Al-Risala · September 1994

۲۴ الرسا ل ستمبر ۱۹۹۲

Al-Risala, September 1994, pp. 97–49

By Maulana Wahiduddin Khan

دہلی کے انگریزی اخبار اکونومک ٹائمز کے نمائندہ مسٹرکامل ظہیرنے ۲ اپریل ۱۹۹۴ کو صدر اسلامی فرنچ نیوز ایجنسی کے نمائندہ مسٹر نارائن سوامی نے ۷ اپریل ۱۹۹۴ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ ہندی اخبار راشٹریہ سہارا کے نمائندہ مسٹر جوہر عبد اللہ نے ۱۱ اپریل ۱۹۹۴ کو ٹیلی فون پر راجیو گاندھی فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ۱۱ اپریل ۱۹۹۴ کو ایک سیمینار ہوا ۔ اس کا موضوع بھارتیہ مزدور سنگھ کی طرف سے ایک آل انڈیا کانفرنس ناگپور (ریشم باغ) میں ۱۶ ۔

سفر نامہ کے تحت شائع کر دی جائے گی۔

پانچ جنیہ (ہندی ہفت روزہ) کے ایڈیٹر مسٹر ترن وجے نے ۲۰ اپریل ۱۹۹۴ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ٹیلیفون پر ریکارڈ کیا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ مسلمان مرد اگر انصاف لینے کے لئے ملکی عدالتوں میں جاتا ہے تو مسلمان عورت بھی انصاف لینے کے لئے ملکی عدالت میں جا سکتی ہے۔ یہ اسلام کے خلاف نہیں۔

نئی دہلی کی تنظیم (Movement for National Resurgence) کے تحت ۲۳ اپریل ۱۹۹۴ کو انڈیا انٹرنیشنل سنٹر میں ایک سیمینارہوا۔ اس اس کا موضوع بحث یہ تھا (are the police above the law) اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اور کیا پولیس قانون سے بالا ہے کے موضوع پر اظہار خیال کیا۔ یواین آئی کی نمائندہ مسٹر نصرت نے ۲۴ اپریل ۱۹۹۴ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو اس انٹرویو کا تعلق زیادہ تر جسٹس تلہری کے تازہ فیصلہ سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ مذہبی قانون کی تعبیر کا حق ہمیشہ مذہبی علماء کوہوتاہے کسی عدالت کو اس کا حق حاصل

انگریزی ہفت روزہ آرگنائزر(نئی (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر پر مود نے ۲۵ اپریل ۱۹۹۴ کو ٹیلیفون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ یونیفارم سول کوڈ موجودہ حالت میں چلنے والا نہیں ہے کیوں کہ ہندوستانی سماج عام طور پر اتنا زیادہ روایت پرست ہے کہ وہ اس معاملہ میں کسی بھی خارجی قانون کو قبول نہیں کرے گا۔ دینک جاگرن کے نمائندہ مسٹر ارن کمار پا نڈے نے ۲۵ اپریل ۱۹۹۴ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ اس انٹرویو کا تعلق قرآن کی ان آیتوں سے تھا جن میں بتایا گیا ہے کہ جنت میں غلام ہوں گے۔ اس کا انھوں نے نہایت غلط مطلب لے رکھا تھا۔ انھیں اس آیت کی صحیح تشریح بتائی گئی اور ان کی غلط فہمی دور کی گئی۔

یوپی بھون (نئی دہلی) میں ۲۸ اپریل ۱۹۹۴ کو امرت کلش کے سمپا دک منڈل کی میٹنگ ہوئی۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور اس کے ڈسکشن میں شریک ہوئے۔

طے ہو کہ مختلف مذاہب پر تعارفی مقالات تیار کرکے ان کو ایک جلد میں شائع کیا جائے۔ اسلام اور انسانیت کے موضوع پر مقالہ لکھنے کا کام صدرِ اسلامی مرکز کے سپرد کیا گیا ۔ بندی اور اردو میں شائع کیا جائے گا۔

۱۲ ہفت روزہ نئی دنیا کے نمائندہ نے ۲ اپریل ۱۹۹۳ کو ٹیلیفون پر صدر اسلامی مرکز کا سوال وجواب کا تعلق زیادہ تر جسٹس تلہری کے فیصلہ کی روشنی میں طلاق کے شرعی قانون سے تھا۔

۱۳ الکٹرانکس نیکٹین کے کانفرنس ہال (نئی دہلی) میں ۲۹ اپریل ۱۹۹۳ کو آل انڈیا اسلامی تعلیمی کنونشن اس کی دعوت پر صدرِ اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور موضوع پر اظہار خیال کیا۔ ایک بات یہ کہی کہ تعلیم کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ مسلم اسکول اور مسلم نصاب کے دائرہ سے باہر نکل کر ہمیں اپنی نسلوں کو تعلیم میں داخل کرنا چاہئے۔ اس معاملہ میں غیر ضروری حساسیت، کی ضرورت نہیں۔

۱۴ چنتک منڈل کی طرف سے جواہر لال نہرو یونیورسٹی نئی دہلی، میں ۲مئی ۱۹۹۴کو ایک میٹنگ اس کا موضوع ہندستانی انسائیکلوپیڈیا (Encyclopaedia Indica) کا منصوبہ طے کرنا تھا۔ اس کی دعوت پر صدرِ اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور موضوع کے بارہ میں اپنے نقطہ نظر کا اظہار کیا۔ اس سلسلہ میں دوسری میٹنگ اامٹی کو جو ابہر لال نہرو یونیورسٹی میں ہوئی۔ ۱۵ ہندوستان ٹائمس کے نمائندہ مسٹر اشوک ملک نے ۳ مئی ۱۹۹۳ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر نکاح وطلاق کے مسئلہ سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ یکم مئی کو مسلم پرسنل لاہورڈ کا یہ فیصلہ درست ہے کہ جسٹس تلہری کے فیصلہ پر مسلمان ایجی ٹیشن کا طریقہ اختیار نہ کریں۔ مگر یہ آدھی بات ہے ۔ ان لوگوں کو اسی کے ساتھ یہ بھی کہنا چاہئے کہ شاہ بانو کے معاملہ میں اور بابری مسجد کے معاملہ میں ایجی ٹیشن کا طریقہ اختیار کر کے انھوں نے سخت غلطی کی ہے۔ مسلم عوام کے ذہن کی صفائی کے لئے غلطی کا اعتراف بھی ضروری ہے۔ ۱۶ ایشین ایج (Asian Age) کی نمائندہ مسٹر شیلار یڈی نے ۲ جون ۱۹۹۳ کو صدرِ اسلامی مرکز کا انٹرویو ٹیلی فون پر لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر آثار قدیمہ کی مساجد اور ان کے مسائل کے بارہ میں تھا۔

Printed page