آخری بات
Al-Risala, August 1994, p. 46
By Maulana Wahiduddin Khan
یہاں ہم نے صرف دورِ جدید کے چند انقلابات کا مختصر ذکر کیا ہے۔ اسلام کے ساتھ اس قسم کے ناموافق واقعات پچھلے چودہ سو سال میں بار بار پیش آئے ہیں۔ ہر واقعہ اپنی ابتدا میں مخالفتِ اسلام کا واقعہ نظر آتا تھا۔ مگر اپنی انتہا پر پہنچ کر وہ عین حمایتِ اسلام کا واقعہ بن گیا۔ تیرھویں صدی عیسوی میں تاتاریوں کا غلبہ اور پھر اسلام کی فکری قوت سے ان کا مغلوب ہونا اسی نوعیت کی ایک مشہور مثال ہے۔ تاریخ کا یہ متواتر تجربہ ہمارے لیے نہایت حوصلہ بخش خوش خبری ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس دنیا میں اسلام کے حق میں فکری غلبہ کو ابدی طور پر مقدر کر دیا گیا ہے۔ اہل اسلام کو چاہیے کہ وہ کسی بھی طوفان کو دیکھ کر مایوس نہ ہوں۔ بلکہ یقین کے سرمایہ کے ساتھ اسلام کی دعوت کو لے کر آگے قرآن میں بتایا گیا ہے کہ مخالفت کی زیادتیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اگر تم اس کے سامنے دعوت خیر پیش کرو تو تم دیکھو گے کہ جو بظاہر تمہارا دشمن تھا وہ تمہارا قریبی دوست بن گیا ہے : والآن ونحن نواجه الصعوبات والمشكلات۔ يثبت التاريخ وكأنما سيف البترقد ظهر مرة اخرى کی يتحول الی خادم وحام لدين الله كما حدث في القرن السابع الهجری۔
نئی اور زیر طبع مطبوعات ہندوستانی مسلمان (از مولانا وحیدالدین خان)
مکتبہ الرسالہ، نئی دہلی