Al-Risala · September 1994

علماء کامسلک

Al-Risala, September 1994, pp. 58–59

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اے لوگو، اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا۔ اور اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں (النساء (1) ابن کثیر نے اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پیدائش کی اصل ایک باپ اور ایک ماں سے ہے تاکہ لوگ ایک دوسرے کی طرف مائل ہوں (ان اصل الخلق من اب واحد وام واحدة ليعطف بعضهم على بعض (تفسیر ابن کثیر (۴۴۸/۱ النسائی، احمد اور ابو داؤد کی ایک روایت میں ہے کہ تمام انسان یکساں طور پر اللہ کے بندے ہیں اور سب آپس میں بھائی بھائی ہیں (ان العباد كلهم اخوة) اسی طرح خطبہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ تمام انسان آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے تھے (الا كلكم بنو آدم و آدم من تراب)

اس اسلامی اصول کے مطابق مسلمان اور غیر مسلم سب ایک دوسرے کے لیے بھائی بھائی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہندوستان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے باہمی تعلق کی صحیح ترین صورت یہ ہے کہ اس کو برادرانہ بنیاد پر استوار کیا جائے۔ مولانا سید حسین احمد مدنی نے اس کو ”متحدہ قومیت“ سے تعبیر کیا تھا۔ ملاحظہ ہو مولانا موصوف کی کتاب ، متحدہ قومیت اور اسلام، مطبوعہ ۱۹۳۸ء، مجلس قاسم العلوم دیوبند) مولانا حسین احمد مدنی کے ہندومسلم اتحاد کے نقطہ نظر کو مزید سمجھنے کے لیے ملاحظہ ہو : مکتوبات شیخ الاسلام، جلد اول، مکتوب ۶۳ - صفحہ ۱۴۱ - ۱۴۷ ۱۹۴۷ء سے پہلے ہندوستان کے تقریبا تمام علماء اس مسلک پر متفق تھے۔ وہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو بھائی بھائی کی طرح متحد کرنا چاہتے تھے۔ مگر بعض ناموافق اسباب کی بنا پر ، قومی اتحاد کی کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔ اس کے برعکس، دونوں فرقوں کا تعلق، تقسیم اور علاحدگی پسندی کی بنیاد پر قائم ہو گیا۔ اس تفریقی سیاست کے نہایت مہلک نتائج برآمد ہوئے ۔ ملک کی تقسیم کے بعد فرقہ وارانہ سیاست کا طوفان ختم ہوا تو مولانا ابو الکلام آزاد نے دسمبر ۱۹۴۷ء میں لکھنو میں ایک مسلم کانفرنس کی۔ مولانا آزاد نے اس موقع پر صدارتی تقریر کرتے

ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے موجودہ حالات اور ملک کے مستقبل کو دیکھتے ہوئے اس سے زیادہ کوئی ضروری چیز نہیں ہو سکتی کہ فرقہ واریت کو جو مذہب کے نام پر ابھاری گئی ہے ، ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا اگر ہمیں بربادی سے بچنا ہے تو فرقہ پرستی کے تمام دروازوں کو ہمیں بند کرنا پڑے گا ۔ مسلم تعلق کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بنیاد پر قائم کرنا ہوگا ۔

ضرورت ہے کہ علماء کے اس مسلک کو جو مکمل طور پر قرآن وسنت پر مبنی تھا ، اس کو دوبارہ پوری طاقت کے ساتھ زندہ کیا جائے ۔ مسلمانانِ ہند کے لیے بلاشبہ صحیح اور مفید پالیسی یہی ہے کہ اس ملک میں دونوں فرقوں کے تعلق کو اخوت اور اتحاد کی بنیاد پر قائم کیا جائے ۔ الرسالمشن پچھلے ۲۰ سال سے یہی خدمت انجام دے رہا ہے ۔ اس مشن کو اسلام اور علماء اسلام کی مکمل تائید حاصل ہے ۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اس اصلاحی مہم کو مزید مؤثر اور کامیاب بنایا جائے ۔ اس سلسلہ میں چند بنیادی نکات حسب ذیل ہیں :

ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان برادرانہ احساس کو زیادہ سے زیادہ ابھارا جائے ۔ ان کے باہمی تعلق کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جائے ۔ اس کے لیے ہر ممکن تدبیر اختیار کی جائے کہ دونوں فرقوں کے درمیان معتدل فضا میں برادرانہ اختلاط ہونے لگے ۔

مسلمان احتجاج غیر کے بجائے تعمیر ذات کو اپنی مستقل پالیسی بنائیں ۔ وہ احتجاج اور مظاہرہ اور جلوس کے طریقہ کو یکسرچھوڑدیں۔ شکایت کے مواقع پر وہ ٹکراؤ سے بچیں اور ہمیشہ پر امن تدبیر کے ذریعہ نزاعی معاملات کو طے کرنے کی کوشش کریں ۔ نزاع کے موقع پر ٹکراؤ کا طریقہ نزاع کو بڑھاتا ہے اور مخاصمت کا طریقہ نزاع کو ختم کر دیتا ہے ۔

تعلیم اور اقتصادیات کو سب سے زیادہ قابل توجہ قرار دیا جائے ۔ مسلمانوں میں تعلیم اگر عام ہو اور ان کی اقتصادی حالت بہتر ہو جائے تو اس کے بعد تمام مسائل اپنے آپ حل ہو جائیں گے ۔ ہر مقام پر ہندوؤں اور مسلمانوں کی مشترکہ امن کمیٹیاں بنائی جائیں ۔ اس کے ذریعہ یہ کوشش ہو کہ امن اور اتحاد کو برہم کرنے والے ہر واقعہ کو ابتداہی میں حسن تدبیر سے ختم کر دیا جائے ۔ لوگوں میں یہ مزاج پیدا کیا جائے کہ وہ اختلاف کے باوجود متحد ہو کر رہنا سیکھیں۔ کے فرق کے باوجود ایک دوسرے کی عزت کریں ۔

Printed page