Al-Risala · August 1994

تکمیلِ دین

Al-Risala, August 1994, pp. 39–40

By Maulana Wahiduddin Khan

ختم نبوت اور تکمیلِ دین دونوں ایک ہی حقیقت کے دو پہلو ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی تخلیقی اسکیم کے مطابق، یہ لازمی طور پر ضروری ہے کہ اہلِ عالم کے سامنے ہر زمانہ میں خدا کی رہنمائی موجود رہے۔ زمانوں میں یہ رہنمائی پیغمبروں کے ذریعہ فراہم کی جاتی تھی۔ انسان اول آدم علیہ السلام ہی کے وقت سے رہنمائی کا یہ سلسلہ شروع ہوا اور اس کے بعد ہر دور میں وہ مسلسل جاری رہا۔ یہی بات قرآن میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے ـــــــــ ثم ارسلنا رسلنا تترا (المؤمنون ۴۴)

محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں قرآن (الاحزاب ۴۰) میں اعلان کیا گیا کہ وہ آخری رسول اب ان کے بعد کوئی اور رسول آنے والا نہیں ہے۔ یہ اعلان سادہ طور پر صرف فہرست انبیاء کے پورے ہو جانے کا اعلان نہ تھا۔ اس کا لازمی مطلب یہ بھی تھا کہ ذاتِ نبوت اگرچہ اب دنیا میں موجود نہیں رہے گی مگر بدلِ نبوت ہمیشہ دنیا میں بدستور باقی رہے گا۔

تکمیلِ دین (بمعنی استحکام دین) دراصل اسی فیصلہ خداوندی کا ظہور ہے۔ ختم نبوت کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو نبوت کا بدل یا اس کا قائم مقام بنا دیا۔ قدیم زمانہ میں دین عدم استحکام کا شکار رہتا اس لیے نبی کے بعد وہ نبوت کا بدل نہیں بن سکتا تھا۔ پیغمبر آخر الزماں کے بعد، اللہ کی خصوصی نصرت کے ذریعہ دین کو پوری طرح مستحکم کر دیا گیا۔ اس طرح ختمِ نبوت کے بعد خود دین نبوت کا بدل بن گیا۔ قیامت تک یہ حالت باقی رہے گی، اس لیے اب قیامت تک محمد عربی کی نبوت بھی جاری رہے گی۔ اب کسی نئے نبی کے آنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

اسی معاملہ کو قرآن میں اکمالِ دین (یا تکمیلِ دین) کہا گیا ہے۔ یعنی دین کو اس طرح مستحکم کر دینا کہ قیامت تک اس کے لیے کسی قسم کا کوئی خطرہ باقی نہ رہے۔ قرآن کی سورہ نمبر ۵ میں ارشاد ہوا ہے : الیوم یئس الذین کفروا من دینکم فلا تخشوہم آج منکر لوگ تمہارے دین کی طرف سے مایوس ہو گئے پس الیوم اکملت لكم دينكم واتممت تم ان سے نہ ڈرو، تم صرف مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے علیکم نعمتی ورضیت لكم الاسلام لیے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور تمہارے اوپر اپنی نعمت دینا (المائدہ ۳) پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا۔

اس آیت میں دین کامل سے مراد دین مستحکم ہے (لسان العرب ۵۹۸/۱۱، تفسیر النسفی ۱/ ۲۷۰) پچھلے زمانوں میں دین میں بار بار تحریف و تبدیلی ہوتی رہتی تھی۔ مخالف طاقتیں پیغمبروں کے دین کو تاریخ تک سے مٹانے میں کامیاب ہو جاتی تھیں۔ پیغمبر آخر الزماں اور آپ کے اصحاب کے ذریعہ عالم انسانی میں ایسا انقلابات لایا گیا کہ دینی عدم استحکام کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ ضحاک کے قول کے مطابق، قرآن کی یہ آیت فتح مکہ کے بعد ۹ھ میں نازل ہوئی۔ یعنی ہجری کیلنڈر کے اعتبار سے چودہ سو سال پہلے ۔ اُس وقت کے حالات میں اس آیت کی حیثیت مستقبل کے بارہ میں ایک جرات مندانہ پیشین گوئی کی تھی۔ اس میں پیشگی طور پر یہ اعلان کیا گیا کہ اب تاریخ ایک نئے دور میں داخل ہو گئی اب خدا کے دین کے لیے خشیت انسانی کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ اب خدا کا دین اتنا مستحکم ہو چکا ہے کہ مخالف طاقتیں آئندہ کبھی بھی اس کو زیر کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں گی۔ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں تمام کام اسباب عادی کے تحت انجام پذیر ہوتے ہیں۔ اس صورت حال کو شامل کر کے مذکورہ آیت کی تفسیر کیجئے تو معلوم ہو گا کہ اس اعلان کا مطلب یہ تھا کہ آنے والے زمانوں میں تاریخ کا سفر صرف اس سمت میں ہو گا، جو دین خداوندی کے موافق ہو۔ آئندہ پیش آنے والے واقعات صرف وہی رخ اختیار کریں گے جو دین خدا کا اثبات کرنے والے ہوں نہ کہ اس کی تردید کرنے والے۔

یہ پیشین گوئی تمام زمانوں میں مکمل طور پر پوری ہوئی ہے ۔ اس طرح خالص علمی اور تاریخی سطح پر یہ ثابت ہوا ہے کہ قرآن خدا کی طرف سے اتارا ہوا کلام ہے۔ کیوں کہ خدا وند عالم کے سوا کوئی بھی تاریخ کے بارہ میں ایسے فیصلہ کن اعلان پر قادر نہیں اور نہ کبھی کسی نے اس قسم کا فیصلہ کن اعلان تاریخ کے بارہ میں کیا۔ اس مختصر صحبت میں میں تاریخ کے تین بڑے واقعات کا ذکر کروں گا۔ یہ واقعات وہ ہیں جو بظاہر مخالف دین انقلاب کی حیثیت سے ظاہرہوئے ،مگرباعتبارِ نتیجہ وہ حامی دین انقلاب بن گئے۔ یہ تین انقلاب ہیں آزادی، سائنس، اور سیکولرزم ۔

موجودہ زمانہ آزادی کا زمانہ ہے۔ جب کہ پچھلے تمام زمانے اظہار خیال پر پابندی کے زمانے ہر انسانی گروہ میں، خواہ وہ بڑے ہوں یا چھوٹے، دنیا کے ہر حصے میں اور تاریخ کے ہر مرحلے میں ، کسی نہ کسی شکل میں زبان و قلم پر احتساب قائم رہا ہے ؛

Printed page