امید کا نظام
Al-Risala, September 1994, p. 60
By Maulana Wahiduddin Khan
وما أصابكم من مصيبة فبما كسبت اور جو مصیبت بھی تم کو پہنچتی ہے تو وہ تمھارے ايديكم و يعفو عن كثير ۔ ہاتھوں کے کیے ہوئے کاموں ہی سے ۔ (الشوری ۳۰) بہت سے قصوروں کو وہ معاف کر دیتا ہے۔
قرآن کی یہ آیت بتاتی ہے کہ آدمی جب بھی دنیا میں کسی مصیبت سے دوچار ہوتا ہے تو وہ اس کے اپنے ہی کسی عمل کا نتیجہ ہوتا ہے ۔ اس دنیا میں کسی دوسرے کی زیادتی کی شکایت کرنا بے معنی ہے ۔ جب ہر آدمی خود اپنے کیے کو بھگت رہا ہو تو دوسرے کے خلاف شکایت اور احتجاج کرنا صرف وقت ضائع کرنا ہے ۔ کیوں کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں۔
یہ قدرت کا بنایا ہوا نظام ہے اور اس نظام میں ہمارے لیے خوش خبری ہے۔ لیے عظیم الشان امید کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس قدرتی نظام نے ہمارے مسائل کے حل کو خود ہمارے اپنے ہاتھ میں دے دیا۔ ہم کو اس کا محتاج نہیں کیا کہ ہم کسی دوسرے کی مہربانی کا انتظار کریں۔ کوئی آدمی جن مسائل سے دوچار ہو اگر اس کا سبب کچھ دوسرے لوگ ہوتے تو گویا کہ ہم دوسروں کے اوپر نر بھر ہوتے ۔ ہمیں دوسروں کی عنایت کا انتظار کرنا پڑتا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی دنیا کا نظام اس طرح بنایا کہ یہاں ہر آدمی کا معاملہ اس کے اپنے ہاتھ میں رکھ دیا۔ یعنی ہر آدمی اپنی ہی کوشش سے اپنی زندگی کی تعمیر کر سکے ۔ ہر آدمی کا مستقبل خود اس کے اپنے اختیار میں ہو۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی نادانی کی بنا پر نقصان اٹھاتا ہے ، ایسے لوگ دوبارہ دانش مندی کا طریقہ اختیار کر کے اپنے آپ کو نقصان سے بچا سکتے ہیں۔ کبھی کسی کا معاملہ غیر منصوبہ بند انداز میں کام کرنے کی وجہ سے بگڑ جاتا ہے ، اس کے لیے موقع ہے کہ آئندہ وہ منصوبہ بند انداز میں کام کر کے از سر نو اپنے معاملے کو درست کر لے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بے صبری کی روش کو اپنا کر آدمی مصیبت میں پھنس جاتا ہے ، اب اس کے لیے ممکن ہے کہ وہ صبر کی روش کو اپنا کر دوبارہ اپنے آپ کو مصیبتوں سے کبھی کچھ لوگ جذباتی اقدام کر کے اپنے کو بربادی میں ڈال دیتے ہیں، ان کے لیے موقع ہے کہ وہ حقیقت پسندی کے اصول پر چل کر دوبارہ کامیابی کی منزل تک پہنچ جائیں۔