Al-Risala · September 1994

Do you feel you are enjoying mental peace.

Al-Risala, September 1994, pp. 27–35

By Maulana Wahiduddin Khan

اس نے مسکرا کر کہا کہ ہماری زندگی اتنی زیادہ مشینی ہو چکی ہے کہ ہمارے لئے یہ سوچنے کا موقع بھی نہیں ہم میں سے اکثر لوگوں کو شاید ہی کبھی یہ موقع ملتا ہو کہ وہ آپ جیسے لوگوں کی طرح فلسفیانہ انداز میں سوچیں کہ انھیں پیس آف مائنڈحاصل ہے یا نہیں۔

ترقی کے ساتھ بے ترقی کا کیسا عجیب نمونہ مغربی ملکوں میں پایا جاتا ہے۔

برطانیہ میں آپ جس سڑک یا جس مقام پر نکلیں ہر جگہ کتوں کا منظر دکھائی دے گا۔ مرد اور عورت کتے کی رسی اپنے ہاتھ میں لے کر چلتے ہوئے نظر آئیں گے۔ ۲۰ ستمبر کو میں نے ایک تعلیم یافتہ انگریز سے کہا معاف کیجئے، کیا میں آپ سے پوچھ سکتا ہوں کہ آپ لوگ کتوں سے کیوں اتنا زیادہ دلچسپی

انگریز کچھ دیر چپ رہا۔ اس کے بعد بولا۔ میں نے فرانس کے بارہ میں ایک رپورٹ پڑھی اس میں بتایا گیا تھا کہ فرانس میں سات ملین آدمی کتا پالے ہوئے ہیں۔ ان لوگوں کا ایک سروے اس سے معلوم ہوا کہ خاندانی انتشار اور انڈسٹریل انقلاب کے نتیجہ میں لوگوں نے انسان کے اندر اپنا اعتماد کھو دیا ہے۔ کیوں کہ انھوں نے دیکھا کہ بیٹا اور بیٹی بھی ان کا ساتھ نہیں دے رہے ہیں۔ جب کہ کتا اپنی وفاداری کی فطرت کی بنا پر انھیں یہ اعتماد دے رہا تھا۔ کتے کے اندر وہ اپنی اس مطلوب چیز کو پا رہے تھے جس کو وہ موجودہ انسان حتی کہ اپنے عزیزوں میں بھی نہیں پاتے ۔ لئے وہ اپنی مطلوب فطرت کی تسکین کے لئے کتا پالنے لگے ہیں۔ پھر اس نے مسکرا کر کہا کہ یہی معاملہ غالباً برطانیہ کے لوگوں کا بھی ہے۔

میں نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ کتا ری ایکٹ نہیں کرتا، جب کہ انسان ری ایکٹ کرتا ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کتا انسان کے مقابلہ میں ایک غیر اختیاری مخلوق ہے۔ انسان با اختیار مخلوق ہونے کے روسے ری ایکٹ کرتا ہے جو آپ کے لئے ناگوار ہے۔ جب کہ کتا اس طرح ری ایکٹ

طوعا وکرہا کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ خدا کی اسکیم میں انسان اور حیوان دونوں سے ایک ہی دین کی پیروی مطلوب ہے ، اس فرق کے ساتھ کہ جس اصول کی پیروی حیوان جبلت (instinct) کے تحت مجبورانہ کر رہے ہیں ، اس دین کی پیروی انسان اختیارانہ کرنے لگے۔ نام اسلام ہے۔ اسلام کا مطلب دراصل دین فطرت کی پیروی ہے۔ اگر انسان اسی طرح دین فطرت پر آجائے جس طرح حیوان دین فطرت پر قائم ہے تو اس کے بعد انسان سے رمی ایکشن کا طریقہ چھوٹ اس کے بعد انسان بھی آپ کے لئے محبوب بن جائے گا۔ جس طرح حیوان آپ کے لئے محبوب بنا ہوا ہے، کیوں کہ انسان ہر اعتبار سے حیوان کے مقابلہ میں افضل ہے۔ مثلاً ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان خیالات کا اسپیچ ہوتا ہے، جب کہ انسان اور حیوان کے درمیان اس قسم کا اسپیچ

دسمبر ۱۹۹۱ میں مانچسٹر میں ایک بڑی اسلامی کانفرنس ہوئی۔ اس میں مختلف ملکوں کے علماء اس کا موضوع الاسلام والنظام العالمي الجديد تھا۔ طارق حسین الکمدی ( ۳۰ سال ) مانچسٹر کے قریب وگن میں رہتے ہیں۔ وہ موتمر میں شریک نہیں تھے۔ البتہ اس کا ویڈیو ٹیپ انھوں نے دیکھا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ایک عرب محاضر نے اپنے محاضرہ میں بہت بتایا کہ مغرب اسلام کا دشمن ہے۔ وہ اسلام کو تباہ کر دینا چاہتا ہے ( ان الغرب يريد تدمير الاسلام ) محاضرہ کے بعد حاضرین میں سے ایک نوجوان کھڑا ہوا ۔ اس نے کہا کہ آپ کہتے ہیں مغرب اسلام کو تباہ و برباد کر دینا اگر ایسا ہے تو ہمارے لئے کیسے ممکن ہو کہ ہم ایک مغربی ملک میں اتنے بڑے پیمانہ پر موجودہ اسلامی کانفرنس اور اس طرح کی دوسری کانفرنسیں منعقد کریں۔ محاضر نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ تم اس راز کو نہیں جانتے۔ یہ مغرب کی ایک گہری چال ہے۔ یہ مغرب کی فراخ دلی کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کی سوچی سمجھی اسٹریٹیجی کا نتیجہ ہے۔

میں نے اس قصہ کو سنا تو میں نے کہا کہ استغفراللہ۔ محاضر اگر واقعی اسلام پسند تھے تو اس سوال کے بعد انھیں ڈھیر پڑ نا چاہئے تھا اور چیخ کر کہنا چاہئے تھا : کل الناس اعلم منی حتی العبنان سید نا عمر کی یہ سنت بتاتی ہے کہ مومن کا مزاج کیا ہوتا ہے۔ مومن وہ ہے کہ جب اس کی غلطی بتائی

تو وہ اس کے عدم اعتراف کو افورڈ نہ کر سکے۔ میں نے کہا؛ المومن لا يستطيع ان يتحمل عدم

ایک عرب نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ میں نے ان کا نام پوچھا۔ انھوں نے کہا: حارب۔ نے کہا کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں ایک بات عرض کروں۔ پھر میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی فاطمہ کا نکاح علی ابن ابی طالب سے کیا۔ ان کے یہاں ایک بچہ کی ولادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی سے پوچھا کہ اس کا نام کیا رکھا۔ انھوں نے کہا حرب۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں اس کا نام حسن رکھو۔

میں نے کہا کہ آپ کا نام ما انا علیہ واصحابی کے خلاف ہے۔ جس نام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رد کر دیا اس کو آپ دوبارہ پسند کر رہے ہیں۔ پھر میں نے کہا کہ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ تاریخ میں دور حرب ختم ہوا، اور دور امن مگر موجودہ زمانہ کے مسلم زعماء اس حقیقت کو نہ سمجھ سکے۔ رسول اور اصحاب رسول نے اپنی قربانیوں سے دور حرب کو ختم کر کے تاریخ انسانی میں دور امن شروع کیا۔ اور یہ مسلم زعماء دوبارہ تاریخ انسانی میں دور حرب واپس لانا چاہتے ہیں۔

۲۰ ستمبر کو عرب نوجوانوں کی ایک مجلس میں سورۃ النساء کی آیت ۱۰ کے بارہ میں سوال کیا گیا۔ سلسلہ میں وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اس دنیا میں کبھی یکسار ات نہیں ہوسکتے۔ حالات صرف جنت کے ماحول میں ممکن ہیں۔ یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ یہاں ہر ایک کو آزادی حاصل ہے اس لئے یہاں ہمیشہ نشیب و فراز کے حالات پیدا ہوتے رہیں گے۔ اس لئے قرآن وسنت میں ہر طرح کے احکام ہیں تاکہ اہل اسلام اپنے آپ کو جن حالات میں پائیں اس کے مطابق عمل کرسکیں۔ مثلاً اس دنیا میں اہل ایمان کو کبھی مسجد میں معتدل حالات میں نماز پڑھنے کا موقع ملتا ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انھیں جنگ کے میدان میں نماز پڑھنا پڑتا ہے۔ اس لئے قرآن و حدیث میں اگر عام حالات میں نماز کی ادائیگی کا حکم بتایا گیا تو اسی کے ساتھ جنگ کے میدان کے لیے

سنت رسول کا مطالعہ ا جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی وسیع تر تقسیم میں تین قسموں میں نظر آئے گی۔ اول ، مکی دور ۔ یہ وہ دور ہے جب کہ اہل اسلام کے ہاتھ میں سیاسی قوت نہیں تھی۔ مدنی دور کا نصف اول ۔ یہ وہ زمانہ ہے جب کہ مدینہ میں دو متوازی نظام قائم تھا ۔ اس کا اقرار صحیفہ مدینہ میں ان لفظوں میں کیا گیا ہے : لليهود دينهم وللمسلمين دينهم ۔ سوم، مدنی دور کا نصف ثانی ۔ یہ وہ دور ہے جب کہ ماحول میں اہل اسلام کا غیر مشترک اقتدار قائم ہو گیا۔ میں نے کہا کہ سورہ النساء کی مذکورہ آیت ( يريدون ان يتحاكموا الى الطاغوت) مدنی دور کے نصف اول والے حالات سے تعلق رکھتی ہے۔ آج اکثر ملکوں میں یہی صورت حال ہے۔ مثلاً برطانیہ میں ایک طرف برٹش کورٹ ہے ۔ دوسری طرف مساجد اور اسلامی مراکز کے علماء ہیں جن کے بارہ میں کہا گیا ہے کہ العلماء ورثۃ الانبیاء ۔ برٹش کورٹ گویا کعب بن اشرف کے مماثل اور علماء (یا دار الافتاء) رسول کے نمائندہ ۔ اب مذکورہ آیت کے مطابق مسلمانوں کو یہ کرنا ہے کہ ان کے درمیان جب کوئی نزاع پیدا ہو تو وہ اپنے معاملہ کو ملکی عدالت میں نہ لے جائیں ۔ بلکہ علماء یا دار الافتاء کے سامنے رکھ کر اس کا شرعی فیصلہ کریں اور قرآن و سنت کی روشنی میں جو فیصلہ دیا جائے اس کو بے چون و چرا تسلیم کر لیں ۔

لندن میں مقیم ایک ہندستانی بزرگ سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ پہلے میں آپ کا رسالہ پڑھتا تھا ۔ مگر اب میں نے اس کو پڑھنا چھوڑ دیا ۔ میں نے پوچھا کیوں ۔ انھوں نے کہا کہ آپ کے خلاف کتابیں لکھی گئی ہیں ۔ اور آپ کے خلاف مضامین چھپ رہے ہیں ۔ ان کو دیکھنے کے بعد میں آپ کے مشن کے بارہ میں مشتبہ ہو گیا اور آپ کی تحریروں کو پڑھنا چھوڑ دیا ۔

میں نے کہا کہ مخالفانہ مضامین تو ہر ایک کے خلاف لکھے گئے ہیں ۔ تبلیغی جماعت جیسی بے ضرر جماعت کے خلاف بھی کئی کتابیں چھپ چکی ہیں ۔ حتیٰ کہ اکابر میں سے کوئی بھی شاید ہی اس قسم کی تحریروں سے بچا ہو۔ اس وقت میرے پاس محمد سرور بن نایف زین العابدین کی کتاب الحکم بغير ما انزل الله واھل الغلوتھی۔ یہ کتاب دار القلم ، برنگھم (4422 449-021 Tel.) نے چھاپی ہے۔ میں نے اس کا صفحہ ۲۰۸ دکھایا ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ کچھ لوگوں نے امام النووی کے بارہ میں لکھا ہے کہ انھوں نے اپنی شرح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ، حضرت ابوذر پر اور اسلام پر

الاسلام اس کو دکھانے کے بعد میں نے پوچھا کہ کیا یہ صحیح ہوگا کہ اس الزام کو دیکھنے کے بعد آپ امام نووی کی کتابیں پڑھنا چھوڑ دیں۔

ایک عرب نوجوان نے کہا کہ قرآن عرب کی زبان میں اترا ہے میں نے کہا کہ یہ نہ کہئے، بلکہ یہ کہئے کہ قرآن انسان کی زبان میں اترا ہے۔ اگر آپ یہ سمجھیں کہ قرآن عربوں کی زبان میں اترا ہے تو آپ قرآن کے ۵۰ فیصد معانی سے محروم رہ جائیں گے۔

برطانی نوممسلموں کے بارہ میں ایک کتاب نظر سے گزری۔ اس میں برطانی نومسلموں کے تاثرات ان کی تصویروں کے ساتھ نقل کئے گئے ہیں۔ اس کا نام و پتہ یہ ہے:

Islam Our Choice, compiled by Dr S.A. Khulus, The Woking Muslim Mission & Literary Trust, The Shah Jehan Mosque, Woking, Surrey, England. ۳۶۱ صفحہ کی اس کتاب میں سیکڑوں نومسلموں کے تاثرات نقل کئے گئے ہیں۔ کچھ لمبے ہیں اور کچھ صرف چند سطروں پر مشتمل ہیں۔ صفحہ ۳۹ اور جیو ٹائلر (Geo T. Tyler) کا ایک مختصر اقتباس ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے کہ میں نے مقدس قرآن کا مطالعہ کیا۔ اسلام ایک صاف اور خوبصورت وہ نجات کو اپنی محنت کا نتیجہ قرار دیتا ہے نہ کہ ایک خدا کے بیٹے کے سولی پر چڑھنے کا نتیجہ :

I studied the Holy Qur'an. Islam is a clean, wholesome faith and makes the salvation of man his own duty, and not dependent on the sacrifice of a 'Son of God.' (p. 139)

مانچسٹر میں ایک مسیحی فادر سے میری گفتگو ہوئی۔ میں نے ان کے سامنے مذکورہ بات پیش کی ۔ انھوں نے کہا کہ آپ لوگ کہتے ہیں کہ اسلام کے سوا تمام دوسرے مذاہب محرف ہو چکے ہیں۔ یہ تو گویا خدا کو بلیم دینا ہے۔ کیوں کہ یہ آپ لوگ بھی مانتے ہیں کہ وہ مذاہب خداکی طرف سے آئے۔ پھر جب وہ خدائی مذہب تھے تو خدا نے کیسے گوارا کیا کہ اس کے بھیجے ہوئے تمام مذاہب محرف ہو جائیں اور صرف ایک غیر محرف مذہب دنیا میں باقی رہے۔

میں نے کہا کہ یہ خدا کی ایک نعمت ہے جو اس نے اپنے بندوں پر کی ہے۔ اس طرح اس نے یہ انتظام کر دیا کہ ہمارے لیے چوائس کا مسئلہ نہ رہے۔ ہم کو یہ سوچنا نہ پڑے کہ یہ مذہب صحیح ہے یا وہ مذہب صحیح ہے۔ میدان میں ایک ہی صحیح مذہب ہو اور کسی فتنے میں مبتلا ہوئے بغیر ہم اس واحد صحیح مذہب کو اختیار کر لیں۔ اس طرح خدا نے ہم کو ایک نازک امتحان سے بچا لیا ہے جس پر ہمیں اس کا شکر گزار ہونا چاہئے۔

۲۱ ستمبر کی صبح کو میں ایک عرب نوجوان کی رہنمائی میں وگن کی مسجد میں گیا۔ یہ یہاں کی واحد مسجد ہے اور اس کا نام مسجد طوبٰی ہے۔ یہ ہال کی مانند ہے۔ میں نے اس کے احاطہ کی پیمائش کی تو لمبائی میں وہ ۶۱ قدم اور چوڑائی میں ۴۵ قدم تھی۔ مسجد سادہ مگر خوبصورت تھی۔ اس کے اندر عربی کتابوں کا اچھا ذخیرہ کئی الماریوں میں قرینہ کے ساتھ کتابیں رکھی ہوئی تھیں۔ یہاں ابن الجوزی البغدادی (ر ۵۹۷ ۵۰۸ ھ) کی تفسیر زاد المسیر فی علم التفسیر (نو جلد) بھی موجود تھی۔ اس کو المكتب الاسلامی (ص ب 37 / 11 ، بیروت) نے ۱۹۸۴ء میں اہتمام کے ساتھ شائع کیا ہے۔ مسجد کا اندرونی حصہ جس میں نماز ادا کی جاتی ہے وہ لمبائی میں ۲۵ قدم اور چوڑائی میں ۱۲ قدم تھا۔

مسجد میں دورکعت تحیۃ المسجدپڑھی۔ نمازکے بعد کی دعا کے دوران میں نے کہا: رَبِّ اِنِّیْ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زبان سے یہ الفاظ حالت سفر میں نکلے میں بھی اس وقت حالت سفر میں ہوں۔ اسی اشتراک کی بنا پر بے اختیارانہ یہ الفاظ زبان پر جاری

مجھے بتایا گیا کہ یہاں ابتدا اڑ چرچ تھا۔ چرچ والوں نے اس کو فروخت کر دیا۔ اس کے بعد یہ عمارت ایک انگریز کی ملکیت میں چلی گئی۔ بعد کو اس انگریز نے اس کو فروخت کرنا چاہا۔ مسلمانوں نے تقریباً ۲۰ ہزار پونڈ مسجد کے لئے جمع کئے تھے۔ انھوں نے چاہا کہ اس عمارت کو خرید کر اس کو مسجد کی صورت دے دیں۔ مگر عین اسی وقت ایک اور انگریز خریدار پیدا ہو گیا۔ وہ دگنا قیمت ۴۰ ہزار پونڈ دینے کے لئے تیار تھا۔ مگر جب عمارت کے مالک کو جو مسیحی تھا، یہ بتایا گیا کہ مسلمان اس کو خرید کر وہاں مسجد بنانا چاہتے ہیں تو وہ بہت خوش ہوا۔ اور انگریز کو ۴۰ ہزار پونڈ میں دینے کے بجائے مسلمانوں کو صرف ۲۰ ہزار پونڈ میں دے دیا۔ ایسا ہی ایک اور قصہ لندن میں میرے علم

مذکورہ مسیحی نے ایسا کیوں کیا۔ اس نے کہا کہ یہ عمارت پہلے ایک عبادت خانہ تھی۔ اس کا سب سے بہتر استعمال یہ ہے کہ اس کو دوبارہ عبادت خانہ بنایا جائے۔ اس لئے میں اس کو کم قیمت کے باوجود مسلمانوں کے ہاتھ فروخت کر رہا ہوں۔ کیوں کہ انھوں نے بتایا کہ وہ اس کو عبادت خانہ بنانا چاہتے ہیں۔

۲۲ ستمبر کو ایک برطانی نومسلم سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے پچھلے سال اسلام قبول کیا ہے۔ میں نے ان سے تعلیم کے بارے میں پوچھا۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے یہاں میٹرک تک تعلیم حاصل اسی دور ان انھیں اسلام سے واقفیت ہوئی۔ اس کے بعد انھوں نے تعلیم چھوڑ دی اور اسلام میں سرگرم ہو گئے۔

میں نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ میں نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ اسلام کی دریافت نے آپ کے اندر ایک نیا جوش پیدا کیا اور اسلام کو سیکھنے کا جذبہ آپ کے اندر ابھر آیا۔ مگر یہ کام آپ کو ساتھ ساتھ کرنا چاہئے۔ یعنی تعلیم اور تربیت دونوں کی طرف توجہ دینا چاہئے۔ آپ ایک طرف کالج اور یونیورسٹی میں اپنی تعلیم مکمل کریں اور اسی کے ساتھ مساجد اور اسلامی مراکز سے وابستہ ہو کر اسلامی تربیت اور اسلامی معلومات حاصل کریں۔ آپ ابھی ابتدائی عمر میں ہیں۔ آپ کو اپنے آپ کو تیار آپ کو اپنے سامنے دونشانہ رکھناچاہئے نہ کہ صرف ایک نشانہ۔

اس گفتگو کے وقت ایک عرب نوجوان ریاض عبد السلام احمد (۲۸ سال) موجود تھے۔ برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے آئے ہیں۔ انھوں نے میری رائے سے اتفاق کیا۔ اس میں اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ عربوں میں ایک مثل ہے کہ ایک پتھر سے دوگوریا کا شکار کرو یضرب عصفورین بحجر واحد۔ میں نے کہا کہ یہ نہایت صحیح مثل ہے اور آپ لوگوں کو اسی پر عمل کرنا چاہئے۔ یعنی تعلیم اور تربیت دونوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہئے، نہ یہ کہ تعلیم کو چھوڑ کر آپ صرف تربیت کے لئے دوڑنا شروع کر دیں۔

اس وقت مجلس میں کئی عرب نوجوان تھے۔ میں نے معاملہ کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ قرآن میں حکم دیا گیا ہے : و اعد و الھم ما استطعتم من قوة ومن رباط الخیل

ترهبون به عدو الله وعدوكم (الانفال ٦٠ ) اس آیت میں ترهبون کا لفظ بہت اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قوت کے اندرارہ باب کی صفت ہونی چاہئے۔ گویا قوت وہ ہے جو قوت مرہبہ ہو۔

میں نے کہا کہ اس وقت عالم اسلام میں بے شمار سرگرمیاں جاری ہیں۔ کیا اہل عالم اس سے خوف زدہ ہیں۔ بعض نادان لوگ یورپ یا امریکہ کے کسی اخبار میں مسلم فنڈ منٹلزم یا صغوة اسلامیہ کے خلاف کوئی مضمون پڑھ کر کہتے ہیں کہ دیکھو، مغرب ہماری ان سرگرمیوں سے خوف زدہ ہے۔ ایک امریکی سے ایک بار اس بارہ میں گفتگو کی۔ اس نے کہا کہ یہ لوگ کہ سے کم کوئی از عاج (nuisance) تو پیدا کرہی سکتے ہیں ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ہم کو کیا درجہ دے رہے ہیں۔ پھر میں نے کہا کہ ہمیں موجودہ دور کو سمجھنا چاہئے۔ اس دور میں جو چیز قوت مرہبہ کی حیثیت رکھتی ہے وہ صرف علم ہے۔ خاص طور پر سائنسی علم۔ اس لئے اس آیت کے مطابق، مسلمانوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ وقت کی قوت مرہبہ (علم) حاصل کریں۔ اس کے بغیر موجودہ دنیا میں ہم کو با وزن حیثیت نہیں مل سکتی۔

ستمبر ١٩٩٢ کی ۲۳ تاریخ ہے۔ میں وگن میں اپنی قیام گاہ کے اوپر کے کمرہ میں بیٹھا ہوں۔ مکان ایک شاہراہ کے کنارے واقع ہے۔ سڑک پر دونوں طرف گاڑیوں کا لامتناہی سیلاب بہہ رہا ہے سامنے تکونی چھتوں (۸) کے مکانات کی قطاریں دکھائی دیتی ہیں۔ ایک طرف پارک ہے جس میں دور تک درختوں کا منظر پھیلا ہوا ہے۔ اپنی کھڑکی سے ان مناظر کو دیکھتے ہوئے سوچ رہا ہوں کہ یہی وہ قوم ہے جو کبھی برطانیہ عظمی کہی جاتی تھی۔ اس نے دنیا کے اتنے بڑے حصہ میں اپنا اقتدار قائم کر لیا تھا کہ کہا جانے لگا کہ اس کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا۔ میں سوچنے لگا کہ آخر اس قوم کی وہ کون سی صفت تھی جس نے اس کو اتنے وسیع رقبہ میں اتنی بڑی سلطنت قائم کرنے کے قابل بنایا۔ اتنے میں سڑک پر ایک معمر خاتون ظاہر ہوتی ہے۔ اس کے جسم پر سیاہ رنگ کا کوٹ ہے۔ اپنے ہاتھ میں وہ لاٹھی جیسی ایک لمبی لکڑی لئے ہوئے

کھڑی ہو جاتی ہے تاکہ مزید آنے والے بچوں کی مدد کر سکے۔

دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ یہاں سڑکوں پر جگہ جگہ یہ انتظام کیا گیا ہے۔ کم آمدنی والی معمر خواتین معمولی معاوضہ پر یہ کام کرتی ہیں۔ ان کے جسم کا سنہری مائل کپڑا ان کی اس حیثیت کی علامت صبح کے وقت جب بچے اسکول جاتے ہیں اور دو پہر بعد جب وہ لوٹتے ہیں، دونوں وقت یہ خواتین سڑک پر آ کر کھڑی ہو جاتی ہیں۔ ان کے نشان کو دیکھ کر تمام سواریاں فوراً رک ایسی خاتون کو اسکول کراسنگ گارڈ کہا جاتا ہے۔

مذکورہ خاتون کو اپنے کام کی ادائیگی میں بیک وقت دو پہلوؤں کا لحاظ کرنا تھا۔ گاڑیوں کا اور دوسری طرف بچوں کا۔ بوڑھی خاتون نے اس کام کو اتنی پھرتی، اتنی باقاعدگی اور اتنے منظم انداز میں کیا کہ میں اس کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ میں نے سوچا کہ انگریزوں کی عالمی کامیابی کا راز یہ تھاکہ انھوںنے اپنی پوری قوم، حتی کہ عام مردوں اور عورتوں تک کے اندر ڈسپلن کی صلاحیت کمال درجہ میں پیدا کر دی۔

دوسری عالمی جنگ (۱۹۴۵-۱۹۳۹) کے دوران سرونسٹن چرچل برطانیہ کے وزیر اعظم تھے۔ عام طور پر شدت پسند لیڈر کی حیثیت سے مشہور ہیں۔ مگر ان کی زندگی میں بہت سی قابل قدر مثالیں ایک بوڑھے برطانی شخص نے مجھے بتایا کہ چرچل نے دوسری عالمی جنگ کے زمانہ میں برطانی قوم کو جو ماٹو دیا وہ تھا ۔ سب کچھ میرے اوپر منحصر ہے :

Printed page