خودی ہے تیغ فساںلاالٰہ الااللہ
Al-Risala, August 1994, pp. 34–38
By Maulana Wahiduddin Khan
اگرچہ اپنی ذات کے لئے یہ لوگ بھی پوری طرح امن پسند ہیں۔ ان کا اصول ہے: جنگ نہ کرو البتہ جنگ کی باتیں خوب کرو۔ وہ خود اپنی ایک انگلی بھی کٹانا نہیں چاہتے مگر اپنی تقریر و تحریر میں سر کٹانے کو خوب گلورینفائی کرتے ہیں۔ اپنی اس دوعملی کے نتیجہ میں وہ خود تو ہمیشہ محفوظ رہتے ہیں۔ البتہ سادہ لوح مسلمان ان کی باتوں سے متاثر ہو کر مارے جاتے ہیں۔
اسلام کی تاریخ میں صلح حدیبیہ اسلام کی امن پسندی کی نہایت اعلیٰ مثال ہے۔ مگر ان جنگ پسند حضرات نے صلح حدیبیہ میں بھی جنگ کا اصول دریافت کر لیا ہے۔ وہ بیعت الرضوان کا حوالہ دے کر کہتے ہیں کہ دیکھو صلح حدیبیہ بھی جنگ کے منصوبہ سے خالی نہیں۔ مگر یہ حوالہ نہایت غلط اور بے بنیاد
سیرت اور حدیث کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بیعت الرضوان جنگ کی بیعت نہیں تھی، بلکہ عدمِ فرار کی بیعت تھی۔ یہ بیعت حدیبیہ کے سفر میں پیش آئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ سے سفر کے لئے نکلے تو اس وقت آپ نے اعلان فرمایا تھا کہ ہم جنگ کے لئے نہیں جا رہے ہیں، بلکہ عمرہ کے لئے جا رہے ہیں۔ حدیبیہ کے قیام میں بھی آپ نے بتہ کرایہ واضح فرمایا کہ ہمارا مقصد ہرگز جنگ نہیں ہے۔ بلکہ صرف زیارتِ کعبہ ہے۔ ایسی حالت میں حدیبیہ پہنچ کر جنگ کی بیعت لینے کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔ پھر بیعت الرضوان کی حقیقت کیا تھی۔ اس کے سلسلہ میں اس کا مختصر تاریخی پس منظر بیان کرنا ہوگا۔
بیعت الرضوان (۶ھ) اسلامی تاریخ کا مشہور واقعہ ہے جو حدیبیہ کے ضمن میں پیش آیا۔ یہ سفر اصلاً عمرہ کرنے کے لئے ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو قریش نے آپ کو مکہ میں داخل ہونے سے روکا۔ اس وقت قریش سے آپ کی صلح کی بات چیت اس دوران آپ نے حضرت عثمان بن عفان کو اپنا سفیر بنا کر قریش کے پاس بھیجا تاکہ وہ اہل مکہ کو بتائیں کہ آپ مکہ میں صرف عبادت کے لئے داخل ہونا چاہتے ہیں نہ کہ جنگ اور ٹکراؤ کے لئے۔
قریش اس بات پر راضی نہیں ہوئے۔ انھوں نے حضرت عثمان کو اپنے یہاں روک لیا۔ جب آپ کی واپسی میں تاخیر ہوئی تو مشہور ہو گیا کہ قریش نے حضرت عثمان کو قتل کر دیا ہے۔ خبربے حدغیرمعمولی تھی۔ چنانچہ اس کو سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چودہ سو اصحاب کو جمع کیا اور ان سے بیعت لی اسی کا نام بیعت الرضوان ہے۔
یہ بیعت کس بات پر تھی۔ روایات میں آتا ہے کہ کچھ لوگوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موت پر بیعت لی ہے۔ حضرت جابر بن عبد اللہ، جو خود اس بیعت میں شریک تھے، انھوں نے
تردید کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے موت پر بیعت نہیں لی۔ بات پر بیعت لی کہ ہم بھاگیں گے نہیں (ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لم يبايعنا على الموت ولكن بایعناعلی ان لا نفر )، البداية والنهاية ۴ / ۱۶۸۔
تمام سیرت نگاروں نے بیعت الرضوان کا یہی مفہوم لیا ہے۔ الفاظ اور سیاق کے مطابق اس کا کوئی اور مفہوم نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ ابن قیم نے اپنی مشہور کتاب زاد المعاد میں بیعت الرضوان کے تذکرہ کے تحت یہ الفاظ لکھے ہیں: فبايعوه على ان لا يفروا۔
روایات میں آتا ہے کہ اس کے بعد قریش مکہ نے سہیل بن عمروکواپناسفیربناکررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ سہیل بن عمرو ایک اعتدال پسند آدمی تھے اوربعد کوانھوںنے اسلام بھی قبول کر لیا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سہیل کو آتے ہوئے دیکھا تو آپ مطمئن ہو گئے اور فرمایا کہ قریش نے جب سہیل کو گفت و شنید کے لیے بھیجا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ صلح چاہتے ہیں۔
حدیبیہ کے سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کامل امن پسندی کا مظاہرہ کیا۔ ثانی کی مشتعل انگیزی کے باوجود آپ اشتعال نہیں ہوئے۔ ٹکراؤ کے ہر موقع سے یک طرفہ طور پر اعراض کرتے رہے۔ مثلاً دورانِ سفر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ قریش کا ۲۰۰ سواروں کا دستہ مکہ سے روانہ ہو کر آپ کی طرف آ رہا ہے۔ آپ کو جب اس کی خبر ملی تو آپ نے اصحاب سے یہ نہیں فرمایا کہ جنگ کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔ بلکہ آپ نے اپنا راستہ بدل اس طرح قریش کی فوج سے ٹکراؤ کی نوبت نہیں آئی۔
اپنی جماعت کے سب سے زیادہ نرم مزاج آدمی کو اس سفارت کے ساتھ بھیجا کہ ہم صلح کرنے کے لئے تیار ہیں۔ پھر جب قتل کی خبر ملی اس وقت بھی آپ نے ایسا نہیں کیا کہ خبر ملتے ہی قریش کے اوپر ٹوٹ پڑیں. بلکہ اپنے مقام پر ٹھہر کر لوگوں سے صرف اس بات کی بیعت لی کہ ہم یہیں جلے رہیں گے. قریش اگر خود سے لڑنے کے لئے آتے ہیں تو مقابلہ کریں گے ۔ اور اگر وہ صلح پر راضی ہوتے ہیں تو صلح کر لیں گے ۔ خواہ یہ صلح یکطرفہ شرطوں پر کیوں نہ ہو ، جیسا کہ آپ نے عملاً کیا۔ بیعت الرضوان کے باوجود صلح کر لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ بیعت اصلا جنگ کے لئے نہ تھی۔
اگر وہ جنگ کے لئے ہوتی تو نا ممکن تھا کہ اس کے بعد آپ اپنے دشمن سے یکطرفہ شرطوں پر صلح کر لیں۔ حضرت عثمان بن عفان جب گئے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کی حیثیت سے وہاں بین الاقوامی رواج کے مطابق ، سفیر کا قتل اعلانِ جنگ کے ہم معنی ہوتا ہے۔ جب یہ خبر ملی کہ قریش نے آپ کے سفیر کو قتل کر دیا ہے تو قدرتی طور پر آپ نے اس کا مطلب یہ سمجھا کہ قریش اب آخری طور پر آمادہ جنگ ہو چکے ہیں، وہ کسی حال میں صلح اور امن کا معاملہ کرنے پر راضی نہیں ہیں۔ اس خبر نے وقتی طور پر صورتِ حال کو یکسر بدل دیا۔
ابتدائی صورتحال کے مطابق ، آپ کے سامنے صلح یا جنگ میں انتخاب (چوائس) کا مسئلہ اس وقت آپ نے جنگ کو چھوڑ کر صلح کا انتخاب فرمایا تھا۔ مگر قتلِ سفیر کی خبر نے ظاہر کیا کہ اب فرار یا جنگ میں سے کسی ایک صورت کے انتخاب (چوائس) کا مسئلہ در پیش ہے۔ کسی حال میں بھی صلح پر راضی نہیں ہیں۔ وہ ہر حال میں جنگ کرنا چاہتے ہیں۔ اس وقت آپ نے اپنے اصحاب سے عدمِ فراراوربصورتِ جارحیت دفاع کی بیعت لی۔ مگر جب معلوم ہوا کہ یہ خبر غلط تھی تو پھر دوبارہ آپ جنگ کو چھوڑ کر صلح پر راضی ہو گئے ۔ حالاں کہ یہ صلح آپ کو دشمن کی یکطرفہ شرطوں پر
بیعتِ الرضوان کا پیغام یہ ہے کہ تمہارے لئے اگرانتخاب (چوائس) فرار اور جنگ کے کے درمیان ہوتوفرارکوچھوڑکرجنگ کاطریقہ اختیارکرو۔ اوراگرتمہارے لئے انتخاب (choice) صلح اور جنگ کے درمیان ہو تو جنگ کو چھوڑ کر صلح کا طریقہ اختیار کرو ، خواہ یہ صلح فریقِ ثانی کی یکطرفہ شرائط پر ہی کیوں نہ ہو۔ مزید یہ کہ فرار کے مقابلہ میں عدمِ فرار کو اختیار کرنے کا حکم بھی مشروط حکم ہے نہ کہ مطلق حکم۔ کیوں کہ حدیبیہ (۵ھ) میں آپ نے فرار کے مقابلہ میں عدمِ فرار کا فیصلہ فرمایا۔ اس سے پہلے مکہ (۱ھ) میں اسی طرح کی صورت حال میں آپ نے وہاں سے ہجرت فرمائی۔ صبر کی اہمیت حدیبیہ در اصل عدم تشدد کی پالیسی کا دوسرا نام ہے۔ اسی پالیسی کا نام صبر ہے۔ میں صبر کی بے حد اہمیت ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص کو صبر سے زیادہ بہتر اور کشادہ عطیہ نہیں دیا گیا (وما أعطى احد عطاء خير أو اوسع من الصبر) فتح الباری شرح صحیح البخاری ۳۹۶۳
صبر کی اہمیت اور افضلیت کےبارہ میں اس قسم کے بہت سے اقوال رسولِ حدیث کی کتابوں میں آئے ہیں۔ مثال کے طور پر مسند احمد میں روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں تمہارے لیے صبر سے زیادہ کشادہ رزق اور کوئی نہیں پاتا (وما احدكم رزقا اوسع من الصبر) ان حدیثوں میں صبر کو رزق اور عطیہ کہا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ صبر کوئی سلبی چیز نہیں ہے بلکہ وہ ایجابی چیز ہے۔ صبر محرومی نہیں ہے بلکہ یافت ہے۔ صبر بے عملی نہیں ہے بلکہ وہ سب سے بڑا عمل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر پیغمبرانہ عمل (prophetic activism) یا اسلامی عمل (Islamic activism) کی اصل بنیاد ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا بتایا ہوا طریق کار تمام تر صبر کے اصول پر مبنی ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو جو قرآن دیا گیا وہ پورا کا پورا کتاب صبر ہے۔ جن آیتوں میں صبر کی براہِ راست تعلیم دی گئی ہے، ان کا صبر کی آیت ہونا واضح ہے لیکن غور کیجیے تو بقیہ قرآنی آیتیں بھی بالواسطہ طور پر صبر ہی کی آیتیں ہیں۔ مثلاً اقرا باسم ربک الذی عین صبر کی آیت ہے۔ کیوں کہ ماحول کی اشتعال انگیز یوں پر صبر کے بغیر اقرا کا عمل نہیں کیا جاسکتا۔ رب العالمین میں صبر کا لفظ نہیں مگر وہ عین صبر کی آیت ہے۔ کیوں کہ نقصان اور محرومی پر جب تک صبر نہ کیا جائے حقیقی کلمۂ حمدآدمی کی زبان سے نہیں نکل سکتا۔ قولا له قولا لينا (۴۳:۲۰) صبر کی آیت ہے کیوں کہ سرکش مخاطب کی دل آزار باتوں کو جب تک بر داشت نہ کیا جائے اس سے نرم انداز میں گفت گو نہیں کی جاسکتی۔
اس دنیا میں کامیابی کا واحد راز یہ ہے کہ ممکن سے اپنے عمل کا آغاز کیا جائے، اور ناکامی کا واحد سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ اپنی قوت اور طاقت کو ناممکن کے حصول میں لگا دیا جائے اس کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ متشددانہ طریق کار آدمی کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے اور پر امن طریق کارکامیابی کی طرف۔ متشددانہ طریق کار ہمیشہ بے صبری کا نتیجہ ہوتا ہے۔ مقابلہ میں پر امن طریق کار وہ لوگ اختیار کرتے ہیں جو نزاعی معاملات میں صبر و تحمل کا ثبوت نہ دے سکیں۔ امن کی طاقت اس دنیا میں سب سے بڑی طاقت ہے، اور صبر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ امن کی طاقت کو کامیاب طور پر استعمال کرسکے۔