Oh, it is alright. I am sorry.
Al-Risala, September 1994, pp. 36–41
By Maulana Wahiduddin Khan
ہم سے بات کرنے کے بعد وہ اسکول کی عمارت میں داخل ہوا۔ وہاں اسکول کے ذمہ داروں سے چند منٹ کے بعد وہ باہر نکلا اور اپنی کار میں بیٹھ کر واپس جانے لگا تو اتفاق سے اس کی کار ہمارے پاس سے گزری۔ شیشہ کے اندر سے اس نے ہماری طرف دیکھا اور ہاتھ ہلا کر دوبارہ اپنے اطمینان اور معذرت کا اظہار کیا۔
اس قسم کی ہزاروں مختلف باتیں ہیں جو بتاتی ہیں کہ یہاں کی حکومت عدل اور انسانیت کی حکومت ہے۔ مگر شاید ہی کوئی مسلمان اس کااعتراف کرتاہواملے گا۔ مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ برطانیہ رشدی کو سزا کیوں نہیں دیتا۔ وہ بوسنیا کے معاملہ میں مداخلت کیوں نہیں کرتا۔ بعض ذاتی شکایت کی بنا پر وہ نظام کی خوبیوں کا انکار کر رہے ہیں۔ یہ ابو لولو فیروز کی سنت ہے نہ کہ صحابہ کی سنت۔ صحابہ جب ہجرت کر کے حبش گئے تو انھوں نے وہاں کے کسی بادشاہ کے عدل کا اعتراف کیا اور اس کے لئے دعائیں کیں۔ جب کہ ابو لولو مجوسی کا یہ حال ہوا کہ وہ عمر فاروق کے بے مثال عادلانہ نظام کو دیکھنے کے لئے اندھا ہوگیا۔ اس کو صرف اپنی ذاتی شکایت نظر آئی، اور وہ بھی اتنی مبالغہ آمیز انداز میں کہ اس نے عمر فاروق جیسے عادل حکمراں کو قتل کر دیا۔ ایک عرب نوجوان نے بتایا کہ جون ۱۹۹۲ میں وہ مانچسٹر میں تھے۔ اس وقت مانچسٹر کی جامع مسجد میں نو مسلم انگریز یوسف اسلام کی تقریر ہوئی ۔ وہ بوسنیا کا دورہ کر کے ابھی واپس آئے تھے۔ انھوں نے اپنی انگریزی تقریرمیںجوکچھ کہااس کاخلاصہ عرب نوجوان کے الفاظ میں یہ تھا : إِنَّ الشیٔ الَّذِیْ جَعَلَ المسلمین مستضعفین هو ذهاب الخلافة۔ الخلافة قائمة لما استطاع احدان يفعل بهم هذا ۔ لان الخلافة الاسلامية ستكون لها ايدٍ تمتد لتحمى المسلمین فى كل مكان۔ فلابد من اقامة الخلافة فهي الحل لكل ما حل بالمسلمین من ضعف وهوان۔ والاستكون النتيجة هي اليوم
میں نے کہا کہ ہمارا اصل مسئلہ ذہاب خلافت نہیں بلکہ ذہاب عصر ہے۔ ترکوں نے خلافت کو ”تلوار“ کے زور پر قائم کیا تھا۔ جب تک تلوار کا دور رہا، خلافت بھی باقی رہی۔ جب تلوار کا دور ختم ہو گیا تو ترکوں کی خلافت بھی ختم ہوگئی۔ اب علم کی طاقت کا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے بے زور ہو جانے کا سبب یہ ہے کہ ان کے پاس وقت کا زور (علم) موجود نہیں۔ ایسی حالت میں اصل مسئلہ علم کی طاقت حاصل کرنے کا ہے نہ کہ بے فائدہ طورپرمفروضہ دشمنوںکے خلاف ایسی جنگ چھیڑنے کا جس کا نتیجہ خود اپنی مزید بربادی کے سوا کسی اور شکل میں نکلنے والا نہیں۔ یوسف اسلام نے جو بات کہی وہ ان کی اپنی بات نہیں۔ یہ دراصل ان مسلمانوں کی بات ہے
جن کے درمیان وہ قبولِ اسلام کے بعد اپنے کو پا رہے ہیں۔ ہر چیز کہ در کان نمک رفت نمک شد عبد العزیز حدو حدّو(۲۴سال)المغرب المغرب (الدارالبیضاء)کے کے رہنے والے ہیں۔ اس وقت وہ لندن میں کمپیوٹر کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ وہ ۲۱ ستمبر کو ایک انگریز نو مسلم کو لے کر میری رہائش گاہ پر آئے۔ اس سفید فام انگریز نو جوان کی عمر ۲۱ سال تھی۔ انھوں نے جولائی ۱۹۹۲ میں اسلام قبول کیا ہے۔ ان کا اسلامی نام عبد الکریم ہے۔ ان کا نام و پتہ یہ ہے:
Christian James Stone 27 Horsford Rd. Brixton SW2 5BW, London. میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے کیوں اسلام قبول کیا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے اسلام اس لئے قبول کیا کیوں کہ اسلام معیاری اور عقلی فہم عطا کرتا ہے۔ بچپن میں اور بڑا ہونے کے بعد میں اکثر تنہا سوچتا جب مجھے اسلام کا علم ہوا تو اس نے میری سوچ کی تکمیل کر دی :
I embraced Islam because Islam makes perfect, rational sense. As a child and adolescent I spent much time alone, just thinking. When Islam was explained to me, it complemented to what I thought. میں نے کہا کہ مسیحیت کا عقیدہ (مثلاً ٹرینیٹی) عقلی طور پر ناقابلِ فہم ہے۔ وہ اس بدیہی حقیقت کے خلاف ہے کہ جو چیز تین ہو وہ ایک نہیں ہو سکتی ، جو چیز ایک ہو وہ تین نہیں ہو سکتی۔ اس لئے مسیحی حضرات میں جو لوگ زیادہ سنجیدہ ہوں وہ سخت ذہنی تضاد میں مبتلا رہتے ہیں۔ کیوں کہ اگر وہ عقل کو لیں تو مذہب چھوٹتا ہے، اور اگر مذہب کو لیں تو عقل ساتھ نہیں دیتی۔ انھوں نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اگر میں مسیحی باقی رہتا تو میرا خیال ہے کہ میں یا تو پاگل ہو جاتا یا منافق بن جاتا تاکہ مسیحی معاشرہ میں رہ سکوں: If I was Christian I imagine that I must either be mad or hypocrite to exist in society. ان سے دیر تک گفت گو ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ اسلام قبول کرنے کے بعد ایک روز وہ اپنے والد کے یہاں گئے۔ کھانے پر گوشت تھا۔ انھوں نے گوشت نہیں لیا۔ والد نے اصرار کیا تو اپنے اسلام کو چھپانے کے لیے کہا کہ میں رویجیٹین ہوں اور بالغ گوشت کے لئے اصرار کرتے رہے تو انھوں نے
بتایا کہ میں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ یہ سن کر والد نے کہا کہ میں جانتا تھا کہ تم ضرور ایسا کروگے: I knew you would do. میں نے اس واقعہ کو سنا تو میں نے کہا کہ بیٹے کے حق میں انگریز باپ کا یہ جملہ علامتی طور پر پوری انسانیت کے حق میں ایک پیشگی بیان ہے۔ گویا کہ مغرب کی پچھلی نسل اپنی اگلی نسل سے کہہ رہی ہے کہ مجھے معلوم ہے کہ ایک روز آئے گا جب کہ تم لوگ اسلام کے دائرہ میں داخل ہوجاؤ گے حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی دعوت کو اگر اس کے واقعی تقاضوں کے ساتھ انجام دیا جائے تو تمام باپوں کو اپنے بیٹوں سے وہی کہنا پڑے گا جو مذکورہ برطانی باپ نے اپنے بیٹے سے کہا تھا۔
لندن میں راجر ڈیوڈ اسٹون (Roger David Stone) سے ملاقات ہوئی۔ ان کا موضوع وہ کالج میں استاد تھے۔ اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مجھے مذاہب کے مطالعہ سے دلچسپی ہوئی۔ اس سلسلہ میں میں نے اسلام کو سمجھنے کے لئے بعض صوفیاء سے ملاقات کی۔ نے مجھ کو بتایا کہ اللہ ازلی ہے ، محمد ازلی ہے، قرآن ازلی ہے۔ اس کے بعد میرا خیال یہ ہوگیا کہ اسلام بھی ایک قسم کی تثلیث (Trinity) ہے، جیسا کہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے۔
مسلمانوں میں مجھے کسی ایسے سلسلہ صوفیاء کاعلم نہیں۔ مجھے شبہ ہے کہ عیسائیوں میں سے کچھ لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد شعوری یا غیر شعوری طور پر وہ اسلام کو ایک قسم کے تثلیثی مذہب کے روپ میں پیش کرنے لگے۔ مسٹرراجرڈیوڈاسٹون مذکورہ صوفیاء کاپتہ نہ بتا سکے۔ اس لئے لیکن نہیں کہ میں اُن سے ربط قائم کر سکوں۔
ایک مسلمان سے میں نے ذکر کیا تو انھوں نے کہا کہ یہ مسیحیوں کی سازش ہے۔ اور مسیحیت کو ایک ثابت کرنے کے لئے ایسا کر رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ خواہ وہ سازش ہو یا غیر شعوری طور پر ہو، دونوں حالتوں میں اس کا حل یہ ہے کہ اسلام پر صحیح لٹریچر زیادہ سے زیادہ اسلام کو اتنا زیادہ معروف بنا دیا جائے کہ کوئی اس کی تصویر بگاڑنا چاہے تب بھی وہ اس کی تصویر بگاڑنے پر قادر نہ ہو۔
ذاتی طور پر میرا خیال ہے کہ جس طرح ہندوستان میں صوفیاء کاطبقہ ویدانت سے متاثر ہو کر وحدت الوجود کا قائل ہوگیا۔ اسی طرح مسیحی دنیا میں کچھ لوگ مسیحی تثلیث سے متاثر ہو کر مذکورہ قسم کی باتیں
کرنے لگے ہیں۔ اس کو قرآن میں مضاہاۃ (التوبہ ۳۰) کہا گیا ہے۔ میرے نزدیک مضاہاۃ کااس سے بھی زیادہ بڑا واقعہ وہ ہے جو سیاسی مضاہاۃ کی صورت میں پیدا ہوا ہے۔ موجودہ زمانہ میں سیاسی فلسفوں کا غلبہ ہوا۔ اس سے متاثر ہو کر کچھ لوگوں نے اسلام کی سیاسی تعبیر کر ڈالی۔ چوں کہ یہ زمانہ کے مزاج کے مطابق تھی، اس لئے وہ بہت جلد لوگوں میں پھیل گئی۔ اگر نتیجہ کے اعتبار سے دیکھا جائے تو مضاہاۃ کی تمام قسموں میں سب سے زیادہ نقصان دہ یہی سیاسی مضاہاۃ ہے۔
ایک عرب نوجوان نے اپنے کچھ قصے بتاتے ہوئے کہا کہ ایک بار میں اپنے بھائی کے ساتھ تھا۔ لوگ انگور خریدنے کے لئے دکان پر گئے۔ میں نے بھائی کی مخالفت کے باوجود سستا انگور خریدا۔ پہنچ کر جب اس کو کھول کر کھانے کی میز پر رکھا تو معلوم ہوا کہ اس میں بہت سے انگور خراب ہیں جو کھانے کے لائق نہیں۔ چنانچہ میں نے اس کا ایک حصہ کھایا اور دوسرا حصہ پھینک دیا۔ بھائی نے کہا کہ یہی مطلب ہے اس عربی مثل کا کہ الذی یعجبک رخصه ستر می نصفه (جس چیز کا سستا ہونا تم کو پسند آتا ہے اس کا نصف حصہ تم کو پھینکنا پڑے گا)
ایک اخوانی نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ ان کو معلوم تھا کہ میں مسلم حکومت کے خلاف خروج کو صحیح نہیں سمجھتا۔ انھوںنے کہاکہ آپ کیسے ایسا کہتے ہیں جب کہ امام احمد بن حنبل نے اپنے وقت کی حکومت سے ٹکر اؤ کیا۔ ہم لوگ امام احمد کے اسی مسلک پر ہیں۔
میں نے کہا کہ انھوں نے ٹکراؤ نہیں کیا بلکہ ایک غیر سیاسی معاملہ میں ٹکراؤ پیش آیا۔ پھر میں نے فقہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ علماء اصول کا اتفاق ہے کہ جب ایک صورتحال کو دوسری صورت حال پر منطبق کیا جائے تو دونوں کے درمیان علت مشترکہ کا پایا جانا ضروری ہے۔ اس فقہی اصول کی روشنی میں دیکھئے تو آپ کے اور امام احمد کے درمیان علت مشترک موجود نہیں۔ آپ موجودہ حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے ان کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔ جب کہ امام احمد نے نہ تو ایسا کیا اور نہ ہی ایساکہا۔ انھوںنے کسی بھی سیاسی ٹکراؤ کے بغیر ایک غیر سیاسی مسئلہ (خلق قرآن) کے بارہ میں اپنی رائے دی تھی اور حکومت غلط فہمی کی بنا پر ان کو سزا دینے پر تل گئی۔ اس لئے آپ کے عمل اور امام احمد کے عمل کے درمیان علت مشترک موجود نہیں۔ اور جب علت مشترک موجود نہیں تو ان کا عمل آپ کے لئے دلیل بھی نہیں بن سکتا۔
اس معاملہ میں امام احمد کا مسلک حقیقہ وہ ہے جو ابن رجب حنبلی نے اپنی کتاب جامع العلوم والحکم (صفحہ ۲۸۲) میں نقل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سلطان کا سامنا مت کرو، کیوں کہ اس کی تلوار کھنچی ہوئی ہے (لا یتعرض الی السلطان فان سیفہ مسلول)، یہی امام احمد کا اصل مسلک ہے اور یہی تمام دوسرے محدثین کا مسلک بھی۔
وگن کے زمانہ قیام میں کچھ لوگ ایک انگریز نو مسلم کو میرے پاس لے آئے۔ وہ اعلی تعلیم یافتہ تھا اور اس کی عمر تقریبا ۲۵ سال تھی۔ اس کو میں نے دیکھا تو وہ مجھے مجذوبانہ انداز میں دکھائی دیا۔ ابتدائی تاثر یہ تھا کہ وہ معتدل (sound mind) آدمی نہیں ہے۔ مگر بات کی تو وہ نہایت ذہین تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ وہ لندن سے تعلق رکھتا ہے۔ اس نے اپنے ذاتی مطالعہ سے اسلام قبول کیا تھا۔ اس کے بعد جب وہ لندن کے مسلمانوں سے قریب ہوا تو وہ سخت ذہنی خلجان میں مبتلا وہ جس مسجد میں جاتا ہر مسجد والے کہتے کہ تمہاری نماز غلط ہے۔ تم اس طرح نہیں اس طرح نماز پڑھو کوئی کہتا کہ کوٹ پتلون اتار کر تم کو اسلامی لباس پہننا چاہئے ۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ اسلام قبول کرنے کے بعد تم کو اپنی ظالم قوم سے متنفر ہو جانا چاہئے تھا اور تم اب تک اپنے دل میں انگریز قوم کی محبت لئے ہوئے نظری اسلام سے وہ متاثر ہوا تھا مگر عملی اسلام کے بارہ میں وہ سخت توحش میں چوں کہ وہ بے حد سنجیدہ تھا ، اس تجربہ نے اس کو نیم پاگل بنا دیا۔ معلوم ہوا کہ اس طرح کے بہت سے نو مسلم ہیں ۔ حتیٰ کہ یہ یہاں کا ایک مستقل مسئلہ بن گیا ہے۔
وگن میں ۲۲ ستمبر کو میں ایک عرب نوجوان کے ساتھ ٹہلنے کے لئے نکلا۔ ہم لوگ ایک مقام پر پہنچے وہاں سڑک کے دوسری طرف ایک اسکول تھا۔ سفید فام بچے اسکول کے سامنے کھلے میدان میں جمع تھے۔ میں وہاں میدان کے کنارے کھڑا ہو گیا۔ بچوں نے مجھ کو دیکھا تو ہاتھ ہلا ہلا کر بائی بائی کرنے لگے۔ دوڑ کر میرے قریب آئے۔ وہ کچھ کہہ رہے تھے۔ مگر میں اچھی طرح ان کی بات کو نہ سمجھ سکا۔ البتہ ایک بچہ جو مجھ سے کافی قریب آگیا تھا، اس نے بلند آواز میں کہا (Are you Father Chrismas) میرے ساتھی نے مزید سوال کیا تو اس نے کہا (He looks like Father Chrismas) اس اثناء میں ایک اور بچہ قریب آگیا ۔ اس نے کہا: