ماہِ الرساں اگست ۱۹۹۳ء
Al-Risala, August 1994, pp. 41–45
By Maulana Wahiduddin Khan
آزادي اظہار پر اسی عمومی پابندی کا یہ نتیجہ تھا کہ مذاہب کی مقدس کتابیں کبھی کھلی تنقید کا موضوع نہ بن سکیں۔ تنقیدی جائزہ کی اس ممانعت کی بنا پر ایسا ہوا کہ ایک مذہبی کتاب اور دوسری مذہبی کتاب کا فرق بھی خالص علمی بنیاد پر واضح ہو کر سامنے نہیں آیا۔ مذہبی کتابوں کی حیثیت متعین کرنے کا معلوم ذریعہ صرف ایک تھا، اور وہ ان کتابوں کو ماننے والوں کا اپنا عقیدہ تھا۔ ہرگروہ اپنی مقدس کتاب کو یکساں درجہ میں آسمانی کتاب بتا رہا تھا، اس بنا پر لوگوں نے بھی ہر کتاب کو یکساں درجہ میں آسمانی کتاب فرض کر لیا حالانکہ اصل حقیقت یہ تھی کہ قرآن محفوظ آسمانی کتاب تھی اور دوسری تمام کتابیں غیر محفوظ آسمانی کتاب، قرآن پوری طرح غیر محرف تھا، جب کہ دوسری تمام مذہبی کتابیں تحریف کا شکار ہو چکی تھیں۔ موجودہ زمانہ میں جب کھلی آزادی کا دور آیا تو ہر چیز کی بے روک ٹوک جانچ ہونے لگی۔ مقدس مذہبی کتابیں بھی اس کی زد میں آ گئیں۔ یہ عمل پچھلے تقریباً تین سو سال سے اہل علم کے درمیان حتی کہ یہ ایک مستقل فن بن گیا ہے جس کو ہائر کریٹیسزم، ہسٹاریکل کریٹیسزم، تنقید متن (textual criticism) وغیرہ کہا جاتا ہے۔
اس آزادانہ جانچ کا یہ عظیم فائدہ ہوا کہ قرآن اور دوسری مقدس کتابوں کا فرق خالص علمی اور تاریخی اعتبار سے ثابت ہو کر سامنے آگیا۔ ان ناقدین نے جس طرح دوسری مقدس کتابوں کی جانچ کی۔ انھوں نے قرآن کی بھی بے رحمانہ جانچ کی۔ مگر آخر کار جو بات ثابت ہوئی وہ یہ تھی کہ قرآن ایک محفوظ کتاب ہے اور اس کے مقابلہ میں ہر ایک غیر محفوظ کتاب۔ قرآن غیر محرف ہے اور دوسری کتابیں محرف۔ قرآن ایک معتبر تاریخی کتاب ہے، جبکہ دوسری کتابوں کو تاریخی اعتبار یت حاصل نہیں۔ مثال کے طور پر دور جدید کے علماء نے قرآن کے مختلف نسخے مختلف ملکوں سے حاصل کیے ۔ نے مختلف زمانوں کے قرآنی نسخے ہاتھ سے لکھے ہوئے یا مطبوعہ قسم کے اکٹھا کیے ۔ ان تمام جمع شدہ قرآنی نسخوں کا ایک دوسرے سے تقابل کیا گیا۔ مگر قرآن کے ہزاروں نسخوں میں ایک اور دوسرے کے درمیان کوئی ادنی فرق بھی دریافت نہ ہو سکا۔ بعض آیتوں کے بعض الفاظ میں قرأت (لہجہ) کا فرق ضرور تھا ۔ جہاں تک مصحف میں کتابت کا سوال ہے، کتابت میں کوئی بھی جزئی یا کلی فرق ان میں پایا نہیں گیا ۔
دوسری مقدّس کتابوں کا معاملہ اس کے بالکل برعکس تھا۔ ان کے مختلف نسخوں میں ہزاروں واضح فرق پائے گئے، مثال کے طور پر تورات کے کچھ نسخوں میں ایک گروہ کی تعداد دس ہزار (Ten Thousands) بتائی گئی تھی۔ اور کچھ دوسرے نسخوں میں اسی گروہ کی تعداد کے لیے ہزاروں (Thousands) کا لفظ درج انجیل میں ایک مقام پر حضرت مسیح کے لیے ابن اللہ (son of God) لکھا ہوا ملا۔ اور اس کے کچھ دوسرے نسخوں میں حضرت مسیح کو ابن داؤد (son of David) لکھا ہوا تھا۔ موجودہ دور آزادی قرآن اور اسلام کے لیے ایک چیلنج بن کر سامنے آیا تھا۔ مگر آخری نتیجہ کے اعتبار سے دیکھے تو وہ اسلام کے حق میں صرف مفید ثابت ہوا۔ اس نے قرآن کے حق میں ایک نئی تاریخی دلیل فراہم کر دی۔ قرآن اور دوسری مقدّس کتابوں کا فرق جو اب تک صرف مسلمانوں کے ذاتی عقیدہ کی حیثیت رکھتا تھا، وہ اب خود علم انسانی کی رو سے ایک ثابت شدہ حقیقت بن گیا۔ آزادی کا یہ طوفان بظاہر اہل اسلام کے لیے عمر کا ایک واقعہ تھا۔ مگر آخری مرحلہ میں پہنچ کر وہ اہل اسلام کے لیے عین یُسر کے ہم معنی ثابت ہوا۔
دوسرا فکری انقلاب جدید سائنسی انقلاب ہے۔ خاص طور پر انیسویں صدی عیسوی میں کسی چیز کو دریافت کرنے کا وہ طریقہ وضع ہوا جس کو سائنسی طریقہ (scientific method) کہا جاتا ہے۔ اس طریقہ میں چیزوں کو قابل مشاہدہ یا قابل تجربہ واقعات کی روشنی میں جانچا جاتا ہے۔ اس طریقہ کے رواج سے انسان کو بہت سی نئی چیزوں کے بارہ میں واقفیت ہوئی، مثلاً شمسی نظام کا تفصیلی علم، یا زمین کی تہوں کے بارہ میں قطعی معلومات۔
ان مادی دریافتوں کے بعد ایک مستقل فلسفہ بنا جس کو عام طور پر پازیٹوزم (positivism) کہا جاتا اسی فلسفہ کے تحت یہ سمجھا جانے لگا کہ کسی حقیقی علم تک پہنچنے کا معیار (criterion) صرف ایک ہے، اور وہ براہ راست تجربہ یا مشاہدہ ہے جو قابل تصدیق (verifiable) ہو۔
اس نقطہ نظر سے دیکھا گیا تو مذہبی معتقدات اس معیار پر پورے ہوتے نظر نہیں آئے۔ مذہبی عقائد تمام تر بالواسطہ استدلال یا استنباط کی بنیاد پر قائم تھے۔ مثلاً خدا کا وجود ناقابل مشاہدہ اس کے حق میں جو دلیل دی جاتی تھی وہ بس اس قسم کی تھی کہ اس عالم میں چونکہ ڈیزائن ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اس کا ایک ڈزائٹر ہو۔ اس قسم کا استنباطی استدلال جدید علمی معیار کے مطابق غیر معقول ماہِ لسان اگست ۱۹۹۴ء
اس لیے ان کو فرضی توجیہات (pseudo-explanations) کہہ کر رد کر دیا گیا۔ علم کی دنیا میں تقریباً سو سال تک یہ فکری ہنگامہ جاری رہا۔ مگر اس نقطۂ نظر میں فکری وزن صرف اس وقت تک تھا جب تک انسانی علم کی رسائی عالم کبیر (macro-world) تک محدود تھی۔ کے آغاز میں جب انسانی علم کی رسائی عالم صغیر (micro-world) تک پہنچ گئی تو ساری صورتِ حال یکسر بدل گئی۔
اب معلوم ہوا کہ براہِ راست استدلال کا میدان بہت محدود ہے۔ نئے حقائق جو انسان کے علم میں آرہے تھے وہ اتنے لطیف تھے کہ صرف استنباطیاً بالواسطہ استدلال ہی وہاں قابلِ عمل نظر آتا تھا۔ مثال کے طور پر جرمن سائنس داں رانٹجن(Wilhelm (Wilhelm Conrad Rontgen) نے ۱۸۹۵ میں ایک تجربہ کے دوران پایا کہ اس کے سامنے کے شیشہ پر کچھ اثرات (effect) ظاہر ہو رہے ہیں جب کہ اس کے تجربہ اور اس شیشہ کے درمیان کوئی معلوم رشتہ موجود نہ تھا۔ اس نے کہا کہ یہاں ایک ناقابلِ مشاہدہ شعاع (invisible radiation) ہے جو ۱۸۶۰۰۰ میل فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کر رہی ہے۔ اس کی نامعلوم نوعیت (unknown nature) کی بنا پر رانجن کے اس کا نام اکسرے (X-rays) رکھ دیا (19/1058)
بیسویں صدی میں اس طرح کے کثیر حقائق سامنے آئے جن کا براہِ راست مشاہدہ ممکن نہ تھا مگر ان کے بالواسطہ اثرات کی بنا پر ان کے وجود سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس لیے جدید علماء مجبورہوئے کہ براہِ راست استدلال کے ساتھ استنباطی استدلال کو بھی ایک معقول استدلالی معیار کے طور پر تسلیم کریں۔ کیوں کہ اس کے بغیر اکسریز کی تشریح نہیں کی جاسکتی تھی۔ اس کے بغیر ایٹم کے سائنسی ڈھانچہ کو ماننا ممکن اس کے بغیر بلیک ہول یا ڈارک میٹر کے وجود کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا تھا۔ معیارِ استدلال میں اس توسیع کے بعد دینی معتقدات پر استدلال اتنا ہی معقول (valid) بن گیا جتنا کہ سائنسی نظریات پر استدلال۔ جس استنباطی منطق سے سائنس کے جدید نظریات ثابت کیے جارہے تھے عین اسی استنباطی منطق سے دینی عقیدہ بھی ثابت ہو رہا تھا۔
اس طرح چودہ سو سال پہلے قرآن کا یہ اعلان دوبارہ تاریخ میں قائم ہو گیا کہ انسانی افکار میں کوئی بھی تبدیلی اسلام کی حقانیت کو رد نہ کر سکے گی۔ آئندہ آنے والا کوئی بھی انقلاب
صرف دین خداوندی کی تصدیق کرے گا۔ وہ کسی بھی حال میں اس کی تردید کرنے پر قادر نہ ہوگا۔ تیسرا فکری انقلاب جس سے بعد کی تاریخ میں اسلام کا سابقہ پیش آیا وہ سیکولرزم ہے۔ یہ فکر یورپ کی نشأۃ ثانیہ کے ساتھ شروع ہوا۔ یہ سیکولرزم یک ایسی تحریک تھی جو بعد کو آنے والی دنیا کے بجائے موجودہ مادی دنیا کو ساری اہمیت دیتی تھی :
... a movement in society directed away from other worldlines to this
سیکولرزم کا نظریہ جدید دنیا پر ایک طاقتور سماجی اور سیاسی فکر کی حیثیت سے چھاگیا۔ نظری اعتبار سے اگرچہ اس کا مطلب یہ تھا کہ کسی ملک کی اجتماعی پالیسی مذہبی امور میں عدم مداخلت (non-interference) کی بنیاد پر قائم کی جائے۔ مگر علأوہ ایک زبردست مخالف مذہب (anti-religious) طاقت بن گیا۔ یہ معلوم ہونے لگا کہ سیکولرزم کی لہر اولاً مذہب کو زندگی کے حاشیہ کی طرف دھکیل دے گی ، اور اس کے بعد ایک غیر حقیقی نظریہ کی حیثیت سے مذہب کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جائے گا۔ مگر قرآن کی پیشین گوئی دوبارہ فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ معلوم ہوا کہ دین خدا وندی کا تعلق انسان کی ابدی فطرت سے ہے۔ مذہب کا احساس انسان کے لیے اسی طرح ناقابل تغیر ہے جس طرح پیاس کا احساس انسان کے لیے ناقابل تغیر ہے۔ سیکولرزم کی بنیاد پر بننے والے وسیع ترین ادارے اور انتہائی طاقت ور حکومتیں بھی اس میں کامیاب نہ ہو سکیں کہ انسان خدائی دین کو چھوڑ کر سیکولرزم کو اپنا
اس سلسلہ میں ایک سبق آموز تجربہ وہ ہے جس کی مثال ترکی میں ملتی ہے۔ کمال اتاترک نے ترکی میں سیاسی اقتدار حاصل کرنے کے بعد ۱۹۲۴میں اسلامی خلافت کے خاتمہ کا اعلان کر دیا۔ جارحانہ سیکولرزم کو ملک کی پالیسی قرار دیا۔ انھوں نے ریاستی طاقت کے زور پر تمام دینی مدرسے اور تمام دینی ادارے ایک لخت بند کر دیے۔ انھوں نے نئی قانون سازی کے ذریعہ ترکی کا پورا نظام لادینیت کی بنیاد پر قائم کر دیا۔ حتی کہ ترکوں کے قدیم لباس کو بھی بزدر تبدیل کرکے انھیں یورپی لباس پہننے پر مجبور کر دیا۔ اس سلسلہ میں ہر مخالفت کو طاقت کے ذریعہ کچّل دیا گیا۔
اتاترک کے انتقال کے بعد ان کے ساتھی عصمت انونو (م ۱۹۷۳ء) ترکی کے صدر مقرر ہوئے۔
اُنھوں نے بھی پوری وفاداری کے ساتھ اتاترک کی جارحانہ سیکولر پالیسی جاری رکھی۔ پچاس سال کی مخالفِ اسلام حکومتی مہم کے باوجود ترکی میں اسلام زندہ رہا۔ اتاترک کی اسلام ختم کرنے کی پالیسی مکمل طور پر نا کام ہو گئی۔ حتیٰ کہ خود عصمت انونو کو اپنی آخر عمر میں اس کا اعتراف کرنا پڑا۔ عصمت انونو جب مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو آخر وقت میں انھوں نے اس معاملہ میں اپنا جو تاثر بیان کیا وہ عربی رپورٹ کے مطابق یہ تھا :
اننی لا اکاد اصدق ما اری۔ لقد با لناكل میرے لیے اس پر یقین کرنا مشکل ہے جس کو میں دیکھ ما نستطيع لا نزاع الاسلام من نفوس رہا ہوں۔ ہم نے اپنے بس بھر تمام کوشش کی کہ ترکوں الاتراك وغرس مبادئ الحضارة الغربية کے دل سے اسلام کو نکال دیں۔ اور اس کی جگہ مغربی مكانه - فاذ٦ بنا تفاجأ بما لم نكن نتوقعه۔ تہذیب کو ان کے اندر داخل کر دیں۔ مگر حیرت انگیز فقد غر سنا العلمانية فاثمرت الاسلام طور پر نتیجہ ہماری توقع کے خلاف نکلا۔ چنانچہ ہم نے (الوعی الاسلامی ، ذوالقعده ۵۱۳۰۸) تو سیکولرزم کا پودا بویا مگر پھل نکلا تو وہ اسلام تھا۔ اس سلسلہ میں دوسری نا کام مثال سوویت یونین کی ہے۔ اس علاقہ میں اولاً فکری طور پر اور پھر ۱۹۱۷ء سے طاقت ور حکومت کے زور پر اسلام کو مٹانے کی کوشش کی گئی۔ مجموعی طور پر یہ کوشش تقریباً ایک سو سال تک جاری رہی۔ مگر ۱۹۹۱ میں خود کمیونسٹ ایمپائر ٹوٹ گیا۔ اور اس کے بعد حیرت انگیز طور پر اس کے ملبہ سے اسلام زندہ حالت میں نکل آیا۔
امریکی میگزین ٹائم (۱۲ مارچ ۱۹۹۰) نے سوویت علاقہ کے بارہ میں ایک رپورٹ شائع کی اس رپورٹ کا خاص مقصد یہ معلوم کرناتھاکہ نئے روس میں مذہب کی حیثیت کیا ہے۔ میں اس نے ۵۵ ملین سوویت مسلمانوں کا بھی جائزہ لیا تھا۔ اس نے بتایا تھا کہ اس علاقہ میں اسلام دوبارہ نئی طاقت کے ساتھ زندہ ہوگیا ہے۔ اس با تصویر رپورٹ کی سرخی معنی طور پر تھی ـــــــ کارل مارکس محمد کو جگہ دیتا ہے :