Al-Risala · September 1994

خدا کا عقیدہ

Al-Risala, September 1994, pp. 56–57

By Maulana Wahiduddin Khan

کہا جاتا ہے کہ خدا کی بنیاد پر کائنات کی توجیہہ کرنا اصل مسئلہ کا حل نہیں۔ کیوں کہ پھر فورا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر خدا نے کائنات کو بنایا تو خدا کو کس نے بنایا۔ مگر یہ ایک غیر منطقی سوال ہے۔ اصل مسئلہ بے سبب “خدا کو ماننا نہیں ہے۔ “بے سبب میں سے ایک بے سبب کو ترجیح دینا ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ ہمارے سامنے ایک پوری کائنات موجود ہے۔ ہم اس کو دیکھتے ہیں۔ ہم اس کا تجربہ کر رہے ہیں۔ ہم کائنات کے وجود کو ماننے پر مجبور ہیں۔ ایک شخص خدا کو نہ مانے، تب بھی عین اسی وقت وہ کائنات کو مان رہا ہوتا ہے۔

اب ایک صورت یہ ہے کہ آدمی کائنات کو بے سبب مانے۔ مگر اس قسم کا عقیدہ کیوں کہ کائنات میں تمام واقعات بظاہر اسباب و علل کی صورت میں پیش آتے ہیں۔ ہر واقعہ کے پیچھے ایک سبب کار فرما ہے۔ اس طرح خود کائنات کی اپنی نوعیت ہی چاہتی ہے کہ اس کے وجود کا ایک آخری سبب ہو۔ جب کائنات کے حال کا ایک سبب ہے تو اس کے ماضی کا بھی لازمی طور پر ایک سبب ہونا چاہیے۔ یعنی وہی چیز جس کو علت العلل کہا گیا ہے۔ بے سبب کائنات کو ماننا ممکن نہیں، اس لیے لازم ہے کہ ہم اس کا ایک سبب مانیں ۔ کائنات لازمی طور پر اپنا ایک آخری سبب چاہتی ہے۔ یہی منطق اس کو لازم قرار دیتی ہے کہ ہم خدا اس لایحل مسئلہ کو حل کرنے کی دوسری کوئی بھی تدبیر ممکن نہیں۔ جب ہم بے سبب خدا کو مانتے ہیں تو ہم دو ممکن ترجیحات میں سے آسان تر کو ترجیح دیتے ہیں۔ بے سبب خدا کو مان کر ہم اپنے آپ کو بے سبب کائنات کو ماننے کے ناممکن عقیدہ سے بچا لیتے ہیں۔ خدا کو ماننا عجیب ہے۔ مگرخداکونہ ماننااس سے بھی زیادہ عجیب ہے۔ خدا کو مان کر ہم صرف زیادہ عجیب کے مقابلہ میں کم عجیب کو اختیار کرتے ہیں۔

یہ صرف خدا کے وجود کا معاملہ نہیں۔ خالص سائنسی نقطہ نظر سے، اس دنیا میں کوئی بھی چیز نہ ثابت (prove) کی جاسکتی اور نہ غیر ثابت (disprove) کی جاسکتی۔ کسی بھی چیز کو ماننے کے

معاملہ میں یہاں انتخاب (option) ثابت شدہ (proved) اور غیر ثابت شدہ (unproved) کے درمیان نہیں ۔ بلکہ ہر انتخاب ورک ایبل (workable) اور نان ورک ایبل (non-workable) کے درمیان ہوتا ہے ۔

مثال کے طور پر اہل سائنس عام طور پر کشش (gravity) کے نظریہ کو مانتے ہیں مگر یہ ماننا اس لیے نہیں کہ کشش ثقل کوئی ثابت شدہ نظریہ ہے۔ نیوٹن نے سیب کو درخت سے گرتے ہوئے دیکھ کر یہ سوال کیا تھا کہ سیب نیچے کیوں آیا اور پھر تحقیق کر کے اس نے کشش ارض کا نظریہ مگر ایک سائنس داں نے کہا کہ نیوٹن کو اس پر تعجب ہوا تھا کہ سیب نیچے کیوں آیا۔ مجھے یہ تعجب ہے کہ سیب اوپر کیسے گیا۔

درخت کی جڑنیچے کی طرف جاتی ہیں اور اس کا تنا اوپر کی طرف۔ اگر جڑ کے نیچے جانے کا سبب یہ بتایا جائے کہ زمین میں کشش ہے تو تنا اور شاخوں کے اوپر جانے کی توجیہ کس طرح کی جائے گی ۔

یہی معاملہ تمام سائنسی نظریات کا ہے۔ سائنس میں جب بھی کسی نظریہ کو مانا جاتا ہے تو وہ غیر ثابت شدہ کے مقابلہ میں ثابت شدہ کو ماننا نہیں ہوتا۔ بلکہ نان ورک ایبل تھیری کے مقابلہ میں ورک ایبل تھیری کو ماننا ہوتا ہے۔ ٹھیک یہی اصول نظریہ خدا کے معاملہ میں بھی چسپاں ہوتا ہے۔ کشش کے معاملہ میں ہمارے لیے جو انتخاب ہے وہ با کشش مادہ اور بے کشش مادہ میں نہیں بلکہ با کشش مادہ اور غیر موجود مادہ میں ہے۔ چونکہ غیر موجود مادہ کا نظریہ ورک ایبل نہیں ہے۔ ہم نے با کشش مادہ کا انتخاب لے رکھا ہے، خالص علمی اعتبار سے یہی معاملہ خدا کے عقیدہ کا بھی ہے۔ کائنات کے اندر تخلیق کی صلاحیت نہیں ، وہ اپنے اندر کے ایک ذرہ کو نہ گھٹا سکتی اور نہ اس لیے ، دوسرے تمام سائنسی نظریات کی طرح ، یہاں بھی ہمارے لیے انتخاب باخدا کائنات (universe with God) اور بے خدا کائنات (universe without God) میں نہیں ہے۔ بلکہ باخدا کائنات اور غیر موجود کائنات (non-existent universe) میں ہے۔ چوں کہ ہم غیر موجود کائنات کا انتخاب نہیں کر سکتے ۔ اس لیے ہم مجبور ہیں کہ باخدا کائنات کے نظریہ کا انتخاب کریں۔

Printed page