پانی بہہ کر آئے اور بیراج کے آہنی گیٹ پر رک جائے۔ اب ایک طرف پانی کے ذخائر ہیں اور دوسری طرف کھیت اور باغات ۔ ایسی حالت میں اگر روک دروازہ کو ہٹا دیا جائے تو پانی کا سیلاب اپنے آپ بہہ کر کھیتوں اور باغوں میں پہنچ جائے گا ۔
بعد اس کی ضرورت نہ ہوگی کہ پانی کے ذخیرہ کو دھکا دے کر آگے بڑھایا جائے۔ اس وقت قریش کی جنگ جوئی اسی قسم کے ایک روک دروازہ (trap door) جیسی ہوگئی مسئلہ صرف دریائی روک کو ہٹانے کا تھا۔ روک کے ہٹنے کے بعد یقینی تھا کہ ہدایت کا سیلاب اپنے آپ یلغار کر کے لوگوں کے دلوں میں داخل ہو جائے گا۔
قریش سے جنگ جاری رکھنے کے لئے خون کی قربانی درکار تھی۔ اور جنگ کی صورتحال کو ختم کرنے کے لئے وقار کی قربانی کا مسئلہ تھا۔ کیوں کہ جنگ دو طرفہ بنیاد پر ہرگز ختم نہیں ہو سکتی جنگ کو ختم کرنے کی واحد صورت یہ تھی کہ اس کو وقار کا مسئلہ نہ بنایا جائے اور یک طرفہ طور پر اپنے وقار کی قربانی دے کر قریش کے سے صلح کر لی جائے۔ صلح حدیبیہ اسی قسم کا ایک دور رس معاملہ ہے۔
حدیبیہ منہاج یہ ہے کہ مدعو کی طرف سے جب رکاوٹ ختم نہ کی جارہی ہو تو داعی یک طرفہ جھکاؤ کے ذریعہ اپنی طرف سے رکاوٹ کا خاتمہ کر دے۔
اس وقت صورتحال یہ تھی کہ مسلمان اپنے سینہ میں یہ غم لئے ہوئے تھے کہ مکہ کے سرداروں نے ان کو ان کے وطن سے نکالا۔ ان کے گھروں اور جائیدادوں پر قبضہ کیا۔ لڑائیاں چھیڑ کر ان کی عورتوں کو بیوہ اور ان کے بچوں کو یتیم کیا۔ مکہ جا کر عمرہ کرنے میں رکاوٹیں ڈالیں۔ اس قسم کے واقعات انہیں اس پر اکسارہے تھے کہ قریش سے لڑ کر انتقام لیں اور انھیں ان کے کئے کا سبق
دوسری طرف یہ صورت حال تھی کہ اگر مسلمان اپنے غموں اورشکایتوں کو بھلا دیں اور اپنے شکایتی جذبات کو دبا کر یک طرفہ طور پر خاتمہ جنگ کے لئے راضی ہو جائیں تو اس کے بعد معتدل فضا پیدا ہو جائے گی۔ معتدل فضا پیدا ہونے کے بعد اسلام کے تعارف کا کام تیزی سے بڑھ جائے گا۔ لوگ جو پہلے ہی سے اسلام کے قریب آ چکے ہیں، حالات کی موافقت انھیں تیزی سے اسلام کی طرف لانا شروع کر دے گی۔
قتال نام ہے خون کی قربانی دے کر اسلام کا دفاع کرنے کا۔ حدیبیہ نام ہے وقار کی قربانی دے کر خدا کے بندوں کے لئے خدا کے دین کا دروازہ کھولنے کا یہی فرق
یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ ثانی الذکر قربانی اول الذکر قربانی سے زیادہ عظیم ہے۔ مسلم نے ابوہریرہؓ کے واسطہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے پسند ہے کہ ہم اپنے اخوان (بھائیوں) کو دیکھیں۔ صحابہ نے کہا کہ کیا ہم آپ کے اخوان نہیں ہیں اے خدا کے رسول۔ آپ نے فرمایا کہ تم لوگ میرے اصحاب ہو۔ ہمارے اخوان وہ لوگ ہیں جو ابھی نہیں آئے رَوَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا۔ قالوا اَولسنااخوانَک یارسول قال انتم أصحابی و إخواننا الذین لم یأتوا بعد الدارمی نے روایت کیا ہے کہ ابو عبیدہ بن الجراح نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا امت میں کوئی ہم سے بہتر ہے۔ ہم آپ پر ایمان لائے۔ اور آپ کے ساتھ جہاد کیا۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ وہ لوگ جو میرے اوپر ایمان رکھیں اور انھوں نے مجھ کو دیکھا نہ ہوگا (قلت یا رسول الله احد خير منا - آمنَابِك وَجَاهَدنا معك - قال نعم قوم يؤمنون بی ولم يَروُنى جامع الاصول فی احادیث الرسول ۲۰۶/۹ - ۲۰۷ اس حدیث میں لم يَرُونی محض لفظی معنوں میں نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ ایک ایسا پیغمبر جو بعد کے زمانہ میں تاریخ کی سب سے بڑی شخصیت بننے والا ہو، جس کی عظمت مسلمہ عظمت کا درجہ حاصل کرنے والی ہو، اس کو ماننا کوئی امتیازی خصوصیت کی بات نہیں ہو سکتی۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس کو کسی معنوی مفہوم میں لیا جائے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جس پیغمبر کی نشاء کو دور اول کے اصحاب رسول نے براہ راست طور پر پیغمبر کو دیکھ کر اور اس سے سن کر مانا تھا، اس پیغمبر کی نشاء کو بعد کے اخوان رسول دیکھے اور سنے بغیر ذاتی دریافت کے ذریعہ معلوم کریں گے۔ اس معاملہ کی وضاحت ایک مثال سے بخوبی ہوتی
اصحاب رسول کے سامنے بدر اور احد کا محاذ آیا۔ یہ محاذ جان کی قربانی کا طالب تھا۔ اصحاب رسول نے بلاتأمل یہ قربانی پیش کر دی۔ پیغمبر کا اشارہ پاتے ہی وہ بدر و احد کے میدان جہاد میں کود پڑے۔ پھر کسی کو اللہ نے شہادت دی، اور کوئی اس سے غازی بن کر
انہیں اصحاب رسول کے سامنے دوسرا محاذ وہ آیا جس کو ارباب سیر غزوہ حدیبیہ یہ دوسرا محاذ بھی قربانی کا محاذ تھا۔ البتہ ظاہری طور پر دونوں میں فرق تھا۔ دوسرے محاذ پر صرف ایک ابو بکر صدیق کو چھوڑ کر تمام کے تمام صحابہ تشویش میں مبتلا ہوگئے ۔ وہی لوگ جنہوں نے پہلے محاذ پر یقین کا مظاہرہ کیا تھا، اس دوسرے محاذ پر شدید ترد د میں پڑ گئے۔ یہاں تک کہ پیغمبر کے ذاتی اور شخصی زور پر انہوں نے اس کو قبول کیا۔ آج یہی تاریخ دوبارہ مسلمانوں کی طرف لوٹ آئی ہے۔ آج ایک طرف ساری دنیا میں ایسی روحیں موجود ہیں جو بظاہر غیر مسلم ماحول میں ہیں۔ مگر ان کی فطرت دین حق کو قبول کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔ لیکن موجودہ زمانہ میں مسلمانوں اور غیر مسلم قوموں کے درمیان ساری دنیا میں نزاع اور ٹکراؤ جاری ہے۔ اس نزاع اور ٹکراؤ نے اس معتدل فضا کا خاتمہ کر دیا ہے جس میں مذکورہ قسم کے غیر مسلم کھلے ذہن کے ساتھ اسلام کو دیکھیں اور اس کو قبول کرلیں۔ اب آج مسلمانوں کو دوبارہ وہی قربانی دینا ہے جو صلح حدیبیہ کے وقت اصحاب رسول نے دی تھی۔ ان کو ذاتی شکایتوں کو بھلا دینا پڑا تھا۔ آج بھی حالات کا تقاضا ہے کہ مسلمان اپنی ذاتی اور قومی شکایتوں کو بھلا دیں تاکہ داعی اور مدعو کے درمیان معتدل تعلقات قائم ہوسکیں۔ صحابہ کرام نے رسول اللہ کو دیکھ کر اور آپ کی براہ راست ذاتی ہدایت پر صبر کی قربانی آج مسلمانوں کو رسول اللہ کو دیکھے بغیر صرف آپ کی سیرت کو سامنے رکھتے ہوئے یہی صبر والی قربانی دینا ہے۔ آج کے مسلمان اگر یہ قربانی دے سکیں تو وہ مذکورہ حدیث کے مطابق اخوان رسول قرار پائیں گے، اور بلا شبہ کسی مسلمان کے لئے اس سے بڑی سعادت نہیں ہوسکتی کہ قیامت کے دن اس کا استقبال اخوان رسول کی حیثیت سے کیا جائے۔
1. Woman in Islam and Western Society; 320 pages. 2. Islam: The Creator of Modern Age; 120 pages. 3. Islam: The Voice of Human Nature; 64 pages. 4. Hijab in Islam; 16 pages.