Al-Risala · September 1994

۲۴ الرس، ستمبر ۱۹۶۳

Al-Risala, September 1994, pp. 25–27

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ اللہ کا شکر ہے کہ اس قسم کے سیکڑوں عرب نوجوان مختلف عرب ملکوں میں پیدا ہو چکے ہیں جو الرساله مشن سے شیفتگی کی حد تک تعلق رکھتے ہیں۔ الرساله مشن اردو میں جاری ہوا۔ لٹریچر زیادہ تر اردو زبان میں ہے۔ یہ عرب نوجوان اردو سے مکمل طور پر نا واقف ہیں، اس کے باوجود انھوں نے الرساله مشن کو جتنا زیادہ سمجھا ہے اور جتنا اس کو پایا ہے، اس کی مثال اردو داں لوگوں میں بھی مشکل سے ملے گی ۔

ان عرب نوجوانوں میں ایک قابل لحاظ تعداد ایسے نوجوانوں کی ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں اس کے لئے وقف کر دی ہیں۔ اور مختلف ملکوں میں خاموشی کے ساتھ اس مشن کو پھیلانے میں مصروف اس قسم کا ایک بڑا حلقہ تارہ میں ہے۔ وہ لوگ الرساله کے منتخب مضامین کا عربی میں ترجمہ کرواتے ہیں اور اس کو پمفلٹ کی صورت میں چھاپ کر عربوں کے درمیان پھیلا رہے ہیں۔ انگلینڈ میں مقیم عرب نوجوان یہی کام انگریزی کتابچوں کی صورت میں کر رہے ہیں۔ اور کئی ملک میں یہ کام خالص مثبت انداز میں جاری ہے۔

العارف عبد السلام احمد (۳۳ سال)، ایک عرب نوجوان ہیں۔ ان کی تعلیم برطانیہ (Red Car, Middlesborough) میں ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ ۲ اگست ۱۹۹۲ کو وہ لیسٹر میں وہاں مشہور مصری عالم ڈاکٹر محمد صلاح الصاوی ایک مؤتمر میں اپنا مقالہ پیش کرنے کے لئے وہاں ایک پاکستانی نوجوان ان سے بحث کرنے لگا کہ اسلام کی حاکمیت قائم کرنا امت پر فرض ہے اور یہی امت مسلمہ کا نصب العین ہے۔ ڈاکٹر رصاوی نے کہا : الحاکمية ليست بآية ولا حديث ولكنها اجتهاد بشر عرضة للخطأ حاکمیت کا لفظ نہ آیت ہے اور نہ حدیث۔ بلکہ وہ ایک انسان کا اجتہاد ہے جو غلطی کا شکار ہو سکتا ہے )

وگرنہ مجھے ڈاکٹر صلاح الصاوی کی کتاب قضیة تطبيق الشريعة في العالم الاسلامی اس کے باب را بع کا عنوان ہے: اجماع الامة على كفر من أبى التحاكم الى الكتاب و السنة ۔ اس باب میں ڈاکٹر یوسف القرضاوی کا ایک اقتباس ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے: بل أن العلمانى الذى يرفض مبدأ تحكيم الشريعة من الاساس ليس له من الاسلام الاسم - وهو مرتد عن الاسلام بيقين. يجب ان يستتاب وتنزاح عنه

احکام المرتدین المفارقین فی الحیاة وبعد الوفاة (صفحه ۴۶)

علمانی (سیکولر) کا مذکورہ حکم اس وقت ہے جب کہ علمانیت(سیکولرزم)کوایک (سیکولرزم) کو ایک اعتقادی چیز مانا نہ جائے ۔ مگر سیکولرزم اصلاً ایک عملی تدبیر ہے۔ سیکولرزم کا عمومی مطلب یہ ہے کہ کثیر مذہبی سماج میں ریاست اس بات کی پابندی قبول کرلے کہ وہ مذہبی امور میں عدم مداخلت کی پالیسی اختیار کرے گی ۔ گویا سیکولرزم صرف ایک سیاسی مسلک ہے نہ کہ کوئی مذہبی عقیدہ ۔ ۱۹ ستمبر کو ایک عجیب واقعہ ہوا۔ میں جس مکان میں ٹھہر اتھا، اس کے پیچھے ایک کار کھڑی معلوم ہوا کہ کسی نے اس کا شیشہ توڑ دیا ہے۔ میں نے جاکر دیکھا تو ڈرائیور کی سیٹ کے پاس والا کھڑکی کا شیشہ مکمل طور پر ٹوٹ گیا تھا اور اس کے ٹکڑے زمین پر پڑے ہوئے تھے۔ میں نے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ یہاں بے روزگار لڑکے اکثر اس قسم کی حرکتیں کرتے ہیں۔ یہ لڑکے عام طور پر شراب اور ڈرگ کے عادی ہو جاتے ہیں۔ جب ان کے پاس اپنی بری عادتوں کو پورا کرنے کے لئے پیسے نہیں ہوتے تو وہ چوری کرتے ہیں۔ مذکورہ گاڑی کا شیشہ کسی لڑکے نے اس لئے توڑا تھا کہ وہ اس کے اندر لگے ہوئے ٹیپ ریکارڈر کو نکال لے اور پھر اس کو بیچ کر کچھ رقم حاصل کرے ۔

جدید مغربی زندگی میں جہاں بہت سی مادی اور اخلاقی خوبیاں ہیں، ان میں بعض ایسی برائیاں پائی جاتی ہیں جن کا مشاہدہ مشرقی ملکوں میں نہیں ہوتا ۔ یہاں کی سڑکوں پر چلتے ہوئے میں نے دیکھا کہ جگہ جگہ مکانوں کے سامنے برائے فروخت (for sale) کا بورڈ لگا ہوا ہے۔ معلوم ہوا کہ اس وقت برطانیہ میں اقتصادی گراوٹ (recession) کا دور ہے۔ چنانچہ بہت سے لوگ اپنے مکانوں کی قسط بینکوں کو ادا کرنے میں اپنے کو عاجز پا رہے ہیں۔ اس لئے انھوں نے اپنے مکانوں کو اپنے بینکوں کے حوالے کر دیا ہے تاکہ وہ کسی اور گاہک کو تلاش کرکے مکان ان کے حوالے کر سکیں۔ واضح ہو کہ یہاں مکانات عام طور پر بینکوں کے قرض کی بنیاد پر خریدے جاتے ہیں۔ ایک انگریز سے گفت گو کے دوران میں نے پوچھا کہ کیا آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کو اپنے

موجودہ حالات میں ذہنی سکون حاصل ہے :

Printed page