Al-Risala · September 1994

It all depends on me.

Al-Risala, September 1994, pp. 35–36

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ بلاشبہ ایک بہترین ماٹو ہے۔ یہ جنگ اور امن دونوں حالتوں کے لئے یکساں طور پر مفید میرے بھائی عبد المحیط خاں انجینئر نے بتایا کہ ایک بار وہ چنڈی گڑھ کے ایک ٹریننگ کیمپ میں شریک ہوئے۔ یہ کیمپ پالٹی ٹکنیک کے پرنسپلوں کی ٹریننگ کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ انگریز پروفیسر کو اس میں لکچر دینے کے لئے بلایا گیا تھا۔ اس کا افتتاح ایک ہندوستانی منسٹر کو کرنا تھا۔

منسٹر صاحب جب مائک پر آئے تو اچانک بجلی چلی گئی اور لاؤڈ اسپیکر نے کام کرنا بند کر دیا۔ گاہ میں متبادل انتظام کے طور پر بیٹری رکھی نہیں گئی تھی۔ البتہ کالج کے قریبی ورک شاپ میں بیٹری

جب یہ حادثہ ہوا تو زیر تر بیت پرنسپل صاحبان کالج کے کسی چپراسی یا کسی ورکر کو تلاش کرنے لگے تا کہ اس کو بھیج کر ورکشاپ سے بیٹری منگواسکیں ۔ لیکن انگریز یہ پروفیسر کو جیسے ہی صورتحال کا علم ہوا وہ خود بھاگ کر ورکشاپ پہنچا۔ بھاری بیٹری کو دونوں ہاتھوں سے اٹھا کر وہ دوڑتا ہوا آیا۔ اور لاؤڈ اسپیکر کے نظام سے جوڑ کر اس کو چند منٹ میں چلا دیا۔

کسی قوم کے افراد کا یہی مزاج اس قوم کی اجتماعی ترقی کا سب سے بڑا راز ہے۔ افراد کے اندر یہ اسپرٹ جتنی زیادہ پائی جائے گی ، اتنی ہی زیادہ وہ قوم ترقی کرے گی۔

میری قیام گاہ کے قریب ایک اسکول (Hawkley Hall High School) تھا۔ روزانہ صبح اور شام یہاں ٹہلنے جایاکرتاتھا۔ ۲۳ستمبرکوموسم بہت خوشگوار تھا۔ میں ایک عرب نوجوان کے ساتھ اسکول کے سامنے کھل جگہ پر ٹہل رہا تھا۔ اچانک پولیس کی کار آکر وہاں کھڑی ہوئی ۔ سے پولیس کا ایک آدمی نکلا۔ وہ تیزی سے ہمارے پاس آیا اور انگلش لہجہ میں کہا: براہ کرم معاف کیجئے ، اسکول کے لوگوں نے یہ شکایت ہے کہ دو داڑھی والے آدمی یہاں روزانہ آتے ہیں ۔ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ لوگوں کا مقصد کیا ہے۔ میرے ساتھی نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے مہمان ہیں۔ ان کو ٹہلنے کی عادت ہے۔ چنانچہ ہم لوگ یہاں ٹہلنے کے لئے آجاتے ہیں۔ اس نے پوچھا کہ آپ لوگ کہاں رہتے ہیں۔ بتایا گیا کہ اسی ایریا کے مکان نمبر ۵۹ میں ۔ بعد اس نے مسکراتے ہوئے کہا:

Printed page