Al-Risala · October 1994

دو آیتیں

Al-Risala, October 1994, p. 4

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ کافروں اور منافقوں کی طرف سے تم کو جو اذیت پہنچتی ہے، اس کو نظر انداز کرو (الاحزاب ۴۸) ، نبیوں پر ان کے مخاطبین نے تکلیفیں ڈالیں تو نبیوں نے ان سے کہا کہ تم کو جو اذیت دے رہے ہو، اس پر ہم صبر کریں گے۔

ایک طرف قرآن میں زیادتیوں کے مقابلہ میں صبر و اعراض کا یہ حکم ہے، دوسری طرف اسی قرآن میں کہا گیا کہ اہل ایمان کو اجازت دی جاتی ہے کہ وہ ظلم کرنے والوں کے ساتھ جنگ کریں کریں(الحج ۳۹) ان لوگوں سے اللہ کے راستہ میں جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں (البقرہ ۱۹۰) یہ دونوں حکم بظاہر ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ پھر ان میں تطبیق کیا ہے۔ ان میں تطبیق یہ ہے کہ دونوں کا محل الگ الگ ہے۔ پہلا حکم ایک موقع کے لئے ہے اور دوسرا حکم دوسرے موقع کے لئے۔ اصل یہ ہے کہ مسلمان کی حیثیت ایک داعی گروہ کی ہے۔ اور دوسرے تمام لوگ ان کے لئے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مسلم اور غیر مسلم کے درمیان اصل نسبت یہی داعی اور مدعو کی نسبت ہے۔ اس نسبت کا تقاضا ہے کہ داعی اپنے مدعو کی زیادتیوں پریک طرفہ صبر کرے۔ اس صبر و اعراض کے بغیر داعی اور مدعو کے درمیان وہ معتدل فضاقائم نہیں ہوسکتی جو کسی نئے پیغام کو سننے اور اس کی طرف انہیں متوجہ کرنے کے لئے ضروری ہے۔

غیر مسلم قوموں کے مقابلہ میں اہل اسلام کو مستقل طور پر اسی پالیسی پر قائم ہونا ہے۔ مسلموں کے برے سلوک کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ہے۔ دعوت کے مرحلہ میں اس کے سوا کوئی دوسرا رویہ مسلمانوں کے لئے جائز نہیں۔

البتہ جب دعوت کا مرحلہ پورا ہو جائے اور غیر مسلم قوم کی طرف سے جارحانہ کارروائی کا آغاز کر دیا جائے تو اس وقت دفاع کے طور پر جنگ کی جا سکتی ہے۔ قرآن میں جنگ کی آیتیں اسی آخری صورتحال سے تعلق رکھتی ہیں۔

جنگ کا عمل اس وقت شروع ہوتا ہے جب کہ دعوت کا عمل اپنی آخری حد پر پہنچ چکا ہو۔ تکمیل دعوت سے پہلے جنگ چھیڑ نا مسلمان کے لئے جائز نہیں۔

Printed page