Al-Risala · September 1994

Father Chrismas, get me a computer.

Al-Risala, September 1994, pp. 42–46

By Maulana Wahiduddin Khan

غالب گمان یہی ہے کہ بچوں نے یہ بات تفریح کے طور پر کہی۔ تاہم اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسیحی بچوں کی نفسیات کیا ہوتی ہے۔ میرا حلیہ انہیں عجیب نظر آیا۔ اس لئے انہوں نے مجھ کو نادر کرسمس سے تشبیہ دی۔

ایک عرب نوجوان سے محمد قطب کی کتاب رؤیۃ اسلامیۃ لاحوال العالم المعاصر کے بارہ میں گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ آجکل عالم عربی میں جو کتابیں چھپ رہی ہیں وہ زیادہ تر ایسی ہیں جو تفکیر کو بگاڑنے والی ہیں۔ انھیں میں سے یہ کتاب بھی ہے۔ ان کو میرے اس بیان پر تعجب ہوا۔ مذکورہ کتاب ( دار الوطن للنشر، الریاض ) کا صفحہ ۸۶ دکھایا جس کا عنوان ہے: ماذا انخسر العالم میں نے کہا کہ پہلی بات یہ کہ یہ عنوان ہی صحیح نہیں۔ صحیح عنوان یہ ہونا چاہئے کہ ماذا انخسر المسلمون بانخطاطهم ۔ بوقت انحطاط آدمی کی توجہ اپنے خسران کی طرف ہونی چاہئے تاکہ احتساب خویش کی نفسیات پیدا ہو نہ کہ دوسروں کے خسران پر جو بے بنیاد طور پر فخر کی نفسیات پیدا کرنے والا ہے۔ میں نے کہا کہ مصنف لکھتے ہیں کہ ان الله جعل متمادير البشريه كلها مرتبطة باحوال هذه الامة ، ان خير أفخير وان شرأفشر (صفحه ۱۸۶) میں نے کہا کہ قرآن و حدیث میں یہ بات کہاں ہے۔ اس کے برعکس قرآن میں ہے کہ وان تتولوا يستبدل قوما غيركم (محمد ۳۸) قرآن میں واضح طور پر يستبدل قوما غيركم موجود ہے۔ مگر قرآن میں کہیں یہ نہیں فرمایا کہ نستبدل قر آنا غیر هذا۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن اور امت میں فرق ہے۔ جو چیز مستمر ہے وہ قرآن ہے نہ کہ امت ۔ قرآن کی آیت فخلف من بعدهم خلف (مریم ۵۹) کے مطابق، ہم اخلاف الامة ہیں نہ کہ الامة۔

میں نے کہا کہ مقادیر بشریہ کو اللہ تعالیٰ نے اسلام سے مرتبط کیا ہے نہ کہ مسلمانوں سے۔ یہ عین وہی غلطی ہے جس میں یہود مبتلا ہوئے اور بالآخر انہوں نے خدائی دین کو نسلی دین بنا دیا۔ مختلف الفاظ میں یہی عقیدہ مسلمانوں میں پھیلایا جا رہا ہے۔

عرب نوجوانوں میں قابل لحاظ تعداد ایسے لوگوں کی پیدا ہوگئی ہے جو الرسالة مشن سے پوری طرح واقف ہے اور اس سے مکمل اتفاق رکھتی ہے۔ اس سفر میں اس قسم کے کئی تجربے پیش آئے۔

ان نقف لمواجهة الخطر بكل قوة (اراد القتال العسكرى)، فقلت له ان الامرالذی يُحيّرنى ولم اجد له تفسير، هو لماذا اصبح مسلموا العصر الحديث يعرفون كل شئ ماعدا الصبر. فلا يوجد شخص واحد فى العالم الاسلامى ينادى بالصبر رغم ان الصبر مذكور فى القرآن اكثر من القتال. فقال هذا يعتمد على الذى تقصده بالصبر. فقلت الصبر لا يعنى اللاعمل بل العمل مع التخطيط - فسكت. یہ ایک نئی سوچ ہے جو عالم اسلامی میں الرسالة مشن کے ذریعہ پیدا ہوئی ہے اور دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ میں نے دیکھا کہ کئی عرب نوجوانوں نے اپنی پوری زندگی اس مشن کے لئے وقف کر رکھی ہے۔ اس سلسلہ میں مزید تفصیلات بیان کرنے کی گنجائش سفر نامہ میں نہیں۔ ایک صاحب نے بتایا کہ حال ہی میں انھوں نے انگریز نو مسلم یوسف اسلام کی تقریر سنی۔ وہ پوری کی پوری احتجاجی انداز کی تھی۔ انھوں نے اپنی پوری تقریر میں اعداءِ اسلام کی سازشوں اور مظالم کا ذکر کیا۔ مجھے یہ بات عجیب معلوم ہوئی۔ کیوں کہ یوسف اسلام نے جب اسلام قبول کیا تو ابتدائی زمانہ میں ان کا یہ انداز نہ تھا۔ ان کی ابتدائی زمانہ کی ایک تقریر الرسالہ میں شائع ہوچکی ہے۔ اس میں واضح طور پر انھوں نے یہ اقرار کیا ہے کہ اسلام کے روحانی پہلو نے ان کو متاثر کیا اور اس طرح وہ اسلام میں داخل ہوئے۔

اس معاملہ کی تحقیق کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی صحبت کے نتیجہ میں ان کے اندر یہ تبدیلی مغربی دنیا میں کثیر تعداد میں مسلمان آباد ہیں۔ مگر حقیقی معنوں میں کوئی دعوتی کام وہ نہیں کر رہے ہیں۔ البتہ خود اپنی فطرت کے زور پر یا ذاتی مطالعہ سے مغرب میں اکثر لوگ اسلام قبول کرتے یہ نومسلم جب اپنی سابقہ سوسائٹی سے کٹتے ہیں تو وہ اپنے لئے نئی سوسائٹی چاہتے ہیں۔ کمی کی تلافی کے لئے قدرتی طور پر وہ مغرب میں مقیم مسلمانوں سے قریب ہوتے ہیں۔ یہ مسلمان زیادہ تر

احتجاجی نفسیات میں جی رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دھیرے دھیرے ان نو مسلموں کا مزاج بھی احتجاجی مزاج بن جاتا ہے۔

آج مسلمانوں کو دوسری قوموں کی طرف سے جن "زیادتیوں" کا تجربہ ہو رہا ہے وہ دراصل خدا کی تنبیہات ہیں۔ مگر مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے طبقہ نے ان زیادتیوں کو خود ان قوموں کی سازش اور ان کے ظلم کے خانہ میں ڈال دیا۔ اس کے نتیجہ میں بہت بڑی مزاجی خرابی واقع ہوگئی۔ مسلمان اگر ان زیادتیوں کو تنبیہات الہی سمجھتے تو ان کے اندر اصلاح خویش کا جذبہ ابھرتا۔ انھوں نے ان زیادتیوں کو اقوام غیر کی سازشوں کا نتیجہ قرار دیا تو ان کے اندر برعکس طور پر احتجاج غیر کے جذبہ بات ابھر آئے۔ اس غلطی نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے سارے معاملہ کو بگاڑ دیا۔ دکن کے زمانہ قیام میں جس مکان میں ٹھہراتھا،اس اس کے سامنے سڑک کے کنارے زیرِزمیں پانی کی پائپ میں کچھ خرابی آگئی۔ ۲۱ ستمبر کی صبح کو میں نے دیکھا کہ ایک بڑی سی بند گاڑی وہاں آکر کھڑی اس میں ہر قسم کا ضروری سامان موجود تھا۔ گاڑی میں سے ایک سفید فام تندرست آدمی نکلا۔ اس کے ہاتھ میں مخصوص قسم کا پھاوڑا تھا۔ وہ فوراً اپنے کام میں مشغول ہوگیا۔ مسلسل کام کر کے اس نے زمین کھودی۔ پائپ کو درست کیا۔ اس کے بعد پتھر کے ٹکڑوں اور تارکول سے خالی جگہ کو بھر کر پھر اس کو پختہ کیااورچلاگیا۔

دہلی میں میں نے کئی بار دیکھا ہے کہ اس طرح کے ایک کام کے لئے بیک وقت کئی آدمی آئیں گے ۔ وہ گھنٹوں وہاں ٹھہرنے کے بعد کام کو ادھورا چھوڑ دیں گے ۔ اور اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہوگی کہ دوبارہ وہ کب آئیں گے اور کب اپنے چھوڑے ہوئے کام کو مکمل کریں گے ۔ برطانیہ کے زمانہ قیام میں کبھی مکھی، مچھر وغیرہ دکھائی نہیں دیا۔ نہ حالت سفر میں اور نہ حالت میں اس کے بارہ میں کسی سے پوچھ نہ سکا۔ تاہم عملی تجربہ کے مطابق، بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بات قاعدہ مہم کے تحت اس کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ اس کی نگرانی بھی کی جارہی کیوں کہ مسلسل نگرانی کے بغیر خاتمہ کی صورت حال کو باقی نہیں رکھا جا سکتا۔ انگریزی کا ایک مشہور مقولہ ہے جو انگریز قوم کے مزاج کو بت آتا ہے۔ اس کا مطلب ہے، سست عمل مگر تیقن کے ساتھ (slow but sure) محمد قطب نے اپنی کتاب رویۃ اسلاميۃ

احوال العالم المعاصر میں اس کو مغرب کی شیطانی سیاست کے ایک اصول کے طور پر ذکر کیا ہے، اور اس کا ترجمہ التدرج البطیٔ الاکید المفعول (صفحه ۹) کیا ہے۔ مگر میرے خیال سے اس کا اس کا صحیح مفہوم ان الفاظ میں ادا ہوتا ہے : بطی و انما مؤكد یا بطی ولكن مؤكد۔ انگریز صدیوں سے اسی اصول پر عمل کر رہے ہیں۔ اور ان کی کامیابی کا کم از کم ایک راز یہ بھی ہے اس مقولہ کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی تم کوئی اقدام کرو تو خواہ تمہارے سفر کی رفتار کتنا ہی سست ہو، مگر اس بات کا پورا اہتمام کرو کہ ہر قدم یقینی طور پر نتیجہ خیز ہو۔ غور کیجیے تو موجودہ مسلمانوں کا ذہن اس کے بالکل خلاف ہے۔ ان کا اصول برعکس طور پر یہ ہے کہ تیزی کے ساتھ بڑے بڑے اقدام کرو، خواہ عملی طور پر اس کا کوئی نتیجہ نکلنے والانہ ہو۔ مذکورہ مثل کوئی غیر اسلامی مثل نہیں۔ یہ فطرت کی زبان میں عین وہی بات ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں آئی ہے : فاصبر ... ولا تستعجل لهم ( الاحقاف ۳۵ ) عجلت سے بچتے ہوئے صابرانہ عمل کرنا یہ ہے کہ آدمی جذباتی انداز میں دوڑ پڑنے کے بجائے سوچ سمجھ کر عمل اور ایک ایک قدم پختہ کرتے ہوئے آگے بڑھے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں تجسم کی سرگرمیاں ہیں مگر ان کے یہاں صبر اور عدم استعجال موجود نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا ہر اقدام الٹا پڑتا ہے۔ قربانیوں کے پہاڑ کھڑے کرنے کے باوجود موجودہ زمانہ میں وہ کوئی حقیقی کامیابی حاصل نہ کر سکے۔

۲۴ ستمبر کو وگن میں ایک صاحب نے بتایا کہ ان کی ملاقات ایک نومسلم انگریز سے ہوئی۔ وقت ان کے پاس اسلام ایز اٹ از (Islam as it is) کا ایک نسخہ موجود تھا۔ نے اس کتاب سے آخرت کا باب نومسلم انگریز کو پڑھایا۔ پڑھنے کے بعد اس نے اپنا تاثر ایک کاغذ پر لکھ دیا۔ یہ تاثر اس کے اپنے الفاظ میں یہ تھا :

This is very good. This is based on reason. I haven’t read any other book free of any sentimental emotional plea to belief in ایک مغربی نومسلم سے ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے گاڈارائینز (God Arises) کا مطالعہ انھوں نے کہا کہ جب میں نے اس کتاب کو پڑھا تو ایسا محسوس ہوا جیسے کہ یہ وہی کتاب

ہے جس کا میں انتظار کر رہا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ میں نے کئی تعلیم یافتہ مسلمانوں سے پوچھا کہ کیا اسلامی لٹریچر کے ذخیرہ میں گاڈ ارائزر جیسی اور کتابیں پائی جاتی ہیں، جو اسلام کی تعلیمات کو علمی اور عقلی دلیل کے ساتھ بیان کرتی ہوں۔ مگر کوئی شخص مجھے اس قسم کی کسی اور کتاب کا سراغ نہ دے سکا۔ انھوں نے کہا کہ مجھے حیرت ہے کہ قرآن تو سراپا عقلی کتاب ہے۔ وہ عقل کو مخاطب کر کے اپنا پیغام دیتا ہے۔ مگر آجکل کے مسلمانوں کے ذہن سے یہ پہلو مخفی ہو گیا۔ وہ عقلی دلیل اور عقل کو مطمئن کرنے والے اسلوب میں دین کے داعی نہ بن سکے ۔ ورنہ ایسی بہت سی کتا بیں اسلامی کتب خانہ میں موجود ہوتیں۔ آج کا انسان عقلی اطمینان کے بعد کسی عقیدہ کو اختیار کرتا ہے اور ہمارے پاس عقل کو مطمئن کرنے والی کتابیں نہیں۔ اس کے بعد انھوں نے عجیب انداز میں کہا کہ جب میں نماز پڑھتا ہوں اور دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتا ہوں تو اکثر میری زبان سے اس قسم کے الفاظ نکلتے ہیں : Oh, Allah, help us to do intellectual jihad. And bring the rational ۲۴ ستمبر کی شام کو وگن سے واپسی ہوئی۔ یہاں سے بذریعہ ٹرین مجھے برمنگھم پہنچناتھا۔ نوجوان جو ریلوے اسٹیشن تک مجھے پہنچانے آئے تھے۔ وہ میرے ساتھ ڈبہ میں داخل ہو گئے۔ چاہتے تھے کہ ڈبہ کا دروازہ بند ہو گیا۔ یہاں ٹرین کے دروازہ کو ڈرائیور کھولتا ہے اور وہی بند ان لوگوں کے پاس ٹکٹ نہیں تھا۔ ہندوستانی تجربہ کے تحت مجھے تشویش ہوئی ۔ ٹکٹ چیکر آیا تو اس نے پوچھ گچھ کی نہ جرمانہ لگایا۔ سادہ طور پر اس نے کرایہ لے کر وہی ٹکٹ دے دیا۔ جو اسٹیشن پر نہیں ملتا ۔ اورپھر تھینک یوکہہ کرآگے بڑھ گیا۔

ٹرین نہایت صاف ستھری تھی۔ سیٹ سے لے کر ٹائیلٹ تک ہر چیز بالکل ہوائی جہاز کے انداز کی نظر آئی۔ میں نے کہا کہ یہ ٹرین تو گویا زمین پر دوڑتا ہوا ہوائی جہاز ہے۔ ڈبہ میں جگہ جگہ نو اسمو کنگ کا اعلان لگا ہوا تھا جس کے اوپر لکھا ہوا تھا کہ اس کی خلاف ورزی پر پچاس پونڈ یعنی ہندوستانی روپیہ میں تقریباً ڈھائی ہزار روپیہ۔ ایک طرف ایک خوبصورت کیس میں ایک خوبصورت ہتھوڑارکھا ہوا تھا۔ اس پر لکھا ہوا تھا کہ ایمرجنسی کی حالت میں کھڑکی کے شیشہ کو توڑنے کے لئے اس ہتھوڑے کو استعمال کیجئے :

Printed page